☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا رپورٹ متفرق خصوصی رپورٹ شخصیت فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل انٹرویوز خواتین روحانی مسائل
:ماڈل و اداکارہ ایشل فیاض کی باتیں

:ماڈل و اداکارہ ایشل فیاض کی باتیں

تحریر : مرزا افتخاربیگ

10-13-2019

ایک دور تھا کہ جب ہر لڑکی اپنے فنی کیریئر کا آغاز فلم انڈسٹری سے کرنا باعث اعزاز سمجھتی تھی ،فیشن انڈسٹری سے دور رہنے میں بہترخیال کرتی ،وقت بدلا فلم انڈسٹری بحرانی دور کا شکار ہوئی اور سینما انڈسٹری کا بھی برا دور شروع ہوا ، اچھے و معیار ی سینما گھر بھی گرادیئے گئے، ان کی جگہ شاپنگ مال، رہائشی پلازے، تھیٹر ہال بننے لگے ۔

شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے اپنی ترجیحات بھی بدلنا شروع کردیں ،کل تک فیشن شو شاذ و نادر ہی ہوا کرتے تھے ،ریمپ پر کیٹ واک کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا جو ہوتا وہ بڑا وی پی آئی ہوتا تھا جس میں ابھرتے ہوئے ماڈلز کا آنا ناممکن تھا ۔پھر فیشن و بیوٹی انڈسٹری نے کروٹ لی ،یہ انڈسٹری دوبارہ پھلنے پھولنے لگی ۔نئے ٹیلنٹ کو متعارف کرانے کے لئے پرکشش چہروں کا انتخاب شروع ہوگیا ۔ٹیلنٹ کی تلاش کے عنوان سے مہم شروع کی گئی جس سے ماڈلز کی آمد کا سلسلہ چل نکلا ۔ان میں انیتا ایوب، عابدہ ذکی، سیمی پاشا، کبریٰ خانم، نادیہ حسین اور دیگر کا نام نمایاں رہا ۔عام تاثر یہی ہے کہ ماڈلز اچھی اداکارائیں ثابت نہیں ہوتیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایکٹنگ ورلڈ میں نام کمانے والی اداکاراؤں میں متعدد ایسی ہیں جنہوں نے ماڈلنگ سے پہچان بنائی اور پھر ایکٹنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا۔ ماڈل و ایکٹریس ایشل فیاض کا شمار بھی ایسی ہی اداکاراؤں میں ہوتا ہے ،اس اداکارہ نے اپنی متاثراداکاری کے ذریعے ریمپ پر دھوم مچائی ،نتیجتاً اداکاری کی آفرز آنے لگیں ۔ 2015ء میں ڈرامہ ’’آبرو‘‘ کے ذریعے ایشل کی اداکاری کے سفرکی ابتدا ہو ئی، اپنے اس پہلے ہی ڈرامہ میں اس نے خوب متاثر کیا پھر یہ لڑکی ’’ ہتھیلی‘ میں نظر آئی، اپنے لیڈ کیریکٹر کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ۔ایشل کا ایک اورڈرامہ ’’ دلِ مجبور‘ ‘ہٹ ہو گیا۔ کئی ڈراموں میں کردارنگاری کرکے ایشل فیاض نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو منوایا۔

21اکتوبر 93ء کو شہرِقائد میں پیدا ہونے والی ایشل نے کراچی کے ایک معروف کالج سے اے لیول کیا اور پھر اس کی چارمنگ بیوٹی کی بدولت اسے ماڈلنگ آفرز ملنا شروع ہوگئیں جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور آج شوبز ورلڈ میں وہ اپنی خاص جگہ بنا چکی ہے، ٹی وی کے ساتھ ساتھ اس نے اب فلمی سفر کا بھی آغاز کردیا ہے وہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کی فلم ’’ کاف کنگنا‘‘ میں آنے والے دنوں میں شائقین فلم کو نظر آئے گی جس میں ایشل کی جوڑی سمیع خان کے سا تھ ہے ۔ ایشل فیاض سے ہونی والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

دنیا: ڈرامہ انڈسٹر ی میں ماڈلنگ سے آنا کیسا لگا ؟

ایشل:ریمپ پر واک ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ،ماڈل اپنی واک سے ملبوسات کی نمائش کرتی ہے ۔اعتماد ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔جب ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھا تو فیشن کا تجربہ کام آیا ، کیمرے کے سامنے مکالمے بولنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ثابت ہوا ، جس کو ایک اچھا ہدایتکار پہلی بار کام کرنے والے فنکار کو جو حوصلہ دیتا ہے اس سے فنکار اپنی راہ بنالیتاہے۔ 

