☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
اچھا کام نہیں ملا ،اسلئے سکرین سے غائب رہا

اچھا کام نہیں ملا ،اسلئے سکرین سے غائب رہا

تحریر : مرزا افتخاربیگ

12-08-2019

بہت کم ایسے فنکار گزرے ہیں جو نوعمری میں ہی شوبز دنیا میں جلوہ گر ہوکر نامور ہوگئے ،شہرت کے ساتھ دولت و عزت بھی کمائی ، ملکی شوبز انڈسٹری پر نظر ڈالی جائے تو احسن خان نمایاں نظر آتے ہیں ،9 اکتوبر 1981 ء میں برطانیہ کے شہر لندن میں جنم لینے والے اس فنکار نے اپنے والدین کے ساتھ پاکستان واپس آکر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا ، 17 برس کی عمر میں شوبز کی دنیا میں قدم رکھا ان کی پہلی فلم نکاح 1998 ء میں نمائش پذیر ہوئی اسی برس انہوں نے ٹی وی ڈرامہ ’’ہنس کی چال‘‘کیا۔

21برس میں احسن خان نے ایکٹنگ کی دنیا میں اتنا کچھ شوکرلیا کہ ان کے فن کواب کسی تعارف کی ضرورت نہیں ۔ ایک درجن سے زیادہ فلمیں اور کئی ٹی وی ڈرامے یہ جانچنے کے لیے کافی ہیں کہ احسن کس کلاس کے ایکٹر ہیں‘ اس فنکار کی خاص بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اور صرف اپنے کام پر فوکس رکھتے ہیں اور ہمیشہ ترجیح یہی رہی ہے کہ ایسا کام کریں جس کے باعث دوسروں سے الگ اور منفرد نظر آئیں چنانچہ احسن نے متعدد بار سہولیات سے نکل کرمشکل اور چیلنجنگ رولز کیے اور بتایا کہ وہ سہل پسند بالکل نہیں بلکہ سخت جان کیریکٹرز کرکے اسے خاص سکون ملتاہے ۔ احسن ناصرف شاندار ایکٹر ہیں بلکہ ان کی شخصیت کی ایک اور نمایاں خوبی انسان دوست ہونا بھی ہے چنانچہ دکھی انسانیت اور غم کے ماروں کی دادرسی میں نمایاں اور بہت سوں سے آگے دکھائی دیتے ہیں ۔ خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف کام کرنے والی NGO وائٹ ربن کے ایمبیسیڈر ہیں۔کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے حوصلے بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ اسپتال جاکر سالگرہ مناتے ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے لاہور سے کراچی شفٹ ہوچکے ہیں ۔ڈراموں کے ساتھ فلموں میں بھی مصروف ہیں ، فیشن انڈسٹری میں انہوں نے اپنی منفرد شناحت بنائی ہے ریمپ پر کئی بار و اک کرچکے ہیں ۔

 احسن خان نے کیریئر کا آغاز فلم سے کیا اور شروع دور کی فلموں میں لواِن ہالینڈ‘ گُھونگھٹ‘ نکاح‘ بلّی‘ اور گھر کب آؤگے؟ وغیرہ شامل ہیں۔ فلمی دُنیا بُحران کی زدمیں آئی تو دوسرے فنکاروں کی طرح احسن کا کیریئر بھی متاثر ہوااور اُنہیں ٹی وی کی طرف آنا پڑا مگر ٹی وی ڈراموں پر بہت جلد اپنے کام وکرداروں کی بدولت بڑا نام بنانے میں کامیاب رہے اس سفر کے دوران کافی گیپ سے فلم عشق خُدا‘ میں کام کیا ،ساتھ ہی ایک اور فلم سلطنت‘ میں کردار نبھایااو ر ٹی وی سیریل اُڈاری کے منفی کردار کے ذریعے احسن نے خود کو ورسٹائل ثابت کیا تو اسی دوران سولو ہیرو کے طور پر اُن کی قابلِ ذکر فلم چھُپن چھُپائی سے فلم انڈسڑی میں واپسی ہوئی اور اس فلم کے ذریعے احسن ،فلموں کے موجودہ ری وائیول سے جُڑکر سلوراسکرین کے ہیرو کے طور پر ایک بار پھر منوانا چاہتے ہیں اس وقت ان کی چار فلمیں زیر تکمیل ہیں ۔ زیرنظر انٹرویو میں خوب صورت انسان سے تازہ مصروفیات کے علاوہ بہت سی اچھی اچھی باتیں ہوئیں ، قا رئین کی دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہے۔ 

