☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور غور و طلب فیشن سنڈے سپیشل خواتین کھیل فیچر صحت انٹرویوز طنزومزاح کچن کی دنیا
اوورسیز سرکٹ کے بغیر بزنس نہیں ہو سکتا

اوورسیز سرکٹ کے بغیر بزنس نہیں ہو سکتا

تحریر : مرزا افتخاربیگ

09-22-2019

جدید دور میں جہاں دنیا بھر میں ہرشعبہ ہائے زندگی میں تبدیلی کا عمل بڑھ رہا ہے وہاں ملکی سطح پر دیگر شعبوں میں وقت کیساتھ تبدیلی ہی کامیابی کی نئی راہ دکھارہی ہے۔ملکی فلم انڈسٹری ایک طویل عرصے سے بحران کا شکار چلی آرہی ہے ، جس کی بناء پر کئی سینما گھر اور فلمی ادارے اپنی شناحت کھوچکے ہیں ۔کامیاب ترین ہیروز اپنے دور کو اب ماضی کا حصہ سمجھنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

جہاں ان کی ایک وقت میں کئی کئی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنتی تھیں اب وہ قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ایسے میں اگر کوئی نوجوان جذبہ ،شوق لیکر جلوہ گر ہو،اس کے مقابلے میں اس انڈسٹری سے شہرت و دولت کمانے والے حوصلہ افزائی کے بجائے دل شکنی کریں تو کسی المیہ سے کم نہیں ،پاکستان فلم انڈسٹری کا سرکٹ اب بہت محدود ہوگیا ہے ، کل تک ملک بھر کے ہزاروں سینما گھروں میں ملکی فلمیں نمائش پذیر رہتی تھیں ۔اب صورتحال یہ ہے کہ عید دنگل ،قومی دنوں کے موقع پر ایک سے زائد فلمیں ریلیز کرنیکا مقابلہ شروع ہوجاتا ہے۔اس میں کمزور فلم وقتی طور پر ضرور بزنس کرلیتی ہے لیکن اچھی فلم کے بزنس پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جس سے پروڈیوسر کو جو نقصان اٹھا نا پڑتا ہے اس کا احساس عام شائقین کو نہیں ہوتا۔ ملکی فلم انڈسٹری تقسیم کار ،نمائش کار اور فلمساز کے کاندھے پر کھڑی ہے۔اس کے اچھے برے اثرات ابھرتے ہوئے فلمسازوں ، ہدایتکاروں اور نئے آنے والے فنکاروں پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں۔شوبز انڈسٹری میں بطور ماڈل اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے گلوکار ،موسیقار ، اداکار ، فلمساز ، معاون ہدایتکار ،سپر ماڈل اور فلم انڈسٹری کے مستقبل سے پرامید نوجوان اداکارشہر یار منورسے بحرانی دور سے نکلتی ہوئی ملکی شوبز انڈسٹری کے حوالے سے ایک نشست رہی ۔قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہے۔

دنیا : کہا جارہا ہے کہ آپ فلم انڈسٹری کو ایک نئی جہت دینے کے لئے میدان میں آئے ہیں؟ 

شہر یار منور : شوبز انڈسٹری میں کسی بھی شخص کو زندہ رہنے کے لئے نئے انداز سے سوچنا پڑتاہے۔گائیکی ، میوزک اور ماڈلنگ کا شوق اس جانب لایا ۔اشتہاری اداروں نے میرے چہرے کو نئی شناحت دی ،کئی اہم برانڈڈ تشہیری مہم کا حصہ رہا ، جس کسی بندے کو شہرت و شناحت ملتی ہے تو اس کے اندر ایک نیا انسان جنم لیتاہے۔یہ کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ جہاں تک آپ کا کہنا ہے کہ نئی جہت دینے فلم انڈسٹری میں آیا ہوا۔ایسا ممکن ہے کہ آپ اور دیگر لوگ سوچ رہے ہیں لیکن میں ذاتی طور پر ایک بزنس کی نظر سے فلم انڈسٹری کو دیکھ رہا ہوں۔

