☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
پاکستان میں شخصیات کا نام ہی پارٹیاں ہیں،عمران خان کے بغیرپی ٹی آئی کچھ بھی نہیں

پاکستان میں شخصیات کا نام ہی پارٹیاں ہیں،عمران خان کے بغیرپی ٹی آئی کچھ بھی نہیں

تحریر : زاہد اعوان

06-07-2020

 یہاں جمہوری لوگ بھی آمریت کی چھتری کے نیچے
دیکھے اور آمریت والوں کو بھی جمہوری قدم اٹھاتے دیکھا

 


عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور این اے 55راولپنڈی سے رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد 6نومبر 1950ء کو راولپنڈی میں پیداہوئے جبکہ دستاویزی ریکارڈ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 17فروری 1950ء ہے۔ ان کے والد شیخ احمد کاتعلق سری نگر (مقبوضہ کشمیر) سے تھا ، والدہ کانام خورشید بیگم تھاجو ان کی گرفتاری سے کچھ روز قبل 1995ء میں انتقال کرگئیں۔یہ کل 12بہن بھائی تھے جن میں تین بہنیں بچپن میں ہی فوت ہوگئیں جبکہ ایک بھائی شیخ سلیم احمد جوانی میں ٹریفک حادثے میں اللہ کوپیارے ہوگئے ، اب ان کے چار بھائی شیخ رفیق احمد، شیخ شفیق احمد، شیخ صدیق احمد اورشیخ علیم احمد جبکہ تین ہمشیرہ شاہدہ پروین، عابدہ نسرین اور شمیم اختر ہیں۔ بڑے بھائی شیخ رفیق احمد شعبہ صحافت سے وابستہ تھے جنہوں نے والد کے کہنے پر صحافت کو خیرباد کہہ کر والد اور بھائیوں کے ساتھ کاروبار شروع کر دیا۔ شیخ رشید احمد نے ابتدائی تعلیم مشن ہائی سکول راولپنڈی سے حاصل کی، انٹرمیڈیٹ پولی ٹیکنیک کالج ، گریجوایشن گورنمنٹ گارڈن کالج راولپنڈی اور قانون کی ڈگری یونیورسٹی آف لاہور سے حاصل کی۔

شیخ رشید احمدکوزمانہ طالب علمی سے ہی سیاست کاشوق تھا اور ہمیشہ سکول کے تقریری مقابلوں میں اول آتے تھے۔ سکول کے زمانے میں ہاکی، فٹبال اوروالی بال کھیلتے اورروزانہ صبح لیاقت باغ میں چہل قدمی کیلئے جاتے۔ 1985ء میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، 1988ء اور 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے ایم این اے بنے، 1993ء اور 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پرممبرقومی اسمبلی بنے، 2002ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے ایم این اے بنے اورپھر منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیارکی۔ 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 55اور 56سے الیکشن لڑے مگر ہارگئے، پھر عوامی مسلم لیگ کاقیام عمل میں لائے اور خودپارٹی کے صدربن گئے، 2010ء میں این اے 55کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران ان پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں ان کاایک محافظ جاں بحق ہوگیا، یہ الیکشن بھی ہارگئے۔ 2013ء پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے عوامی مسلم لیگ کے انتخابی نشان قلم دوات پر این اے 55سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ 2018ء میں حلقہ این اے 62سے پی ٹی آئی کے اتحاد سے قلم دوات کے نشان پر منتخب ہوئے اور اس وقت وفاقی وزیرریلوے ہیں۔پہلے فرزند راولپنڈی اورپھر فرزند پاکستان کے نام سے مشہورہوئے۔ جیل میں دوران قید اپنی آٹوبائیوگرافی ’’فرزند پاکستان‘‘ کے نام سے لکھی اورکتابی شکل میں شائع کی، آج کل ایک نئی کتاب لکھ رہے ہیں ۔شیخ رشید احمدآٹھویں بار وفاقی وزیر بنے ہیں ،وزارت اطلاعات ونشریات اورریلوے سمیت کئی اہم وزارتوں کے قلمدان ان کے سپرد رہے۔

