☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
گولڈ میڈل لانا ہے توریسلنگ اکیڈمی بنانی پڑے گی

گولڈ میڈل لانا ہے توریسلنگ اکیڈمی بنانی پڑے گی

تحریر : طیب رضا عابدی

03-24-2019

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے انعام بٹ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے سپورٹس سائنسز میں ایم ایس سی کی ہوئی ہے ۔ انہوں نے پہلا گولڈ میڈل کامن ویلتھ گیمزانڈیا میں2010 میں جیتا۔یہ پاکستان کیلئے کامن ویلتھ ریسلنگ میں چالیس سال بعد گولڈ میڈل تھا

فیصل آباد کا تاریخی اقبال سٹیڈیم تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ رستم پاکستان کے ٹائٹل کیلئے ملک کے دو نامورپہلوان رنگ میں اترے ہوئے تھے ، ہر طرف سے نعرہ ہائے تحسین بلند ہورہے تھے۔ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام ملک بھر سے 100سے زائد پہلوانوں کے درمیان مقابلوں کے بعد انعام بٹ اور حامد خان ملتانی کے درمیان فائنل ٹاکرا تھا۔

مقابلہ22 منٹ تک ہوتا رہا کبھی حامد خان پلٹی مارتا تو کبھی انعام بٹ لیکن آخر میں گوجرانوالہ کے سپوت انعام بٹ کی محنت ، پھرتی اور تکنیک کام آئی اور انہوں نے حامد خان کو زیر کرلیا۔ ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپئن بننے کے بعد کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے والے انعام بٹ نے پاکستان کے سب سے طاقتور پہلوان ’’رستم پاکستان‘‘ کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔

ان سے کی گئی گفتگو قارئین کی پیش نذر ہے ۔

سوال:ریسلر بننے کا خیال کیسے آیا؟

جواب: دادا جی پہلوانی کیا کرتے تھے ،والد صاحب بھی تھے، پھر کزنز بھی پہلوانی کی طرف راغب تھے، ہماری فیملی کا ماحول ہی ایسا تھا۔ جب بچے اکٹھے ہوتے تھے تو سرگرمی یہ ہی ہوتی تھی کہ آئوجی بچوں کی کشتیاں کرائیں۔ تو ہم کھلونوں سے نہیں کھیلے بلکہ ہم شروع سے کشتیوں میں ہی کھیل کر جوان ہوئے ہیں ۔

چاچے کے بیٹے کو گرانا ہے ، اس نے پچھلی مرتبہ گرایا تھا، تو گھر سے ہی ایسی تربیت تھی ۔ اس لئے ریسلنگ کی طرف آنے کا خیال آیا۔ ہم نے رضائیاں جوڑ کر پورے کمرے جتنا ایک ریسلنگ رنگ بنایا ہوا تھا جہاں ہم روزانہ گھر میں ٹریننگ کرتے تھے ۔

سوال: رستم پاکستان دنگل کی روداد سنائیں؟

جواب: اس دن کا تو جی عجب سماں تھا،ہزاروں کا مجمع تھا، کوئی ہلڑ بازی نہیں ہوئی۔بزرگ لوگ پہنچے ہوئے تھے ۔ اور فیصل آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رستم پاکستان کا مقابلہ ہورہا تھا۔

یہ مقابلہ زیادہ تر چار سے پانچ سال بعد ہوتا ہے ۔ آخری مرتبہ یہ مقابلہ2012 میں ہوا تھا جس میں عثمان مجید بلو رستم پاکستان بنے تھے۔اس مرتبہ سات سال بعد یہ مقابلہ ہوا۔ حامد خان ایک زور آور پہلوان ہیں ، وہ تین مرتبہ رستم پاکستان کے فائنل میں پہنچے ، 2009 میں 2012 میں، اوراس سال بھی فائنل میں پہنچے ۔مڈ ریسلنگ کے تمام مقابلوں میں وہ جیتے ہوئے ہیں ۔مقابلے والے دن ان کا وزن125 اور میرا وزن99 کلو تھا۔وہ جسمانی طور پر بھی مجھ سے زیادہ بھاری بھرکم تھے ۔ پچیس سال بعد یہ ٹائٹل گوجرانوالہ گیا۔ مجھ سے پہلے یہ ٹائٹل شاہد پہلوان کے پاس تھا، انہوں نے 1994 میں ٹائٹل جیتا تھا۔

