☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
ویب سائٹس یاعالمی جنگ کے میدان

ویب سائٹس یاعالمی جنگ کے میدان

تحریر : محمد ندیم بھٹی

10-06-2019

دنیا بھر میں میڈیا کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔کوئی ملک ہو یا عالمی رہنما،ادارہ ہویا شخصیت۔۔۔ہر کوئی مفت ہاتھ آئے تو برا کیاہے کہ یکے مصداق اپنے نظریے کے فروغ کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دے رہا ہے۔جہاں سے انہیں اپنا موقف پیش کرنے میں ہی آ سانی نہیں ہوتی بلکہ مقبولیت اور شیئرنگ انہیں کی آمدنی کا بھی ذریعہ بنتی ہے کبھی نہ نظر آنے والی آمدنی جس پر اگر وہ چاہیں تو ٹیکس بھی دے سکتے ہیں اور اگر نہ چاہیں تو ٹیکس کو ہضم بھی کر سکتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی سب سے بڑی لڑائی اس وقت امریکی صدر کے مواخذے اور بھارت میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لڑی جا رہی ہے۔اسی میدان میں دنیا بھر کے مختلف ممالک نے ایک دوسرے پر ٹیرف عائد کرنے کی جنگ بھی لڑی جن میں کینیڈا، فرانس،جرمنی برطانیہ اور دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔ٹوئٹر ہی بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین کے لئے تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ سب ہی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں۔حال ہی میں برطانیہ میں پارلیمنٹ کی معطلی اور عدالت سے بحالی پر بھی ٹوئٹر ہی میدان جنگ بنا۔ برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بھی کشمیر کی آزادی کے حق میں اپنے ٹوئٹر اکائونٹ کو اچھے طریقے سے استعمال کیا جس پر بھارت میں آگ لگ گئی۔ مودی اور ان کے چاہنے والے بلبلا اٹھے۔ لیکن کچھ کر نہیں سکے۔

دنیا بھر میں میڈیا کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔کوئی ملک ہو یا عالمی رہنما،ادارہ ہویا شخصیت۔۔۔ہر کوئی مفت ہاتھ آئے تو برا کیاہے کہ یکے مصداق اپنے نظریے کے فروغ کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دے رہا ہے۔جہاں سے انہیں اپنا موقف پیش کرنے میں ہی آ سانی نہیں ہوتی بلکہ مقبولیت اور شیئرنگ انہیں کی آمدنی کا بھی ذریعہ بنتی ہے کبھی نہ نظر آنے والی آمدنی جس پر اگر وہ چاہیں تو ٹیکس بھی دے سکتے ہیں اور اگر نہ چاہیں تو ٹیکس کو ہضم بھی کر سکتے ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی سب سے بڑی لڑائی اس وقت امریکی صدر کے مواخذے اور بھارت میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لڑی جا رہی ہے۔اسی میدان میں دنیا بھر کے مختلف ممالک نے ایک دوسرے پر ٹیرف عائد کرنے کی جنگ بھی لڑی جن میں کینیڈا، فرانس،جرمنی برطانیہ اور دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔ٹوئٹر ہی بریگزٹ کے حامیوں اور مخالفین کے لئے تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ سب ہی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں۔حال ہی میں برطانیہ میں پارلیمنٹ کی معطلی اور عدالت سے بحالی پر بھی ٹوئٹر ہی میدان جنگ بنا۔ برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بھی کشمیر کی آزادی کے حق میں اپنے ٹوئٹر اکائونٹ کو اچھے طریقے سے استعمال کیا جس پر بھارت میں آگ لگ گئی۔ مودی اور ان کے چاہنے والے بلبلا اٹھے۔ لیکن کچھ کر نہیں سکے۔

امریکی صدر نے حال ہی میں اپنے خلاف شروع کیئے جانے والے مواخذے کی تحریک کے خلاف ’’ٹوئٹر وار‘‘ کا آغاز کردیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ’’ اگر میرے خلاف مواخذے کی تحریک کامیاب ہو گئی (جو کہ نہیںہو گی )تو اس سے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔اس کے نتیجے میں ملک میںکبھی نہ ختم ہونے والا انتشا پیدا ہو جائے گا‘‘۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ 