دنیا: بطور ماڈل کریڈٹ پر ٹھیک ٹھاک کام ہے ، ماڈلنگ میں آمد کس طرح ہوئی؟

ایشل:اس کا کریڈٹ اپنے ایک دوست کو دیتی ہوں،یہ 2012ء کی بات ہے ،میرے اس دوست نے کہا کہ بل بورڈ کے لیے فوٹوشوٹ ہو رہے ہیں تو تمہیں اس میں ٹرائی کرنا چاہیے ،تمہارا چہرہ ایک دم فوٹوجینک ہے ۔بس اس کے کہنے پر یونہی میںنے اس میں حصہ لیا اور پھر میرا یہ فوٹوشوٹ اتنا مقبول ہوا کہ بعد میں ماڈلنگ کی پیشکش ہوئی ۔

دنیا : فلمی فنکاروں کے بجائے ٹی وی فنکاروں کو فلموں میں کیوں ترجیح دی جارہی ہے ؟ اس بارے میں کیا کہنا ہے آپ کا ؟

ایشل: ٹی وی فنکاروں کی فلموں کی کامیابی نے فلمسازوں کو مزید چوائس فراہم کردی جس کی بناء پر فلمی فنکاروں کے بجائے ٹی وی فنکاروں کو مواقع مل رہے ہیں۔ اب تو ملکی اور غیر ملکی فلموں کی آفر ز بھی ہمارے فنکاروں کو مل رہی ہیں ،ہالی ووڈ کے فلمساز بھی پاکستان کا رخ کررہے ہیں ۔مستقبل قریب میں ہالی ووڈ کے فلمساز پاکستان آرہے ہیں۔ٹی وی و فلم اداکار شاز خان اور پاکستانی نژاد امریکن اداکار فرحان طاہر ہالی ووڈ کے فلم پروڈیوسرز کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ کرچکے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستانی ڈرامے پوری دنیا میں پسند کرنے کی وجہ سے ہورہا ہے۔

دنیا:ملکی ڈرامہ انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر کہاں دیکھ رہی ہیں ؟

 ایشل:ہماری ڈرامہ انڈسٹری میں بین الاقوامی معیار کا کام ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانی ڈراموں کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور ڈراموں کے فنکاروں کو بھی بین الاقوامی سطح پر مقبولیت مل رہی ہے ۔اس وقت ہمارا ڈرامہ بھارت سمیت دنیا بھر میں پسند کیا جارہا ہے۔اب تو ہمارے ٹی وی ڈراموں کی ایوارڈز کی تقریبات بیرون ممالک میں ہونے لگی ہیں اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارا ڈرامہ دنیا بھر میں کس مقام پر ہے ۔ ان تقریبات میں اسپانسر ز کی دلچسپی اور ملکی ڈرامہ انڈسٹری کی ان کی نظر میں اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

دنیا :ایسا کیوں ؟

 ایشل: ہمارے ڈراموں کی مقبولیت کی وجہ معیاری کہانی اور عمدہ ڈائریکشن ہے ۔جبکہ ہمارے ڈرامے معاشرتی مسائل کا آئینہ ہیں۔ وہی ڈرامے ناظرین میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں جس میں محنت کی گئی ہو اور کچھ منفرد دکھانے کی کوشش کی گئی ہو ۔ یکسانیت پر مبنی ڈرامے ناظرین کی توجہ کھو دیتے ہیں،عالمی سطح پر ہمارے ڈرامے اور فنکار عمدگی کی و جہ سے جگہ بناچکے ہیں ۔ان کی ڈیمانڈ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ شناحت ان کو دوسرے ممالک سے مختلف کردیتی ہے۔

دنیا:فلم کی بحالی میں ٹی وی فنکاروں کا کیا کردار ہے ؟

ایشل: ٹی وی فنکاروں نے فلم انڈسٹری کو نئی زندگی دے دی ہے۔ ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ڈرامہ انڈسٹری طرح فلم انڈسٹری کو بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بطور فنکارہ کے اپنے طور پر اپنا کردار مستقبل میں ادا کرنے کی خواہشمند ہوں۔گزشتہ 15 برسوں سے ملکی ڈرامہ انڈسٹری ،فلم انڈسٹری اور سینما کلچر کو فروغ دینے میں سرگرم ہے جس کی حوصلہ افزائی اب سرکاری سطح پر بھی ہونی چاہئے۔

