☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
پاکستان سمیت ایک تہائی دنیا میں پانی کی کمی

پاکستان سمیت ایک تہائی دنیا میں پانی کی کمی

تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

10-06-2019

پینے کے پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے دنیابھر کے جائزے پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں 2000ء سے 2017ء تک دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اورپانی بنتی برف کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ اس تفصیلی سروے میں یونیسف اور عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا کے کئی نامی گرامی اداروںاور این جی اورز کی رپورٹوں کے علاوہ سرکاری دستاویزات اور منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

جس کے بعد عالمی اداروں نے بھی اس بات سے اتفاق کیاہے کہ اگلے چند ہی برسوں میں آسٹریلیا، پاکستان اور بھارت سمیت کئی دوسرے ممالک میں پانی کی شدید قلت رونما ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ا س وقت بھی دنیاکی آبادی کا تیسرا حصہ یعنی 2.2باشندے بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافے پر قابو پانا ہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گندے اور آمیزش والے پانی سے بیماریاں جنم لے رہی ہیں،جن پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان سمیت درجنوں ممالک میں گندے پانی سے پیدا شدہ بیماریوں کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس سلسلے کی دوسری رپورٹ کی تیاری کا کام ستمبر میں شروع کر دیا گیا ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق دنیا نے بلدیاتی سہولتوں کی عدم فراہمی اور پانی کی کمی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس کی دیکھ بھال اور ترقی دینے میں ناصرف ناکام رہی ہے بلکہ کئی ممالک میں وسائل کا بے دریغ ضیاع ان ممالک میں بدترین صورتحال کو وقت سے پہلے بھی لا سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صاف پانی کی کمی حفظان صحت کے اصولوں کو نظرا نداز کرنے سے بھی مسائل رونما ہو رہے ہیں۔نکاسی آب اورٹائلٹ کا فقدان اور کیمیکلز ملا پانی امیر اور غریب کے فرق میں اضافے کا موجب بھی بن رہا ہے ۔ غریب اپنی کمائی علاج پر بھی خرچ کرنے پر مجبور ہے۔پاکستان سمیت کئی ممالک میںحفظان صحت کی سہولتوں کی کمی غربت اور معاشی ناہمواری میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2000ء سے 2017ء تک 17برسوں میں دنیا نے صاف پانی کی فراہمی پر کافی توجہ دی ہے۔صاف اور صحت مند پانی پینے والوں کی تعداد 61فیصد سے بڑھ کر 71فیصد ہو گئی ہے۔ مگر یہ کام چند ممالک میں ہی بڑے پیمانے پر ہوا ہے ۔جس سے عالمی اشاریے بہتر ہو گئے ہیں۔میری رائے میںزیادہ تر ممالک میں علاقائی جھگڑے اور برادری ازم صاف پانی کی سکیموںپر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔اور نتیجتاََ آخر میں برادری کی بنیاد پر آج آپس میں لڑنے والے کل خود بھی پانی کی کمی کا شکار ہو جائیں گے اگرچہ اس موضوع پر عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے کھل کر با ت تونہیں کی لیکن ہمارے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل نہیں کہ ہم بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوں گے جنہیں ہر منصوبے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سامناہے۔ہم اس معاملے میں زخم خوردہ ہیں ،ان زخموں کے علاج کے لئے ہمارے پاس کوئی مرہم بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ زخم دن بدن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میںکچھ اعدادو شمار حسب ذیل ہیں،

دنیامیں 5.3ارب افراد کوتمام محفوظ بلدیاتی سہولتیں دستیاب ہیں۔جبکہ مزید 1.4ارب افراد کو کسی حد تک اور چند ایک محفوظ بلدیاتی سہولتیں مل رہی ہیں۔

دیہات میں ہر دس میں سے آٹھ افراد بنیادی خدمات سے محروم ہیں ، ان میں سے نصف تعداد کم ترین ترقی یافتہ ممالک میں مقیم ہے۔ 

