☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا رپورٹ متفرق خصوصی رپورٹ شخصیت فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل انٹرویوز خواتین روحانی مسائل
’’ہم اپنی اگلی نسلوں کو کیا جواب دیں گے؟‘‘

’’ہم اپنی اگلی نسلوں کو کیا جواب دیں گے؟‘‘

تحریر : محمد ندیم بھٹی

10-13-2019

5اگست کو مودی سرکار نے دنیا کی نظروں میںجھول جھونکتے ہوئے آزادی کے نام پر کشمیریوں کی غلامی کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔کشمیر کا درجہ ریاست سے گھٹا کریونین میں بدل دیاگیا، مرتبہ گرانے کے بعد کسی بھی ریاست کے حقوق میںاضافہ کیسے ہو سکتا ہے ؟،یہ تو مودی اور ان کے چاہنے والے ہی بتاسکتے ہیں ۔جہاں پہلے کسی ریاست کا اپنا جھنڈا تھا ،اپنی شناخت تھی، الگ پہچان تھی، سکرٹیریٹ تھا۔

انتظامیہ تھی، وہاں یہ سب کچھ ختم کر کے ،تشخص مٹا کے ،مرکز کو کنٹرول دینے کے بعد کون سی آزادی، کیسی آزادی ملی؟ ۔ ملنے والے اختیارات کہاں ہیں؟ ترقی کے خواب کس کے تخیل میں ہیں؟ کہاں ، دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوں گی ؟کون بنائے گا یہ نہریں ؟یہ سوچنے والے انسان دوست حکمران کیا ہندو ہیں؟گائے کے نام پر کشت و خون کا بازار گرم کرنے والی آر ایس ایس یہ سب کچھ دے گی؟ یا گجرات میں پندرہ سو مسلمانوں کا خون پی جانے والے نریندر مودی دیں گے؟ مودی وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود دو سال میں یہ نہ جان سکے کہ ان کے دور اقتدار میں،ان کی ریاست گجرات میں پندرہ سو مسلمانوںکے خون سے ہولی کس ہندو نے کھیلی؟۔

وہ پندرہ سو مسلمانوں کے قاتل نہیں پکڑ سکتے، جو پکڑے گئے تھے ان کی رہائی پر مودی سرکار کے وزیر ہار پہنانے پہنچ گئے ۔کیا یہ لوگ انصاف کا بول بالا کریں گے؟گجرات میں مودی یا مسلمانوں کو درختوں ، کھمبوں سے باندھ کر الٹا لٹکا کر، مار مارکے قتل کرنے والے گائو رکھشہ والے ہی جانتے ہیں کہ اس فیصلے میںا ٓزادی کہاں چھپی ہوئی ہے،یا کس کو ملے گی؟۔گائو رکھشہ گرو پ کو آزادی ملے گی اور اہل کشمیر قتل ہوں گے، قتل گاہ کشمیر بنے گی۔ 

یہ دنیا کو کسی نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ کشمیریوں چوروں اور سمگلروں کے قانون کے تحت گرفتار کیا جارہاہے، انہیں وکیل کرنے کی بھی سہولت میسر نہیں، یہ سہولت تو اس وقت ملے گی جب انہیں معلوم ہو گا کہ ان کا بیٹا ، بیٹی ، باپ یا بہن کس جیل میں مقید ہیں ۔ ہندو فوج کشمیریوں کو بتاتے ہی کہاں ہیںکہ ان کے پیارے کہاں قید ہیں ، وہ ایک جیل سے دوسری جیل تک بھٹکتے رہتے ہیں،کئی کئی سو میل دور جانے کا بعد ہی پتہ سراغ ملتا ہے ۔ان کو پتھر مارنے پر وہ سزا ملتی ہے جو کبھی دنیا میں کسی نے نہ سنی ہو گی۔ ہاں دور غلامی میں امریکی گورے شائد کالوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے تھے، جیسا اب کشمیر میں کیا جا رہا ہے۔اسی لئے صدر ٹرمپ کو اس میںکوئی پریشانی نہیں ہے۔

یہ آگ ۔۔۔’’ کشمیر سے نکل جائو۔۔۔‘‘ان لداخی کے ذہنوں میں بھی چل رہی ہے۔لداخی یہ سوچنے اور کہنے لگے ہیں کہ ’’ہم جو چاہتے تھے،وہ ہمیں مل گیا ہے مگر کس قیمت پر؟ یہ قیمت کس نے ادا کی؟

