☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
سیلینہ خواجہ ،پہاڑوں کی شہزادی۔۔۔

سیلینہ خواجہ ،پہاڑوں کی شہزادی۔۔۔

تحریر : رحمی فیصل

07-28-2019

آج میں آپ کو دو باہمت اور ذہین پاکستانیوں کی کہانی سنانے والی ہوں جنہوں نے حال ہی میں اپنے اپنے شعبے میں نام کمایا ہے۔ایک کا تعلق شاعری اور ناول نگاری سے ہے ،اور دوسری ننھی بچی پہاڑوں کی شہزادی ہے۔

سیلینہ خواجہ دس سالہ معصوم سی بچی ہے،ایبٹ آباد کے پہاڑوں میں اس کا آبائی گھر ہے۔اسے صرف آٹھ سال کی عمر میں پہاڑوں سے پیا ر ہو گیاتھا۔ اپنی دھرتی کے ایک ایک انچ سے محبت سی ہو گئی۔ وہ اپنے باپ سے روز سنتی تھی آج فلاں نے کے ٹو کی چوٹی سر کر لی۔اس کے بھی دل میں کوہ پیمائی کی امنگ جاگی۔اسے پر فضا ماحول میں رہتے ہوئے جانوروں اور پہاڑوں سے پیار ہو گیا،پہلے پہل وہ ایبٹ آباد کے پہاڑوں پر ’’کوہ پیمائی ‘‘کرنے لگی۔ان پہاڑوں میں رہنے والے جانور بھی اسے اچھے لگنے لگے۔وہ کہتی ہے کہ کوہ پیمائی کے دوران اسے کبھی کسی جانور سے خوف نہیں آیا۔کئی لوگ کہانیاںسناتے ہیں کہ فلاں پہاڑ کے مرکز میں شیر رہتا ہے، یا فلاں شہر میں جنگل سے چیتا آتا ہے، اور راتوں کو انسانوں کو اٹھا کے لے جاتا ہے مگر وہ کبھی پریشان نہیں ہوئی۔پہاڑوں کا سینہ چیرنے کے لئے جس پہاڑی عزم کی ضرورت تھی وہ اس میں موجود تھا۔یہ پہاڑ اس کی ہمت کے سامنے کچھ بھی نہ تھے۔

وہ 3مارچ 2018ء کو 9برس کی عمر میں 5765میٹر بلندQuz Sar اور14جون 2018ء کو 6050میٹر بلند پہاڑی چوٹی ’منگلی سر‘ سر کرنے میں کامیاب رہی۔ جولائی میں اس نے 7027بلند ’’Spatnik Peak سر کرنے کا عہد کیا اور اس میں بھی کامیاب رہی ۔گلگت بلتستان کی قراقرم رینج میں واقع یہ چوٹی اپنی دوستوں کے ساتھ سر کرنے میں کامیاب رہی۔ اس چوٹی کو گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے۔یہاں ہر وقت سورج کی شعاعوں میں برفانی گلیشیئرزسونے کی مانند چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں ، مگر ہمارے لئے تو یہ سونے سے بھی قیمتی ہیں ،یہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی اہم نعمت پانی کو اپنے ا ندر محفوظ رکھے ہوئے ہیں جب ضرورت پڑتی ہے، تھوڑا سا بہا دیتے ہیں۔

اس کی اگلی منزل ’’Broad peak‘‘ہے۔8047میٹر بلند اس چوٹی پر بھی بہت کم ہی لوگ پہنچ پائے ہیں اور پاکستانی خواتین کے لئے یہ چوٹی کسی ڈرائونے خواب سے کم نہیں۔ کئی کوہ پیما اپنی شریک حیات کے ساتھ اس چوٹی کو سر کرنے کی آرزو میں وہاں پہنچے مگر راستے میں ہی ہمت ہار کر واپس چلے گئے۔لیکن ہمارے ہاں خواتین کے کئی گروپ اس چوٹی کو سر کرنے کی فکر میں ہیں اس مرتبہ بھی ایک گروپ سیلینہ کے ساتھ ہو گا۔اس کی نظریں 8848میٹر بلند کے ٹو پر بھی جمی ہوئی ہیں ۔ وہ کہتی ہے۔۔۔’’کے ٹو، انتظار کرو میں آ رہی ہوں تمہیں سر کرنے‘‘۔یہ کوئی سستا مشن نہیں اس کام میں بہت پیسے خرچ ہوتے ہیں۔کئی کئی دن برفانی سردی میں رہنا پڑتا ہے، عا م آدمی تو سردی میں برف کی مانند جم جائے۔اس کام کے لئے سردی برداشت کرنے کی طاقت بھی ہوناضروری ہے۔