سب سے کم ترقی یافتہ ممالک میں پینے کا صاف پانی صرف 25فیصد آبادی کو دستیاب تھا مگر 17سالوں میں وہاں یہ تناسب 35فیصد ہو گیا ہے۔ 

دیہات اور شہروں میں صاف پانی کی سہولت کا مجموعی فرق بہت زیادہ تھا جو اب 47فیصد سے کم ہوکر32فیصد پر آ گیا ہے لیکن اب بھی47فیصد دیہات پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔

دنیا بھر میں مزید 1.8ارب افرادکو بنیادی سماجی سہولتیں ( صاف پانی ،نکاسی آب، ٹائلٹ )مہیا کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اب ان سہولتوں سے محروم افراد کی تعدا 1.1ارب سے کم ہو کر78.6کروڑ رہ گئی ہے۔

سطح زمین کے اوپر سے (بارش، تالاب، جوہڑ) سے پانی حاصل کرنے والوںکی تعداد26کروڑ سے کم ہو کر14.4کروڑ رہ گئی ہے۔

86ممالک میں سے صرف 20مالک میں امیر اور غریب کے بارے میں ڈیٹا دستیاب ہے وہاں یہ فرق نصف ہو گیا ہے۔

دنیا کے 117ممالک میںعوام کو محفوظ بلدیاتی سہولتیں مل رہی ہیں۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے مطابق پانی کے علاوہ ہمیں انسانی فضلے کو ٹھکانے لگانے میںبھی ناکامی کا سامنا ہے ۔یہ مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ایتھوپیا میں ہے۔ بعد ازاںکمبوڈیا،بھارت، نیپال،موزمبیق،لائو،صومالیہ،کابو ورڈا اور پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ ہمارے ہاں 31فیصد آبادی کو یہ مسئلہ درپیش ہے۔ پچھلے دنوں ہم نے اس پر قابو پانے کی کوشش کی ہے مگر اب بھی یہ خوفنا ک حد تک خطرناک ہے۔نکاسی آب کے معاملے میں بھی ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ورنہ حفظان صحت کی صورتحال خراب تر ہو سکتی ہے۔یہاں بارہ فیصد گھرانے کھلی فضا (کھیتوں وغیرہ) کو رفع حاجت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔بچوں کے معاملے میں صورتحال مزید خراب ہے۔تاہم پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیاگیا ہے جنہوں نے گزشتہ 17برسوں میں نکاسی آب کے شعبے میں نمایاں کاردگی دکھائی ہے،یہاں مزید 29فیصد افراد کو نکاسی آب کی سہولت مل ہے،جبکہ کہ کئی ممالک میں یہ تناسب 21فیصد ہے،اس شعبے میں پاکستان بھارت سے بھی بہتر پوزیشن میں ہے۔ہاتھ کی صفائی دنیا بھر میں مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس کو دور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ گندے ہاتھوں پر لگے جراثیم کئی بیماریوں کا موجب بن رہے ہیں ۔منہ، پیٹ اور آنتوںکی بیماریاں اسی وجہ سے عام ہوتی جارہی ہیں ۔ اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کئی وائرس اور بیکٹیریا عام انٹی بائوٹکس کے بے تحاشا استعمال کے باعث ان کے عادی ہو رہے ہیں۔ لہٰذا مستقبل میں پیٹ کی عام بیماری کا علاج بھی مہنگی ادویات سے کرنا پڑے گا۔ ایک ہسپتال میںہیضہ کے ایسے مریض بھی لائے گئے ہیں کہ جن پر عام اینٹی بائوٹکس نے اثر ہی نہیں کیا۔ان کا کلچر ٹیسٹ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جراثیم عام استعمال ہونے والی ادویات کے عادی ہو چکے تھے لہٰذا علاج مہنگی ادیات سے ہی ہو گا۔اس علاج پر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے۔لہٰذا ہمیں بھی کھانا کھاتے وقت احتیاط سے کام لیتے ہوئے ہاتھ دھو لینا چاہیں ۔ہمارا عمومی رویہ یہی ہے کہ میں نے ایسا کون سا کام کیا ہے کہ ہاتھ گندے ہو جائیں؟ اس رویے سے بچئے اور ہاتھوں کو ضرور صاف رکھیئے۔

