☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
تھیٹر عوام کو خوف کے ماحول سے نکال سکتا ہے

تھیٹر عوام کو خوف کے ماحول سے نکال سکتا ہے

تحریر : مرزا افتخاربیگ

10-06-2019

چھوٹے جملے، لطف پیرائے میں طنز، لفظوں کی کاٹ ،تلخ حقائق کا اظہار ، سماجی خامیوںاور معاشرتی برائیوں کی دلکش ا ندازمیں وضاحت،زبان ، نسل ، مذہب یا جنس کے حوالے سے انسانی فرق کی مذمت ، عام بات میں چھپی گہری بات، قاری، نا ظر یا سامع کے لئے ایک سبق اور سب سے بڑ ھ کر مزاح و طنز کی بھر پور چاشنی کا لطف یہ سب اس ملک کی ایک شخصیت کے قلم میں ہے

اور وہ ہے انور مقصود، جس نے ڈرامہ نویسی کے ہنر سے کیا کیا جلوہ گریاں دکھائی کہ اہل علم بھی کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ان کی تحریر میں جو کاٹ اور طنز کی جو گہرائی ہوتی ہے ، وہ پاکستان میں کسی اور ڈرامہ نگار کے پاس نہیں ہے۔وہ سیدھے سادے عوامی انداز میں مکالمے لکھ کر بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں، انکشافات کرجاتے ہیں۔ فقرے اور مکا لمے لکھنے کا ان کا اپنا منفرد اور اچھوتا انداز ہے۔وہ جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو بجائے قلم کے ہاتھ میں تیز دھار چھری یا نشتر لے کر بیٹھتے ہیں،انہوں نے جب بھی ٹی وی کے لئے لکھا ،پروڈیوسرز کے لئے امتحان ثابت ہوا۔ ان کے لئے وہ ہمیشہ ایک مشکل رائٹر ثابت ہوئے ۔ معاشرے میں وہ جو کچھ دیکھتے ہیں ویسا ہی لکھ دیتے ہیں ۔ویسا ہی پیش کرنے کے خواہش مند رہتے ہیں جو کہ ہمارے ملک کے سرکاری ٹی وی پر پیش ہونا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ سچی بات کو برداشت کرنا آسان نہیں ، تعلیم کی کمی کے باعث ہم طنز و تنقید کوذاتی حوالوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، ا سی لئے انہیں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے انداز تحریر سے کسی بھی دور میں پیچھے نہ ہٹے ،پھر یہ ہی ہوا کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ مخصوص لوگ ان کی تحریر کو ہضم نہیں کر پاتے اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیںتو انہوں نے ٹیلی ویژن کے لئے لکھنا کم کردیا ،بلکہ چھوڑ دیاورنہ عموماًطنز و مزاح لکھنے والے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں۔

ان کا ایک ایک جملہ نشتر کا کام کرتا ہے، ان کی تحریریں صرف لطف لینے کے لئے نہیں ہوتیں، وہ اپنی تحریروں سے معاشرے کو مثبت راہیں دکھاتے ہیں، وہ پاکستان کے معاشرتی حوالے سے ایک بڑے شگفتہ دانشور ہیں اپنے طرز و انداز کے ایک منفر د اداکار، کمپیئر، مصور، شاعر اور بہت کچھ ہیں۔تھیٹر اور ٹی وی بنیادی طور پر دو میڈیم ہیں اور تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر لکھنے والے اور اداکار جو کام کرتے ہیں، ان دونوں شعبوں میں ان کے دائرے مختلف ہوتے ہیںاور ضروری نہیں کہ اسٹیج کے لئے لکھنے والا یا تھیٹر میں کام کرنے والا اداکار ، ٹیلی ویژن پر بھی ناظرین کے لئے قابل قبول ہو یا ٹیلی ویژن کے لئے لکھنے والے اور اداکاری کرنے والے تھیٹر دیکھنے والوں کے لئے بھی پسندیدہ ہوں لیکن انور مقصود کی مثال گنتی کے چند لوگوں میں ایک کی ہے۔ انہوں نے دونوں شعبوں میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔انہوں نے قلم اور اداکاری کے ذریعے اپنے منفرد لب و لہجے سے بھیڑ میں شامل ہوتے ہوئے بھی اپنی شناحت الگ رکھی اور اپنی آواز بلند رکھی۔ مزاح اور طنز کا خوبصورت توازن ہمارے ہاں گنتی کے چند لوگوں کے پاس ہے ان میں انور مقصود کا ایک بڑ ا نام ہے ،بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ اسٹیج پر بھی ٹیلی ویژن پر بھی ادیب یا رائٹر کوئی کردار تخلیق کرے اور وہ ناظرین میں مقبول ہوجائے یا اسے تسلیم کر لیا جائے اور اس کردار سے لوگوں کا ایک رویہ بن جائے ، قربت کا، رابطے کا اور لوگ اس کردار کا انتظار کر یں ، ’انور مقصود ایک انتہائی تحریک پیدا کرنے والے ڈراما نگار ہیں۔

