☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ صحت رپورٹ سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا دلچسپ دنیا طنزومزاح انٹرویوز کھیل خواتین تاریخ روحانی مسائل
یکسانیت ایک ’’ چُنگل‘‘ ہے اس سے بچتی ہوں : اداکارہ منشا پاشا

یکسانیت ایک ’’ چُنگل‘‘ ہے اس سے بچتی ہوں : اداکارہ منشا پاشا

تحریر : مرزا افتخاربیگ

10-20-2019

شوبز انڈسٹری میں بہت کم فنکارائیں ایسی ہیں جو کم عمری میں اپنی فنی صلاحیتوں کی بنا ء پر شہرت پاتی ہیں ،اپنے کام ہی سے اپنے فنی کیریئر کو آگے بڑھاتی ہیں ،ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری کی بناء پر ایسا بہت ممکن ہوا، ان فنکارائوں میں منشا پاشا کا بھی نام نمایاں ہے جو 2011 ء میں ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوئیں ، ماہرہ خان اور فواد خان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا نے والی مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’’ہم سفر ‘‘ سے فنی کیریئر کا آغاز کیا ۔

وہ ہرکردار اس قدر ڈوب کرکرتی ہیں کہ حقیقت کا گُمان ہوتا ہے ۔اسی لئے منشا پاشا کو فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ مل گئی۔ٹی وی و فلم کی اداکارہ کا اعزاز حاصل ہو گیا ۔ڈرامہ سیریل ’’ہم سفر‘‘ میں مہمان فنکارہ کے طور پر کام کرنے کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔اب تک بے شمار ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں،شہرِذات، مدیحہ ملیحہ ، زندگی گُل زار ہے، وراثت ، شبِ آرزو کا عالم، گھونگھٹ،بے رحم، رشتوں کی بنیاد، ایک اور ایک ڈھائی،محبت، صُبح کا ستارہ ، زارا اور مہرالنسا،شہر اجنبی ، ہم ٹھہرے گناہگار، میرے اپنے، لفنگے پرندے ،، میرا نام یوسف ہے ،بے وفائی تمہارے نام ،دراڑ، پانی کابلبلہ،بکروں کی روبن ہڈ، تمھارے سوا، وفا ، دل بے قرار، جھوٹ، جلتی ریت پر، تودل کا کیا ہوا، آنگن ، خود غرض، جدانہ ہونااورسرخ چاندنی قابل ذکر ہیں ۔ ان میں ڈرامہ سیریلز کے ساتھ ساتھ ٹیلی فلمیں سمیت کئی کامیاب ڈرامے اُن کے کریڈٹ پر ہیں ۔کئی برانڈز کے لئے ماڈلنگ بھی کر چکی ہیں۔

 19اکتوبر 1987ء کوحیدرآباد میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر میں پلی بڑھیں۔برج میزان ہے۔ستاروں پر خاص یقین تو نہیں رکھتیں لیکن کہتی ہیں کہ اسٹار کی کئی خصوصیات ان میں پائی جاتی ہیں ۔ان میں قوتِ فیصلہ بھی ہے ۔ 2013 ء میں اسد فاروقی سے شادی کرنے کے بعد شو بز میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے فلمی کیریئر کی ابتدا ء ہدایتکار عمر عادل کی فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ کے ذریعے کی۔ دیگر فنکاروں میںسائرہ شہروز‘ چینی اداکار کینٹ ایس لیونگ ، عدیل حسین ، بہروز سبزواری، اور ژالے سرحدی شامل تھے ۔رواں برس ان کی دوسری فلم ’’ لال کبوتر ‘‘ یوم پاکستان کے دن نمائش پذیر ہوئی جس میں ان کی کردارنگاری متاثر کن رہی ۔ ان کے ساتھ اس فلم میں ٹی وی ،فلم اور تھیٹر کے اداکار احمد علی اکبر ہیرو ہیں جن کو فلم لال کبوتر میں عمدہ کردارنگاری پر گزشتہ دنوں امریکہ میں سائوتھ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس فلم کو اب آسکر ایوارڈ کے لئے بھی پاکستان سے منتخب کرکے نامزد کیا گیا ہے۔ اب انہوں نے تیسری فلم’’ کہے دل جدھر‘‘ سائن کی ہے ۔وہ بطور ہدایتکارہ بھی کام کرچکی ہیں ۔6 حصوں پر مبنی پوسٹ مارٹم کے عنوان سے ایک سیریز بناچکی ہیں ۔ معاشرتی مسائل پر ان کی گہری نظر ہے ۔وہ عوامی مسائل کی نشاندہی اور عوام کی آگاہی کے لئے مختصر فلمیں بناتی رہتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک وقت میں ایک کام کوترجیح دیتی ہیں ۔گزشتہ دنوں شوبز انڈسٹری کے مختلف پہلوئوں پر ہونے والی بات چیت پیش خدمت ہے۔