اس کے علاوہ آمنہ حنیف(13سال)،مریم بشیر(14سال)اور صدیقہ بتول (15سال)کو بھی کوہ پیمائی کا شوق ہے۔انہوں نے 14جولائی سے24جولائی تک پہاڑوںمیں رہ کر6080میٹر بلند منگل شیر(Mt.Manglesser)

سر کرلی ۔ پاکستان میں کوہ پیمائی کے کھیل میںمرد ہی آگے ہیں۔خواتین اس میں دل چسپی کم ہی لیتی ہیں۔مگر ان کے لئے سمینہ بیگ جیسی کوہ پیما مشعل راہ ہیں۔ وادی ہنزہ کی وادی شمشیل سے ان کا تعلق ہے۔ انہوں نے 19مئی 2013کو مائونٹ ایورسٹ کی بلند و بالا چوٹی پر اپنے قدموں کے نشانات چھوڑے تھے، بہت مشکل کام تھا، کئی مشکل ترین مرحلے آئے مگر ہمت نہ ہاری ۔ پیچھے نہ ہٹنے کی قسم کھائی تھی اس لئے ہر قدم آگے کی جانب ہی بڑھایا۔سمینہ بیگ کا بھائی روز انہیں اپنی کہانیاں سناتا ، آج فلاں گورے کے ساتھ اس چوٹی تک گیا،پہاڑوں کو سر کرنے کی باتی سن سن کر اس کے دل میں بھی امنگ پختہ ہو گئی ۔اہل خانہ کی طرف سے بھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا،ان کا تو گھر ہی پہاڑتھا۔ہزار دو ہزار کی میٹر کی بلندی تو ان کا بھائی آتے جاتے سر کر لیا کرتا تھا ۔غیر ملکی کوہ پیمائوں کو آتے دیکھ کر بھی پہاڑوں کا سینہ چیر کر بلندی پر پہنچنے کا شوق جاگا۔ وہ اکثر ہی سوچتی تھی کہ’’ اگر یہ پہاڑ کی بلندی پر جا سکتے ہیں تو میں ایسا کیوں نہیں کر سکتی، مجھ میں کیا کمی ہے‘‘۔کوئی کمی نہیں۔ان میں بھی اتنی ہی ہمت ہے جتنی کہ کسی اور میں ہے،لہٰذا ان کا پہاڑی سفر بھی کامیاب رہا۔سمینہ بیگ الگ ہی ہیں وہ واحد پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے سات براعظموں میں سات چوٹیوں کو سر کیا۔انٹارکٹیکا میں بھی انہوں نے اپنے نشان چھوڑے ہیں۔

ان کے بعد ہی اس کھیل میںکچھ اور خواتین نے بھی دل چسپی ظاہر کی ۔ مگر کچھ کو گھر سے اجازت ہی نہ ملی اور بعض نے سوچ بچار کے بعد پسپائی اختیار کر لی۔ عظمیٰ یوسف نے کوہ پیمائی کے کھیل کو اپنایا۔ وہ گولڈن پیک کو سر کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔جنوری 2017ء میںبھی خواتین کا ایک گروپ سامنے آیا جس نے 6ہزار میٹر بلند’’Peer Peak‘‘کو سر کرنے کی ٹھان لی۔،یہ ٹیم بھی اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔

ان کے علاوہ31جولائی کو کوہ پیمائی کی تربیت دینے والے ایک سکول سے تعلق رکھنے والی چھ پاکستانی لڑکیوں کی ایک ٹیم ہنزہ نے چوٹی’’ شفتگین سر‘‘سر کی ۔

مزید پڑھیں

مانچسٹر میں مقیم پاکستانی شاعر زاہد حسن زرخیز ذہن ہی نہیں رکھتے ،شاعری ہی نہیں کرتے بلکہ سائنسی سوچ کے بھی مالک ہیں ،ان میں سفارت کارانہ ...

مزید پڑھیں