انور مقصود نے لاتعداد کردار تخلیق کیے، وہ طنز و مزاح کی دنیا میں اتنے بھر پور کردار ہیں،جو ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ان ہی کرداروں میں ڈرامہ سیریل آنگن ٹیڑھا میں اکبر کاکردار آج بھی36 برس بیت جانے کے باوجود زندہ جاوید ہے ۔کہا جاتا ہے کہ انور مقصود لکھتے لکھتے غائب ہو جاتے ہیں ۔آہستہ آہستہ وہ اور ان کے کردار لوگوں کے ذہنوں سے دور ہو جاتے ہیںکہ اچانک وہ ایک نیا روپ اور نئے موضوع کیساتھ وارد ہوتے ہیںاور چھا جاتے ہیں۔ پاکستان کی 71 سالہ تاریخ کو تلخ و شیریں حقائق پر مبنی طنز و مزاح سے بھرپور اسٹیج ڈرامہ پونے چودہ اگست نئی ٹیم کے ساتھ پیش کرکے جو ملک گیر شہرت و مقبولیت حاصل کی ۔اس کا اعادہ کرتے ہوئے ٹی وی اسکرین سے نکل کر انور مقصود کلاسیکل ڈرامہ سیریل آنگن ٹیڑھا کی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ تھیٹر پر جلوہ گر ہوئے تو ان کو تھیٹر کے شائقین نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ پڑوسی ملک اپنی جارحانہ پالیسی سے لبریز سرحد ی محاذ پر کیا گل کھلارہا ہے اس کو ’’ سیاچین ‘‘ کے عنوان سے تھیٹر پلے لکھ کر جو ملک بھر میں تفریح کے ساتھ قومی وحدت و سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے عسکری قربانیوں کو جس انداز میں اسکرپٹ لکھا وہ ان کا ہی خاصہ تھا۔نواز شریف حکومت کے خاتمہ کے بعد مزاح سے بھرپور تھیٹر پلے ’’ مجھے کیوں نکالا ؟‘‘ لکھا تو ملک بھر میں اسکو خوب پذیرائی ملی جس میں سیاسی کرداروں کو ملکی حالات کے تناظر میں پیش کیا گیا اور ذومعنی لئے ہوئے طنز و مزاح سے بھر پور مکالمے وہ انور مقصود ہی کے نوک قلم سے نکلی ہوئی تحر یر ہوسکتی تھی۔ اس حوالے سے ہونے والی ملک کے معروف ڈرامہ نگار ، مصور، اداکار ،میزبان ،نغمہ نگار ،لیونگ لیجنڈانور مقصودسے خصوصی گفتگو نذز قارئین ہے