 دنیا : شوبز کے مختلف شعبوںکو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں ؟

 منشا پاشا:آج کل ہر آنے والا فنکار میڈیا اورسائنس کی تعلیم لیکر سمجھتا ہے کہ وہ شوبز انڈسٹری میں بھی اپنا مقام بنالے گا۔ایسا ضروری تو نہیں ہے۔ ہر شعبہ اپنے اندر وسعت ضرور رکھتا ہے۔ ماڈلنگ نان سیریس کام نہیں۔آپ خود کو منواؤ گے نہیں تو گنجائش نہیں بنے گی ۔اداکاری اس سے بھی مشکل کام ہے ۔فلموں میں پوری ٹیم اپنے اپنے کام پر توجہ دیتی ہے اور سنجیدگی سے کام میں دلچسپی لیتی ہے تو نتائج بہتر آتے ہیں، اب تک دو فلموں ’’چلے تھے ساتھ ساتھ‘‘ اور’’ لال کبوتر‘‘ میں اپنی پرفارمنس سے شائقین کو متاثر کرنے کی کوشش کی جس کی بناء پر مزید فلموں میں کام کی آفر ز مل رہی ہے۔ جنید خان کی ایک فلم سائن کی ہے۔ویسے توکئی ہدایتکار وں نے رابطے کئے مگر ذاتی طور پر پرسکون رہ کر کام کرنے کی عادی ہوں ایک وقت میں ایک کام کرکے پروفیشنل ازم کا احساس ہوتا ہے۔ہدایتکار کامران باری کی فلم’’ کہے دل جدھر ‘‘ میں گلوکار و اداکار جنید خان کے ساتھ کام کروں گی جو آئندہ برس نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

دنیا:عام رائے ہے کہ ٹی وی کے لوگ جو فلمیں بنا رہے ہیںوہ درحقیقت ڈرامے ہیں؟ 

منشا:یہ بات درست نہیں، تھوڑا وقت لگے گا ۔لولی وڈ جس طرح تباہ وبرباد ہوا اور ہمارے اپنے لوگ پاکستانی فلموں کومسترد کرنے لگے تھے تو ایسے میں بحالی کے وقت کنفیوژن ہے ،اس کے مقابلے میں ٹی وی کو ہمیشہ عزت ملی تو جب ٹی وی والے فلمز کی طرف آئے ہیں تب ایک نیا ماحول بنا ہے ۔ ہماری فلموں میں اب ڈراموں کی طرح سخت ڈائیلاگ نہیں بولے جاتے بلکہ باڈی لینگویج کے ساتھ بڑے پردے کے تمام لوازمات پورے کئے جاتے ہیں ۔پہلی بار فلم میں کام کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا تھا جس کا کریڈٹ ساتھی فنکاروں کی بھرپور سپورٹ کو جاتا ہے ۔پہلی پاکستانی فلم میں کام کرکے مسرت ہوئی۔ کئی سال سے فیشن و ٹی وی انڈسڑی میں سرگرم ہوں۔اب ہماری انڈسٹری مستحکم ہورہی ہے تو جی چاہتا ہے یہاں زیادہ کام کیا جائے۔بھارتی فلمیں ہر ایک فنکار کی خواہش ہوسکتی ہیں۔ میری کوئی خواہش نہیں ۔ ہماری اپنی انڈسٹری کی فلموں کو سپورٹ ملنی چاہیے۔ میں صرف اپنے لئے نہیں پوری فلم انڈسٹری کے لئے سوچ رہی ہوں کیونکہ اگر یہ انڈسٹری ہے تو ہم ہیں تو اسی طرح ہم سب پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔

 دنیا:اپنے فلمی کیریئر کی تیسری فلم کرنے جارہی ہیں‘ اس فلم کے حوالے سے کُچھ بتایئے؟

 منشا:فلم کے حوالے سے زیادہ تفصیلات تو شیئر نہیں کر سکتی۔ ہا ں یہ ضرورکہہ سکتی ہوں کہ یہ میری پہلی فلم چلے تھے ساتھ ساتھ سے بالکل مختلف ہوگی ۔یہ کراچی کی ایک بڑی فلم ہے جس میں پہلی بار ٹی وی اداکار و گلوکار جنید خان مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوں گے انہوں نے کچھ فلموں میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا ہے اب وہ فلموں میں بھرپور انداز سے انٹری دینے کا ا رادہ رکھتے ہیں ۔میں فلم میں مرکزی کردار نبھائوں گی۔

دنیا:کہا جارہا ہے کہ 2020 ء فلم انڈسٹری کے لئے اہم ہوگا ،آپ کیا کہتی ہیں؟

منشا:ایسا لگ رہا ہے کیونکہ فلم انڈسٹری کے استحکام کے لئے فلم اور ٹی وی پروڈیوسر ز ایک پلیٹ فارم پر آچکے ہیں جس سے فلموں کی تیاریوں میں تیزی آگئی ہے ہر ٹی وی فنکار کسی نہ کسی فلم میں مصروف ہوتا ہوا نظر آرہا ہے اور کچھ فنکار تو کام کررہے ہیں ان سب کا وژن 2020 ء میں ملکی فلم انڈسٹری کے لئے 50 فلموں کی نمائش کا ٹارگٹ ہے۔اس وقت تک تقریباًہر ٹی وی کا فنکار کسی نہ کسی فلم میں مصروف ہے۔

دنیا:فلم ’’لال کبوتر‘‘ کو آسکر ایوارڈ کے لئے پاکستان سے نامزد کیا گیا ہے ؟ اس بارے میں کیا تاثرات ہیں ؟

منشا:میرے لئے بہت بڑا عزاز ہے کہ جس فلم کی میں ہیرئوئن ہوں اس کو دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے ، قبل ازیں ہیرو احمد علی اکبر کو امریکن فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ ملنا بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔فلم’’ لال کبوتر‘‘ کو امریکہ سے آئے ہوئے دو بہن بھائی ہانیہ چیمہ اور کامل چیمہ نے پروڈیوس کیا تھا۔امریکہ سے فلم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں بھتہ خوری و دہشت گردی کے و اقعات کے حوالے سے فلم بنائی۔ احمد علی اکبر (کراچی سے لاہور و پرچی فیم) اور علی کا ظمی (دوبارہ پھر سے و موٹرسائیکل گرل فیم) میرے ساتھ اس فلم میں اداکاری کرتے نظر آئے ۔ فلم کی کہانی کراچی کے گرد گُھومتی ہے ۔میری ساری توجہ اس پروجیکٹ پر ہی مرکوز رہی۔ کوئی دوسرا پراجیکٹ نہیں کیا۔ ویسے بھی فلم کی شوٹنگ اور پروموشن وغیرہ پر کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے اس لئے ڈراموں کے لئے وقت نہیں مل پاتا ۔

دنیا:اب تک کا آخری ٹی وی ڈراما کون سا ہے؟

 منشا:اس برس کے دوران اب تک میرے ڈرامے جدا نہ ہونا اور سرخ چاندنی نشر ہوئے ہیں ۔سال بھر میں دو ہی سیریل کئے ہیں ۔میںکم کام کرتی ہوں مگر معیاری اسکرپٹ اور جاندار کردار کو ترجیح دیتی ہوں۔ 

