☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
اداکار حمزہ علی عباسی کہتے ہیں اداکاری میرا جنون ہے

اداکار حمزہ علی عباسی کہتے ہیں اداکاری میرا جنون ہے

تحریر : مرزا افتخاربیگ

04-26-2020

 شوبز انڈسٹری میں بدلتے رحجان کے ساتھ فنکاروں کی سوچ میں بھی تبدیلی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے ، وقت نے کروٹ بدلی ہے ،کل تک کے شوبز کی دنیا کے دیوانے اب کیمرے کی چکا چوند سے دور ہوتے نظر آرہے ہیں ۔
 

 

ان فنکاروں میں حمزہ علی عباسی سرفہرست ہیں۔ جرأت مندانہ باتیں کرنے والے حمزہ علی ایک الگ ہی شناخت رکھتے ہیں ۔بلاشبہ وہ فلموں اورڈراموں کے کامیاب اداکار ہیں۔ چھوٹی اسکرین پر سیاسی پروگرام میں بھی کامیاب رہے۔’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ اور ’’جوانی پھر نہیں آنی ٹو ‘‘جیسی فلموں کے بعد حمزہ علی عباسی باکس آفس کے بھی ایک بڑے اسٹار ہیں، عمدہ کارکردگی دکھانے پر ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ ’’‘ لیجنڈ آف مولاجٹ ‘‘ کے ٹیزر نے کافی دھوم مچائی۔فلم میں حمزہ نے نوری نت کا زبردست کردار نبھایا ہے جسے پہلے والے مولاجٹ میں مُصطفیٰ قریشی نے پلے کیا ہے۔یہ جاندار اورپراثر کردار ہے ۔حمزہ کو پوری اُمید ہے کہ اس کردار کی بدولت وہ مُصطفیٰ قریشی جیساباوقار اداکار کا نقشِ ثانی ثابت ہوگا ۔فلموں میں شہرت ملنے کے باوجودوہ شوبز کی دنیا سے کنارہ کش ہونا چاہتے ہیں۔ذیل میں ان سے اسی حوالے سے کی گئی گفتگو پیش خدمت ہے۔ 