سوال : ’’رستم پاکستان‘‘ بننے کیلئے کیا ٹریننگ کی ؟

جواب : یہ میرے لئے بہت مشکل کام تھا ، اس میں خوراک کے ساتھ ساتھ سخت ٹریننگ کرنا ہوتی ہے ۔ خوراک میں دیسی مرغ کی یخنی ، سردائی، پھل، چکن کا استعمال کرتا تھا۔ والد صاحب نے بہت ٹریننگ کرائی۔ ڈنڈ بیٹھکیں لگانے کی بجائے میں نے تکنیک پر زیادہ توجہ دی ۔ دیسی کشتی کی تکنیک جیسے جانگیہ پکڑنا ، مچھی کوٹا،کونڈا، گردن پر بیٹھنا اس طرح کی تکنیکس پر پریکٹس کی ۔ اس کے علاوہ سپرنٹس بھی کئے۔

سوال : آپ کی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟

جواب: میری کامیابی کے پیچھے ایک پوری ٹیم ورک کہہ لیں۔ اس میں فیڈریشن کا تعاون بھی رہا، کوچز کی کوچنگ ، میرے والد کی شروع سے سرپرستی اور ٹریننگ ۔ والد میری خوراک اور ٹریننگ پر خصوصی توجہ دیتے تھے ۔ اس کے علاوہ مجھے ایران اور کوریا سے ٹریننگ میں کافی کچھ سیکھنے کو موقع ملا۔ یہ سب چیزیں مل کر ہی میری کامیابی کا سبب بنیں۔

سوال : مڈ ریسلنگ، بیچ ریسلنگ اور میٹ ریسلنگ میں سے کونسی ریسلنگ کو آپ زیادہ اہمیت دیتے ہیں ؟

جواب: دیکھیں جی آپ وہ ریسلنگ ہی زیادہ کریں گے جہاں آپ کو انعام زیادہ ملنے کی توقع ہو۔

جہاں آپ اپنے ملک کی زیادہ اچھے طریقے سے نمائندگی کرسکتے ہیں ۔ میٹ ریسلنگ اس وقت عالمی طور پر کھیلی جارہی ہے ۔ زیادہ اہمیت اسی کو ہے ۔ لیکن ہمیں تینوں طرف ہونا پڑتا ہے ۔ اگر انٹرنیشنل ایونٹ آگیا ہے تو آپ عالمی طور پر ملک کی نمائندگی کرسکتے ہیں ، اسی طرح بیچ ریسلنگ میں بھی192 ممالک شامل ہیں ۔اور مڈ ریسلنگ تو ہے ہی ہماری اپنی روایتی گیم۔ ویسے مجھے بیچ ریسلنگ میں زیادہ اچھی گرپ ہے ۔ یا پسندیدہ کہہ لیں۔ لیکن میٹ کے مقابلے بہت ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی پریکٹس اچھی ہوجاتی ہے ۔

سوال : اب تک آپ کو کتنی انعامی رقم مل چکی ہے؟

جواب:سائوتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل لیتے ہیں تو پاکستان سپورٹس بورڈ کی طرف سے دس لاکھ روپے ملتے ہیں ، میں واحد ریسلر ہوں جو مختلف میڈلز کی انعامی رقم سواکروڑ تک حاصل کرچکا ہے ، کامن ویلتھ میں گولڈ میڈل جیتنے پر پچاس لاکھ روپے ملتے ہیں ۔رستم پاکستان بننے پر مجھے پانچ لاکھ روپے انعامی رقم دی گئی ہے ۔ باقی فیڈریشن کے پاس بجٹ ہی نہیں ہوتا ۔ پی ایس بی نے فیڈریشن کو سالانہ پندراں لاکھ دینا ہوتا ہے ، اس میں کیا ہوتا ہے ۔ اس میں سال بھر دفتر کا خرچہ نہیں چلا سکتے ۔

سوال : اولمپک کیلئے کیا تیاریاں ہیں اور کیسے کوالیفائی کرینگے؟

جواب:اولمپک کوالیفائی کرنے کیلئے ایک طریقہ کار ہے کہ آپ نے مطلوبہ پوائنٹس پورے کرنے ہیں ، ورلڈ چیمپئن بننے کے سب سے زیادہ پوائنٹس ہوتے ہیں ، پھر خطے کی گیمز آجاتی ہیں۔ اب ہمارا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ورلڈ ایونٹ میں تو گولڈ لے لیا لیکن باقی چھ مقابلوں میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے حصہ ہی نہیں لیا تو پوائنٹس پورے نہیں ہوئے اس طرح آپ اولمپک میں شرکت سے محروم رہ جاتے ہیں ۔اب ریسلنگ کے دو ایونٹ ہورہے ہیں ، ایک ایونٹ پرتگال میں اوردوسرا برازیل میں ہورہا ہے ۔