وہ سرد آہ بھر کر کہتے ہیں کہ ہماری آزادی کی قیمت کشمیریوں نے اپنی جانیں اور خون دے کرا دا کی ہے، ایک لداخی بھری آنکھوں سے کہنے لگا ۔۔۔۔’’اللہ ہی جانتا ہے کہ وہاں کتنے لوگ بھوک اور پیاس سے موت کی وادی میں اتر چکے ہیں، وہاں کیاقیامت گزر چکی ہے یہ تو کرفیو ہٹنے کے بعد ہی پتہ چلے گا‘‘۔ 

لداخی کہتے ہیں کہیں کہ بھارت کی بات درست نہیں، اس کی باتوں میں رتی بھر سچائی نہیں ،زمینی حقائق امن کی نہیں، تلخ حقیقتوں کے عکاس ہیں ۔ وہاں، کشمیر میں المیے پہ المیہ ہو رہا ہے، جس سے ہم ابھی واقف نہیں،کشمیر میں امن ہونے کے دعوں سے ہمیں اتفاق نہیں، یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہیں،جریدہ کاروان نے اس ضمن میں کشمیر میں کہانیوں کو اکھٹا کرنا شروع کیا تو اس کے نمائندے کی ایک لداخی سے ملاقات ہو گئی۔جریدے میں 28ستمبر کو(Rigzin Yangdol) نے لکھا کہ 

’’آپ مدتوں سے یونین بننا چاہتے تھے اب بن گئے ہیں، کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟

یونین ٹریٹری؟ وہ بڑبڑایا!

’’ہاں‘‘۔۔ میں نے کہا۔ہم سمجھ رہے تھے کہ مدتوں بعد مطالبہ پورا ہونے پرخوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی، جشن کا سماں ہوگا،جس سے پوچھوں گا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرے گا مگر نہیں۔اس کاایک ایک لفظ میرے ذہن پہ ہتھوڑے کی مانند برس رہا تھا، مجھے لگا کہ زمین پھٹ رہی ہے اور میںاس میںسما رہا ہوں، اس کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ میںدل کی حالت عیاں تھی۔اس نے کچھ یوں سنا کہ 

’’بھارت بہت بڑا ملک ہے ،قانون بننے میں کئی کئی مہینے لگ سکتے ہیں ۔ہمیں نہیں معلوم کہ اب ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، امید اور خوشیوں کے باوجود وسوسوں اور اندیشوں میں گھرے ہوئے تھے، ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ ملنے کے باوجود بھی نہیں ملا،خواب پورے ہونے کے باوجود ادھورے ہیں، ان دیکھی پریشانیوں نے گھیر رکھا تھا‘‘۔

میں لداخ میں ہی پیدا ہوا، 1991ء سے اسے دیکھ رہا ہوں،مجھے اس کی ایک ایک چیز سے پیار ہے۔میں نے ان تین عشروں میں کہیں بھی لداخ کو نہیں دیکھا۔ پارلیمنٹ میں نہ سرکاری ایوانوں میں۔ بھارتی میڈیا میں نہ سکول میں۔ کسی کتاب یا کسی مضمون میں ذکر تک نہ تھا۔بچپن میں کتابوں میں لداخ کا ذکر نہ ہونا پریشان کرتا تھا۔ہمارے مطالبات سیاسی جماعتوں کے منشور میں محض نعرے کے طور پر درج کئے جاتے تھے ،ہمیں بے وقوف بنانے کے لئے ۔ اقتدار ملنے کے بعد ہر لفظ ، ہر وعدہ بھول جاتا۔یہ اس قدر گمنام قوم تھی کہ جب کسی سے لداخ کا ذکر کیا جاتا تو کوئی کہتا۔۔۔۔۔ہاں ہاں،یہ چین میںہے،کوئی کہتا نہیں، یہ نیپال کے تسلط میں ہے۔جتنے منہ اتنی باتیں۔ حقیقت اتنی تھی کہ ہمیں کوئی جنتا ہی نہیں تھا۔ یہ سوچتے ہی مجھے خوف محسوس ہوتا کہ کہیںلداخ میں بھی کشمیر جیسی تحریک نہ اٹھے،یہاں بھی بھارت سب کچھ جلا کر راکھ نہ کر دے۔جب ذرا بڑا ہوا تو یونین ٹیرٹری کے لئے جدوجہد شروع کی مگر انجاناخوف طاری رہا۔یہ سوچ یہاں بھی پروان چڑھ رہی تھی کہ جب تک آپ ہنگامہ نہیں کریں گے حکومت کچھ نہیں دے گی، آپ خالی ہاتھ ہی رہیں گے۔ہم بہت پرامن لوگ ہیں کہیں یہاں بھی آتش نہ بھڑک اٹھے۔اب ہمیں وہ سب کچھ مل گیا ہے جو ہم چاہتے تھے۔مگر کس قیمت پر؟