دنیا:اپنی فیملی اور اپنے بارے میں کچھ بتائیں گے ؟
حمزہ : میرا تعلق پٹھان فیملی سے ہے‘ والد ریٹائرڈ آرمی آفیسر مظہر علی عباسی ہیں جبکہ والدہ بیگم نسیم اختر چوہدری سیاست سے وابستہ ہیں ،بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی مشہور ماہرِ جلدی امراض ہیں ۔
دنیا :تعلیم کہا ں سے حاصل کی ؟
 حمزہ : امریکہ میں تعلیم حاصل کی ۔کیریئر کے لئے پاکستان کا رُخ کیا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے، پاکستان آکر اس لئے بھی کیریئر شروع کرنا چاہتا تھا کہ اگر امریکہ میں ہی کیریئر سیٹ کرلیتا تو فیملی سے بہت دور ہوجاتا اس لئے اپنے ملک میں ہی کام کرنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب کیریئر شروع کیا،آگے بھی اسی طرح اپنے کیریئر پر فوکس کروں گا۔
دنیا : اداکاری کا شوق کیسا ہوا ؟
حمزہ : امریکہ میں اداکاری کا شوق پروان چڑھا ، دوران تعلیم میرے دوست شوبز انڈسٹری کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے تھے ، فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر سوچتا تھا کہ یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں ۔ چیلنج سمجھ کر شوبز میں آیا ، شاہد خان آفریدی فلم میں کا م کرکے شہرت ملی ۔ اچھی و معیاری فلمز کرنے کا ارادہ تھا جو کرکے پورا ہوا ۔ 
دنیا : اداکاری سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟
حمزہ : چونکہ ایک ملازمت پیشہ فیملی سے تعلُق رکھتا ہوں تو یہی احساس رہتا ہے کہ ایسا کام کروں کہ فیملی کا نام روشن ہو ناکہ مُجھ پر انگلی اُٹھائی جائے کہ یہ کام غلط ہوا ہے۔ اپنی تعلیم کا استعمال کرنا چاہتا ہوں ۔ اپنے تجربے میں مزید بہتر سے بہتر اضافہ کرنے کا خواہاں ہوں،اسی خواہش میں اچھے و معیاری اسکرپٹس کا ہر وقت مُتلاشی رہتا ہوں۔غیر معیاری فلموں کی بناء پرکام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 
دنیا : فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کیوں کی؟
حمزہ : یہ ایک میگا اسٹار فلم ہے جس میں لیجنڈ مصطفی قریشی کا کردار نوری نت کا کیا ہے۔بڑے فنکاروں کی بڑی فلم تھی جب ری میک بنا تو کام کے لئے انکار نہ کرسکا اب مزید فلموں یا ڈراموں میں اس صورت میں کام کروں گا جب معیاری اسکرپٹس و جاندار کردار ہوں گے۔
دنیا : اب تک کس کردار سے متاثر ہوئے ہیں؟
حمزہ : کسی ایک کا نام نہیں لے سکتا ہر کردار پاور فل ہونا چاہئے ۔ ’’پیارے افضل ‘‘کا ہو یا ’’من مائل‘‘ ، سیریل ’’الف ‘‘کا کردار ہو سب میں ایک منفرد حمزہ نظر آئے گا ، یہ میں نہیں میرے فینز کہتے ہیں ۔ان کو میری کردارنگاری بہت پسند آتی ہے۔
 دنیا : جو شہر ت پیارے افضل سے ملی اس بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں ؟
حمزہ :ڈراما سیریل پیارے افضل، نے میرے کیریئر کو جس بلندی پر پُہنچایا ہے، اگر یہ ڈراما سیریل اور کردار اس قدر مقبول نہ ہوتا تو آج میں جس مقام پر ہوں،یہاں تک پہنچنے میں کئی برس لگ جاتے، یہی نہیں بلکہ پیارے افضل،سے جو پہچان ملی ہے‘ وہ میرے لئے بہت زیادہ بڑھ کر ہے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ جتنا اچھا کام نہیں کیا،اُس سے کہیں زیادہ پیار و پذیرائی مل گئی ہے، جب ایک اداکار کو پہچان مل جائے تو پھر کیا ہی کہنے کہ اُسے اپنی محنت کا صلہ مل گیا۔
دنیا : اس کے بعد کیا کچھ ملا آپ کو ؟
حمزہ : بہت کچھ ملا مجھے ، پیارے افضل کے بعد پھر مُجھے ناصرف ڈراموں بلکہ فلموں کی بھی آفرز ہوئیں جس سے میں نے خود کو گُروم کیا اور اپنے کام میں بھی نکھار لاتا گیا، ایک کامیاب اداکار کی حیثیت سے اپنا کیریئر سنبھال چکا ہوں،مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ اگر ہم ارادہ کرلیں اور پھر عمل کریں تو محنت اور خلوص سے کئے گئے کام ہمیشہ اچھا نتیجہ لاتے ہیں‘ میری جدوجہد نے مجھے بہترین نتیجہ دیا ہے۔ اب صرف محنت وخلوص سے کام کرنا ہے، اپنی اداکاری ‘ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر آگے اپنا بہترین کام دکھانا ہے ۔ 