دنیا : وہ کیسے ۔۔ـ؟ 

شہریار:جب میں نے فلم ’’ ہومن جہاں ‘‘ شروع کی تو اس وقت فلم انڈسٹری کا بحرانی دور تھا ٹی وی فنکار و ہدایتکار ہی میدان میں سرگرم تھے ،جدید سینما گھر آباد ہوچکے تھے ،فلم کا تجربہ نہ ہونا بھی ایک خاص جز تھا لیکن فلم کے ہدایتکار عاصم رضا کو اشتہاری فلموں کا تجربہ تھا ان کے کریڈٹ پر کئی بڑی اشتہاری فلمیں ہیں ،انکے ساتھ کام کرکے اشتہاری فلموں کی ڈائریکشن بھی دی ہے۔ان کے ساتھ فلم ’’ہومن جہاں‘‘ میں بھی معاونت کی۔فلم جب بیرون ممالک میں ریلیز کی تو اپنے سرکٹ کا احساس ہوا کہ بہت چھوٹاہے۔بزنس کے لئے اوورسیز سرکٹ ضروری ہے۔ملکی سطح پر ملکی فلموں کے بزنس کے لئے نئے سرے سے حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی ۔

دنیا : ایک فنکار ہونے کے ناطے آپ فلم کے بزنس کو کس طرح ترتیب دیں گے؟ تجربہ کار لوگ ناکام ہوکر گھر بیٹھ گئے ہیں؟ 

شہریار:جب سے کراچی میں بنی ہوئی فلمیں ملک کے دیگر شہروں میں جارہی ہے تو لاہور اور کراچی کی فلم کہہ کر کیوںفرق پیدا کررہے ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہئے فلم کسی بھی جگہ بنے وہ پاکستانی فلم ہے لاہور ایک بڑی انڈسٹری رہی ہے آج اگر وہاں بحرانی کیفیت ہے تو اس کی وجہ بزنس کے طور طریقے اور پروفیشنل ازم کا نہ ہونا بھی ہے۔ہمیں مل جل کر فلموں کے بزنس کو بہتر کرنے اور شائقین کو سینما گھر لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔میری فلم ’’ پرے ہٹ لو ‘‘ نے پہلی فلم کی طرح اس بار بھی بیرون ممالک میں پاکستان سے زیادہ بزنس کیا ہے۔پنجاب ایک بڑا سرکٹ ہے ہماری فلموں کو سب سے زیادہ بزنس پنجاب سے ہی ملتاہے۔جس طرح پنجاب کے لوگوں نے فلم کو سراہا،مجھے احساس ہوا ہے ہمیں فلموں کے بزنس کو بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔تجربہ کار افراد جوتقسیم کار تھے ،فلمساز اور نمائش کار تھے ان سے رابطے کرنے ہوںگے۔ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا ہوگا ،ان کو اس نظام کا دوبارہ حصہ بناکر کارگر دگی بہتر کرکے فلموں کی نمائش کار سے لیکر تقسیم کار ملک گیر سطح پر فعال کرنا ہوگا جو گھر جاکر بیٹھ گئے ہیں۔ فلم انڈسٹری ایک صنعت ہے اسکو بزنس کے طور پر ہی چلایا جاسکتا ہے۔

 دنیا :آپ کا کہنا ہے کہ فلم کسی ایک شہر کی نہیں ملک کی ہے؟ 

شہریار: جی !ہم فلمسازی پورے ملک کیلئے ہی نہیں دنیا بھرکے لئے کررہے ہیں۔کراچی کی فلم نہیں پاکستان کی فلم ہے ۔ملک کی شوبز انڈسٹری کو اب ہم نے امریکہ ، یورپ،سائوتھ افریقہ،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، کینیڈا ، برطانیہ ،مڈل ایسٹ ، دیگر ممالک میں متعارف کرادیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری فلموں کو سراہا جارہا ہے ، بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں ہماری فلموں نے ایوارڈز حاصل کئے ،پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری بہت بڑی ہے اسکے فلم فیسٹیول میں بھی ہماری فلمیں بہترین فلم و اداکار کے ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔ہم کسی سے کم نہیں البتہ ماضی کی طرح سنہری دور لانے کے لئے ہمیں مل جل کر کام کرنا ہوگا،فلم تقسیم کار(ڈسٹری بیوٹر ز)، نمائش کار(ایگزی بیوٹرز)کو سرگرم کرنا ہوگا وہ گھر بیٹھ گیا ہے۔ نئے سینماگھر آنے سے پرانے سینما گھر والوں کے رابطے بحال کرنے ہوںگے۔