 دنیا:پہلی بار منفی کردار کس پلے میں کیا؟

منشا:ڈراما سُرخ چاندنی، میں پہلی بار منفی کردار کررہی ہوں‘ کیریئر میں پہلی بار منفی رول کرکے تھوڑی سی نروس ہوں کیونکہ پہلے کبھی اس طرح کا کردار نہیں کیا جس طرح احسن خان کی ڈراما سیریل اُڈاری،میں کمسن بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی گئی تھی بالکل اسی طرح سُرخ چاندنی، میں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی بچیوں کوموضوع بنایا گیا ہے۔یہ بالکل اچھوتا موضوع ہے جس پر پہلے کبھی آواز نہیں اُٹھائی گئی۔ ایسے اہم ایشوز پر پورے ملک میں بحث بہت ضروری ہے۔ 

 دنیا:’’سرخ چاندنی‘‘ کے ذریعے کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

 منشا:سرخ چاندنی کے ذریعے معاشرے میں ایک مکالمہ شروع کرانا چاہتے ہیں جو لوگ ایسی حرکتیں کرواتے ہیں۔وہ کردار اس ڈرامے میں کررہی ہوں۔ سوہائے متاثرہ لڑکی کا کردار کررہی ہیں۔ یہ ڈرامہ فی میل سینٹرل ہے جس میں ایک سلگتے ہوئے سماجی مسئلے پر آواز اُٹھائی گئی ہے۔ سمیع خان بھی ان کے ساتھ اداکاری کرتے نظر آئے ۔ڈرامے کی کہانی اسما نبیل نے لکھی ہے،شاہد شفاعت نے اسے ڈائریکٹ کیا ۔ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح لوگ معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کردیتے ہیں ۔ہم نے ہمیشہ ایسے ڈراموں کو سپورٹ کیا ہے جن میں کسی حوالے سے شعور اجا گر کیا گیا ہو ۔

 دنیا:وقت سے قبل کامیابیوں کی نوید سے کیسا لگا ؟

 منشا:خوش قسمتی سے مُجھے آغاز میں ہی اچھے لوگ مل گئے اور یوں میرے لئے آگے بڑھنا آسان ہوا۔اس میں میری ذاتی دلچسپی کا بھی عمل دخل رہا ۔ شوق ہی انسان کو آگے لے جاتاہے ایسا میرے ساتھ ہوا۔

 دنیا:شوبز میں آمد کیسے ہوئی ،اپنے فینز سے شیئر کریں گی ؟

 منشا:کیوں نہیں ؟ فینز ہی تو ہمیں اسٹار بناتے ہیں ۔ٹی وی میں شروع سے دیکھتی تھی اور اس کا شوق بھی تھا ،کافی تخلیقی ذہن تھا ،شروع میں میری اردو اتنی اچھی نہیں تھی لیکن لوگوں کو دیکھ دیکھ کر اور اسکرپٹس پڑھ پڑھ کر کافی اچھی ہوگئی ہے۔دھوپ کنارے،میرا ہمیشہ سے پسندیدہ ڈرامہ رہا ہے ،تنہا ئیاں،بھی دیکھا کرتی تھی۔راحت کا ظمی، مرینہ خان اور ساجد حسن کی اداکاری اچھی لگتی تھی جہاں تک شوبز میں آنے کا تعلق ہے تو بی اے کرنے کے بعد میڈیا میں کُچھ عرصہ کیمرے کے پیچھے بطور لائن پروڈیوسر کام کیا پھر اداکاری شروع کر دی ۔ہم سفر، میں مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ زندگی گُلزار ہے، پہلا باقاعدہ ڈرامہ تھا۔اس کے علاوہ زارا اور مہرالنسا و دیگر ڈراموں میں کام کیا ۔

 دنیا:کرداروں کا انتخاب کے لئے کسی سے رائے لیتی ہیں ؟ اگر خود کرتی ہیں تو کیسے کرتی ہیں؟