دنیا : فلمی کیریئر کے بارے میں بتائیں اور فلموں میں ملنے والی کامیابیاں کیسی رہیں ؟
حمزہ :چونکہ شعبہ اداکاری سے وابستہ ہوں اس لئے اس میدان کا سب سے بڑا کھلاڑی بننے کے لئے اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھتا ہوں کہ یہ کرسکتا ہوں اور پھر یہ بھی کر سکتا ہوں۔ کیونکہ ویسے بھی فلم کا وژن ہر اداکار کے لئے ایک بڑا وژن ہوتا ہے‘میں بطور ایکٹر چاہتا تھا کہ اس وژن میں مُجھے کوئی اپیل نظر آنی چاہئے اس لئے میں نے ایک شارٹ فلم دی گلوریئس ریسو لو‘ میں کام کیا اور پھر میرا باقاعدہ فیچر فلم debut ہوا۔2013ء سے میں فلم میں ہوں ،شاہد آفریدی‘ اور اُس کے بعدوار‘ کے ذریعے۔مُجھے پہلا ایوارڈ بہترین معاون اداکار و بہترین debut اسٹار کے طور پر ملا اور پھر جوانی پھر نہیں آنی‘ اور جوانی پھر نہیں آنی ٹو‘ میں بھی کام کرنے کا بہتر موقع ملا۔فلم ’’ لیجنڈ آف مولاجٹ ‘‘ میں جو مُصطفیٰ قریشی اور سُلطان راہی صاحب کی شہرۂ آفاق فلم کا ری میک ہے‘ اس فلم کے ذریعے تمام دیکھنے والوں کو معلوم ہو جائے گاکہ اداکاری سے میرا کس حد تک جنون ہے اور اپنے کیریکٹرز میں کتنی محنت و اپنی ذات کو بھلا کر اداکاری کرتا ہوں کیونکہ میں خود بھی ایک عام سا اداکار ہوں،دوسرے اداکاروں کی طرح میری بھی یہی خواہش ہے کہ ترقی کی اُس راہ پر گامزن رہوں جو ترقی، خوش حالی اور اپنے وطن کی خدمت کی طرف جاتی ہے‘ فلمز کرنے سے ہمیں وہ تمام آسانیاں مُمکن حد تک آسانی سے مل جاتی ہیں لیکن اس کے لئے فلم اسٹار ہونا ضروری ہوتا ہے۔
 دنیا : نوری نت کا غیر معمولی کردار نبھاتے ہوئے کیا احساسات تھے؟
حمزہ : مولاجٹ‘ فلم انڈسٹری کی اس قدر سپرڈوپر ہٹ فلم رہی ہے کہ اس دور کے ہم اداکاروں کے لئے اس کا ری میک کرنا ایک خواب سا لگتا تھا اور اس کامیاب ترین فلم کے تمام کردار ماورائی قوت کے حامل دکھائی دیتے تھے، آج کے دور میں بھی اداکاروں کے اندر یہ خواہش پنپ رہی ہے کہ کاش اس فلم کے ری میک میں اُن کی کاسٹنگ ہو جاتی توکتنا اچھاہوتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس فلم کا حصہ بننا میرے لئے بھی ایک خواب سا ہی ہے، مُجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس فلم کے لئے مُجھے آفر ہوئی ہے لیکن اس فلم کو کرنے کے بعد اب اس خواب کی حسین تعبیر فلم کے ریلیز ہونے کے بعد سامنے آئے گی کیونکہ میرا کردار نوری نت کا ہے اور اسے پلے کرنے کے لئے اپنا آپ بالکل بھُلاکر‘ بہت محنت کے ساتھ گیٹ اپ اپنا کر یہ فلم مُکمل کروائی ہے‘ جب ہم لوگ اس فلم کی شوٹنگ کررہے تھے تب بھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم واقعی کسی خواب کی سی کیفیت میں ہیں‘ اس طرح کی بہترین فلم کا حصہ بننا میری خوش قسمتی ہے ‘ بہت سے لوگوں کا یہ خواب ہوتا ہے کہ کیریئر میں کوئی ایسی فلم کا حصہ بن جائیں جن سے اُن کے کیریئر کو بوسٹ ملے۔ بلال لاشاری کے سمجھانے پر نوری نت کے کردار کے لئے راضی ہوگیا‘ جب اس کردار میں ڈھل گیا تو خود کو بھلانا پڑا کیونکہ اگر خود کو یاد رکھتا تو پھر اس کردار کے ساتھ انصاف نہیں ہوپاتا۔ کردار کے لئے بہت گہرائی میں جانا پڑا ہے ۔ میرے لئے یہ کردار بہت زیادہ چیلنجنگ تھا کیونکہ یہ کردار مُصطفیٰ قریشی صاحب کے لئے تھا‘ سندھی ہوتے ہوئے ایک پنجابی کیریکٹر کو ا س طرح پیش کیا کہ بالکل اُسی ٹون کو اپنا بنالیا اور آج تک اُن کی اُس ٹون ولہجے کا اثر و سرگوشی ہمارے کانوں میں گُونجتی ہے‘ پٹھان ہوتے ہوئے پنجابی کیریکٹر کر رہا تھا تو اُتنا ہی مشکل میرے لئے بھی ہے جتنا شاید اُس وقت مُصطفیٰ قُریشی صاحب کو بھی محسوس ہوا ہوگا مگر جس طرح سے اس فلم کے لئے میں نے محنت کی ہے۔
دنیا : پاک ہالی ووڈ ویب سیریز میں کام کر نے کا تجربہ کیسا رہا ؟
