☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ صحت رپورٹ سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا دلچسپ دنیا طنزومزاح انٹرویوز کھیل خواتین تاریخ روحانی مسائل
’’ منی لانڈرنگ کی ہمارے سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں‘‘یورپ

’’ منی لانڈرنگ کی ہمارے سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں‘‘یورپ

تحریر : صہیب مرغوب

10-20-2019

ان دنوں دنیا بھر میں ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ‘‘زیر بحث ہے ۔یہ ادارہ امریکہ کی مدد سے یورپی ممالک نے قائم کیا ہے ،اس سلسلے میں پہل یورپی ممالک نے کی تھی، بعد ازاںامریکہ بھی شامل ہوگیا۔اب امریکہ ۔یورپ تعلقات میں اختلافات کی جھلک اس ادارے کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہی ہے ۔ یورپ جو کام کرتا ہے ،امریکہ اس پر اعتراضات لگا دیتا ہے۔

یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا جب 13 فروری 2019ء کو سٹراس برگ میں یورپی یونین کی کمشنر ویرا جورا(Vera Jourová ) نے انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق نئے قوانین کی روشنی میں 23 ممالک پر مشتمل ایک فہرست کا علان کرتے ہوئے کہا کہ ’’گندی دولت ‘‘(Dirty Money)کی ہمارے سسٹم میں کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی خامیاں جلد دور کر لیں‘‘۔ اس میں یورپی یونین نے امریکہ کے دوست اور خود امریکہ کے زیر کنٹرول کچھ علاقوں کو بھی منی لانڈرنگ کے حوالے سے مشکوک قرار دے دیا۔

 

یہ فہرست ایف اے ٹی ایف کی فہرست کے علاوہ تھی۔مذکورہ فہرست میں پہلے نمبر پر نیٹو کے زیر کنٹرول افغانستان اور دوسرے نمبر پر’’ امریکن سموا‘‘ شامل تھے ۔نوبل انعام یافتہ ابائیے احمد کا ملک ایتھوپیا بھی اسی فہرست میں اولین نمبروں پر تھا۔ شائد منی لانڈرنگ والی بات ناروے کی نوبیل کمیٹی کے سامنے نہیں ہو گی۔منی لانڈرنگ کے حوالے دنیا صرف پاکستان کے نام سے ہی واقف ہے۔ایتھوپیا کی منی لانڈرنگ خفیہ ہو گی، کیونکہ کسی میڈیا میں شائع نہیں ہوئی۔ایتھوپیا کے بعد گھانا کا نمبر آتا تھا۔امریکی ساموا(American Samoa )، گوام(Guam)،پیورٹو ریکو(Puerto Rico)اور یو ایس ورجن آئی لینڈز (U.S.Virgin Islands) کے نام بھی شروع کے نمبروں پر ہیں۔فہرست میںایران ،عراق لیبیا ،نائجیریا،پاکستان ،پاناما،پیورٹو ریکو،سموا ، سری لنکا،شام،ترینیڈاڈ ٹوباگو،تیونس یوایس ورجن آئی لینڈز بھی شامل تھے۔ پیورٹو ریکو کے قوانین میں متعددخامیاں زیادہ ہیں، اس کا مالی نظام امریکہ سے قدرے مختلف ہے ۔ لیکن یہ سب دیکھنا کس کا کام ہے؟ فہرست میںایک عرب ملک کا نام شامل کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر کافی لے دے ہوئی ۔برطانیہ نے اس ملک کا نام شامل کرنے کی سخت مخالفت کی۔ ایران کے نام پر بھی بہت بحث ہوئی ۔فرانس، جرمنی اوربرطانیہ اسے اپنی فہرست سے باہر رکھنے کے حامی تھے ، ان کے خیال میں ایران کو یہ رعایت دے کر ایٹمی معاملات پر سودے بازی کی جاسکتی ہے یعنی انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین ایٹمی معاملات پر سودے بازی کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے ساتھ بارٹر سسٹم (مال کے بدلے مال) کی بنیاد پر بھی تجارت شروع کر دی ہے،اس عمل سے وہاںڈالر منظرسے غائب ہو گیاہے ۔ان ممالک نے ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے انسٹیکس (Instex)نامی نئے ادارے کو فرائض سونپے ہیں۔اکثریت کے کہنے پر یورپی ممالک نے یہ فہرست جاری کی تھی۔