ان کی کھری کھری باتیں عوامی حلقوں میں بے حدمقبول ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی قومی ایشو ہوتاہے تو تمام ٹی وی چینلز پر شیخ رشید احمدکے تبصرے ضرور نظر آتے ہیں۔ ہم نے ’’دنیا‘‘ کے قارئین کیلئے ان کا خصوصی انٹرویو کیا جوملاحظہ فرمائیے۔

س:شیخ صاحب آپ نے مختلف ادوار دیکھے ہیں آپ کے خیال میں پاکستان کیلئے جمہوریت بہتر ہے یاآمریت؟
شیخ رشیداحمد: جولوگ یورپین جمہوریت کی بات کرتے ہیں وہ میں نے ساری زندگی نہیں دیکھی،یہاں جمہوری لوگ بھی آمریت کی چھتری کے نیچے دیکھے اور آمریت والوں کو بھی جمہوری قدم اٹھاتے دیکھا، پاکستان میں جو جمہوری لوگ تھے وہ آمریت سے اتنے دور نہیں تھے خاص طور پر یہاں پریس کی آزادی کیلئے، لوگوں کی آسائش اور بہتر سہولتوں کیلئے کسی نے بھی طاقتور کو کمزور نہیں کیابلکہ کمزور اورمزدور کو ہی کمزور کیا، خواہ وہ جمہوریت ہو یا آمریت ہو۔
س: شیخ صاحب آپ ریلوے میں پہلے بھی وزیر رہے ہیں یہ بتائیں کون سی پالیسی ریلوے کو خسارے سے نکال سکتی ہے؟
شیخ رشیداحمد: پالیسی اب ایک ہی ہے پاکستان ایم ایل ون کے بہت قریب ہے، ہم چین کے ساتھ مل کر ایم ایل ون بنا رہے ہیں اس کو خسارے سے بھی وہی نکالے گی اور ترقی بھی وہی لائے گی اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی بھی وہی بنے گی۔ہم نے بڑا وقت ضائع کیا،36 سے 40 ارب ڈالر سڑکوں اور پلوں پر چین کے ساتھ مل کر لگائے ہیں اور عملی طور پر جس چیز کی ضرورت تھی وہ ایم ایل ون تھا پی سی ون ریلوے کیلئے بنا تھا، سی پیک کا مقصد ریلوے کی ترقی تھی لیکن ریلوے کی ترقی نہیں ہوئی باقی ماجے گامے جو ہیں ترقی کر گئے۔
س: آپ مختلف جماعتوں میں بھی رہے ،آپ کی اب اپنی جماعت ہے اوراس وقت بھی ایک جماعت کے اتحادی ہیں، آپ کے خیال میں کونسی پارٹی ملک کو بحرانی کیفیت سے نکال سکتی ہے؟
شیخ رشیداحمد:یہ آخری کوشش ہے کہ عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا اور ملک کا وزیراعظم بنایاہے تاکہ ایک نیا پاکستان بنے ، کمزور طاقتور بنے ، طاقتور کمزور بنے اور معیشت مضبوط ہو، انصاف کا دور ہو اور مافیا کو پکڑا جائے۔ اگر ہم نے چینی و آٹا چوروں ، آئی پی پیز کو ، قرضہ خوروں کو اور قرضہ فراروں کو نہ پکڑاتو پھرمیرا خیال ہے کہ یہ ہمارا دور بھی کوئی تبدیلی کا دور نہیں سمجھا جائے گا۔
س: عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر وزیراعظم بنے لیکن ابھی تک تو صرف شخصیات کی تبدیلی چل رہی ہے اور 100 دنوں کا وعدہ100 ہفتوں میں بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا؟