’’میں ٹیکسوں کا آدمی ہوں۔جب کوئی بھی ملک یا شخصیت ہمارے ملک میں آ کر قوم کی دولت کو لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو میں ان سے یہ فائدہ اٹھانے کا معاوضہ طلب کروں گا۔ہماری معاشی طاقت کوبرقرار رکھنے کا یہی ایک بہترین طریقہ ہے۔ ہم اربوں ڈالر کے ٹیرف عائد کرنے میں حق بجانب ہیں۔ آئو،امریکہ کو دوبارہ دولت مند بناتے ہیں‘‘۔

پاکستانی وزیر اعظم عمرا ن خان نے بھی ٹوئٹر اکائونٹ کو بہترین انداز میں استعمال کیا ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹس کے ذریعے ہندوآتہ کو بے نقاب کیا ہے۔ابھی حال ہی میں انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف جنگ کے لئے دو ممالک ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک چینل بنانے کا اعلان کا ہے،اس چینل کے اعلان نے بھی ٹوئٹر پر مقبولیت حاصل کی۔اور یہ کم از کم سولہ ہزار (تا دم تحریر)ری ٹوئٹس ہو چکا تھا۔عمران کان نے 13ستمبرکشمیر میں جلسہ کرنے کا اعلان ٹوئٹر پر بھی کیاتاکہ وہ دنیا بھر کو یہ پیغام دے سکیں کہ جموں و کشمیر میں نظر بندی کے باعث بہت بڑا انسانی المیہ رونما ہونے والا ہے۔

اب بھارت چلتے ہیں۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کا سب سے مقبول نعرہ یہی تھا کہ ’’انگریزو! ہندوستان سے نکل جائو‘‘۔ یہ آزادی کا نعرہ تھا مگر گزشتہ ایک سال سے یہ نعرہ مودی کے خلاف لگ رہا ہے۔نعرے کا مرکز سڑکیں اور بازار تو ہیں ہی مگر اس مرتبہ ایک سال سے ہیش ٹیک’’گو بیک مودی‘‘یہاں کی مقبول ترین آواز ہے۔تامل افراد مودی کو اقتدار سے الگ کرنے کے درپے ہیں اور ان کی تحریک اب ٹوئٹر پر زور پکڑ رہی ہے۔کاٹھی راون نے کیا ہی مزے کا ٹوئٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ۔۔۔’’مسٹر مودی تمہیںڈوسے بہت پسند ہیں یہ لو ڈوسہ‘‘۔۔۔ڈوسے پہ لکھا تھا گو بیک مودی۔

اسد احمد نے جموں و کشمیر کا تشخص مٹانے کے لئے آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد اس کی حمایت میں لکھے جانے والے جعلی ٹوئٹس کا مذاق اڑاتے ہوئے کشمیر کے نقشے پہ لکھا کہ ۔۔’’تمہارے پاس آئی ٹی والے بہت ہیں جو آئین میں تبدیلی کے حق میں جعلی ٹوئٹس کرتے رہتے ہیں۔تم نے تو تاملوں کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے اور جنہوں نے تمہیں دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا ہے‘‘۔ 

ایک اور ٹوئٹ میںمودی کو انتہا پسند قرا ردیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ۔۔۔’’کوئی انتہا پسند بھلا کس طرح قوم کا باپ ہو سکتا ہے‘‘۔