امریکہ کے ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کو یورپی یونین پر بہت غصہ ہے، اس نے اپنی تازہ ترین فہرست میں امریکہ بہادر کے زیر کنٹرول جزائر کوبھی منی لانڈرنگ والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیاتھا ۔ یورپی یونین نے کچھ اس قسم کی مثال دی کہ اگر کوئی قبیلے سے رقم بیرون ملک بھیجے گا تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے اسی طرح امریکہ کے کنٹرول میں جزائر سے ہونے والی منی لانڈرنگ کا ذمہ دار بھی امریکہ ہی توہے۔ یورپی یونین کی فہرست میں نام شامل ہوتے ہی امریکی حکام برسلز پر برس پڑے ۔امریکی محکمہ خزانہ کے لئے کام کرنے والی کنسلٹنگ فرم کی جینیفر فلاور(Jennifer Fowler) نے کہا کہ ’’یورپی یونین کا اقدام غیر معمولی ہے‘‘۔ایک اور کنسلٹنٹ نے کہا کہ۔۔ہمارے قوانین میں کوئی خامی نہیں۔یورپی یونین اپنے دائرہ کار میں جن ممالک کو ہائی رسک سمجھتے ہیں ان ممالک کی فہرست بنائے رکھیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران بہت چیلنجنگ ملک ہے ۔گوام کی بجائے ایران پر توجہ دینا بہتر ہو گا۔امریکہ نے کہا کہ یورپی کمیشن نے فہرست جاری کرنے سے قبل اس موضوع پرامریکہ سے کوئی بات چیت نہیں کی۔امریکہ نے ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے بینکوں کے لئے یورپی یونین کی فہرست کو پیش نظر رکھنا ضروری نہیں،امریکہ اپنے قانون کے مطابق چلے گا۔ساتھ ہی اپنے بینکو ں کو حکم دیا کہ وہ برسلز کے حکم نامے کو ہرگزخاطر میںنہ لائیں۔ کسی غلط فہمی کی بناپر امریکی جزائر کے نام شامل ہو گئے ہیں جس کے بعد یہ فہرست ہی واپس لے لی گئی ۔اسے کہتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ہمارے پاس بھینس توہے مگر لاٹھی نہیں ہے۔ 