شیخ رشیداحمد:100 دنوں کا وعدہ تو زیادہ جلدی کاتھا،میرے خیال میں تین سال کے بعد چوتھے سال عوام انتخابات کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، ہمیں تین سال کے اندر ڈلیور کرنا ہوگا ،ابھی ہمارے پاس ایک سال کی گنجائش ہے، میں 100 دنوں کا پہلے بھی حامی نہیں تھا اور آج بھی حامی نہیں ہوں پاکستان کوئی یورپی یونین نہیں ہے یا یورپی جمہوریت نہیں ہے کہ 100 دنوں میں کوئی پراگریس ہوتی،یہاں 100 دن تو الیکشن کی تھکاوٹ ہی نہیں اترتی۔
س:کورونا وائرس جان لیوا اور مہلک وبائی مرض ہے لیکن اگر موجودہ حالات میں حکومت بہتر پالیسی اختیار کرے تو معیشت کوکس حد تک سہارا مل سکتا ہے؟
شیخ رشیداحمد:کورونا کی وجہ سے پاکستان واقعی بہت بڑے بحران میں آ گیا ہے ،جہاں امریکہ جیسے ملک میں 3 کروڑ لوگ نوکریوں سے محروم ہو گئے ہیں اور اس کی 5 فیصد شرح گراوٹ میں جا رہی ہے ، پاکستان کی معیشت تو پہلے ہی کنارے پر لگی ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے کورونا وائرس کے آفٹر شاکس کے بعد دنیا میں ایک نئی تبدیلی ہو گی،کورونا کے بعد تبدیلیوں کی سیاست ہو گی اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں ۔
س:شیخ صاحب آپ نے شادی نہیں کی،نہ ہی آپ کے بیوی بچے ہیں پھر راولپنڈی میں اتنے تعلیمی ادارے اور زچہ بچہ ہسپتال بنانے کاخیال کیسے آیا؟
شیخ رشیداحمد:جناب اس شہر کے بچے بھی میرے بچے ہی ہیں،اگر میرے بچے نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کچھ نہ کروں، میں نے راولپنڈی میں 60 کے قریب تعلیمی ادارے بنائے ہیں، پنجاب میں راولپنڈی واحد شہر ہے جس میں تیسری یونیورسٹی ہو گی، ساری یونیورسٹیاں میں نے بنائی ہیں اور اللہ پاک نے مجھ سے بنوائی ہیں، اب ہم نے ماں بچہ ہسپتال کوقومی وزارت صحت کے سپرد کر دیاہے تاکہ جلد از جلد اس کا کام بنے اور جلد از جلد اس کی مشینری آ سکے اور اس میں 14 آپریشن تھیٹر ہیں اور اس کو فی الفورآگے لے جایا جا سکے۔
س: مسلم لیگ ن میں نواز شریف نظر آتے ہیں، پیپلز پارٹی میں ابھی تک زرداری ہی ہیں کیا پی ٹی آئی میں بھی عمران خان ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں؟
شیخ رشیداحمد:پاکستان میں شخصیات کا نام ہی پارٹیاں ہیں،عمران خان کو اگر نکال دیں توپی ٹی آئی کا کوئی نام نہیں رہے گا ۔ پی ٹی آئی عمران خان ہے اور وزیراعظم عمران خان ہے، یہ کہنا کہ پی ٹی آئی بڑی تبدیلی لائی ہے تو ایسی کوئی بات نہیں، یہ عمران خان کی ذاتی ہمت ہے۔ پاکستان میں پارٹیاں شخصیتیں چلا رہی ہیں اوریہ شخصیات کے مرہون منت ہیں ناکہ شخصیتیں پارٹیوں کی مرہون منت ہیں، یہاں الٹا کام چل رہا ہے۔
س:پاکستان میں پہلی بارآٹا چینی بحران کی رپورٹ منظر عام پر لائی جا رہی تھی لیکن یہ رپورٹ بھی رک گئی آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بحران پیدا کرنے والے پکڑے جائیں گے؟
شیخ رشیداحمد:میں سمجھتا ہوں کہ آٹا اور چینی بحران کے ذمہ داران یقینا پکڑے جائیں گے لیکن آئی پی پیز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتاوہ
بہت بڑا سمندر ہے، وہ کرپٹ لوگوں کا سمندر ہے اور اس میں ایسے ایسے سپر چوراورڈاکو ہیں جو ساری پارٹیوں کو چندہ دیتے ہیں ان کی بہت گہری روٹس ہیں ان پر کبھی ہاتھ ڈالا نہیں جا سکا، پہلی دفعہ عمران خان کی حکومت میں رپورٹ ای سی سی میں تو سامنے آئی ہے ابھی سرعام نہیں آئی اور آئی پی پیز کی رپورٹ کو سرعام کرنا چاہیے تھاتاکہ بہتری ہو سکے۔
س :شیخ صاحب کیاہم مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھول گئے ہیں؟
شیخ رشیداحمد:نہ تو ہم کشمیر کو بھولے ہیں نہ بھول سکتے ہیں اور نہ ہی بھولنا چاہیے میں تو خود کشمیری ہوں اور میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کا حامی ہوں اور کشمیری جو اس وقت زندگی گزار ہے ہیں، ایسے کرفیو اور پابندیوں کی مثال دنیا میں نہیں ملتی اور میرے خیال میں ہمارے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم نے کس طرح اس کشمیر کی آزادی ء جدوجہد کو دنیا کے ہر فورم پر لے کر جانا ہے؟ عمران خان نے اس میں تاریخی کام کیا ہے ۔
س: آپ مجاہد ختم نبو ت کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں،اگر قادیانیوں کو کسی قسم کا کوئی ریلیف دیا جاتا ہے تو آپکا کردارکیا ہوگا؟
شیخ رشیداحمد:قادیانیوں کو کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا ، ہم وہاں بیٹھے ہیں اگر قادیانی قادیانی ڈیکلیئر ہو کراقلیتی کمیشن کا حصہ بنتے ہیں تو اس میں حرج بھی کوئی نہیں ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ آئیں گے ہی نہیں ۔ وہ تو اپنے آپ کو اقلیتی مانتے ہی نہیں یہ تو ہم کہتے ہیں کہ وہ غیر مسلم ہیں وہ تو اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں اس لئے اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ قادیانی جو ایک دفعہ اقلیت قرار دئیے جا چکے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو مسلمانوں میں شامل نہیں کر سکتی۔
س:لئی ایکسپریس وے منصوبے کو طویل عرصہ بعد آپ نے زندہ کرایا، اس پر دوبارہ کب تک ترقیاتی کام شروع ہو جائے گا؟
شیخ رشیداحمد:لئی پراجیکٹ پرپہلے بھی کام کیا ہوا ہے اور اب بھی دوبارہ شروع کر دیا ہے، نیسپاک کو کام کیلئے پیسے بھی مل چکے ہیں لیکن کام سست روی کا شکار ہے، ہم لگے ہوئے ہیں کہ لئی پراجیکٹ اور ایم ایل ون پر فوری طور پر کام شروع ہو جائے۔ انشاء اللہ لئی ایکسپریس وے کے ساتھ سرکلر ٹرین بھی چلے گی جس سے جڑواں شہروں میں ٹرانسپورٹ کامسئلہ حل ہوگا۔
س:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ کمی ہوئی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عوام کو مزید ریلیف ملناچاہئے؟
شیخ رشیداحمد:میرے خیال میں عوام کو اور ریلیف ملنا چاہیے ‘ دنیا بھر میں تو پٹرولیم مصنوعات زیرو ہو گئی ہیں،ان کی کوئی قیمت ہی نہیں لیکن پاکستان چل ہی پٹرول کے ٹیکس پر رہاہے تو پھر دیکھتے ہیں کہ وزارت خزانہ والے کتنا ریلیف دیتے ہیں۔