ان دونوں میں سے میں ایک بھی جیتتا ہوں تو جو امریکہ میں ورلڈ بیچ گیمز ہورہی ہیں اس کے لئے میرا کوالیفائی ہوجائے گا۔

?سوال:اب کس مقابلے کی تیاری کررہے ہیں

جواب: بیچ گیمز یوایس اے میں آرہی ہیں ایک تو اس کے لئے تیاری کررہا ہوں۔ دوسرے جو ایونٹ آرہے ہیں ان کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ پرتگال اور برازیل میں ہونیوالے ایونٹس میں کھلائے تاکہ میں اولمپک کیلئے مطلوبہ پوائنٹس پورے کرسکوں۔

سوال:موجودہ وزیر اعظم کا تعلق بھی کھیل سے رہا ہے ، کیا حکومت سے کوئی توقعات ہیں کہ وہ ریسلنگ کی طرف توجہ دے گی؟

جواب:ہمارے ملک میں یہی خرابی ہے کہ ملک کے وزیر اعظم سپورٹس مین رہے ہیں۔ کھیلوں کی باریکی سے واقف ہیں۔جتنا وہ کھیلوں کو سمجھتے ہیں ہم اور آپ نہیں سمجھ سکتے لیکن اس کے باوجود اس حکومت کی کوئی پالیسی نظر نہیں آرہی ۔ وہ تو سپورٹس بورڈ کو ختم کرنے کے چکر میں ہیں حتیٰ کہ ڈیپارٹمنٹ کرکٹ ختم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔

اب مجھے بتائیں کہ جو مجھ جیسے سینکڑوں ایتھلیٹس ڈیپارٹمنٹس سے وابستہ ہیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہے وہ ڈیپارٹمنٹس ختم ہونے پر کہاں جائیں گے ۔ اب صوبائی وزیر کھیل رائے تیمور صاحب سے بھی ملا ہوں ، ان سے بھی کہا کہ ریسلنگ کیلئے کچھ کریں ۔ انہوں نے بھی بس یہ ہی کہا کہ میں گوجرانوالہ آئوں گا دیکھوں گا، سوچوں گا۔

سوال: پھر ایک ریسلر کا مستقبل کیسے محفوظ کیا جائے؟

جواب: ایک نوجوان دو وجوہات کی بنا پر اکھاڑے میں آتا ہے۔ ایک تو میں اکھاڑے میں آنیوالے نوجوان کی پڑھائی پر کمپرومائز نہیں کرتا ۔

کئی کالجز نے کھیلوں کی بنیاد پر فری ایڈمیشن شروع کئے ہیں ۔ایک وہ جو اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے اکھاڑے میں آتا ہے کہ اسے سرکاری نوکری مل جائے گی ، ایک وہ جسمانی طاقت اور شہرت کیلئے آتا ہے ۔ اب اگر آپ اس کا مستقبل محفوظ کرنے کی بجائے ڈیپارٹمنٹ ختم کردیں گے تو وہ تو اکھاڑے میں نہیں آئے گا۔ ہمارے یہاں پہلے ہی کھیلوں کی طرف کم نوجوان آتے ہیں ۔

اوپر سے آپ اس پر روزگار کا دروازہ بھی بند کردیں گے تو ایتھلیٹس کہاں جائیں۔ اس لئے ریسلرز کا مستقبل ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ ہی وابستہ ہے ۔ ڈیپارٹمنٹس ختم کرنے سے تمام کھیلیں یکم دم بیٹھ جائیں گی۔

سوال : پاکستان میں میٹ ریسلنگ کو کن مسائل کا سامنا ہے ؟

جواب: سب سے پہلے تو پاکستان میں میٹ ہی بہت کم ہیں ۔ ایک میٹ ہی 20 لاکھ سے زائد مالیت کا آتا ہے ۔ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے تمام ریسلرز کو30 سے 32 میٹ دیئے ہیں ۔ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ اگر ہم نے عالمی طور پر مقابلہ کرنا ہے تو عالمی معیار کی ٹریننگ نہیں ہے ۔