 منشا:اس حوالے سے کسی سے مشورہ تو نہیں کرتی ذاتی طور پر خو د بھی پروڈکشنز کرتی ہوں اس اعتبار سے کرداروں کے انتخاب میں بہت محتاط ہوں اور صرف منتخب کام ہی کرتی ہو ں۔

دنیا:سنا ہے کہ آپ کو زندگی گلزار ہے کے بعد اس نوعیت کے کرداروں کی آفرز ہوتی رہی ہے؟

 منشا: مُجھے اسی طرح کے کرداروں کی پیش کش ضرور ہوتی رہی مگر میں نے قبول نہیں کی۔

دنیا:کیوں نہیں قبول کی ؟

منشا:ایک فنکار کو سکون جب ملتاہے جب وہ یکسانیت کے چنگل سے بچا رہتا ہے۔میں ایک ہی نوعیت کے کردار قبول کرنے کی قائل نہیں ۔یکسانیت فنکار کو اندر سے ختم کردیتی ہے۔

دنیا:آپ کے لئے کون سا ڈرامہ چیلنج ثابت ہوا ؟

منشا:جہاں تک دل کے قریب ڈرامے کا تعلق ہے تو ہر ڈرامہ اہم ہوتا ہے کیونکہ اس میں کئی لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے‘ مُحبت صُبح کا ستارہ‘میرے لئے بہت چیلنجنگ تھا ۔

 دنیا:کُچھ اپنی ذاتی پسند وناپسند کے بارے میں بتائیں؟

 منشا:رنگوں کے حوالے سے میری پسند تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن سفید ہمیشہ پسندیدہ رہا ہے‘کھانے میں ہر چیز اچھی لگتی ہے لیکن کوئی چیز مُسلسل نہیں کھا سکتی، فرصت کے لمحات میں کتابیں پڑھتی ہوں،کھانے پینے کی شوقین ہوں لیکن اوورایٹنگ نہیں کرتی اس لئے اسمارٹ ہوں،ایک وقت میں بہت زیادہ نہیں کھاتی لیکن وقفے وقفے سے ضرور کھاتی ہوں، فلمیں شوق سے دیکھتی ہوں ۔

 دنیا:بنیادی طور پر اپنے آپ کوکیسا سمجھتی ہیں؟

 منشا:میں بنیادی طور پر اداکارہ ہوں اور اداکاری میری پہلی ترجیح ہے جہاں تک کرداروں کا تعلق ہے تو مُجھے ایسے کردار اچھے لگتے ہیں جن میں ناظرین کے لئے دلچسپی اور گہرائی ہو۔ ہمارا ڈرامہ بہت اچھا جا رہا ہے، ہاں کہانیوں میں کسی حد تک یکسانیت ہے جس کے لئے نئے لکھنے والوں کو آنا چاہئے تاکہ کہانی میں کُچھ نیاپن آسکے۔

دنیا:اپنے فینز کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی ؟

منشا:میرا پیغام اپنے پاکستانی بہنوں و بھائیوں کے لئے یہ ہے کہ وہ ملکی فلم انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے اپنی فلموں کو ترجیح دیں ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بہت کم ایسے فنکار گزرے ہیں جو نوعمری میں ہی شوبز دنیا میں جلوہ گر ہوکر نامور ہوگئے ،شہرت کے ساتھ دولت و عزت بھی کمائی ، ملکی شوبز انڈسٹری ...

مزید پڑھیں

زندگی کے سفر میں جب تنہائی ہی ہم سفر بن جائے تو کسی بھی صف اول کی فنکارہ و ماڈل کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں ہوتی ،وہ فنکار اپنے چھوٹے بھائی ...

مزید پڑھیں

بہت چھوٹی عمر سے ہی کومل رضوی کے شوبز کیریئر کاآغاز ہوا، ابھی وہ محض ٹین ایجر ہی تھیں اور اسکول میں پڑھ رہی تھیںکہ رنگ وروشنی کی دنیامیں د ...

مزید پڑھیں