☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
آکو پنکچر: ایلوپیتھک کا متبادل

آکو پنکچر: ایلوپیتھک کا متبادل

تحریر : ڈاکٹر سید فیصل عثمان

03-10-2019

آکوپنکچر کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہورہی ہے ۔جدید ترین امریکہ میں ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد امریکی اس قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے ذریعہ سکون حاصل کررہے ہیں ۔گزشتہ سات برسوں میں 42سے 88فیصد تک مریضوں نے سکون حاصل کیا ہے۔ بوڑھے افراد میں یہ طریقہ دن بدن زیادہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ اسے ایلوپیتھک کا متبادل تصورکیاجارہاہے۔ 2025ء تک اس طریقہ علاج میں 197ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہے، ترقی یافتہ ممالک میں بھی اب آکوپنکچر کے مراکز تیزی سے کھل رہے ہیں ۔ اس طریقہ علا ج میں ماہرین باریک ترین سوئیوں کے ذریعہ مریض کو خطرناک ترین درد سے بھی نجات دلاسکتے ہیں۔ ان سوئیوں کی نوک 0.12سے 0.35ایم ایم تک ہوسکتی ہے۔ آکوپنکچر کا ماہر درد کے لیے مخصوص حصوں کا تعین کرتاہے اوروہاں یہ سوئیاں چبھو کر علاج کرتاہے ۔امریکی ماہرین نے یہ خوش کن خبر جاری کی ہے کہ اس میںگھبرانے کی بات نہیں ۔درد اگر بڑھتاہے تو اس کا علاج بھی چند سوئیوں سے کیا جا سکتاہے ۔ہوسکتاہے ،آپ کو بدن میں جھرجھری محسوس ہو ،اور بس ،اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ آکوپنکچرسٹ آتھ (Auth)کے مطابق ’’ہماری سوئیاں اتنی باریک ہوتی ہیں جیسے بال۔ پھر تجربہ کار آکوپنکچرسٹ جسم کو سکون اورطمانیت مہیا کرتاہے ۔صرف 45سے60منٹ میں ہر درد کا علاج ممکن ہے ۔جس کے بعد یہ سوئیاں نکال لی جاتی ہیں، اب آپ اپنے گھر جاسکتے ہیں ۔یہ طریقہ علاج ایلوپیتھک سے کہیں سستا اورآرام دہ ہے۔ اس سے عضلات پٹھے مضبوط اور سوزش میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ طریقہ علاج چین میں انتہائی مقبول ہے اور اب مغرب بھی اپنا درد مٹانے کے لیے چین کی تحقیق سے استفادہ کررہاہے‘‘ ۔