بھارتی سوشل میڈیا نے خالصتان کمانڈر فورس کو پھر زندہ کردیا ہے۔ 53 سال قبل اس تنظیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ہندوئوں نے سکھوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے سوشل میڈیا پرخالصتان تحریک کے بانی جرنیل لب سنگھ ، گروگرویندر پال سنگھ ، بھولا اور سورن جیت سنگھ کا ذکر تواتر سے کیا ۔ سوشل میڈیا نے بار بار علیحدگی پسند لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرانولہ کے مارے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خالصتان کمانڈر فورس کا سربراہ پرمیت پرمجیت سنگھ پنجوار بھارتی جیلوں میں قید بابلا جڑتاڑ سنگھ حواڑا سمیت کئی قیدیوں کے علاوہ پاکستان سے بھی ہے ۔پرمجیت سنگھ کی مدد سے ’’خالصتان کمانڈر تحریک ‘‘ کو دوبارہ منظم کرنے پر 14مارچ 2019کو بھارت نے رائے کوٹ گاؤں کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ’’خالصتان کمانڈو تحریک‘‘ کے ایک اور رہنماء گرو سیوک سنگھ بابلا کو گرفتار کر لیا۔ بڑے بھائی سورن سنگھ نے 1980کی دہائی میں بھنڈرا نوالہ کی تحریک آزادی میں شمولت اختیار کرلی تھی۔اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بابلابھی تحریک آزادی کا متوالا بن گیا۔بھنڈرانوالہ آپریشن بلیو سٹا ر میں مارا گیا جبکہ کئی سکھ 2014ء سے 2016ء تک لوٹ مار کے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دئیے گئے ۔بابلا کو ڈپٹی کمشنر بھسام سنگھ سمیت متعدد مخبرین کے قتل سمیت 50سے زائد مقدمات میں کشمیری گیٹ کے نزدیک بس ٹرمینل سے حراست میں لے لیا گیا ‘‘۔

’’سی این بی سی‘‘ نے ساحل رائے چوہدری کی خبر ’’Twitter summoned before Indian parliamentary panel on ‘safeguarding social media users‘‘ کے مطابق’’پارلیمانی پینل نے ٹوئٹر حکام کو طلب کر کے سوشل میڈیا پر عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ٹوئٹر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر رپورٹ طلب کی۔سوشل میڈیا نے گزشتہ تھوڑے ہی عرصے میں دنیا بھر کے انتخابات پر اثرڈالا ہے‘‘۔بھارتی حکومت ان اثرات سے بچنا چاہتی ہے۔

پاکستان کو بھی آئندہ انتخابات میں بھارت سے سبق لے کر ٹوئٹراور فیس بک کے متعلقہ حکام سے بات کرنا چاہیے،بصورت دیگر یہ دونوں اکائونٹس بند کر دینا چاہیں۔اب پہلے والی بات نہیں رہی۔یہ ادارے پاکستان سے اربوں روپے بٹور رہے ہیں،ہمارا بھی ان پر حق ہے۔ بھارت میں بھی سوشل میڈیا اسی لئے دبائو میں آیا کہ وہاں انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا پر کم از کم 50ہزار کروڑ لگے ہیں۔ کئی گروپس بی جے پی کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔رافیل سیکنڈل میںملوث مکیش امبانی کا میڈیا بھی کاگریس کی ٹانگ کھینچنے اور مودی کی ٹانگ اوپر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔پاکستان اور عالم اسلام کے بارے میں گمراہ کن پرپیگنڈا کرنے میں بھی مکیش امبانی کا میڈیا گروپ پیش پیش ہے۔یہ وہی گروپ ہے جس نے اہم مقامات کی تصاویر کے ساتھ لکھ دیاکہ’’جیش محمد کے گڑھ‘‘۔یاد رہے کہ چند مہینے قبل بھارت نے حملہ ہتھیاروں سے زیادہ سوشل میڈیا پر لفظوں سے کیا۔ فیس بک ہو یا ٹوئٹر، بھارتی دانشوروں نے دانش کو بالا طاق رکھتے ہوئے ہر بے بنیاد بات کہہ ڈالی۔ لیکن جب اصلیت بے نقاب ہوئی تو طوطے اڑ گئے اور ٹوئٹر کو ہی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔اسی حوالے سے 13مارچ 2019ء کو ’’سوا راجیہ‘‘ نامی جریدے نے لکھا کہ’’ٹوئٹر پرساری باتیںحق میں نہیں ہیں، ٹوئٹر چونکہ سب کچھ بیان کر رہا ہے اس لیے بھارتی حکومت اسے بھی جکڑنا چاہتی ہے۔