دنیا: فلم میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ؟

ایشل : اچھی بات یہ ہے کہ ایک عمدہ فلم سے ابتدا ہوئی ہے جس پر ناز کرنا بنتا ہے ۔ملکی فلم میں کام کرنا ایک طرف تو بہت زیادہ خوشی کا باعث ہے تو دوسری طرف سب سے اہم چیز یہ کہ فلم والوں کیساتھ کام کرکے بہت کچھ نیا سیکھا ہے ،فلم کی شوٹنگ کے دوران اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک بہت معیاری پروڈکٹ بن رہی ہے کیونکہ اسکرپٹ عمدہ تھا اور کہانی بہت مختلف تھی پھر جب شوٹنگ فلور پر سب نے اپنا اپنا رول نبھایا تو بہت انجوائے کیا ،میرے لیے اس مووی میں کام کرنا ایکسائٹمنٹ کے ساتھ ساتھ خاصا چیلنجنگ بھی رہا کیونکہ ذہن پر بس یہی سوچ تھی کہ معلوم نہیں اپنا کام ٹھیک سے کر بھی پا رہی ہوں یا نہیں۔ لیکن جب ساتھی فنکار اور ڈائریکٹر کی جانب سے خوب شاباش ملتی تو اندازہ ہوتا کہ کچھ اچھا کرنے میں کامیاب ہوسکی ہوں ۔تب ایک فکر یہ تھی کہ جانے دیکھنے والوں کا رسپانس کیسا آئے گا لیکن سب سے خوشی کی بات یہ رہی کہ میری ہر لمحے حوصلہ افزائی کی گئی ۔فلم کا حصہ بننے پر بہت زیادہ خوش اور پرجوش ہوگئی تھی ۔ خلیل صاحب کی فلم میں کام کرنے کی آفر سے خود کو ہوامیں اڑتا ہوامحسوس کررہی تھی۔ایک اہم پروجیکٹ میں لیڈ نگ رول ملا تھا ۔ خود کو بے حد خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ خلیل صاحب نے میرا انتخاب کیا۔ پنجاب نہیں جاؤں گی‘ جیسی مووی شاہکار ہے۔

دنیا : اپنی پہلی فلم کی کہانی کے بارے میں کچھ بتائیں کہ کس موضوع پر ہے ؟

 ایشل: رومانی کہانی پر مبنی فلم ہے جس میں حب الوطنی خاص طور پر نمایاں ہوگی۔فلم کی کہانی1947ء میں قیام پاکستان سے شروع ہوتی ہے جب لوگوں کی بڑی تعداد کو ہجرت کرنا پڑی ،کہانی آگے بڑھتی ہوئی آج کے ماحول میں آتی ہے یوں ماضی اور حال کو ملاکر کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے ۔جہاں تک میں جانتی ہوں ،لوکیشنز مارک کے مطابق یہ ایک زبردست مووی ہوگی کیونکہ اس کی لوکیشنزشائقین کے لیے خوش گوار حیرت کا باعث ہو گی ۔یہ فلم مختلف اور ہٹ کر ہو گی۔ اس کا ٹریٹمنٹ بھی الگ ہوگا ۔ جس میں دلچسپی کے وہ تمام لوازمات موجود ہوں گے جو کسی بھی کمرشل و تفریحی مووی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں ۔ میرے کیریکٹر کا نام کنگنا ٹائٹل کا حصہ ہے سو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فلم میںیہ کردار کتنا پاورفل اور جان دار ہوگا۔کہانی اسی کردار کے ساتھ آگے چلتی ہے۔ سو خوشی کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فکرمند ہوں کہ بھاری ذمے داری میرے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے کہ ایک لیڈنگ کیریکٹر کو متاثر کن انداز میں ادا کرنے کی خواہش اور کوشش ہے۔ اپنے کردار کو پوری توجہ کے ساتھ اداکررہی ہوں۔

دنیا:فلم کے میوزک کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی‘ کیا اس کا کوئی گانا سننے کا موقع ملا ہے؟

ایشل: جی ہاں‘ ایک دوگیت سن چکی ہوں اور اس کی بنیاد پر کہتی ہوں کہ میوزک کے حوالے سے بھی یہ ایک اچھی فلم ہے کہ میوزک لورز کو خوب رسیلی موسیقی سننے کو ملے گی۔کاف کنگنا کے مین میوزک کمپوزر نوید نوشاد ہیں جبکہ ایک گیت ساحر علی بگا نے بنایا ہے۔یہ دونوں نام میوزک ورلڈ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں،اس کا میوزک پوری طرح سے رومانوی ہے اور سننے والے محبت بھرے گیتوں سے لطف اندوز ہوں گے، ان گیتوں کو عارف لوہار، راحت فتح علی خان،شفقت امانت علی،فرحان سعید اور بینا خان جیسے سنگرز نے گایا ہے۔ 

دنیا :توجہ کی بنا پر خود پر کسی طرح کا دباؤ محسوس کرتی ہیں؟

ایشل:کیوں نہیں‘ دباؤ تو بہت زیادہ ہے اور صرف مجھ پر ہی نہیں بلکہ فلم سے جڑے ہر شخص پر خاص طرح کا پریشر ہے کہ ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارمنس دے کیونکہ جس طرح کی ہائپ کری ایٹ ہوگئی ہے اس کے باعث توقعات کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ٹھیک ہے میں بہت زیادہ فکرمند ہوں لیکن اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ خلیل صاحب کی سپورٹ سے اپنا کردار بہت عمدگی سے کیا ہے۔ جب کوئی ڈائریکٹر اداکار سے بہترین کام لینے کاماہر ہو تو پھر ایکٹر کو فکر کرنے کی کچھ خاص ضرورت نہیں رہتی۔