کس قیمت پر؟

وہ بار باربڑبڑایا۔اس کی آواز میں درد و سوز تھا، جو وہ زبان سے نہیں کہہ پا رہا تھاوہ سب کچھ لہجے اور چہرے سے عیاں تھا۔وہ کہنے لگا۔

’’ہزاروں کشمیریوں کو ہماری یونین ٹیریٹری کے لئے قید ہونا پڑا۔پوری دنیا سے کٹ کر اپنے ہی گھروں میں محدود ہو گئے ہیں۔کہیں آ سکتے ہیں نہ جا سکتے ہیں۔ صرف وقت بتائے گا کہ ان پر کیا بیتی ہے۔صرف وقت ہی بتائے گا کہ وہاں کتنے لوگوں نے زندگی ہار ی ہے۔ہم اپنی یونین ٹیریٹری کا خیر مقدم کرتے اگر یہ سب کچھ جمہور ی طریقے سے ہوتا۔ پیار اور محبت سے ہوتا۔ مذاکرات اور بات چیت سے ہوتا۔مگر اب ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا جواب دیں گے؟‘‘۔

ٓ’’اگرچہ مجھے خوشی ہے کہ مجھے وہ تشخص مل گیا ہے جس کی تلاش تھی۔ دنیا کے نقشے پر ایک جگہ مل گئی ہے۔مگر مجھے مستقبل سے ڈر لگتا ہے۔ہمارے نازک ایکو سسٹم کا کیا بنے گا؟ترقی کے نام پر کمرشلائزیشن ہمارے پر فضا ماحول کوفضائی آلودگی میں دفن کر دے گی ۔ دور دراز کے علاقوں کا کیا بنے گا۔جیسا کہ زنسکار ریجن (Zanskar region) ۔جہاں سٹرک ہے نہ ٹیلی کمیونیکشین سسٹم۔حتیٰ کہ بجلی بھی نہیں ہے۔ بھارت ڈالروں کی تلاش میں اندھا ہو گیاہے، وہ اپنی پرانی آئیڈیالوجی بھی بھول بیٹھا ہے، کہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے بغیر سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ملے گی ۔مودی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی شرط اول سے دستبردار ہو گئے ہیں، ٹیکنالوجی کی جگہ مود ی کی دل چسپی فوری سرمایہ کاری میں ہیں ، بھارت کے کامرس منسٹر پیوش گیال (Piyush Goyal)نے امریکہ اور چین سے مذاکرات کے دوران ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی شرط سے پیچھے ہٹ گئے ہیں،جس پر آر ایس ا یس کو تشویش ہے۔ ایشاونی مہاجن کا سخت ٹوئٹ اسی بارے میںہے ۔لکھتے ہیں: ’’چائنا لیڈ ریجنل کومپری ہنسیو اکنامک پارٹنر شپ ‘‘(RECP)میں بھارت کی جانب سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی شرط سے پسپائی انتہائی نقصان دہ ہے۔ ملکی معیشت کے لئے ہی نہیںبلکہ این ڈی اے کے طے شدہ منشور سے انحراف ہے۔ اس سے بھارت میں ٹیکنالوجی کی ترقی رک سکتی ہے۔اس سے بھارت امریکہ اور یورپ کا محتاج ہو جائے گا۔ نریندر مودی کے نزدیک بھارت کی معاشی ترقی کا راز چار ڈیز(4Ds)ہیںجن کی وجہ سے ہی بھارت عالمی دنیا کے لئے پرکشش جگہ بن چکا ہے۔ڈیمانڈ، ڈیموکریسی، ڈیموگرافی اور ڈی سی سیونس لیکن منڈی کھولنے سے غیر ملکی ’’مانسٹر ‘‘ہمارے بزنس کو کھا جائیں گے، ہمیں ان سے خود کو بچانا ہے‘‘۔