دنیا:شوبز کی مصروفیات کے ہوتے ہوئے آپ معاشرتی کاموں کے لئے وقت کیسے نکال لیتے ہیں ؟ 

احسن خان:میری پیدائش برطانیہ میں ہوئی وہاں کے ماحول میں رہتے ہوئے دیکھا کہ سماجی کاموں میں ہر انسان اپنے طورپرحصہ ڈالتا ہے۔چاہے وہ کتنا بڑا ہی انسان کیوں نہ ہو،ملک میں معاشرتی برائیاں بہت سی پھیلی ہوئی ہیں عام آدمی مسائل کا شکار ہے۔ کئی مسائل سامنے آئے تو بطور ایک انسان کے میں اپنا کردار اداکرنے کے لئے ذاتی طور پر شوبز کی مصروفیات کو کم کیا ان کاموں کے لئے وقت نکالا۔ایسے بچوں کے لئے جو کپڑوں سے محروم ہیں ان کے لئے دیوار مہربانی کے عنوان سے شہر کی مختلف شاہرائوں بناکر کپڑے رکھ دیئے گئے۔ 

دنیا : یہ کام آپ کیا صرف پاکستان میں کرتے ہیں ؟

احسن خان :یہ نیکی کے کام ہیں اس کو ذاتی شہرت کے لئے نہیں بلکہ دلی سکون کے لئے کرتا ہوں ۔اس حوالے سے لندن اور دیگر ممالک کی جانب سے میرے فلاحی کاموں کو سراہتے ہوئے اعزازات دیئے گئے ہیں ۔ جس میں وہاں کی اہم شخصیات شامل ہوتی ہیں۔

دنیا : پاکستان میں بچوں کے لئے کیا کررہے ہیں ؟

احسن:پاکستان کیا دنیا بھر کے بچوں کے لئے کام کرتا ہوں ، پاکستان میں تو مجھے چلڈرن لٹریچر فیسٹیول کا گڈول ایمبیسیڈر بنا یا گیا ہے۔گزشتہ دنوں اس فیسٹیول کا انعقاد کراچی میں ہوا تو میں سفیر کے طورپر ہر روز شرکت کرتا رہا اور بچوں کے ساتھ وقت گذارا اور ان کے تمام مقابلوں میں شریک رہا۔

دنیا :شوبز کیریئر کا آغاز لاہور سے کیا اور کراچی میں بسیرا ۔ ۔ کوئی خاص وجہ ؟

احسن: ایسا کچھ نہیں سب شہر اپنے ہیں ۔اس وقت کراچی شوبز کا حب بن چکا ہے ایک دور میں لاہور فلمی حب تھا کراچی کے فنکار لاہور آکر بس گئے تھے ، لیجنڈری محمد علی ، وحید مراد، ندیم ، زیبا ، دیبا، دیگر نے لاہور میں رہ کر جو شہرت کمائی اسکا تصور آج کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ لاہور کے اکثر فنکاروں نے کراچی میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں ۔ البتہ لاہور میں میرا ذاتی گھر ہے اکثر کام نہیں ہوتو لاہور میں ہوتا ہوں۔ 