دنیا : آنگن ٹیڑھا کو تھیٹر کا روپ دینے کے بارے میں بتائیے ۔

 انور مقصود : میںنے 50سالہ کیر یئر میں کئی پروگرامز ، ڈرامے اور ٹاک شوز کیے۔ ان میں شو ٹا ئم، سلور جوبلی، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، لوز ٹا ک شوز، ڈرامے ،نادان نادیہ، ستارہ اور مہرالنساہ، ہاف پلیٹ ، تلاش، ہم پہ جو گذرتی ہے، آنگن ٹیڑھا، ٹیلی تھیٹر ڈرامے نہ قفس نہ آشیانہ سمیت در جنوں دیگر شامل ہیں ۔یہ سب میری اولاد کی طرح ہیں۔ ان میں میری سب سے اچھی اولاد ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ ہے۔ اس میں اکبر کا کردار میرا دل ہے، باقی کردار وں نے بھی اس سیریل کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔نئی ٹیم نے میرے ساتھ گئے برسوں میں تھیٹر کے لئے پونے چودہ اگست کیا تھا اس میں ان کا پروفیشنل ازم دیکھ کر یقین ہوگیا کہ پاکستان میں تھیٹر کو ری وائیول اب نئی نسل کے ہاتھوں ہی ہوگا۔اس ڈرامے کی ملک گیر کامیابی نے میرے اندر ایک توانائی پیدا کی۔ معین اختر کے یوں اچانک چلے جانے سے جو خلاء محسوس کررہا تھا، اس کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا ،لیکن کسی حد تک اس کا مداوا مجھے ان نوجوان بچوں میں نظر آیا۔ جب ان بچوں نے’’ آنگن ٹیڑھا‘‘ کو تھیٹر پر پیش کرنے کا کہاتو میں نے انکار کردیا تھا۔

دنیا : آپ نے کیو ں انکار کردیا تھا ؟

انور مقصود : ان بچوں کی عمریں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ تھیٹر نہیں کرسکتے ، آنگن ٹیڑھا ایک سیریز کے طور پر پیش کیا گیا ڈرامہ تھا جس کا دورانیہ کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا ۔اب بتائیں کہ 11گھنٹوں کے کھیل کو کیسے 90 منٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ جب آپ پاکستان کی 71 سالہ تاریخ کو 100 منٹ میں سمو سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں ہو سکتا ؟ ان جنونی نوجوانوں نے یہ ازبر کیا ہوا تھا جو ان کی پیدائش سے پہلے پیش ہوا تھا،ان کا تھیٹر سے جنون دیکھ کر اپنی سب سے پیاری اولاد کو تھیٹر کا روپ دیا جو تین ماہ تک کامیابی کے سا تھ پیش کیا گیا ۔

دنیا: اس ڈرامے میں آپ نے بشریٰ انصاری اور دیگر کرداروں کو کیوں نہیں لیا ؟ ایک نئی لڑکی کو اہم کردار دیا ؟

 انور مقصود : بشری ٰ انصاری اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ مصروف اداکارہ ہیں۔وہ ڈرامہ سیریل بہت اچھا لکھ رہی ہیں، خودلکھتی ہیں،میرے لکھے ہوئے ڈرامے کے لئے وقت نہیں ہے۔ویسے بھی میں ذاتی طور پر نئے فنکاروں سے ان کرداروں کو کروانا چاہتا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ بشریٰ انصاری سمیت دیگر فنکاروں کو بطور مہمان فنکار کے اس میں انٹری ہوجاتی ، جس کی منصوبہ بندی بھی کرلی گئی تھی۔بشری ٰانصاری ودیگر فنکاربھی تیار تھے۔ اس کے لئے پروڈیوسر بھی تیار تھا اس کا اصرار بھی تھا۔ لیکن میری خواہش تھی کہ ان سے کردار نہ کروائے جائیں ۔

دنیا : آپ کی اس با ت سے پروڈیوسر کا کیا ردعمل سامنے آیا؟

 انور مقصود : پروڈیوسر مان گیا البتہ ان فنکاروں کو بہت دکھ ہوا ہوگا کیونکہ ان انٹریز سے ان کا پرکشش معاوضہ کا چانس ختم ہوگیاتھا۔

دنیا : کراچی کے حالات و تھیٹر کی سرگرمیوں کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

انور مقصود : کراچی ہی کے نہیں پورے پاکستان کے حالات ایسے ہیں چار سو پریشانی کا عالم ہے، 5 ہزارشائقین کے لئے کوئی میوزک کنسرٹ کرانے کے لئے تیار نہیں، دو کروڑ کے شہر میں صرف ایک آڈیٹوریم ہے جس میں ڈرامہ کیا جاسکے، کسی المیہ سے کم نہیں۔اس حوالے سے 50 بار سابق وزائے اعظم سے بھی کہہ چکا ہوں کہ ا س شہر میں مختلف علاقوں میں تھیٹر آڈیٹوریم ، کیفے اور کتب خانے بنائے جائیں تاکہ لوگ دہشت و خوف کے ماحول سے نکل سکیں۔ تھیٹر کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ہمیں شہر کے مضافاتی علاقوں میں تھیٹر حال بنانے ہوں گے۔ 

