☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
ڈینگی پھر سر اُٹھا سکتا ہے!

ڈینگی پھر سر اُٹھا سکتا ہے!

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

09-08-2019

پاکستان میں ڈینگی بخار پھر سر اُٹھا سکتا ہے۔ اگست 2019ء کے مہینے میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے سینکڑوں کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ راولپنڈی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 54 مزید افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ شہر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 407 تک ہو گئی ہے۔ 120 مریضوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ کراچی میں بھی 200 سے زیادہ لوگوں میں ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے بخار ہوا ہے۔

پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ڈینگی مچھر سے متاثرہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ سال 2017ء میں خیبرپختونخوا کے 800 سے زیادہ افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے اور ان میں سے 30 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2014ء میں سوات میں ڈینگی بخار نے تباہی مچائی اور ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا جن میں سے کئی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2010-11ء میں ڈینگی بخار کرنے والے مچھر نے پنجاب میں عموماً اور لاہور میں خصوصاً تباہی مچائی۔ 25000 سے زیادہ لوگ بیماری کا شکار ہوئے جن میں سے 350 جان کی بازی ہار گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈینگی کے خلاف مہم چلائی۔ سری لنکا اور انڈونیشیا سے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیمیں لاہور آئیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں، دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جس میں سے پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر (Aedes Aegypti)پایا جاتا ہے۔ ڈینگی بخار کو صرف حفاظتی تدابیر سے روکا جا سکتا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ کئی علاقوں میں شدید بارشیں سیلاب اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے، عالمی ادارہ برائے صحت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے ضروری اقدامات نہ کیے تو ڈینگی بخار سے دنیا کی تقریباً ڈھائی ارب آبادی کو خطرہ لاحق ہے ان سب اعداد و شمار کے باوجود ڈینگی بخار خطرناک اور جان لیوا امراض کے زمرے میں نہیں آتا۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس پہ قابو پایا جا سکتا ہے۔

ڈینگی وائرس سے بننے والا مچھر:

ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے۔ یہ خطرناک مچھر بارش کے صاف پانی ،گھریلو واٹر ٹینک کے آس پاس، صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں، گھڑوں اور گلدانوں، گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ گھر میں جہاں بھی صاف پانی کھلا پڑا ہو وہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر کی آماجگاہ ہوگا ۔یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتا ہے ۔عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد پٹھوں میں درد اور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے اسی وجہ سے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے۔ جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ نوعیت شدید میں ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے۔

ابتدائی علامات:

ڈینگی وائرس بخار کی علامات میں اس طرح ہوتی ہیں۔

-1تیز بخار

-2سر میں شدید درد

-3آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد

-4پورے جسم کی ہڈیوں، پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد۔

-5متلی، قے اور بھوک میں کمی۔

بیماری کے حملے کے دوران میں مریض شاک میں جا سکتا ہے ،بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، پائوں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں ،جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں پر باریک سرخ دانے ابھرتے جاتے ہیں ۔ یہ بیماری Aedes Aegypti قسم کے مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے ،اس قسم کے مچھر انسان کے قریب قریب شہروں میں ہی رہتے ہیں۔ایڈی قسم کے مچھروں سے تین براعظموں میں یعنی ایشیاء، افریقہ اور امریکہ میں یہ وبا پھیلی تھی۔ پاکستان میں 1994ء میں پہلی مرتبہ اس سے متاثرہ مریض دیکھے گئے۔

شدید حملہ:

ڈینگی کی بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، کمزوری پسینہ آنا اور بلڈ پریشر کم ہو جانا شامل ہیں۔ یہ جسم کے سارے نظاموں پر اثر کرتا ہے۔ خون کی باریک نالیاں (Capillaries )پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں ،جسم کے جس حصہ پر یہ دھبے نمایاں ہوں وہ حصہ نمایاں ہوتا ہے جب یہ بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے لیکن زیادہ تر مریض ایک یا ڈیڑھ دن میں بہتر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔بہتری نہ ہونے کی صورت میں بخار، سر درد، پٹھوں، جوڑوں میں درد، بھوک کم لگنا، الٹی آنا، پسینہ زیادہ آنا، جسم ٹھنڈا ہو جانا جیسی علامات ہوتی ہیں ،مریض کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے نبض آہستہ آہستہ اور کمزور ہو جاتی ہے ،جسم پر دھبے پڑ جاتے ہیں اور جگر بڑھ جاتا ہے ۔جب بیماری دماغ اور حرام مغز پر حملہ کرتی ہے تو فالج بے ہوشی، لقوہ جیسی علامات ہوتی ہیں یا تو مریض کے جسم کا کوئی حصہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا وہ بے ہوش ہو جاتا ہے اس بیماری کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ اور ایکسرے کیے جاتے ہیں۔ دماغ اور حرام مغز میں پہنچنے والی بیماری کی تشخیص سی ٹی CT اور ایم آر آئی MRI سکین سے کی جاتی ہے۔پہلی سٹیج میں جب وائرس حملہ آور ہوتا ہے تو مندرجہ ذیل علامات ہوتی ہیں۔