اس طرح28فروری کی رات کو 28میں سے 27ممالک نے اپنے ہی تیار کردہ نئے قوائد و ضوابط کی روشنی میں جاری کردہ فہرست واپس لے لی ۔ انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق نئے قوانین ’’ فورتھ انٹی منی لانڈرنگ ڈائریکٹوز (4MLD )کی روشنی میں رپورٹ دوبارہ جاری ہو گی ۔یورپی پارلیمنٹ کی ممبر اور ٹیکسوں کی چوری اور منی لانڈرنگ سے متعلق کام کرنے والی اینا گومز (Ana Gomes) کا کہنا ہے کہ فہرست میں روس شامل نہیں ہے پھر ہمیں اسے صحیح سمت میں اچھا قدم سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کو ٹیکسوں کی چوری سے منسلک کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس فہرست کا مقصد کسی کو بدنام کرنا نہیں بلکہ ان سے قوانین بہتر بنانے میںمدد مانگنا ہے ،جو ہم حاصل کر رہے ہیں۔ یعنی بھارت دوسرے ممالک کو بدنا م کرنے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے وہ ایف اے ٹی ایف کی روح کے منافی ہیں۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ فرانسیسی بینک نے میرین لی پین کی جماعت کو فاشست قرار دے کر قرضہ دینے سے انکار کر دیا ،اسی لئے انہیں بھی بیرون ملک دیکھنا پڑا۔وہ ایک ر وسی بینک سے 2014میں94لاکھ پونڈ کا قرضہ لیے میں کامیاب ہو گئیں۔قرضہ دلوانے میں ژاں لوخ سیفہائوسر (Jean-Luc Schaffhauser )کا بہت عمل دخل تھا جو خود کو’’مشن امپاسیبل‘‘ کہتے ہیں۔یہ مشن امپاسیبل بھی انہوں نے ممکن کر دکھایا، لیکن فرانس ٹاسک فورس کا طاقتور ممبر ہونے کے باوجود کچھ نہ کر سکا۔انہوں نے تو میری ای پین کو ایران سے قرضہ لینے کی بھی یقین دہانی کروائی تھی مگر یہ تجویز میری لی پین نے مستردکر دی تھی جس کے بعد روسی بینک سے رجوع کیا گیا ،اور اسی بینک سے قرضہ بھی مل گیا۔یہ ہوتی ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔فرانس کو معلوم تھا کہ میری لی پین کو قرضہ نہیں دیا جا سکتالیکن اس کیس میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘میں سے دونوں ہی ان کے اپنے تھے۔ لہٰذا ایف اے ٹی ایف کی خاموشی تو بنتی ہے۔روس کی طرح کئی دوسرے ممالک کے بارے میںبھی ایف اے ٹی ایف چپ ہے ،اس کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔ 

یوکرائن کا قصہ بھی سن لیجئے ،جس کے رہنما زیلنسکی کے ساتھ امریکی صد ٹرمپ کی خوشگوار گفتگو درد سر بنی ہوئی ہے اور امریکی صدر کومواخذے کی تحریک کا سامنا ہے۔ایک اورارب پتی کوستایانتن زہیو (Kostyantyn Zhevaho)کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کی انکوائری چل رہی ہے۔’’ریڈیو فری یورپ ‘‘ کی 10اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ارب پتی نے سٹیٹ بیور آف انویسٹی گیشن نامی ایک ادارہ بنایا ۔یہ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اس نے 10کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔اس غیر قانونی ٹرانزیکشن کے باعث ڈھائی برس میں80بینکس کے لائسنس منسوخ کئے گئے۔بعد ازاں عالمی آڈیٹرز نے ان کی بیلنس شیٹ میں5.5ارب ڈالر کے خامیاں نکالیں۔ان کی پولٹوا(Poltava) نامی کمپنی یورپ میں لوہے کے سب سے بڑے ذخائر کی مالک ہے جس کا تخمینہ 20 ارب ٹن لگایا گیا ہے۔ دنیا بھر میں بھاری مقدار میں پیلٹ بھی یہی کمپنی مہیا کرتی ہے ۔

یورپی یونین نے ایسٹونیا کے ایک چھوٹے سے بینک کی نگرانی کی ، تودنیا کی سب سے بڑی منی لانڈرنگ بے نقاب ہو گئی۔2007سے2015ء تک اس بینک نے 219 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی۔ یہ اپنے دور کا سب سے بڑا کیس تھا۔ مگر ایسٹونیاسے کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ آپ نے کیا حرکت کی ہے؟۔ خود یورپی یونین نے اعتراف کیا ہے کہ سخت قوانین کے باوجود 28میں سے کئی یورپی ممالک میں انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین پوری طور پر نافذ نہیں کئے جا رہے۔اسی لئے اب منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک ادارہ انسٹیکس(Instex)قائم کر دیاہے۔یہ نوزائیدہ ہونے کے باعث ثمر آور ثابت نہیں ہو رہا۔سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں کتنی منی لانڈرنگ ہوتی ہے ،اس میں بھارت اور دوسرے ممالک کا حصہ کتنا ہے، اور ان ممالک نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے بھی ہیں یا نہیں؟یا ایف اے ٹی ایف صرف ہم پر ہی گرج برس رہا ہے؟۔دنیا بھر میں ہر سال ایک ہزار ارب سے دو ہزارارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جن سے مغرب کے خزانے بھر رہے ہیں اور بھارت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے،لیکن کوئی ان کا نام نہیں لے رہا۔ہم مغربی جائزہ ورپورٹوں کی روشنی میں بتائیں گے کہ منی لانڈرنگ سے بھارت اور دوسرے ممالک کس طرح فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 