دنیا : مزید ٹی وی ڈراموں کو تھیٹر پر پیش کرنے کے بارے میں کیاکہناچاہئیں گے آپ ؟

انور مقصود :آٹھ دہائیاں دیکھ چکا ہوں ، عمر کا تقاضہ اور دیگر مصروفیات کی بناء پر فوری ممکن نہیں ہوگا البتہ اس کے بعد ٹی وی ڈرامہ ہاف پلیٹ کو تھیٹر پر پیش کر چکا ہوں جو میری خواہش بھی تھی اس کو بھی بہت سراہا گیا ۔ 

دنیا : پاکستانی ٹی وی ڈرامہ کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

 انور مقصود : موجودہ دور میں ڈرامے یکسانیت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ان ڈراموں میں کہانی نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی ،غیر ملکی ڈرامے وقتی طور پر تفریح کے طور پر دیکھے جاتے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو بہت کہانیاں ہیں۔ہر گھر کی کہانی ہے نہ ہمیں ولایت جانے کی ضرورت ہے نہ ہی اسپین، سب کچھ ہماری تہذیب و تمدن میں موجود ہے۔منٹو کو کہیں باہر نہیں جانا پڑا ،اس نے اپنے اطراف میںگھریلو، معاشرتی ، پریشان حال لوگوں کی کہانیوں کواپنا موضوع بنا یا ،اس کو کہانیاں مل گئیں۔آج دنیا بھر میں منٹو کا چر چا ہے۔

 دنیا : ڈرامے کی کامیابی و ناکامی کے بارے میںکیا کہنا چاہیں گے ؟ 

انور مقصود : ڈرامہ کی کامیابی و ناکامی کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے، یہ ایک ٹیم ورک ہوتا ہے، اگر کوئی برا اسکرپٹ ہے تو اسے اچھا پروڈیوسر اچھا کرے گا اور اگر کوئی اچھا اسکرپٹ ہے تو اسے نااہل پروڈیوسر بالکل ہی بگاڑ دے گا۔

دنیا : اچھے و برے ڈرامے کی تعریف آپ کی نظر میں کیا ہے ؟

انورمقصود : اچھا ڈرامہ وہ ہوتا ہے جو آپ کے احساس کو تقویت دے ، آپ کی سوچ کو بیدار کرے اور برا ڈرامہ وہ ہوتا ہے کہ جس سے آپ کو ئی بات محسوس ہی نہ کرسکیں۔اب آپ نے یہاں بڑی بڑی سیریز دیکھی ہو ں گی ۔50 سے 100 قسطوں والی اس میں آپ جس طرح ڈائجسٹ پڑھ کر لطف لیتے ہیں، اسی طرح آپ ان سیریز کو بھی دیکھتے ہیں۔آپ یہ نہیں سوچتے کہ یہ کردار کون سے ہیں ؟ مختلف ٹی وی چینلز پر ڈراموں کی بھر مار ہے لیکن ان میں میٹریل نہیں ہے۔ڈائجسٹ کے لئے لکھنے والے ٹی وی پر آگئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ڈرامہ چوں چوں کا مربہ بن کر رہ گیا ہے۔موجودہ دور میں ڈرامہ اپنی اصل صورت سے دور ہوتا جارہا ہے۔ہر چیز وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتی ہے۔ ابتدائی دور کے ڈرامے آج کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوا کرتے تھے کیونکہ پہلے محنت کا جذبہ زیادہ تھا لگن زیادہ تھی،ٹی وی بھی لکھنے والوں کے ناز اٹھاتا تھا اور اچھے رائٹرز ان کی ضرورت اور پہچان ہواکرتے تھے لیکن اب یہ سوچا جاتا ہے کہ یہ نہیں لکھے گاتو کوئی اور لکھ دے گا۔کام تو رکتا نہیں ہے۔بات بھی صحیح ہے کہ جب گھر نیا نیا بنتا ہے تو کام کرنے کا جوش او رجذبہ کچھ زیادہ ہوتا ہے۔پھر اچھے لکھنے والے زیادہ ہواکرتے تھے۔ احمد سلیم تھے، انتظار حسین، شوکت صدیقی لکھا کرتے تھے،خواجہ معین الدین، سعادت حسن منٹو یہ لوگ ریڈیو کے لئے بھی اچھا لکھا کرتے تھے۔ آج ٹی وی کا یہ رحجان ہے کہ کیسا بھی پروگرام ہو، انہیں اس کے اسپانسر کرنے پر روپیہ ملنا چاہیئے ۔یہ نہیں دیکھتے کہ جو پروگرام ہم دکھا رہے ہیں کیا وہ اس قابل بھی ہے کہ اس کو اسپانسر شب ملے۔