دنیا:اب تک آپ نے کئی ٹی وی ڈرامہ سیریلز میں کام کیا کونسی سیریل میں کام کرکے مزہ آیا ؟

احسن:فنکار کے لئے ہر کردار چیلیچنگ ہوتا ہے ہر سیریل میں کام کرکے لطف آیا لیکن ناظرین کی جانب سے سیریل اڈاری میں منفی کردار کرنے پر جو نفرت بھرے لوگوں کے تاثرات ملے تو مجھے احساس ہو اکہ اس کردار میں میری کردارنگاری کو بہت پسند کیا گیا ہے۔ اس سے ایک نیا احسن خان سامنے آیا ۔اس سیریل سے قبل قاتل میرے دلدار، اور موسم میں عمدہ پرفارمنس پر ایوارڈ ز نامزدگیاں ہوئیں ، موسم میں بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ لیکن جو ایوارڈز سیریل اڈاری میں ملے اسکا احساس ہی میرا سر فخر سے بلند کر دیتا ہے ۔

دنیا:اس سیریل کے بعد اسکرین سے غائب ہوگئے تھے ، کیوں ؟

احسن خان:ایسا نہیں ، میری خواہش تھی کہ اس سیریل کے بعد جو ہائپ بن گئی تھی تو اس معیار کا کام کرنے کے لئے اچھے کردار کا انتظار تھا ۔آفرز بہت تھیں لیکن ذاتی طورپر چاہتا تھا کہ اب اس سے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔

دنیا:پھر کردار ملا ؟

احسن:سیریل ’’آنگن‘‘ جو نہ صرف کثیر سرمائے سے بنایا گیا تھا اس میں پرفارمنس بہت پسند کی گئی۔وقفہ کے دوران فلم چھپن چھپائی کی۔

دنیا: چھُپن چھُپائی کے بارے میں بتائیں گے؟

احسن:یوتھ اورینٹڈ اسکرپٹ پر مبنی تھی ‘ جنہوں نے دیکھی اُنہیں پسند آئی ، کم بجٹ کی فلم نے رنگ جمایا۔ یہ کامیڈی تھرلر فلم تھی جو بیروزگار لڑکوں کے بارے میں تھی‘ یہ لوگ تیزی سے پیسہ بنانا چاہتے ہیں کوئی اور راستہ نہ پاکر اغوا برائے تاوان کی واردات میں مُلوث ہوجاتے ہیںیہ فلم گول مال‘ نامعلوم افراد‘ اور رانگ نمبر ٹائپ کی فلم تھی 

 دنیا: چھُپن چھُپائی کے بعد آپ کا رُکا ہوا فلمی سفر آگے بڑھا کیا ؟

احسن: اس کے بعد کئی فلمسازوں نے رابطے کئے ، اچھے کردار اور اسکرپٹ کی بنا ء پر قبول نہیں کیا فلم رہبر ملی جس میں عائشہ عُمر اور سحرش خان ساتھ ہیں ، یہ رومینٹک فلم ہے جبکہ چھُپن چھُپائی کے دوران تین فلموں کی آفرز تھیں مگر میں جلدبازی کے حق میں نہیں پھر یہ بھی ہے کہ سبجیکٹ متاثر کن ہونا چاہئے ہمارے یہاں سب سے کم توجہ اسکرپٹ کو دی جارہی ہے جو اچھی بات نہیں،کہانی دم دار ہوگی تو ہم سب کا کام بہتر ہوگا ورنہ ہم کُچھ بھی کرلیں ،سب کو پسند آنے والی فلم نہیں بنا سکتے۔

 دنیا:کیا نیلم مُنیر فلمی ہیرئوئین کے طور پر آگے کامیاب رہ سکتی ہے ؟

 احسن:میں نے نیلم کے ساتھ ڈرامے کئے لیکن اب کہوں گا کہ وہ اصل میں فلم کی اداکارہ ہے، اُس کی اسکرین بیوٹی کا تو جواب نہیں تاہم ایکٹنگ میں بھی اتنی ہی خوب صورت ہے،خاص طور پر بڑے پردے کے لئے ۔کاف گنکنا میں آئٹم نمبر کرکے اس نے اپنی ایک نئی خوبی کو پیش کیا ہے۔ 