دنیا : اس حوالے سے آپ کیا کررہے ہیں ؟

شہریار: میری کوشش ہے کہ ان لوگوں کو فعال کروں ۔ہم کراچی والے پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے رکن ہیں ان کی پالیسی جاری ہے۔ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ ایک عرصے سے فلم انڈسٹری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ان میں سے سیدنور،سنگیتا، شفقت چیمہ دیگر نے بھی کراچی آکر فلمیں بنائیںان کی فلموں کو سینماگھر بھی ملے۔

دنیا : ماہرہ اور آپ نے گزشتہ برس ’’سات دن محبت ان ‘‘کی ریلیزسے قبل اگلی فلم میں ساتھ ہونے کامجھ سے کہا تھا ؟ پھر ایسا کیا ہوا ؟ فلم کی ہیرئوئن مایا علی ہوگئی ؟ اس بارے میں وجوہ شیئر کریں گے ؟

شہریار: جی ! آپکا کہنا درست ہے۔ماہرہ خان اور میں نے اگلی فلم کے بارے میں بتایا تھا وہ فلم’’ پرے ہٹ لو ‘‘ ہی تھی لیکن فلم کی کہانی عمران اسلم کی بیماری کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگئی جس پر عمران اسلم صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ کہانی کسی اور سے مکمل کرالوں۔عاصم رضا نے اور ہم نے ایسا نہیں کیا ان کے اسکرپٹ کاانتظار کیا۔ماہرہ خان نے جو ہمیں ڈیٹس دی تھیں وہ اس پر کام نہ ہوسکا ۔جب فلم شروع ہوئی تو ماہرہ خان دوسرے پروجیکٹ کو ڈیٹس دے چکی تھی۔اس بناء پر فلم میںمایا علی میرے ساتھ آئیں ۔ماہرہ خان اچھی فنکارہ ہی نہیں کمٹمنٹ والی پروفیشنل اداکارہ ہیں۔

دنیا :فلم کی نمائش کے بعد آپ نے میڈیا پرسن کے ساتھ عشائیہ تقریب کی نئی روایت کا آغاز کیا ؟ اس کی کوئی خاص وجہ ؟

شہریار: بیرون ممالک میں فلموں کی تشہری مہم اور نمائش کے بعد تقریبات کا انعقاد ایک معمول ہے، ان سے فنکار و میڈیا کے درمیان رابطے بھی بہترہوتے ہیں اور فلم ٹریڈ سے وابستہ افراد کواس روش کو اپنا نا چاہئے۔ ہم نے ایک روایت ڈالی ہے اپنے کام کے بارے میں کیسا لگا؟کوئی خامی رہ گئی ہے تو آئندہ اس کو دور کریں اور بہتر فلمیں بناکر شائقین کو تفریحی کے بھرپور مواقع دیں۔میڈیا جب تک ملکی فلموں کو اہمیت نہیں دے گا ہم فلم، سینما اور دیگر شعبوں میں استحکام لانے مشکلات کا شکار رہیںگے۔اس کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی ،آئندہ بھی اس طرح کے رابطے رکھیں گے۔

 دنیا : ماضی کے مقابلے میں جدید دور میں فلموں کی تشہیری مہم کے حوالے سے بتائیں ؟ فنکاروں کا تعاون رہا؟

شہریار:ماضی کی فلمیں بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین تک کا ایک عروج کا دور رہا جس میں لیجنڈ ری فنکاروں نے جنم لیا جن کی پرفارمنس و کردارنگاری نے ان کے فلمی کرداروں کوامر کردیا۔ان سے متاثرہوکر مجھ سے پہلے کئی فنکار فلم انڈسٹری کے ہیرو بنے اور آج تک وہ اپنی پرفارمنس و کردارنگاری کی بناء پر زندہ ہیں۔اب جدید دور ہے نیٹ ، وائی فائی ،واٹس اپ دیگر سوشل میڈیا اس کے باوجود ملکی فلموں کولوگوں تک متعارف کرانے کے لئے اور ان کو سینما گھر تک لانے کے لئے شاپنگ مالز، ٹی وی چینلز ،تفریحی گاہوں ، سینما ہائوسز،تعلیمی اداروں ،دیگر تفریحی گاہوں کے دوروں میں فنکاروں نے ہرممکن تعاون کیا اور ہمارا ایک شیڈول کئی ماہ قبل ترتیب پاگیا تھا ۔

دنیا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے فلموں کواستحکام مل رہاہے ؟