ہم دوائیوں کے بہت شوقین ہیں۔ گولیاں ایسے کھاتے ہیں جیسے کوئی چاکلیٹ ہو ۔پاکستان میں ضروت مندوں کے لیے میڈیسن انڈسٹری بہت محدودہے، ان کے پاس تو سستی سے سستی دوا کے بھی پیسے نہیں ہوتے، کھانے کو روٹی نہیں ہوتی تو دوا کہاں سے لیں۔ مگر ایک طبقہ ایسا بھی ہے دوائیں ان کی جیب پر کوئی بوجھ نہیں ہوتیں۔ پی ایچ ڈی ڈاکٹرکیتھین پیڈاک نے اسی موضوع پر ایک تحقیق شائع کی ہے۔ انہوںنے دل کی بیماریوں کا آرتھرائٹس کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے ساتھ جوڑا ہے۔ اپنے تحقیقی مقالے بعنوان ’’Study Ties Arthritis Pain Reliever To Heart Valve Disease ‘‘ میں انہوں نے یہ خطرناک انکشاف کیا ہے کہ آرتھرائٹس کے علا ج میں استعمال ہونے والی ادویات دل کے والز پر اثر ڈالتی ہیں۔ ان ادویات سے انسان درد اور سوزش سے کچھ دیر کے لیے نجات پالیتاہے مگر وہ دل کے مرض میں پھنس جاتاہے ۔یعنی آسمان سے گرا کھجورمیں اٹکا ۔ سائنسدان کیتھرین پیڈاک نے دو تین ادویات کے نام بطور خاص گنوائے ہیں۔ ان کا تعلق ایک خاص گروپ سے ہے۔وینڈر بیلٹ یونیورسٹی (Vanderbilt University)کے سائنسدانوں نے برقی طریقے سے ہزاروں ریکارڈ کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بعض ادویات کے استعمال سے خون کی نالیاں سکڑ جا تی ہیں۔ خون کی گردش میں کمی سے کئی امراض جنم لے سکتے ہیں ،جیسا کہ کیلشیم کا جمع ہونا ۔اس کے زیادہ تر اثرات دل کے دائیں حصے پر مرتب ہوتے ہیں۔ دل سے خون کی سپلائی کم ہوجاتی ہے ۔بروقت علاج نہ کرنے کی صورت میں سرجری ہی واحد حل رہ جاتی ہے ۔8600مریضوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 20فیصد افراد میں یہ مرض پایا گیا ۔مذکورہ تحقیق کئی سائنسی جریدوں میں شائع ہوئی۔ ٭٭٭ اس سوال کا جواب ہم نے کبھی تلا ش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ مغربی میڈیا دہشت گردی کی خبروں کو جلد ہی آف ایئر کیوںکردیتاہے ؟ترقی پذیر ممالک میں دماغ کو مفلوج کردینے والی خبریں سن سن کر لوگ ذہنی امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ راک فیلر فاؤنڈیشن نے اس سلسلے میں ایک دل چسپ تحقیق کو سپانسر کیاہے ۔ تحقیق کا عنوان ہے (Delicate Sense Of Terror What Does Concrete Do To Our Mental Health) اس دہشت کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ۔کوئی بھی اطلاع دہشت ناک ہوسکتی ہے۔ خوف ناک زلزلے آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے حتیٰ کہ قتل وغارت گری کی خبریں بھی ذہن کو پراگندہ کرسکتی ہیں۔ اسی لئے راک فیلر فاؤنڈیشن نے ماحول کر بہتر بنانے کے لیے سبزے کو بہت اہمیت دی ہے۔ ذہنی صحت کے لیے ماحول کا سرسبزوشاداب ہونا اُتناہی ضروری ہے جتناکہ خوراک۔ آپ کو شاید معلوم ہوکہ 2004ء میں برٹش جنرل آف سائیکاٹری نے ایک زبردست تحقیق شائع کی۔ نفسیاتی ماہرین نے 40لاکھ سے زائد سویڈش شہریوں کے دیہی اور اربن شہری ماحول کا جائزہ لیا ۔ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ اربنائزیشن نے ان کی تخلیقی صلاحیتوںکو متاثر کیا ۔اس سے وہ دباؤ میں رہنے لگے۔ اسی قسم کی تحقیق Exeter University نے بھی جاری کی۔ یونیورسٹی نے برٹش ہاؤس ہولڈ پینل سروے کے پاس موجود ڈیٹے کو استعمال کیا ۔یونیورسٹی برطانیوں پر تحقیق ذریعے یہ نتیجہ نکالا کہ زیادہ سرسبز وشاداب علاقوںمیں منتقل ہونے وا لے باشندوںکی ذہنی صحت پہلے سے بہتر ہوگئی ۔برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی ذہنی صورتحال کا جائزہ جان گرائنڈرڈ Johan Grindrodنے بھی لیا۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کے سرسبز وشاداب نواحی علاقوں میں لوگوں کی صحت زیادہ بہتر تھی لندن کی ملٹی سٹوری عمارتوں نے لوگوں کا سکون چھین لیا ۔2018ء میں جنرل ہیلتھ اینڈ پلیس میں بھی اسی قسم کا مضمون شائع ہوا مصنف نے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کی نفسیاتی کیفیت کا جائزہ لے کر ماحول کو بہتر بنانے کا کہا ۔ ہمارے ہاں آڑی ترچھی ترقی ذہنی سکون پر اثر انداز ہورہی ہے غیر ملکی تحقیق کے نتیجے میں ہمیں یہ معلوم ہوناچاہئے کہ کسی بھی گلی محلوںسے گزرنیوالے لوگ ماحول سے متاثرہوتے ہیں اچھے خوبصورت نقشے ذہنی سکون اورتمانیت کا باعث بنتے ہیں ورنہ پسماندہ اور گندے علاقوں میں رہنے والوں کی نشوونما رک سکتی ہے ۔ہماری حکومت کو اس سمت میں بھی کام کرناچاہیے گلی محلوں کی صفائی درختوںکی پرورش انتہائی ضروری ہے میری نظر میں اس کا تعلق جرائم سے بھی جڑاہواہے ہم صرف ماحول کو بہتر بناکر لوگوں کو ذہنی امراض سے نجات دلاسکتے ہیں یہ کوئی مشکل اورجان لیواکام نہیں لیکن اس سے کروڑوںلوگوں کی زندگی خوشگوار ہو سکتی ہے کیا آپ نے کبھی یہ سوچاہے کہ دنیا کے خوش رہنے والے ممالک میں لوگ خوش کیوں ہیں جن ممالک کو خوش رہنے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ پر رکھا گیا ہے وہاں کی شادابی بھی اس کا ایک سبب ہے ۔ سرطان کا علاج ۔۔ہری سبزیاں سائنسدان اللہ کی عطاء کردہ عمر کو بہتر انداز میں گزارنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیںکہ ہماری خراب عادات زندگی کے خاتمے کا باعث بن رہی ہیں ۔ہمارے بچے آج سبزیوں سے دور بھاگ رہے ہیں انہیں ’’پاپائے دی سیلر‘‘ کارٹون بہت پسند ہیں مگر ووجو سبزیاں کھاتاہے، وہ بچوںکو بالکل پسند نہیں۔ ہری سبزیوںمیں ایک خاص قسم کا جزو Carotenoidپایا جاتاہے ۔کئی دہائیوںکی تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے اسے سرطان کے علاج میں بہت مؤثر پایا ہے۔ فروری 2019میں بزنس انسائڈر نامی جریدے میں ہیلری بروک نے اسی موضو ع پر اپنی تحقیق شائع کی ۔سوالاکھ امریکیوں پر ہونے والی تحقیق میں انہوں نے رس بھری، جو، پھلیوں اورساگ وغیرہ کو سرطان کے علاج میں بہترین پایا ہے ۔چکوترہ اورٹماٹر بھی سرطان سے لڑنے میں انسان کے معاون ہے۔ آیوڈین سے بھری خوراک بھی ٹیومر سے بچاسکتی ہے ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سرطان لا علاج ہے مگر ہم اپنی عادات بدل کر اس لا علاج مرض کو بھی قابل علاج بھی بنا سکتے ہیں اور علاج کے مرحلے میں اسے پکڑ بھی سکتے ہیں جن میں سرطان کی اقسام لا علاج ہیں ان سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں مگر آدھے سے زیادہ سرطان کی اقسام قابل علاج ہے۔ ضرورت صرف کھانے پینے کی عادت کو بدلنے کی ہے ۔