ہمارے ریسلرز کو نئی تکنیک کا پتا نہیں ۔ دنیا میٹ ریسلنگ میں کہیں کی کہیں پہنچ گئی ہے ۔ ہماری حکومت کی اس طرف توجہ ہی نہیں ۔ سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اتنے بڑے ملک میں ریسلنگ کی ایک اکیڈمی نہیں ہے جہاں عالمی معیار کی پروفیشنل ٹریننگ دی جاتی ہو تو ہم کیسے ریسلنگ میں میڈلز جیت سکتے ہیں حالانکہ یہاں ٹیلنٹ بہت ہے ۔لوگوں کے پاس اکھاڑوں کی مناسب جگہ بھی نہیں ہے۔

پاکستان میں ریسلنگ کو بچانا ہے تو ایک اچھی اکیڈمی بنانا ہوگی ۔ اس اکیڈمی میں جو ٹاپ کے ریسلر ہوں ان کو مزید ٹریننگ کیلئے ایران اور روس ٹریننگ کیلئے بھیجا جائے تو پاکستان عالمی ریسلنگ میں کہیں سے کہیں پہنچ جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر پی ایس ایل کی طرح کی فرنچائز ز میں سے ہمیں ایک فرنچائز مل جائے تو ہم ریسلنگ میں کئی میڈلز لا سکتے ہیں ۔

سوال :اس حوالے سے فیڈریشن کہاں تک تعاون کرتی ہے ؟

جواب: فیڈریشن کے ارشد ستار صاحب نے اپنی جیب سے میٹ ڈلوا کر دیئے ہیں ۔ انہوں نے ملک بھر میں ریسلرز کے لئے میٹ کا بندوبست کروا کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ فیڈریشن ہمارے لئے مقابلوں میں شرکت کا بندوبست کرتی ہے ۔ فیڈریشن یہی کچھ کرسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کام حکومت کا ہے ۔ انفراسٹراکچر بہتر کرنا اور سپورٹس کو بہتر سسٹم میں لے کر آنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔8 ماہ ہو گئے ہیں ٹریننگ کیمپ ہی نہیں لگا۔

اس سے آپ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔باقی گیمز ایک طرف اور ریسلنگ کے میڈلز ایک طرف ۔ ریسلنگ کا پلڑا بھاری ہوگالیکن اتنا ہی ریسلنگ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ تھوڑا حکومت سپورٹ کرے ، تھوڑا پرائیویٹ سیکٹر سپورٹ کرے تو پاکستانی ریسلنگ بہت ترقی کرسکتی ہے۔

سوال : گوجرانوالہ سے بہت سے ریسلر سامنے آئے ،وہاں ریسلرز کا مستقبل کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میں جب دو سال پہلے ورلڈ چیمپئن بنا تھا تو عامر جان صاحب سیکریٹری سپورٹس بورڈ پنجاب تھے ۔ میں ا ن سے ملا ، انہیں بتایا کہ میں ورلڈ چیمپئن بن کر آیا ہوں ، انہوں نے مجھے انعامی رقم دینے کیلئے کہا، میں نے کہا مجھے رقم نہیں چاہیے ، مجھے ایسی جگہ دے دیں جہاں میں اکیڈمی بنا کر یہ فن دوسرے نوجوانوں کو آگے منتقل کروں تاکہ کئی انعام بٹ پیدا ہوں۔ انہوں نے گوجرانوالہ میں ایک کھنڈر ویران سی جگہ دے دی ۔ اس کو بہتر حالت میں کرنے کیلئے میں نے اپنی جیب سے10 لاکھ روپے لگائے ۔

دو ایک کمرے بنائے ، اکھاڑہ بنایا ، پودے لگائے۔ وہاں جگہ کی کمی کہ وجہ سے 75 فیصد میٹ بچھتا ہے ، پورا نہیں بچھتا۔ اب اسے پاکستان ریسلنگ اکیڈمی کا نام دے کر70سے80 نوجوانوں کو ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ اسی اکیڈمی کے ریسلر نہ صرف نیشنل لیول پر میڈل لا رہے ہیں بلکہ انٹرنیشنل لیول پر بھی کھیل رہے ہیں ۔ دو نے کامن ویلتھ میں میڈل حاصل کیا، چھ ریسلر ایشین گیمز کھیل کر آئے ۔ گوجرانوالہ میں ٹیلنٹ ہے اور نوجوانوں میں شوق بھی ہے ۔ گوجرانوالہ اب تک60 میڈلز لے چکا ہے ۔