28جنوری ’’ گلوبل فنانشل انٹیگ ر یٹی ‘‘کی جاری کردہ خصوصی رپورٹ (Illicit Finanacial Flos tro and From 148 Developing Countries : 2006-2015) میں 148 ترقی پذیر ممالک سے سرمائے کی نقل و حمل کے بارے میں تمام مواد پیش کیا گیا تھا۔اس کے مطابق21ٹریلین سے 32ٹریلین ڈالرٹیکس ہیون میں محفوظ ہیں۔ پاکستان میں ایک بھی ٹیکس ہیون نہیں ہے۔ مختلف ممالک کے مابین 1 سے1.6ٹریلین ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، ایک اور رپورٹ میں منی لانڈرنگ کا حجم 2ٹریلین ڈالر بتایا گیا ہے۔1970کے بعد سے افریقی ممالک نے بھی ایک ہزار ارب ڈالر کھو دیئے ہیں۔جبکہ اسی عرصے میں ان کے کل قرضوں کا حجم 200 ارب ڈالر سے بھی کم تھا۔اگرچہ افریقی ممالک کے قرضوں کا حجم ان کی دولت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے مگر یہ سرمایہ وہاں کے چند سرمایہ کاروںکی مٹھی میں بند ہے۔یہ اگر گردش میں آجائے تو پورے افریقہ کی غربت اور بدحالی ختم ہو سکتی ہے، تمام قرضے ایک گھنٹے میں اتر سکتے ہیں۔

5اکتوبر کو اسی موضوع پر بین یہودہ نیت سبلی (Ben Judah Nate Sibley)نے جریدہ فارن پالیسی میں چونکا دینے والا مضمون لکھا۔ عنوان تھا۔۔۔’’مغرب گندے کاروبار (منی لانڈرنگ )کے لئے کھلا ہے (West is open for Dirty Business)۔جریدے کے مطابق امریکہ میںمنی لانڈرنگ کے خلاف کئی اقدامات کئے ہیںمگر پھر بھی امریکہ میں 300ارب روپے کی ٹیکس چوری منی لانڈرنگ کا سبب بن سکتی ہے ۔امریکہ میں انسدد منی لانڈرنگ قوانین مجریہ 2015ء (MNLRA 2015)نافذ ہیں لیکن قانون شکنی کی گنجائش موجود ہے۔محکمہ انصاف کے مطابق صحت کے شعبے میں امریکہ میں سالانہ 100ارب روپے کے فراڈ ہوتے ہیں۔فارن افیئرز کے مطابق غریب ممالک ہر سال منی لانڈرنگ کے ذریعے کئی ٹریلین ڈالر سے محروم ہو جاتے ہیں،ان میںسے کم سے کم 300ارب ڈالر امریکہ کے حصے میں آتے ہیں۔فارن افیئرز نے لکھا کہ کلپٹروکریسی کے حوالے سے روس بدنام ہے ۔بالٹک ریاستوں سے لے کر مشرقی یورپ تک اس کا نیٹ ورک پھیلا ہوا ہے۔2003میں لیتھونیا کے وزیر اعظم کے مواخذے کی وجہ روسی سرمائے کی سمگلنگ ہی توتھی۔کلپٹروکریسی اور منی لانڈرنگ یورپ میںجائیدادوں میںا ضافے کاموجب بن رہی ہیں۔ ان کے خزانے بھر رہے ہیں۔