-1بخار تیزی سے چڑھتا ہے۔

-2شدید سردرد، جسم اور جوڑوں میں دردیں ہوتی ہیں کمر میں بھی درد ہوتی ہے۔

-3چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور یہ سرخی جسم کے باقی حصہ میں بھی پھیل جاتی ہے۔

-4آنکھیں بھی سرخ ہو جاتی ہیں روشنی اچھی نہیں لگتی اور پانی بہتا ہے آنکھوں کی حرکت سے بھی ان میں درد پیدا ہوتی ہے۔

-5گردن میں گلٹیاں بھی نمودار ہوسکتی ہیں۔

-6گردن میں اکڑائو آ جاتا ہے۔

-7نیند نہیں آتی۔

تین سے چار دنوں میں بخار میں کمی آ سکتی ہے ،اس مرض کا بچائو صرف اور صرف ڈینگی مچھر سے بچائو ہے جہاں جہاں یہ مچھر پیدا ہو وہاں اس کے لیے مچھر مار دوائوں کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے ۔مشرقی طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا دوسرا نام Dengue Hemorrhagic Fever ہے یعنی وہ بخار جس میں جسم سے خون بھی بہتا ہے ۔یہ وائرس بھی کئی اقسام کے ہیں۔ جب یہ مچھر ایک بیمار شدہ مریض کو کاٹ کر کسی صحت مند شخص کو کاٹتا ہے تو یہ بیماری پھیل سکتی ہے ،گرم مرطوب علاقوں میں اس بیماری کا پھیلائو ملیریا کی طرح ہے ۔یہ بیماری زیادہ تر افریقہ، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور انڈیا میں مغربی بنگال کے علاقے میں ہوتی ہے۔اس میں خون کے Platelets بہت کم ہو جاتے ہیں ، اس کی وجہ سے جسم کے کئی حصوں میں خون بہہ سکتا ہے اور جلد کے نیچے خون جم جاتا ہے جس سے سرخ دھبے اور نشانات پڑ جاتے ہیں عام طور پر یہ بیماری چھ یا سات دن تک رہتی ہے اور کئی دفعہ جان لیوا بیماری یعنی Dengue Shock Syndrom کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔اس میںSupportive Therapy دی جاتی ہے۔بیماری کے دوران مکمل آرام کیا جائے پینے والی اشیاء صاف پانی، مشروبات فریش فروٹ جوس سوپ کااستعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے تازہ پھلوں اور سبزیوں کے سوپ کا استعمال بھی مریض کی توانائی بحال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔اگر مریض زیادہ کھا پی نہ سکے تو پھر پلیٹ لٹس کی ڈرپ لگانا بہت ضروری ہے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے اس مچھر سے Aedes Aegypti کو پھلنے پھولنے سے مکمل طور پر روکا جائے سب سے اہم بات ایسی جگہوں پر اسپرے ہے جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح سے جہاں بھی پانی کھڑا ہو جائے وہاں پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے جہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں فوراً اسپرے کیا جائے گھروں میں مچھر کے بچائو کی تدابیر کرانی چاہئیں جن میں مچھر دانی کا استعمال بہت ضروری ہے۔

 بیماری اور علاج

-1 شہد:

ڈینگی فیور کے لیے ایک بہترین علاج ہے ایک چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر و رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرنا چاہیے پروپولس (رائل جیلی) جو کہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے ایک طاقتور اینٹی وائرل ہے یورپ میں یہ عام دستیاب ہے لیکن وطن عزیز میں ہم اسے شہد نکالے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح دوسرا شام اور رات دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں پروپولس کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی۔ اس سے قوت مدافعت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ڈینگی وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

-2 پپیتے کے پتے:

پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافعی علاج ہیں۔ پپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے میںPlatelets حیران کن طور پر چند گھنٹوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

-3 کالی مرچ، کلونجی ،چرائتہ افسنیتن:

کالی مرچ کلونجی چرائتہ افسنتین میں سے ہر ایک دس گرام لے کر باریک پیس لیں۔ تینوں کو اچھی طرح ملا لیں اور ایک گرام دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام اجوائن و پودینے کے قہوے کے ساتھ ڈینگی بخار کے مریض استعمال کریں۔

-4 وٹامن:

ڈینگی فیور سے متاثرہ افراد وٹامن کے وٹامن بی اور وٹامن سی سے بھرپور خوراک کا استعمال کریں۔

-5 سبزیاں اور چاول:

چاول مونگ کی دال کھچڑی، شلجم چقندر گاجر گوبھی کریلا، انار سنگترہ، مسمی میٹھا اور امرود اس میں مفید غذا ہے۔

 موثر علاج … شربت پپیتہ 

ڈینگی وائرس پھیلانے والا مادہ مچھر بڑا نفاست پسند ہے اور صاف پانی میں رہتا ہے، طلوع آفتاب کے وقت اور شام کو غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتا ہے۔ زیادہ بڑے گھروں میں رہنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لیے ابھی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی اس لیے سائنس دان سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی پیش رفت نارتھ کیرولیناسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس میں خاص بیکٹیریا Wolbateria Bacterium کو مادہ مچھر کے جسم میں داخل کیا جائے گا جس سے وہ وائرس آگے منتقل کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ 

مقامی طور پر ڈینگی کے علاج کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے تحت چلنے والا فلاحی ہسپتال میں ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں کا جوس نکال کر اس میں چند دوسری مفید جڑی بوٹیاں شامل کر کے ’’شربت پپیتہ‘‘ تیار کیا گیا ہے۔ پپیتہ کے پتے ڈینگی کا بخار ختم کرنے، جسم میں مدافعت پیدا کرنے اور بیماری کی حالت میں خون کی ’’پلیٹلٹس کی مقدار‘‘ نارمل رکھنے میں بے حد کارآمد ہیں۔ 

قدرت نے ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں بے پناہ صلاحیت رکھی ہے، ڈینگی سے بچائو اور علاج کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مچھر دانیوں کو پپیتہ کے پتوں میں بھگو کر تیار کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے پتے بیماری سے بچائو اور علاج کے ساتھ مچھروں کو دور بھگاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جن گھروں کے لانوں میں پپیتہ کے درخت لگے ہوئے ہیں، ڈینگی پھیلانے والے مچھر وہاں سے دور بھاگتے ہیں۔ مزید برآں مچھروں سے بچائو کے لیے پپیتہ کے پتوں سے تیار کردہ Repellents بھی بنائے گئے ہیں۔ پپیتہ کے پتوں میں ایک انزائم ’’پاپین‘‘ پایا جاتا ہے۔ جس میں 212 امائنو ایسڈ ہوتے ہیں۔ یہ انزائم جسم میں داخل ہو کر ڈینگی وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وائرس کے ختم ہونے سے خون میں پلیٹلٹس کی مقدار بھی نارمل ہو جاتی ہے۔ امائنو ایسڈ کے علاوہ پپیتہ کے پتوں میں وٹامن اے، سی، ای، کے، بی کمپلیکس اور بی 17 بھی پایا جاتا ہے۔ان پتوں میں موجود فائٹو کیمیکل جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔ جسم میں مدافعتی نظام مضبوط ہونے کے باعث جسم میں داخل ہونے والا وائرس زیادہ پیچیدگیاں نہیں پھیلا سکتا۔ اس کے علاوہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ’’پپیتہ‘‘ کے پتوں میں موجود ’’پاپین‘‘ میں اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ’’پاپین‘‘ کا استعمال دوسری بیماریوں جوڑوں کے درد، السر، جسم میں سوجن اور کینسر کی بیماریوں میں بھی مفید ہوتا ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بطور سرجن مجھے دن میں ایسے مریضوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو خود اپنی موت کو دعوت دیتے ہیں ،میں انہیں تویہ بات کھل کر نہیں بتا سکتا کہ جناب آ ...

مزید پڑھیں

زندگی میں جہاں دولت کمانا بہت اہم ہے وہیں اس دولت کا لطف اُٹھانا اس کے کمانے سے بھی کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ اکثر لوگ کامیابی کے سفر م ...

مزید پڑھیں

موسم برسات میں بارشوں اور سیلاب کے بعد مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا زبردست اندیشہ ہوتا ہے جو وبائی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ان بیماریو ...

مزید پڑھیں