عالمی اداروں نے اس امر پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ پینے کے پانی میں کیمیکلز کی آمیزش کئی امراض کو دعوت دے رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بیماریاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے پانی میں فلورائیڈ اور آرسینک کی مقدار کو خطرناک حد تک زیادہ ہے۔بنگلہ دیش میں چار کروڑ اور پاکستان میںایک کروڑ افراد عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ فلورائیڈ کی مقدار سے کہیں زیادہ ملاوٹ والا پانی پی رہے ہیں۔ہنگری کے لوگوں بھی فلورائیڈ والا پانی پیتے ہیں مگر وہاں ان کی تعداد صرف 4.9فیصد ہے۔ہمارے ہاں ایسا پانی پینے والوں کی تعداد حدسے زیادہ ہے ۔یونیسف اور عالمی ا دارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں 26فیصد افراد کو نکاسی آب کی مکمل سہولتیں دستیاب نہیں ہیں ،ملک میں مجموعی طور پر یہ تناسب 34فیصد ہے۔جہاں تک صاف پانی کی فراہمی کا تعلق ہے تو دنیا بھر میں 2.2ارب افراد کو صاف پانی میسر نہیں۔ہمارے ہاں دریائی نظام میں193ارب مکعب میٹر مل رہا ہے ، 50ارب مکعب میٹر بارش کا پانی اس کے علاوہ ہے۔یہ تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔یاد رہے کہ ایک ایم اے پانی 1.23مکعب میٹرپانی کے برابر ہے۔

زیر زمیں ذخائر سے حاصل شدہ اپنی کی مقدار: 50ارب مکعب میٹر

دریائوں میں بہائو:171ارب مکعب میٹر 

انڈس بیسن کے علاوہ دیگر دریائوں میں پانی:5ارب مکعب میٹر ۔

کل مقدار:193ارب مکعب میٹر ۔

لیکن اس میں سے کم ہی مقدار ہمارے استعمال میں آتی ہے۔ 125ارب مکعب میٹر پانی نہری نظام میں شامل ہو جاتا ہے جس میں سے31ارب مکعب میٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے اور فارم گیٹ تک صرف 94 ارب مکعب میٹرپہنچتا ہے۔اس میں بارش کا پانی بھی شامل کر لیں تو یہ مقدار 144مکعب میٹر ہو جاتی ہے۔دوسری طرف 193ارب مکعب میٹر پانی میں سے مزید14ارب مکعب میٹر پانی دریائی نظام ضائع ہو جاتا ہے،جبکہ 49ارب مکعب میٹر پانی سمندر میں پھینک دیاجاتا ہے۔ہمیں مجموعی طور پر گزشتہ کئی برسوں میں 1.23ارب مکعب میٹر پانی سالانہ ملا ہے۔اس میں بھی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم زیادہ تر دریائی پانی تین سے چار مہینوں میں حاصل کر سکتے ہیں ۔کیونکہ برف بھی ان تین چار مہینوں میں ہی زیادہ پگھلتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ زیادہ تر پانی(کوئی 70سے 80 فیصدتک)گلیشیئرز کے پگھلنے سے ملتا ہے۔ اگرباقی مہینوں میںبارشیں کم ہونے یا برف نہ پگھلنے سے ہمارے دریا خشک ہی رہتے ہیں۔گرمی دیر سے پڑنے کی صورت میں خشک سالی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ڈیمز بھرنے کے لیے حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے تاکہ کمی کے وقت اسے بہترین انداز میں استعما ل کیا جا سکے۔