ٹوئٹر پرسب سے زیادہ مقبول کون؟

سمانی رابطوں کی ویب سائٹس پر مقبولیت کیٹی پیری، امریکہ کے سابق صدر براک اوباما، جسٹن بیبر،ریحانہ،ٹیلر سوئفٹ،کرٹیانو رولناڈو،لیڈی گا گا،ایلن ڈی جینرس یوٹیوب ار یانا گرانڈ کو حاصل ہے۔یہاں یہ ابت بھی قابل ذکر ہے کہ کئی مقبول افراد بہت سے افرادکو فاولو بھی کر رہے ہیں۔عموماَایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی معروف آدمی کسی گمنام کو فالو بھی کرے یا ان افراد کی تعداد بھی زیادہ ہو جنہیں وہ فالو کر رہے ہیں۔مثال کے طور پرسابق صدر امریکہ براک اوباماچھ لاکھ سے زیادہ افراد کو سافالو بھی کر رہے ہیں جس سے ا ن کی ریٹنگ متاثر ہورہی ہے مگر ان کی ٹوئٹس بہت زیادہ تعداد میں دیکھی جانے کے علاوہ ری ٹوئٹس بھی ہوتی ہیں جس سے ا ن کی ریٹنگ بہتر ہو جاتی ہے۔جسٹن بیبر بھی تین لاکھ اکائونٹس کو فالو کر رہے ہیں ٹوئٹرکے مطابق یہ کوئیاچھی بات نہیں۔ لیہکن کئی دوسرے عوامل کی بنا پر انہیں ہی ٹاپ ٹین میں شامل کیا گیا ہے۔جس میں ان کی پوسٹوں کو ری ٹوئٹس کرنا، جوابات دینا اوران پر بحث کرنا بھی شامل ہیں۔ٹیلر سوئفٹ ان کے بالکل برعکس ہیں ۔ایسا بھئی نہیں ہوتا کہ کوئی کسی کو فالو ہی نہ کرے مگر ٹیلر سوئفٹ نے یہ بات بھی سچ ثابت کر دی ہے،ایسا ایک بھی شخص نہیں ہے جسے وہ فالو کر رہی ہیں۔ اس سے ان کی ریٹنگ اچھی ہو گئی ہے، مگر شائد اگر وہ کسی نہ کسدی کو فالو کر لیتیں تو انہیں بھی مزید فالوئرز مل جاتے۔

 امریکہ کے صدر ٹرمپ کے فالوئرز کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ ہے مگر وہ کم ہی افراد کو فالو کررہے ہیں۔اس حساب سے وہ بارہویں پوزیشن پر ہیں۔کچھ ہی عرصہ قبل ان کے فالوئرز کی تعداد چار کروڑ تھی مگر ٹوئٹس میں میڈیا اور دوسری شخصیات پر حملوں کے بعد زیادہ مقبول ہو گئے ہیں۔معلومات کے حصول کے لئے بھی عالمی شخصیات نے ان کے ٹوئٹر اکائونٹ کو استعمسال کرنا شروع کر دیا ہے ۔قبل ازیں وہ ٹوئٹر پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے پیچھے تھے مگرٹوئٹر پر تازہ بہ تازہ خبریں ڈالنے کی وجہ سے ان کی مقبولیت دو چند ہو گئی ہے۔ نریندر مودی کے فالوئرز کی تعدادپانچ کروڑ کے قریب ہے۔اداکارہ شکیرا،کم کرداشیاں ،بل گیٹس بھی مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں۔ شاہ رخ خان مقبولیت میں امیتابھ بچن سے لاکھ آگے ہیں۔ہمارے وزیر اعظم عمران خان کے فالوئرز کی تعداد ایک کروڑچار لاکھ ہے۔اس سے ان کی آمدنی پر بھی فرق پڑتا ہے۔انہوں نے اپنی اس مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوئٹر سے لاکھوں ڈالر بھی کمائے ہیں۔

مزید پڑھیں

پینے کے پانی اور نکاسی آب کے حوالے سے دنیابھر کے جائزے پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں 2000ء سے 2017ء تک دنیا بھر میں ہو ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وطن عزیز میں تین بڑے صحرا تھر ،تھل اور چولستان ہیں ۔چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66لاکھ 55ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جس ...

مزید پڑھیں

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است ...

مزید پڑھیں

ان دنوں دنیا بھر میں ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ‘‘زیر بحث ہے ۔یہ ادارہ امریکہ کی مدد سے یورپی ممالک نے قائم کیا ہے ،اس سلسلے میں ...

مزید پڑھیں