دنیا : موجودہ دور میں ڈرامے کی روایت کو فروغ دینے کے بارے کیا کہنا چاہئیں گے آپ ۔۔؟

انورمقصود : ماضی میں کلاسیک ڈرامے لکھے گئے پروپیگنڈا لکھنا دراصل جابر ممالک کا وصف رہا ہے ہمارے ہاں جو ڈرامہ آج تک تخلیق ہوا وہ بہت کم تخلیقی تھااس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تھیٹر کے دیکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔تھیٹر میں جانے کی عادت نہیں ہے۔ہم نے پونے چودہ اگست پیش کرکے لوگوں کو تھیٹر کی جانب راغب کیا، جب ہم تفریح کے ساتھ مقصدیت کو بھی مد نظر رکھیں گے تو شائقین اس جانب آئیں گے ہمارا تجربہ کامیاب رہا ۔ اس کے بعدآنگن ٹیڑھا کے ذریعے اس عمل کو دھر ایا تو ہمارا تجربہ کامیاب رہا مذکورہ ڈرامہ کراچی ، اسلام آباد، لاہور اور بیرون ممالک میں بھی کامیاب رہا۔اس میں تھیٹر شائقین کو بہتر تفریح انٹر ٹین منٹ کے ساتھ دی گئی ، نوجوان نسل کا آنگن سیدھا کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے ۔ 

روزنامہ دنیا : ڈرامہ ’’سیاچن ‘‘ لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟اس کے بارے میں کچھ بتائیے ؟؟

انورمقصود : سیاچن ڈرامہ لکھنا میرے لئے کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔ اس ڈرامے کو لکھتے ہوئے بہت مشکلات درپیش رہیں۔کاپی کیٹس کے ساتھ اس طرح قید رہا کہ ایک قیدی ہوں۔آزاد ہونے کے باوجود ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح آزاد تھا۔ ان سے جان چھڑانی مشکل ہوگئی ہے۔ما ضی میں بھی کاپی کیٹس پروڈکشنزکے ساتھ پونے 14اگست‘،’سوا 14اگست‘،’ آنگن ٹیڑھا‘، ’دھرنا ‘ اور ’ہاف پلیٹ‘ جیسے کامیاب ڈرامے کے ساتھ رہا ۔ اس ڈرامے کے لئے ہدایتکار داور محمود اور فنکار کئی دنوں تک سیاچن کی بلند و بالا چوٹیوں پر وقت گذار کر آئے تھے ۔ ان کے تجربات تھیٹر شائقین نے ڈرامے میں محسوس کئے ۔ہدایتکار داور محمود کے بے حد اصرار پر یہ ڈرامہ لکھا ۔ تھری ڈی طرز پر مبنی اس ڈرامے کے ذریعے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کو قوم کے سامنے مزاح کے طورپر ضرور پیش کیا ۔ اس میں قومی جذبہ و ایثار ، وطن پرستی کا درس دیا گیا ۔ جس کا ہر شخص اعتراف نے کیا ۔ ڈرامہ دیکھ کر قہقہے کے ساتھ آنکھوں سے جاری ہونے والے آنسو فنکاروں کی حقیقت کے قریب تر پرفارمنس کا نتیجہ ثابت ہوئے ۔ ایسے ڈرامے وقت کی ضرورت ہیں۔ تھیٹر ہمیشہ قومی تحریکوں کی پرورش کا ذریعہ بنے ہیں۔ اس ڈرامے سے ہم نے دنیا بھر میں اپنا اصولی موقف بھی پیش مزاح کے انداز میں پیش کیا تھا جو صرف ہماری ٹیم ہی کا کمال ہوسکتا ہے۔ طنز و مزاح کے ساتھ ملکی دفاع و جارحیت کے بارے میں عام لوگوں تک اچھا پیغام دیا ۔ وطن سے محبت کے حوالے سے آنکھیں نم ہونے چائیں ۔ یہی ڈرامہ کا حسن تھا۔