مزید پڑھیں

ڈاکٹر صاحب! ہم چار بہن بھائی ہیں ماں کی زیادہ تر توجہ بڑی بہن کی طرف ہے۔ اس کی ساری خواہشات پوری ہوتی ہیں جبکہ میری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ میں کوئی فرمائش کرتی ہوں تو ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ اپنی بڑی بہن سے میری گہری دوستی تھی اور ہے مگر مسلسل نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے میں اب زیادہ تر اس سے الگ تھلگ رہتی ہوں اور کسی سے بات نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں

چھوٹی سی بچی، عمر 14 سال، بابا جب بھی شام کو آتے بابا کا موبائل فون لے کر بیٹھ جاتی۔ گیم کھیلتی، ایک دن گیم کھیلتے کھیلتے کسی کا نمبر مل گیا۔ باتیں شروع ہو گئیں۔ جب بھی بابا گھر آتے فون لے کر بیٹھ جاتی اور کسی نہ کسی بہانے گھنٹوں باتیں ہوتی رہتیں۔ فون پر رابطے کے ساتھ ساتھ بازار اور سکول میں ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ایک دن پرچہ دینے گئی۔ شام گئے تک نہ لوٹی تو گھر والے ادھر ادھر بھاگے۔ پریشان ہوئے۔ رات گئے بُرے حالات میں گھر واپس آئی۔ فون والا لڑکا بہلا پھسلا کر لے گیا تھا اور یوں تباہی کا آغاز ہوگیا۔

مزید پڑھیں