حمزہ : جی ہاں‘مُجھے جب اس ویب سیریز میں کام کی آفر ہوئی تو اس کے منفرد سوچ کے سبب انکار نہ کرسکا‘ اس ویب سیریز جس کا ورکنگ ٹائٹل ڈی جن ہے‘ یہ پراجیکٹ ونگ مین فلمز نے شروع کیا ہے جس کے رُوحِ رواں علی مُرتضیٰ‘ یاسر ٹیپو اور مُحمد عُمر ہیں جبکہ اسے ہالی وڈ میوریکس پروڈیوس کررہے ہیں‘ اس ویب سیریز کی کہانی دو امریکی رائٹرز نے تحریر کی ہے‘ سیریز میں پاکستان ایک سترہ سالہ لڑکی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سب سے اہم بات اس ویب سیریز کے ویژول ایفیکٹس ہیں جن کے لئے ہالی وڈ سے برائن ایلڈر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو ٹرمینیٹر‘ ٹرانسفارمر جسٹس لیگ‘ بلیک پینتھر‘ بیٹ مین اور سُپرمین‘ جیسی فلموں کے لئے کام کرچُکے ہیں‘ اس فلم کا موضوع ناصرف بہترین ہے بلکہ میکنگ بھی بین اُلاقوامی اداروں کی طرف سے ہورہی ہے تو یہ بھی میرے لئے بہت اچھا تجربہ ہوگا ۔
دنیا : کیا فلم انڈسٹری کی کامیابی کا سفر شروع ہوچکا ہے؟
حمزہ :یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ فلم انڈسٹری کی کامیابی کا سفر شروع ہوچُکا ہے مگر اُس تیزی کے ساتھ نہیں ہے جو وقت کی ضرورت ہے کیونکہ تیزی اُس وقت آئے گی جب فلمیں زیادہ بنیں گی اور اس کے لئے لاہور کی فلم انڈسٹری میں جو کام پہلے کررہے تھے ‘اُنہیں بھی چاہئے کہ کام شروع کریں تاکہ فلم پروڈکشن میں تیزی آئے اور یہ سفر کامیابی سے ہم کنار ہوسکے‘ اگر کراچی و لاہور میں بہترین کام ہونے لگے تو فلم انڈسٹری تیزی سے ری وائیو ہوگی کیونکہ چاہے فلم کراچی میں تیار ہو یا لاہور میں‘ کہلائے گی پاکستانی فلم ہی اس لئے فلموں کی تیاری میں یہ تضاد رکھنا خود ہمارے لئے انتہائی نامُناسب بات ہے‘ ہماری فلم انڈسٹری کے لئے نُقصان کا باعث بھی اس لئے کامیابی کا جو سفر شروع ہو چُکا ہے‘ اُس میں تیزی لے کر آنا ہمارا کام ہے‘ اس ضمن میں آگے بھی کام ہونا چاہئے۔
دنیا : کیاسیاست سے دلچسپی سپورٹ کی حد تک ہے؟
حمزہ :سیاست سے مُجھے دلچسپی ہے اور والدہ کی طرف سے وراثت میں ملی ہے کیونکہ وہ خود بھی ایک ایکٹو سیاست دان ہیں لیکن میں نے اس دلچسپی کو صرف سپورٹ کی حد تک رکھا ہے‘ میں پاکستان تحریکِ انصاف کا حامی ہوں‘ عمران خان کا مداح بھی ہوں۔ ایک چینل سے سیاست پر ہی ایک پروگرام کیا کرتا تھا‘ اسی پروگرام کی وجہ سے میں زیادہ مقبول ہوگیا۔ بطور ایک سیاسی شخص چونکہ اپنی والدہ کو بھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دیکھا ہے ‘ گھر کا ماحول بچوں پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے تو میں بھی اپنے اندر آنے والے اس شوق کو روک نہیں سکا ‘ یہ شوق کسی نہ کسی طرح باہر آہی گیا پھر بطور اینکرپرسن سیاسی پروگرام کیا ۔پی ٹی آئی جوائن تو نہیں کی مگر اس پارٹی کی حمایت میں کئی جگہوں پر اس کا منشور اجاگر کیا‘ ذاتی طور پربھی کام کیا‘ مجھے خوشی ہے کہ میں ایک سیاسی پارٹی کا مداح ہوں جس کا لیڈراپنے اندر اتنی وِل پاور رکھتا ہے کہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر مُلک کی بہتری کے لئے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے دریغ نہیں کرتا۔ میرے خیال میں ہمارے ملک میں لوگوں کو کُچھ کُچھ سیاست کی جانب آنا چاہئے تاکہ مُلک کے اندرونی حالات اور بیرونی پریشانیوں سے آگہی ہو‘ اپنے لیڈر اور ملک چلانے والے کو برا بھلا کہنے سے پہلے ہمیں حقیقت سے آگہی ہو تاکہ ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرسکیں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ماریہ واسطی نے 25 برس قبل اپنے فنی کیریئر کا آغا ز پی ٹی وی سے کیا، بانو قدسیہ کے ڈرامے ’’کلو ‘‘سے شہرت پائی۔    

مزید پڑھیں

مونا لیزا نے سارہ لورین کے نام سے ٹی وی ڈراموں میں عمدہ پرفارمنس کے ذریعے جو شہرت پائی ۔اس کا چرچا بولی ووڈ تک پہنچ گیا جہاں سنی دیول کی بطور ہیر و فلم ’’قافلہ ‘‘ میں سارہ لورین نے 2007 میں پہلی بار کسی بھارتی فلم میں کام کیا ،    

مزید پڑھیں

 ڈرامہ انڈسٹری میں اسوقت باصلاحیت فنکار موجود ہیں ،اکثر بڑی فنکارائوں کی اولین ترجیح فلم ہے۔ اس صورتحال میں ٹی وی اداکارہ و ماڈل عائزہ خان سب سے جدا ہیں۔    

مزید پڑھیں