سوال: تو کیا آپ اپنی اکیڈمی میں نوجوانوں سے کوئی فیس لیتے ہیں؟

جواب : کوئی فیس نہیں ہے ، پہلوانی غریب بچے کرتے ہیں ، بلکہ کچھ ریسلرز ایسے ہیں جن کو آنے جانے کا کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔ ریسلنگ کٹ بھی دی جاتی ہے ۔

حتی ٰکہ اگر کسی ریسلر کو انجری ہوجاتی ہے تو بھی اگر وہ اپنا علاج خود نہیں کراسکتا تو ہم خود علاج کراتے ہیں ۔ ہر مہینے ہم اپنی جیب سے25 سے30 ہزار روپے لگاتے ہیں ۔ ہمارے ریسلنگ جوتے پاکستان میں نہیں بنتے یہ باہر سے منگوانے پڑتے ہیں یا لنڈے سے لیکر آتے ہیں ۔

سوال : اتنا خرچہ کیسے برداشت کرلیتے ہیں ، پنجاب سپورٹس بورڈ یا ڈسٹرکٹ انتظامیہ کوئی تعاون نہیں کرتی؟

جواب: سپورٹس بورڈ کوئی تعاون نہیں کرتا، ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے پاس اتنا بجٹ ہی نہیں ہوتا۔ ہم اپنی اکیڈمی کا خرچہ اس طرح پورا کرلیتے ہیں کہ میری واپڈا میں 18ویں گریڈ کی ملازمت ہے ، اس کے علاوہ ہمارا الیکٹرانکس کا کاروبار ہے تو وہاں سے کچھ پیسے آجاتے ہیں ۔ اس طرح ہم اکیڈمی کا خرچہ پورا کرلیتے ہیں ۔

یہ پاکستان سپورٹس بورڈ کا کام ہے کہ ملکی لیول پر ریسلنگ کیلئے اکیڈمی بنا دیں جہاں پورے پاکستان سے ریسلرز آکر تربیت حاصل کریں۔

سوال : آپ نے ایک مرتبہ دعویٰ کیا تھا کہ اگرحکومت مجھے10 لاکھ ٹریننگ کیلئے دے دے تو میں میڈل جیت کر دکھائوں گا، کیا وہ دعویٰ اب بھی قائم ہے؟

جواب:وہ میں نے دعویٰ کیا تھا کامن ویلتھ گیمز سے پہلے جب ہم ٹریننگ کررہے تھے ۔ اس وقت مجھے انٹرنیشنل ٹریننگ کی ضرورت تھی ۔ تو اس وقت میں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر میں میڈل نہ لے کر آیا تو میں دس لاکھ واپس کردوں گا۔ لیکن وہ نہیں ہوسکا ، اس کے باوجود میں نے اپنی ٹریننگ تو نہیں چھوڑنی تھی ۔ حکومت کی طرف سے دس لاکھ بھی نہیں ملے لیکن اس کے باوجود کامن ویلتھ میں اللہ کے فضل سے گولڈ میڈل جیت کر دکھا دیا۔

سوال : انٹرنیشنل بیچ ریسلنگ میں جانے کا خیال کیسے آیا؟

جواب : اصل میں ہماری بنیاد مڈ ریسلنگ کی ہے ۔ اس لئے بیچ ریسلنگ ہمارے لئے ملتی جلتی ہے اورسپورٹ بھی دیتی ہے ۔ اس کے قواعد و ضوابط تمام میٹ ریسلنگ والے ہیں لیکن نیچے مڈ یعنی ریت آگئی ہے ۔ ایشیا کا مقابلہ آگیا میں نے کوشش کی تو اللہ پاک نے عزت دے دیدی تو ساتھ بیچ ریسلنگ کو بھی شروع کردیا۔ سوا ل: دیسی کشتی کا کوئی مستقبل دیکھتے ہیں؟ جواب: اس کا کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا کیونکہ عالمی طور پر یہ نہیں ہوتی نہ اس پے ملازمت ملتی ہے ۔ لیکن چونکہ یہ ہماری روایات میں ہے مقامی لوگوں کو پسند ہے ۔ مٹی سے لگائو کی وجہ سے ہے ۔ اس لئے یہ بھی ساتھ ساتھ چلتی رہے گی ۔ انڈیا اور پاکستان میں ہی زیادہ تر کھیلی جاتی ہے ۔