شہریار: ہماری ان کوششوں سے مل رہا ہے سال میں صرف چند فلمیں نمائش پذیر ہوتی تھیں اب ان کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔ فلموں کابزنس کروڑوںمیں پہنچ رہا ہے۔بھارتی فلموں کے مقابلے پر بھی ہماری فلمیں بزنس کرچکی ہیں اب ان فلموں پر پابندی ہے تو ملکی فلمیں سینما گھروں میں چل رہی ہیں ، لوگوں نے گھروں سے سینما گھروں کا رخ کیا ہے۔ہم سینما گھروں میں سرپرائز وزٹ کرکے شائقین کے درمیان پہنچ رہے ہیں ۔فلم ریلیز ہونے کے باوجود ہم کراچی سے لاہور، اسلام آباد چھوٹے بڑے شہروں کے سینما گھروں میں شائقین کے درمیان شوز کے دوران موجود رہے ہیں اورلائیو فلم شائقین کے تاثرات اچھے برے سوشل میڈیا پر چلاتے رہے ہیں۔

دنیا : ملکی فلم انڈسٹری بیرون ممالک سے زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن سکتی ہے،آپ کا کیا خیال ہے؟

شہریار: جناب ! بن چکی ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملکی فلموں نے بیرون ممالک کے باکس آفس پر کروڑوں کا بزنس کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ ملک میں زرمبادلہ لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اب تو ہماری فلمیں بہت جلد چائنا میں بھی دکھائی جائیں گی جس کی تیاریاں جاری ہیں۔ 

فلم ایک بزنس ہے اس کی سرپرستی سرکاری سطح پر نہ ہونے سے بہت سے اچھے فلمساز خسارہ ہونے کی بناء پر چلے گئے ۔

دنیا : ملکی فلم انڈسٹری میں بیرونی سرمایہ کارکی دلچسپی کے بارے میں کیا خیال ہے؟

شہریار: ہماری کئی فلموں میں بیرون ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی۔ سید نور نے امریکی نژاد پاکستانی کے ساتھ فلم’’ چین آئے نہ ‘‘بنائی، اداکارہ و فلمساز حریم فاروق نے کینیڈین نژاد پاکستانی کے ساتھ فلم’’ ہیر مان جا ‘‘ بنائی ہے۔دیگر فلمساز بھی بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاری کررہے ہیں ۔ملکی فلموں کواگر سرکاری سطح پر بھی کلچرل پالیسی کے تحت سپورٹ کیا جائے تو ملکی فلمساز زیادہ بہتر طور پر کام تحفظ کے احساس سے کام کریں گے۔

دنیا : سرکاری سطح پر سپورٹ سے آپ کی کیا مراد ہے؟

شہریار: ہمارے فلمسازوں کو بنکوں سے قرضہ فلمساز ی کے لئے نہیں دیا جاتا ۔ایساہونا چاہئے تاکہ فلمسازی کاعمل تیز رفتاری سے جاری رہے ، پڑوسی ملک میں فلمسازوں کو بنکوں سے فلمیں بنانے کے لئے قرضے دیئے جاتے ہیں۔ ان کی فلمیں دنیا بھر میں بزنس بھی کرتی ہیں اور فلمساز بھی ٹینشن سے آزاد ہوتاہے یہاں کا پروڈیوسر اپنا سب کچھ لگاکر بھی اکثر اصل سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔حکومتی سطح پر شوبز انڈسٹری کو تحفظ کے لئے لائحہ عمل بنانا چاہئے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بہت کم ایسے فنکار گزرے ہیں جو نوعمری میں ہی شوبز دنیا میں جلوہ گر ہوکر نامور ہوگئے ،شہرت کے ساتھ دولت و عزت بھی کمائی ، ملکی شوبز انڈسٹری ...

مزید پڑھیں

زندگی کے سفر میں جب تنہائی ہی ہم سفر بن جائے تو کسی بھی صف اول کی فنکارہ و ماڈل کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں ہوتی ،وہ فنکار اپنے چھوٹے بھائی ...

مزید پڑھیں

بہت چھوٹی عمر سے ہی کومل رضوی کے شوبز کیریئر کاآغاز ہوا، ابھی وہ محض ٹین ایجر ہی تھیں اور اسکول میں پڑھ رہی تھیںکہ رنگ وروشنی کی دنیامیں د ...

مزید پڑھیں