Global Kleptrocracy Initiative بن چاک ہے مگر کئی ممالک اس میں دل چسپی نہیں لے رہے۔ منی لانڈرنگ کی سب سے بڑی مارکیٹ اسی شعبے سے منسلک ہے ۔اس پر بڑے ممالک کی نظر تو ہے مگریہ نظام قابل ذکر حد تک کمزور ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل،آسٹریلیااور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک اس ’’عالمی کلپٹروکریسی انی شی ایٹو‘‘ کے ممبر نہیں ہیں۔ ان کی جانب سے اہمیت نہ دینے کے باعث یہ نظام منی لانڈرنگ کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔اس ضمن میں یورپ نے ایک European Neighbourhood Policy بھی ترتیب دی ہے۔سابقہ سویٹ یونین کی ریاستیں اور یورپ میں شامل نہ ہونے والے مشرقی یورپ کے ممالک بھی اسی کا حصہ ہیں۔امریکہ قدامت پرست اورہاکس اس بلاک کو کلپٹرو کریسی کی آڑ میں روس، چین اور ایران کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔امریکہ تعاون کرنے پر آمادہ ہے مگر وہ اس تعاون کی قیمت مانگتا ہے۔وہ کلپٹرو کریسی کے خاتمے کی سادہ سی پیش کش کو اپنے روس، چین اور ایران کے ساتھ تعلقات کے پس منظر میں دیکھ رہا ہے۔یوں کالے دھن اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے نام پر ایک دوسرے کو پھنسانے اور دیگر مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

دیپک تلوار کی عیاشیاں

دیپک تلوار نامی ہندو کا شمار بھارت کے بڑے ’’منی لانڈرز‘‘ میں ہوتا ہے،یہ شخص کئی عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کئی عشروں سے بھارت میں سمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے مگر بھارتی حکومت نے اسے پکڑنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کہتے ہیں ،یہ حکمرانوں کی مٹھی گرم کرتا رہتا ہے ،بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ مگر مچھ بھی مٹھی گرم کروانے والوں میں شامل ہیں۔مگر غیر ملکی اطلاع پر اسے بھی گرفتار کرنا پڑ گیا ہے، ان کے دبائو پرحکومت نے دیپک تلوار کا 120کروڑ روپے کا دہلی میں ہوٹل بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص ڈیوٹی ڈرا بیک کی مدد سے بھی منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے۔جبکہ اس کا نیٹ ورک پورے بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔

منی لانڈنگ کرنے والے بڑے بینک اور ادارے

دنیا بھر میں جتنی منی لانڈرنگ ہوتی ہے پاکستان کا تو اتنا سو سال کا بجٹ بھی نہیں ہے۔سب سے زیادہ منی لانڈرنگ ایک ایسے بینک نے کی جو اس ملک کی مدد سے منی لانڈرنگ کر رہا تھا جس کی ان دنوں بھارت کے ساتھ گہری دوستی ہے۔یہ بینک 23ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث رہا تھا۔

نائورو سے 70ارب ڈالر کی سمگلنگ:نائورو(Nauru)ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔پاکستان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہاں 70ارب ڈالر کا غیر قانونی دھندہ ہوا ہے۔امریکی اقدامات کے بعد اس نے کئی بینکوں کو بند کر دیا۔

ایک برطانوی بینک سے265ارب ڈالر کی سمگلنگ:کہا جاتاہے کہ دنیا کے کئی بڑے بینک اربوں نہیں بلکہ سینکڑوں ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ ایسے ہی بینکوں میںایک برطانوی بینک بھی شامل ہے جسکی مدد سے ایک ملک نے 265ارب ڈالر کاغیر قانونی بزنس کیا۔ غیر قانونی بزنس پر اسی بینک کو2012میں 35کروڑ ڈالر اور2014میں مزید35کروڑ ڈالرکا جرمانہ بھی کیا گیا۔