 ڈرامہ سیاچین کی کہانی دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ پر تعینات پاکستانی فوجیوں کے بارے میں تھی ۔متنازعہ گلیشیئر، سیاچن ، پر تعینات فوجیوں کی زندگی پر یہ ڈراما 2016کے پس منظر میں لکھا گیا تھا ، جب دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کم ہو جائے گا اور امن قائم ہو جائے گا۔ یہ کھیل چھ ماہ کے عرصے میں سیاچن پر تعینات فوجیوں کے تجربات پر مشتمل متعدد مختصر کہانیوں پر مبنی تھا۔ ان کہانیوں میں سے ایک کہانی اس یونٹ کے بارے میں ہے جو عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے لیے اپنے بکرے کا انتظار کر رہا ہے۔ ایک اور کہانی کپتان، سپاہی اور ایک صحافی کے درمیان محبت کی تکون ہے۔ اس ڈرامے میں ایک کہانی ایک بھارتی بہاری سپاہی کے بارے میں ہے جسے پاکستانی کیمپ میں جنگی قیدی بنالیا گیا ہے جب کہ ایک اور کہانی میں دونوں ملکوں کے سپاہیوں کے دو گروپ آئندہ ہونے والے پاک بھارت ٹی20 کرکٹ میچ کے منتظر پر مبنی تھی۔

دنیا : عام طور پر اس نوعیت کے ڈرامے تھیڑ پر وہ رنگ و سماں کا منظرنہیں پیش کر پاتے ، آپ کی ٹیم نے اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پیش کرکے کمال کیا ؟ شائقین کی دلچسپی کیوجہ کیا تھی ؟

انورمقصود : ڈرامے میں دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کے ہلکے پھلکے پہلوکو قلم بند کیا ہے جب کہ اس تنازع کو مین اسٹریم میڈیا میں اس کی غیر معمولی عداوت کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔ڈراما’سیاچن‘ کی تیار ی کو پاکستان میں پیش کیے گئے ڈراموں میں سے سب سے مشکل حصہ سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس میں 3D سیٹ لگایا گیا ہے، اس کے علاوہ غیر معمولی طور پر بڑی کاسٹ کے ساتھ یہ اب تک کی سب سے بڑی مقامی تھیٹریکل پروڈکشن تھی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ کو ہلکے پھلکے انداز میں موضوع بنایا ہے۔ مقامی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اسٹیج ڈرامے ہمارے معاشرے کا لازمی جزو ہیں۔ان ڈراموںکے اقدامات کے لیے مستقبل میں بھی اپنی سپورٹ جاری رکھیں گے اور اپنے مقامی ٹیلنٹ اور ثقافت کے فروغ کے لیے راہیں تلاش کرتے رہتے ہیں ۔جب ایک عام تھیٹر شائق کو ڈرامہ میں اپنے دل کی ترجمانی کا عنصر نظر آتاہے تو وہ دلچسپی لیتا ہے یہ ہی کچھ ہماری ٹیم کے ساتھ ہوا۔ جدید دور کے تقاٖضے ہمارے ڈراموں کو نہ صرف مقبولیت بلکہ قبولیت بخشتے رہے۔ہمیں اعزاز ہے کہ فیملیز نے صرف اسلام آباد ، دیگر شہروں میں ہی نہیں بلکہ کراچی جیسے شہر میں اچھے برے حالات میں ہمارے تھیٹر کو پسند کیا ۔ لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں۔

دنیا : تھیٹر ڈرامے کے ساتھ ملکی ثقافت و کھانوں کی تقریبات کو بھی آپ حصے بنے ہوئے نظر آتے ہیں ؟؟ محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں ؟؟ اس بارے میں کچھ قارئین کی دلچسپی کے لئے ۔۔۔؟