بھارت نے جموں وکشمیر جو رویہ اختیار کیا ہے اس پرلداخیوں کو بھی تشویش ہے۔یہ رویہ پورے بھارت کو جلا کر راکھ کر دے گا۔جس کی تصدیق دنیا بھر میں شائع ہونے والے مضامین سے ہو رہی ہے۔پہلے ہی مرحلے میں جموں و کشمیر میں اس نے لداخ میں رنگ و نسل کی آگ بھڑکا دی ہے اور انہیں کشمیریوں سے لڑانے کی کوشش کی ہے مگر لداخی جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کس نے سلب کئے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مودی سرکار گزشتہ کئی برسوں میں بھارت کو معاشی ترقی سے ہم کنار کر سکے، اور نہ ان وعدوں پر عمل کر سکے جو انہوں نے اپنے منشور میں لکھ رکھے تھے۔آئیے ان پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں ہم خود لکھنے کی بجائے مغربی ممالک کے مصنفین کی تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ انہیں مسترد کرنا آسان نہ ہو۔ 

سان فرانسکو یونیورسٹی میںماس کمیونی کیشن کے پروفیسر وامسی جولوری نے بھارت کے نکتہ نظر کو جارحانہ اور پاکستان کے کردار کو مدبرانہ قرار دیاہے۔ ان کے مطابق ’’بھارتی جنگ جوئی سے جنوبی ایشیاء میں اسلحہ کی دوڑ تیز تر ہوگی۔ روس سے ایس ۔400 میزائل سسٹم اور 3ار ب ڈالر کی ’’ چکرہ تھری ‘‘نامی ایٹمی آبدوز 10سالہ لیز پر لینے کا معاہدہ کرچکا ہے۔ بھارتی میڈیا میں واویلے کے مطابق یہ آبدوز ’’چین۔ پاکستان گٹھ جوڑ ‘‘کے خلاف حاصل کی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے نزدیک بھارت میں قوم پرستی کی شکل میں پھیلنے والی انتہا پسندی کو روکنا مشکل ہو گا ۔معروف امریکی میگزین فوربز نے نریندر مودی کی ناکامیکوں کے حوالے سے لکھا کہ بھارت میں نوکریاں پیدا کرنے والے نریندر مودی خود نوکری (وزارت عظمیٰ) کی تلاش میں لگا رہا۔ مضمون نگار کے مطابق وہ بھارت کو اوپر کی جانب لے گئے مگر خود وہ اپنی نوکری کی جنگ کیوں لڑ رہے ہیں ؟۔ان کا مطلب یہ ہے کہ مودی اگر بھارت کو ترقی سے ہم کنار کرہا ہو تا تواب وہاںجنگ کی آگ کیوں بھڑکارہاہے۔پانوس مپرڈوکوتاس نے لکھا کہ ’’Modi Lifted India Up, Why Is He Fighting For His Job?)۔ پانوس بھارت کی معاشی اڑان کا جائزہ لیتے ہوئے مودی کو ناکام وزیر اعظم قرار دیتا ہے یعنی کہ ’’مودی دور میں بھارتی عوام پر روز گار کے دروازے کھل گئے اور اگر مودی قوم پرستی کی آگ نہ بھڑکاتاتو اس پر بھی اقتدار کے دروازے بند ہوجاتے۔ان کے پہلی بار اقتدار سنبھالتے وقت بھارتی معیشت ڈانوا ںڈول تھی۔ عالمی رینکنگ میںبھارت کانمبر بنگلہ دیش کے قریب قریب تھا ۔مودی دور میں بھارت چین کے ہم پلہ آگیا۔ عالمی بنک کی 2018ء کی ’’ڈوئنگ بزنس‘‘ رینکنک میں بھارت 2017ء کے مقابلے میں 23درجے اوپر تھا ۔صرف ایک برس پہلے وہ110ویں نمبر پر تھا اور 2018میں 77ویں پوزیشن پر تھا۔برکس (BRICS)ممالک میں بھارتی معیشت سب سے زیادہ کمزور، زبوں حالی کا شکار تھی مگر مودی دور میں یہ چاروں ممالک کی بانسبت نہایت تیزی سے پروان چڑھی ۔ بیرونی سرمایہ کاری سے لاتعداد بھارتی کروڑ پتی بن گئے ،معمولی ردو بدل کے ساتھ یہ کیفیت گذشتہ دوسال سے برقرار ہے ۔کسی بھی جمہوری ممالک میں ترقی کے اس تناسب کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے مگر نریندر مودی کے انڈیا میں ایسا نہیں ہوگا ۔وجہ ؟۔۔۔وجہ صاف ظاہر ہے ،نریندر مودی کسی مرد آہن (آمر)کی طرح انڈیا کے حکمران ہیں۔ ایک ایسے ملک میں، جہاں مرد آہن کبھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔ مارگن اسٹینلے انویسٹمنٹ (ایمرجنگ مارکیٹ اور گلوبل اسٹرٹیجی‘ )کے سربراہ روشیر شرما بھی اس نظریہ سے متفق ہیں۔روچی شرما کہتے ہیں۔۔۔ مودی کی فتح یقینی تھی۔وہ بی جے پی میں بھی اپنے تمام حریفوں کو کھڈے لائن لگانے میں کامیاب رہے ۔ اور راہول گاندھی سمیت تمام اپوزیشن پر چھا گئے‘‘ ۔