س:سناہے آپ پھر ایک کتاب لکھنے جارہے ہیں،اس کتاب میں کس چیز کو فوکس کر رہے ہیں؟
شیخ رشیداحمد:ابھی کتاب لکھنی شروع کی ہے لیکن ابھی دو سے تین مہینے لگیں گے، اس میں ’’فرزند پاکستان ‘‘ اور ’’میدان خطابت کا شہنشاہ‘‘ کے کچھ حصے بھی شامل ہوں گے اور ان سے آگے کی سیاسی تاریخ بھی ہوگی۔
سوال: لوگ آپ کوبھی اسٹیبلشمنٹ کا آدمی سمجھتے ہیں؟
شیخ رشیداحمد: میرے فوج سے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن اللہ کاشکرہے کہ میں ’’را‘‘ کاآدمی نہیں ہوں، یہاں تووہ اپنے آپ کوبڑا سمجھتاہے جو ’’را‘‘ کے پیسوں پر سیاست کرتاہے اور ان کی عزت زیادہ کی جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کر آئیں گے۔
سوال: شیخ رشید اورلال حویلی کے نام ایک دوسرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں، اگرحویلی چھن گئی توکیاکرینگے؟
شیخ رشیداحمد: لال حویلی کیوں چھن گئی؟ یہ کسی کے باپ کی نہیں بلکہ ہماری حویلی ہے۔ پانچ مرلے کی لال حویلی ان کو سونے نہیں دیتی، یہ چوروں اور لٹیروں کیلئے لینن گراڈ ثابت ہوگی۔
سوال: فریڈم ہائوس بھی آپ کی زندگی کاایک پہلوہے؟
شیخ رشیداحمد: جی بالکل،میں نے مجاہدین کی غار کو مکمل کردیاہے۔
س:کپتان نے تیسری شادی بھی کرلی لیکن آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟
شیخ رشیداحمد:اب ٹرین چھوٹ چکی اور یہی میری کامیابی کاراز ہے، ورنہ آدھی خبریں طلاق اورنکاح کی لگتیں۔
سوال: ادبی کتابوں اورشاعری سے کتنالگائوہے؟
شیخ رشیداحمد:کسی زمانے میں جالب، قاسمی، غالب اورفیض وغیرہ کوپڑھا کرتاتھا یاپھر جیل میں کتابیں پڑھتاتھا اب تو جناز ے پڑھتے ہی شام ہوجاتی ہے۔
سوال: کھانے میں کیاپسندہے؟
شیخ رشیداحمد:کھانے کا بہت شوقین ہوں، گوشت اور مچھلی وغیرہ شوق سے کھاتاہوں۔ خالی دال اورسبزی نہیں کھاتا بلکہ گوشت کے بغیر کچھ نہیں کھاتا۔بچپن میں کھجوریں اوربرفی بڑے شوق سے کھاتاتھا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 شوبز انڈسٹری میں بدلتے رحجان کے ساتھ فنکاروں کی سوچ میں بھی تبدیلی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے ، وقت نے کروٹ بدلی ہے ،کل تک کے شوبز کی دنیا کے دیوانے اب کیمرے کی چکا چوند سے دور ہوتے نظر آرہے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

  ماریہ واسطی نے 25 برس قبل اپنے فنی کیریئر کا آغا ز پی ٹی وی سے کیا، بانو قدسیہ کے ڈرامے ’’کلو ‘‘سے شہرت پائی۔    

مزید پڑھیں

مونا لیزا نے سارہ لورین کے نام سے ٹی وی ڈراموں میں عمدہ پرفارمنس کے ذریعے جو شہرت پائی ۔اس کا چرچا بولی ووڈ تک پہنچ گیا جہاں سنی دیول کی بطور ہیر و فلم ’’قافلہ ‘‘ میں سارہ لورین نے 2007 میں پہلی بار کسی بھارتی فلم میں کام کیا ،    

مزید پڑھیں