سوال : کسی بھارتی پہلوان کو چیلنج کرینگے ؟

جواب : چیلنج کیا کرنا ہے ، میں نے تو بھارتی پہلوانوں کو کامن ویلتھ میں بھی ہرایا ہے ، سائوتھ ایشین گیمزمیں بھی شکست دی ہے ۔ ورلڈ چیمپئن شپ میں ان سے جیت چکا ہے ۔

سوال : نئے ریسلرز کیلئے کیا نصیحت یا ہدایت کرینگے۔؟

جوابـ : ریسلرز کیلئے ہی نہیں بلکہ میں تو عام لوگوں کیلئے بھی یہ بات کہوں گا کہ دیسی ورزش کرینگے تو آپ کی فزیکل فٹنس اچھی ہوگی ۔ آپ دیسی پہلوانی والی طرف آئیں ، وہاں آپ کو جو بھی ملے گا خالص ملے گا۔

سوال : ٹریننگ کیسے کرتے ہیں ؟

جواب : ٹریننگ میں دن میں تین ٹائم کرتا ہوں ،صبح 6سے 8 تک، دوپہر 2 سے 4 ، رات کو 8سے 10بجے تک ۔ اس طرح روزانہ چھ گھنٹے پریکٹس کی جاتی ہے ۔

سوال : خوراک کیا استعمال کرتے ہیں؟

جواب: دیسی کشتی میں سب سے زیادہ اہم سردائی ہوتی ہے جس میں بادام، چارمغز، زیرہ، الائچی ، دودھ یہ اجزا شامل ہوتے ہیں۔

سوال : ریسلنگ میں آئیڈیل کے طور پر کسے لیتے ہیں ؟

جواب : آئیڈیل وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس وقت میرے ریسلنگ میں آئیڈیل اولمپک چیمپئن روس (داغستان) کے پہلوان عبدالرشید سیڈلو ہیں۔

سوال :خوش کن لمحہ اور مایوس کن لمحہ کونسا ہوتا ہے ؟

جواب : میرے لئے خوش کن لمحہ وہ ہوتا ہے جب میں پاکستانی پرچم بلند کرتا ہوں اور مایوس کن لمحہ وہ ہوتا ہے جب ہم گولڈ میڈل جیت کر آتے ہیں تو حکومت کی طرف سے کوئی سرپرستی نہیں ہوتی دل کرتا ہے گیم چھوڑ دیں۔(ساتھ ہی انعام بٹ کے والد بیٹھے تھے کہنے لگے جب انعام بٹ ورلڈ چیمپئن بن کر آئے تو ائیر پورٹ پر اتر ے تو میں رویا کہ ورلڈ کا گولڈ میڈل جیت کر آئے ہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی استقبال کرنے کیلئے بھی نہیں آیا )

سوال : شادی پسند کی کریں گے یا والدین کی مرضی کی ؟

جواب : ریسلنگ کی طرف ہی اتنا دھیا ن ہوتا ہے کہ ابھی اس طرف سوچا ہی نہیں کسی کو پسند کرنے کا ۔اصل میں جس بندے نے چھ سات گھنٹے ٹریننگ کرنی ہے اور جس کے دماغ میں یہ چل رہا کہ میں نے اس پہلوان سے کیسے نمٹنا ہے ، نیشنل گیمز میں کیسے جانا ہے ، انٹرنیشنل پہلوان سے کیسے جیتنا ہے وہاں محبت جیسی چیز کی طرف کم ہی دھیان جاتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک وقت طلب کام ہے ۔ ویسے والدین شادی کا سوچ رہے ہیں ، میں والدین کی پسند سے ہی شادی کروں گا۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ایک دور تھا کہ جب ہر لڑکی اپنے فنی کیریئر کا آغاز فلم انڈسٹری سے کرنا باعث اعزاز سمجھتی تھی ،فیشن انڈسٹری سے دور رہنے میں بہترخیال کرتی ...

مزید پڑھیں

چھوٹے جملے، لطف پیرائے میں طنز، لفظوں کی کاٹ ،تلخ حقائق کا اظہار ، سماجی خامیوںاور معاشرتی برائیوں کی دلکش ا ندازمیں وضاحت،زبان ، نسل ، ...

مزید پڑھیں

جدید دور میں جہاں دنیا بھر میں ہرشعبہ ہائے زندگی میں تبدیلی کا عمل بڑھ رہا ہے وہاں ملکی سطح پر دیگر شعبوں میں وقت کیساتھ تبدیلی ہی کامیاب ...

مزید پڑھیں