دنیا:آپ کے سفر کی شروعات ماڈلنگ سے ہوئی اور اب ایکٹریس ہیں‘ ایکٹنگ میں کس طرح جگہ بنائی؟

ایشل: ٹھیک ہے شوبز ورلڈ میں بطور ماڈل آغاز کیا لیکن ہمیشہ سے ہی میرا شوق ایکٹنگ رہا ہے لہٰذا پہلے دن سے سوچ رکھا تھا کہ میری منزل ایکٹنگ ہو گی۔ماڈلنگ سے یہ مدد ملی کہ مجھ میں کیمرے اور لائیو آڈئینس کو فیس کرنے کا اعتماد آیا جس سے جھجھک بہت جلدی ختم ہوگئی چنانچہ ماڈلنگ کی شروعات میں ہی ایکٹنگ کی آفرز آنے لگیں مگر مجھے جلدی نہیں تھی، پہلے میں نے خودکو پراعتماد بنایا اور تب ایکٹنگ کی جانب رجوع کیا۔

دنیا: اپنی تعریف پر کیسا محسوس ہوتا ہے؟

ایشل:بہت زیادہ پرجوش ہوں۔اور جب کوئی لیجنڈ مجھ جیسی نئی اداکارہ کی تعریف کرے توخوشی سے نہال ہوجاتی ہوں۔

 دنیا: فطرتاً آپ کی شخصیت کس طرح کی ہے؟

ایشل:اپنے اندر بھرپور اعتماد کرتی ہوں البتہ لوگوں کے ساتھ جھک کر ملتی ہوں کیونکہ اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ منکسرالمزاجی سے آپ کے آگے بڑھنے کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں، چیزوں کو بولڈ انداز میںدیکھتی ہوں اور کسی بھی معاملے پر کھل کر اظہار کرتی ہوں اسی لیے میرے دوست احباب اور جاننے والے یہی کہتے ہیں کہ تم خطرناک حد تک بولڈ ہو۔

دنیا:ایکٹنگ ورلڈ میں آگے کے کیا ارادے ہیں؟

 ایشل:اس حوالے سے کوئی پلاننگ نہیں کی ہے بس یہی سوچا ہے کہ جو بھی اچھی آفر آئے گی اسے قبول کروں گی‘ فلمی ایکٹنگ کا دارومدار میری اس پہلی مووی کاف کنگنا کے رزلٹ پرمنحصر ہے ۔

دنیا:مزید فلموں کی کوئی آفر ہے کیا ؟

 ایشل:کئی ایک فلمسازوں نے ر ابطے کئے ہیںلیکن پہلی فلم کارزلٹ کا انتظار کررہی ہوں۔

دنیا : آفرزکس کی جانب سے مل رہی ہیں ؟

 ایشل: بہت سے پروڈکشن ہائوسز ہیں لیکن خلیل صاحب کی نئی فلم جو آئندہ برس نمائش کے لئے تیار کی جائے گی ، اس کی آفر آچکی ہے اور قبول بھی کرلوں گی۔ 

دنیا: اپنے فینز کے لئے کو ئی پیغام ؟

ایشل: ان سب کے لئے ایک ہی پیغام ہے کہ پاکستانی فلموں کو دیکھنے سینما گھر آئیں تاکہ ملکی فلم انڈسٹری کو استحکام ملے اور سینماگھر آباد ہوسکے۔ پاکستانی فلموں کو ترجیح دیں۔ اس میں ہی ہم سب کا فائدہ ہے۔ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔ایک دوسرے کو پیار سے ملکی فلمیں دیکھنے کی ترغیب دیں تاکہ فلمیں کامیاب ہو سکیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بہت کم ایسے فنکار گزرے ہیں جو نوعمری میں ہی شوبز دنیا میں جلوہ گر ہوکر نامور ہوگئے ،شہرت کے ساتھ دولت و عزت بھی کمائی ، ملکی شوبز انڈسٹری ...

مزید پڑھیں

زندگی کے سفر میں جب تنہائی ہی ہم سفر بن جائے تو کسی بھی صف اول کی فنکارہ و ماڈل کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں ہوتی ،وہ فنکار اپنے چھوٹے بھائی ...

مزید پڑھیں

بہت چھوٹی عمر سے ہی کومل رضوی کے شوبز کیریئر کاآغاز ہوا، ابھی وہ محض ٹین ایجر ہی تھیں اور اسکول میں پڑھ رہی تھیںکہ رنگ وروشنی کی دنیامیں د ...

مزید پڑھیں