 دنیا:اداکاری میں آمد کیسے ہوئی ؟ انگلش ادب میں ایم اے کرنے کے بعد بھی اداکاری سے وابستگی کیسی رہی؟

احسن:نوعمری سے ہی اداکاری سے دلچسپی تھی جس نے یہاں تک پُہنچا یا،دراصل میرے والد افتخار خان پرفارمنگ آرٹس کے پروموٹر تھے ،ایک زمانے میں لاہور میں اُن کا تھیٹر ہوا کرتا تھا جہاں امان اُللہ اور فردوس جمال جیسے بڑے فنکار کام کرتے تھے ،والد کی وجہ سے فنکاروں کا گھر آناجانا تھا ، ہمارے یہاں مُحمد علی‘ زیبا‘ اور بابرہ شریف جیسے اُس دور کے بڑے فنکار بھی آتے تھے‘ بچپن میں اُن کا گریس اورگلیمر دیکھ کر دل چاہتا تھا کہ اُن جیسا بنوں‘ بس اسی شوق میں اسکول کے ڈراموں میں حصّہ لیا پھر جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے انگلینڈ گیا تو وہاں مزید چانسز ملے اور طے کرلیا کہ ایکٹر ہی بنوں گا‘ ایکٹنگ کی بُنیادی تربیت انگلینڈ سے حاصل کی‘ کُچھ شارٹ کورسز کئے اور خاص طور سے کیمرا اینگل کو سمجھنے میں مدد ملی پھر جب پاکستان آیا تو سترہ سال کی عُمر میں پی ٹی وی کے ڈرامے ہنس کی چال کے ذریعے ایکٹنگ فیلڈ میں قدم رکھا لیکن اس کے بعد مزید ڈرامے نہیں کئے اور فلموں کی طرف چلا گیا ۔

 دنیا:آپ نے ٹی وی ،فلم میں کام کیا،ہوسٹنگ کی، یہاں تک کہ گلوکاری بھی تو کس جگہ خود کو زیادہ فٹ محسوس کرتے ہیں؟

احسن: پرفارمنگ آرٹ میں جو جتنے شیڈز دکھائے گا ،اسی قدر پراعتماد ہوگا ، خوشی ہوتی ہے کہ ہوسٹنگ کر سکتا ہوں تو کیوں نہ کروں؟ ضروری نہیں کہ ہر جگہ نمبرون رہوں لیکن جہاں جہاں کام کرسکتا ہوں یا خود میں ٹیلنٹ پاتا ہوں‘ وہاں اپنی موجودگی کامیاب بنانا چاہتا ہوں‘ رہا سوال کہاں چمکنا چاہتا ہوں تو زیادہ تر ایکٹرز کی طرح میری خواہش بھی فلم کا بڑا پردہ ہے کیونکہ یہاں آپ کی اسٹارپاور کام کرتی ہے‘ آپ کو دیکھنے کے لئے لوگ جیب سے پیسے خرچ کرتے ہیں۔

 دنیا :کہا جاتا ہے کہ کراچی میں بننے والی زیادہ تر فلمیں‘ فلم کم اور ڈراما زیادہ لگتی ہیں؟