ہم نے عالمی اداروں کی خواہش اور اپنی ضروریات کا خیال نہیں کیا۔کچھ منصوبے ضرور بنائے ہیں جن پر نیک نیتی اور تیزی سے عمل درآمد درکار ہے۔ہم منصوبے بنا لیتے ہیں مگر پھر انہیںخود ہی متنازع بنا کر تاخیر کا شکار کر دیتے ہیں۔ شائد ہی کسی منصوبے کو ہم نے بروقت مکمل کیا ہو، مثال کے طور پر ہم نے ڈیمز کا ایک سلسلہ تجویز کیا کہ سب سے اوپر بونجی ڈیم بنے گا، اس کے نیچے بھاشا دیامیرڈیم اور داسو دڈیم سمیت کئی ڈیمز بنائے جائیں گے ۔ ان ڈیمز کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کو بھی فائدہ پہنچتا مگر ہم نے پہلے ہی ڈیم کی تعمیر میں انتہائی تاخیر کر دی جس سے سارا پلان خراب ہو گیا اور منصوبوں کی لاگتی قیمت میں ہونے والے اضافے نے ہمیں ایک منصوبہ مکملک کرنے کے قابل بھی نہیں چھجوڑا۔ اسی عرصے میں گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک برفانی تودہ گرنے سے بھی عطا آباد جھیل معرض وجود میں آئی۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہاں اچھا پراجیکٹ لگایا جا سکتاہے کیونکہ یہ خود ہی چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے، مگر ہم اس کاپانی استعمال کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

ہمیں سب سے زیادہ ضروت پینے کے پانی کے علاوہ فصلات کو بھی ہے ۔ہماری فصلوںکے لئے بھی پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ۔یہ گھنٹی کئی برسوں سے بج رہی ہے لیکن ہمیں توجہ نہیں دے رہے ۔ ہم یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے ہاں فصلوں کے دانے چھوٹے اور غذایت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔ گندے پانی سے کاشت کاری نے جہاں خوراک کی کمی کو بظاہر کم کر دیا ہے مگر یہ نت نئی بیماریوں کا باعث بھی ب رہی ہے۔ سردست ہمارے ہاں زیر کاشت رقبے کے کا کل حجم 44.4کروڑ ایکڑ بتایا جا رہا ہے۔جس کی مزید تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔

پنجاب میں زیر کاشت رقبہ:3.34کروڑ ایکڑ

سندھ میں زیر کاشت رقبہ:65لاکھ ایکڑ

کے پی کے میں زیر کاشت رقبہ:23لاکھ ایکڑ

بلوچستان میں زیر کاشت رقبہ :22لاکھ ایکڑ

کل زیر کاشت رقبہ:4.34کروڑ ایکڑ

 ہماری حکومت نے آبی ذخائر کی ترقی اور پانی کی مزید فراہمی کے لئے کئی سکیمیں بنائی ہیں جن کی مدد سے ملک بھر میں مزید 38لاکھ ایکڑ رقبہ زیر کاشت لکایا جائے گا۔جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

پنجاب :15لاکھ ایکڑ

سندھ:10لاکھ ایکڑ

کے پی کے :5لاکھ ایکڑ

بلوچستان :8لاکھ ایکڑ

کل :38لاکھ ایکڑ۔

 ان منصوبوں پر بروقت اور صحیح معنوں میں عمل درآمد سے غذائی بحران اور امیر اور غریب کے فرق میں کمی آسکتی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اور اس کے ادارے مندرجہ بالا مسائل سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں ر کام کرے گی۔

مزید پڑھیں

دنیا بھر میں میڈیا کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔کوئی ملک ہو یا عالمی رہنما،ادارہ ہویا شخصیت۔۔۔ہر کوئی مفت ہاتھ آئے تو برا کیاہے کہ یکے مصدا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

5اگست کو مودی سرکار نے دنیا کی نظروں میںجھول جھونکتے ہوئے آزادی کے نام پر کشمیریوں کی غلامی کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔کشمیر کا درجہ ریاست ...

مزید پڑھیں

بڑے ممالک نے انسانیت کو مارنے کے لئے ہزاروں طاقتور ایٹمی ہتھیار تیارکر رکھے ہیں،اس دوڑ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ۔ 13900ایٹمی ذخائر میں سے ...

مزید پڑھیں

قصور ایک مرتبہ پھر سنگین واردات کے باعث زیر بحث ہے ۔گزشتہ دنوں چونیاں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران لاپتہ ہونے والے تین بچوں کی لاشیں ملنے س ...

مزید پڑھیں