غیر ملکی جریدہ ’’فارن افئیرز‘‘(Foreign Affairs)نے نریندرمودی کے طرز حکمرانی کو مرکزی موضوع بنایا۔جریدہ لکھتا ہے کہ ’’اس قسم کی مرکزیت بھارت میںگذشتہ کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی۔ بڑے فیصلے تو ایک طرف ،چھوٹی چھوٹی فائلیں بھی وزیر اعظم ہاؤس سے ہو کر گزرتی ہیں ۔یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ یہ مرکزیت کسی ایسے جمہوری ملک میں تو بالکل ہی نتائج نہیں دیتی جہاں انتخابات کا فیصلہ مصفلات کی بنیاد پر ہوتا ہو۔ صوبائی علاقہ جات ممبئی اور دہلی جیسے میگا شہر تک صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں ۔ حقیقتاََ یہی نظام اب مودی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔بھارت کے تمام ووٹرز اسی طرح سے سوچتے ہیں ۔ ماضی قدیم سے ہی بھارت کثیر الجماعتی ملک رہا ہے۔ 1970ء کی دہائی میں ہم نے دیکھا کہ تین میں سے دو حکمران جماعتیں اگلا انتخاب ہار گئیں۔ایک اور بات، نریندرمودی کی معاشی پالیسیاں عوام کا دل جیتنے میں ناکام رہیں ۔ معیار زندگی مودی دور میں بد سے بدتر ہوا ہے۔اسلئے انہیںقوم پرستی کی آگ جلانا پڑ رہی ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق پورے بھارت میں عام آدمی کے رہن سہن اور خوشحالی میں کمی آئی ہے ۔2014ء میں اگر عوام نے نریندر مودی کو 10 میں سے 4.4 نمبر دیئے تھے تو 2017میں یہ نمبرز صرف 4رہ گئے۔ قابل غور بات دیہات میں آنے والی تبدیلیاں ہیں ۔ بھارت میں دیہی علاقوں میں خوشحالی میں کمی آئی ہے۔مودی دور کے پہلے ہی سال بعد 28فیصد دیہاتیوںکو کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ۔ شہروں میںبھی یہی حالت تھی۔ 18فیصد شہری بھی سال میں کم از کم ایک یا ایک سے زائد مرتبہ خوراک کو ترسے ۔قوم پرستی کی شکست کی ایک اوروجہ بھی ہے ۔وہ ہے بد عنوانی۔ 5سال قبل بھارتیوں نے نریندر مودی کو گھر صاف کرنے کے لئے مینڈیٹ دیا ۔انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے کے نعرے پرلوگوں کے دل جیتے۔ آج کرپشن بھارت بھر میں ناسو ربنی ہوئی ہے۔اسی پس منظر میں دیکھیں تو مودی آج رنگ، نسل،برادری،ذات پات اور ہندو انتہا پسندی کی آگ بھڑکا رہے ہیں اس نے انہیں اقتدار کی منزل تک تو پہنچا دیا ہے مگر کل وہ خود ہی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ 

مزید پڑھیں

بڑے ممالک نے انسانیت کو مارنے کے لئے ہزاروں طاقتور ایٹمی ہتھیار تیارکر رکھے ہیں،اس دوڑ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ۔ 13900ایٹمی ذخائر میں سے ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وطن عزیز میں تین بڑے صحرا تھر ،تھل اور چولستان ہیں ۔چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66لاکھ 55ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جس ...

مزید پڑھیں

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است ...

مزید پڑھیں

ان دنوں دنیا بھر میں ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ‘‘زیر بحث ہے ۔یہ ادارہ امریکہ کی مدد سے یورپی ممالک نے قائم کیا ہے ،اس سلسلے میں ...

مزید پڑھیں