احسن:اس کی سب سے بڑی وجہ وہ گیپ ہے جو ہماری پاپولر اور مین اسٹریم فلم میں رہا ہے‘ تقریباً ایک عرصے تک یہاں اعلیٰ درجے کی فلموں کی پروڈکشن مُعطل رہی‘ اس دوران دو الگ جنریشن ز کا conjunction پوائنٹ برقرار نہیں رہ پایاجس میں نیا‘ پُرانے سے سیکھتا ہے اور کام کا تسلسُل برقرار رہتا ہے‘ اس گیپ سے جب ٹی وی والے فلم کی طرف آئے تو فلم کی خاص تیکنیک سے خود کو ہم آہنگ نہیں کرسکے اور یہ خامی اسی لئے محسوس ہورہی ہے لیکن گیو دیم ٹائم‘ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا اور ہوبھی رہا ہے‘ اب ہماری فلم‘ فلم ہی لگتی ہے ڈراما جیسی نہیں ۔

 دنیا:حال ہی میں آپ نے لندن کے سیڈلرز ویلس تھیٹر پر کام کیا‘ یہ تجربہ کیسا رہا؟

 احسن:یہ لندن کا سب سے باوقار تھیٹر ہے اور یہاں کام کرکے اپنا ایک سپنا سچ کیا۔ میرے جو جذبات ہیں وہ صرف ایک ایکٹر ہی سمجھ سکتا ہے‘ یہاں پنجابی لوک داستان ہیرارانجھا کو اسٹیج کیا گیا تھا‘ دیکھنے والوں کی طرف سے بڑا بھرپور رسپانس ملا جس سے میرا انرجی لیول‘ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے!

 دنیا: نئی فلموں کی ریلیز پر کیا بڑی تبدیلیاں چاہتے ہیں؟

 احسن:صرف یہ کہ ہمیں باؤنڈ اسکرپٹس پر کام کرنا چاہئے‘ یہاں اسکرپٹ پر ضرورت سے کم توجہ دی جارہی ہے جو اچھی بات نہیں۔

 دنیا : آج کل کیا مصروفیات ہیں‘ اس بارے میں کچھ بتائیں؟

 احسن:ان دنوں فلموں و ٹی وی ڈراموں میں مصروف ہوں ۔ کئی ڈرامیں پہلے سے چل رہے ہیں‘ ان میں ضرور کام کررہا ہوں ۔ لہٰذا کسی اور کام کے لیے وقت نکل ہی نہیں سکتا سو ان دونوں کی تکمیل تک کوئی ٹی وی پلے سائن کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا کیونکہ سارا کا سارا فوکس صرف ان فلموں پر رکھنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے فلمی کیریکٹرز سے پورا پورا انصاف کرسکوں۔

 دنیا: تو کیا فی الحال اسمال اسکرین کی طرف پیٹھ کی ہوئی ہے؟

احسن :بس ایسا نہیں ہے اس دوران کوئی اچھی اور زبردست آفر آئی تو ممکن ہے اسے رد نہ کر سکوں کیونکہ ہمیشہ ایسے پروجیکٹس کی تلاش میں رہتا ہوں جو منفرد اور ہٹ کر ہوں اورجن میں اپنی فنکارانہ صلاحیتیں دکھانے کابھرپور موقع ملے۔

دنیا : 2020 ء میں کس قسم کے پلے ز یا کیریکٹرز کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے؟

احسن:سب جانتے ہیں کہ گزرے برسوں میں زیادہ تر سنجیدہ اور شدید قسم کے رولز کیے ہیں‘ اڈاری کی مثال سب کے سامنے ہیں لہٰذا سوچ رکھا ہے کہ اس سال ہلکے پھلکے کرداروں میں نظر آؤں تاکہ فینز اور دیکھنے والوں کو نہ صرف ورائٹی ملے بلکہ انہیں مجھ میں تبدیلی کا احساس بھی ہو! بطور ایکٹر ذاتی طور پر تجربات کرنے کا قائل ہوں اور ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ دیکھنے والوں کو مختلف انداز سے تفریح پہنچا سکوں اور یوں اپنی ورسٹالٹی شو کروں‘ ابھی تک تو سمجھتا ہوں کہ اس حکمتِ عملی میں کامیاب رہا ہوں۔