انورمقصود : ہم اپنی ثقافت ، ورثے اور رسم و رواج پر فخر کرسکتے ہیں۔صرف پاکستانی کھانے اور مہمان نوازی ہی منفرد نہیں ، بلکہ اپنے تنوع کے لحاظ سے بھی یہ وسیع تر ہے، اگر آپ پاکستان کے مختلف صوبوں میں موجود گھروں میں مہمان ہوں تو آپ کو خوراک ، پکوان ،گرم جوشی خدمت اور دلی کشادگی ملے جو پاکستان بھر میں عام ہے ۔انہوں نے واقعہ سناتے ہوئے کہا شیف محبوب اور شیف ذاکر کے اعزاز میں سجائی گئی تعارفی تقریب میں میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے ایک موقع پر شیف محبو ب ، ذاکر اور مجھے دھوپ میں بٹھا دیا گیا۔ایسا لگ رہا تھا کہ رینجر نے ہمیں 90 سے پکڑا ہے(مسکراتے ہوئے )

،ہر سال 14 ، اگست کو ہم آزاد ہوجاتے ہیں ،جھنڈے ہی جھنڈے نظر آتے ہیں ۔اگلے دن 15 اگست کو ڈنڈے رہ جاتے ہیں، آزادی ایک دن نہیں پورے سال منانی چاہئے، سندھ میں سب سے اچھی بریانی سندھی ہے جو آج کل رینجر ز والے بنارہے ہیں۔ آج کل نہ شرجیل میمن ، نہ قائم علی شاہ ،نہ ہی ایم کیو ایم والے ہیں،ایک ہی آدمی بات کررہا ہے۔

دنیا : اس موقع پر دونوں شفس کے درمیان کھانے پکانے کا مقابلہ ہوا تھا، ایک نے بریانی اور ایک نے نہاری بنائی تھی ؟ دلچسپ بن گئی تھی ؟ 

انورمقصود : جی ! محفل دلچسپ بنانے میں ہم نہیں ، شرکاء کی دلچسپی بناتی ہے ۔جس پر میں نے کہا انڈر ٹبیل ڈش کو سب جانتے ہیں ، میز پر ہونے والی ڈش نہاری اور بریانی پورے ملک کی ڈش ہے ۔مقابلہ محبوب اور ذاکر میں نہیں اصل مقابلہ بریانی اور نہاری کا ہے۔ ذاتی شعر ’’ تو ایک ہے اللہ ہمیں معلوم ہے۔ ہم لوگ بھی اچھے ہیں مگر ایک نہیں ‘‘ سنایا تو شرکاء نے جس طرح محفل کو زعفران زار بنانے میں دلچسپی لی اس کا تصور عام لوگ نہیں کرسکتے ۔

دنیا : بھارتی فلمسازوں نے اپنی فلموں کے اسکرپٹس اور منظر نامے لکھنے کے لئے رابطے کئے ہیں ؟

 انور مقصود : بھارتی فلمسازوں نے اپنی فلموں کے اسکرپٹس اور منظر نامے لکھنے کے لئے رابطے کئے ہیں ۔ ان کی آفرز کئی برسوں سے مسلسل مل رہی ہیں۔ایک سچا پاکستانی ہونے کے ناطے انکی فلموں کے لئے کام کرنا نہیں چاہتا اور مستقبل میں بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ ملکی فلم انڈسٹری میں اب استحکام آرہا ہے ۔ازراہ مذاق انہوں نے کہا میں متحدہ چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔پاکستانی فلموں کے اسکرپٹ لکھنے پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے صرف ایک فلم شہزاد رائے کی سائن کی ہے۔ اس کا اسکرپٹ لکھ رہاہوں۔اب تک کوئی اور فلم سائن نہیں کی۔ شہزاد رائے کی ہی فلم کے لئے فی الحال کام کررہا ہوں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

شوبز انڈسٹری میں بہت کم فنکارائیں ایسی ہیں جو کم عمری میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بنا ء پر شہرت پاتی ہیں ،اپنے کام ہی سے اپنے فنی کیریئر کو ا ...

مزید پڑھیں

ایک دور تھا کہ جب ہر لڑکی اپنے فنی کیریئر کا آغاز فلم انڈسٹری سے کرنا باعث اعزاز سمجھتی تھی ،فیشن انڈسٹری سے دور رہنے میں بہترخیال کرتی ...

مزید پڑھیں

جدید دور میں جہاں دنیا بھر میں ہرشعبہ ہائے زندگی میں تبدیلی کا عمل بڑھ رہا ہے وہاں ملکی سطح پر دیگر شعبوں میں وقت کیساتھ تبدیلی ہی کامیاب ...

مزید پڑھیں