 دنیا: کسی بھی اسکرپٹ کا انتخاب کرتے وقت کس بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہو؟

 احسن: معقول قسم کے اسکرپٹس کو ترجیح دیتا ہوں مطلب یہ کہ جن کا موضوع خاص ہو یعنی اردگرد سے تعلق رکھتا ہو ساتھ ہی عمدہ انداز میں کری ایٹ کیا گیا ہو سو جب ایسا اسکرپٹ آفر ہوتا ہے تو فوراً اپنی جانب اٹریکٹ کرتا ہے اور اس پر ہاں کہنے میںدیر نہیں لگاتا ۔

دنیا:کیا وجہ ہے کہ تمہاری دلچسپی شارٹ فلموں میں زیادہ دکھائی دے رہی ہے؟

 احسن:اب نہیں کل تک مختصر نوعیت کی فلمیں اس لیے کررہا تھا کہ مختلف موضوعات پر کام کرنا چاہتا ہوں ، ویسے فیچر فلموں کے ایکٹرز عموماً اس قسم کے پروجیکٹس کا حصہ نہیں بنتے کیونکہ یہ بہت ہی رسک والا کام ہے جبکہ میں جیسا بتایا کہ ہمیشہ کچھ ہٹ کر کرنے کا خواہش مند رہتا ہوں سو ان مختصر فلموں میں کشش نظر آتی ہے اور بِنا کسی خوف کے ان میں کام کرنے پر راضی ہوجاتا ہوں۔

 دنیا:لیکن یہ فلمیں یونیورسٹی کے نوجوان بناتے ہیں جن کے کام کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تو کیا آپ جیسے سینئر ایکٹر کے لیے یہ چیز مناسب ہے؟

 احسن:ان فلموں میں کام کرنے کی دوسری بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ فلمیں نوجوان بنا رہے ہیں جن کے پاس فریش آئیڈیاز ہوتے ہیں سو ہمیں ان نئے آنے والوں کو اہمیت دینا چاہیے‘ اگر ہم لوگ ان کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے تو کون کرے گا‘ مجھے تو اس نئے ٹیلنٹ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے‘ اپنی آخری شارٹ مووی میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے دو نوجوانوں کو متعارف کرایا ہے جوکہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں سو چاہتا ہوں کہ ان نئے لڑکوں کے ساتھ کام کروں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دوں تاکہ ہماری انڈسٹری کو مزید باصلاحیت ایکٹرز‘ ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز مل سکیں‘ اگر ہم نئے لوگوں کو راستہ نہیں دیں گے تو ہماری انڈسٹری میں قحط کی سی صورت حال پیدا ہوجائے گی لہٰذا بطور سینئرز ہمارا فرض ہے کہ نوجوان خون کی حوصلہ افزائی کی جائے!

 دنیا: چمکتی دھمکتی کی اس دنیا کو کس طرح دیکھتے ہو؟

احسن:شوبز نگری کو ذرا مختلف نگاہ سے دیکھتا ہوں‘ لوگوں کے لیے یہ دنیا گلیمر کی چکاچوند ‘ زرق برق لباس یا توجہ پانے کے لیے اوٹ پٹانگ یا احمقانہ حرکتوں والی نگری ہے لیکن میں اس طرح نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایسے پلیٹ فارم کی طرح لیتا ہوں جسے استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں شعور پیدا کیا جاسکتا ہے یعنی ہم اپنے کام سے سماج کو بدلنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کر سکتے ہیں!

دنیا:سماجی کاموں کے حوالے سے اس سال کیا ارادے ہیں؟

احسن:بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں‘ ہمیشہ دکھی انسانیت کے لیے کام کرنے کو تیار رہتا ہوں! ضروری نہیں کہ آپ کروڑپتی یا ارب پتی ہوں جبھی دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں بلکہ اگر تھوڑے بہت بھی خوش حال ہیں تو اپنے سے نچلے طبقے کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

دنیا:اس وقت ٹی وی ڈرامے کی صورت حال کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

احسن:کچھ سال پہلے تک ہمارا ڈرامہ زوال کی طرف جارہا تھاکہ ہم اپنی روش کو چھوڑکر بھارتی سوپس کی نقالی میں لگ گئے تھے لیکن شکر ہے یہ چیز کامیاب نہ ہوسکی اور یوں ہمیں اپنے روایتی ڈرامے کی طرف واپس آنا پڑا اور اس طرح ایک بار پھر ہمارے یہاں اچھے اور معیاری پلیز تخلیق ہورہے ہیں اسی لیے ایک بھارتی چینل زی زندگی‘ نے ہمارے ڈرامے دکھانے شروع کر دیئے اور ہمارے ٹی وی ایکٹرز وہاں پاپولر ہونے لگے اگر دونوں ممالک کے درمیان اچانک حالات نہ بگڑتے تو ہمارے فنکار وہاں چھاتے چلے جاتے افسوس سیاست کی وجہ سے تفریحی سیکٹر کو نقصان پہنچا اور دونوں ممالک کے لوگ اس سے متاثر ہوئے!

 دنیا:پرسنل لائف میں زندگی کا سفر کیسا جارہا ہے؟

احسن: بہت اچھا‘ اچھی بیوی اور پیارے پیارے بچے ہیں یوں پرسنل فرنٹ پر زندگی کی گاڑی بہت ہموار طریقے سے آگے کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں مسرتیں بھی ہیں اور اگر چھوٹی موٹی تکلیف آتی ہے تو یہ پارٹ آف دا لائف ہے جس پر زیادہ فکرمند نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہیے!

 دنیا: ہیرو کا امیج رکھنے کے باوجود اڈاری‘ میں گرے کیریکٹر کیوں کیا‘ اس پر فینز بھی ناراض ناراض نظر آئے؟

احسن:کردار میں بھرپور پرفارمنس مارجن تھا اور پھر روایت سے ہٹ کر لگا سو اسی لیے ولن بننے پر بھی راضی ہوگیا لیکن اس قسم کا کیریکٹر مجھ جیسے ہیرو امیج والے ایکٹر کے لیے کرنا واقعی بہت مشکل تھا‘ دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس قسم کا ڈارک کیریکٹر کرنے سے قطعی انکار کردیتا!اس رول کو کرنے کا واحد مقصد یہی تھا کہ لوگوں کو میسج دے سکوں کہ معاشرے میں رائج اس برائی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں نہ کہ اسے دیکھ کر آنکھ بند کرلی جائے۔

دنیا :کم عمر بچوں کے ساتھ ہونے والا یہ شرم ناک سلوک ان پر کس قسم کے اثرات چھوڑتا ہے؟

احسن: اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے اور بچے کی نفسیات متاثر ہوتی ہے ‘ وہ زندگی بھر اس واقعے کو بھول نہیں پاتا‘ ذاتی طور پراس کا عینی شاہد ہوں کہ میری گھریلو ملازمہ کے بچے کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے چنانچہ اس چیز نے بھی اکسایا کہ اس حوالے سے شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

شوبز انڈسٹری پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانے کی لڑکیاں بڑی تعداد میں نظر آ ...

مزید پڑھیں

ملک و بیرون ملک میں اپنی فنی و تعلیمی شعبوںمیں خداداد صلاحیتوں کی بناء پر منفرد شناحت بنانے والے فلم، ٹی وی اور تھیٹر کے فنکار راحت کاظمی ...

مزید پڑھیں

برطانوی نژاد پاکستانی ماڈل و اداکارہ کبریٰ خان نے بہت تیزی سے کے ساتھ اپنافنی سفر طے کیا ۔پاکستانی شائقین کے ساتھ ان کا تعارف فلم ’&rsquo ...

مزید پڑھیں