میکسیکو میںواچویا کی مدد سے 390ارب ڈالر کاکالا دھن:کہا جاتا ہے کہ میکسیکو کے ادارے واچویاکی مدد سے دنیا کے بڑے سیٹھوں نے390ارب ڈالر کا بزنس کیا۔ایک آ سٹریلوی بینک بھی عالمی قوانین کی پاسداری میں کام رہا ہے جبکہ مزید50بینکس بھی منی لانڈرنگ کے پیسے کا لین دین کرتے رہے ہیں۔ ایک روسی بینک پر بھی الزام ہے کہ اس نے21ارب ڈالر کے کالے دھن کا کاروبار کیا۔

بھارت :3758مقدمات کے ساتھ منی لانڈرنگ میں سب سے آگے! 

 پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ کے لئے کافی اقدامات کر لئے ہیں۔اس سلسلے میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ان سطور کے منظرعام پر آنے تک ( 18اکتوبرتک)ہو چکا ہو گا مگر ہم اس سے ہٹ کر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کانمبر بہت نیچے آتا ہے لیکن ہماری سیاسی کمزوریاں دیکھیے ،ہم نے بھارتی منی لانڈرنگ کو کبھی عالمی فورم پر اٹھایا ہی نہیں اسی لئے بھارت کو ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل گیاہے ۔

بھارت میں پاکستان کے خلاف کچھ زیادہ ہی پروپیگنڈا ہو رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا بخار کسی طرح سے کم ہونے کا نام ہی نہیںلے رہا۔ ہر منٹ میںایک نئی خبر جاری کر دی جاتی ہے جیسے پاکستان کانام بلیک لسٹ میںشامل ہونے ہی والاہے ۔ بھارتی میڈیا کو ’’فیک نیوز‘‘ کا بازار گرم رکھنے سے ہونے والی بدنامی کی بھی فکر نہیں۔ بھارتی میڈیا نے اپنے قارئین کو یہ کبھی بتاناگواراہ ہی نہیں کیا کہ منی لانڈرنگ کے شعبے میں بھارت اگلی صف میں کھڑا ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ منی لانڈرنگ اورسرمائے کی سمگلنگ بھارت ہی میں ہوتی ہے۔بھارت میں اداروں نے صرف ایک سال میں (8نومبر2018ستمبر2019ء تک) منی لانڈرنگ اور کالے دھن کی سمگلنگ کے کم از کم 3758کیسوں کی سماعت کی ہے جن میں سے 3567مقدمات کی تفتیش فاریکس لاز اور 191مقدمات کی تحقیقات منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت کی گئی ہے۔اس ضمن میں 620چھاپے مارنے کے علاوہ 777شوکاز نوٹسزجاری کئے گئے ہیں۔ان مقدمات سے ہمیںپتہ چلا کہ بھارتی ہندوایک سال سے بھی کم مدت میں 9935کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کے ہی تحت بھارتی حکومت نے 5335کروڑ روپے کی جائیدادوں کو اٹیچ کردیایعنی ان کی خرید و فروخت رکوادی۔بھارتی رپورٹوں کے مطابق منی لانڈرنگ کی مدد سے کمایا جانے والے کا 43فیصد حصہ بینکاری نظام میں شامل ہو رہا ہے۔یعنی بھارتی بینک چل ہی منی لانڈرنگ پر رہے ہیں ورنہ ان کا کاروبار ہی رک جائے۔دوسرے نمبر پر منی لانڈرنگ کا پیسہ جائیدادوں کی خرید و فروخت(35فیصد)میں استعمال ہوتا ہے۔ہمارے خلاف الزامات لگانے والے بھارت نے کم از کم 4600کروڑ روپے کی مالیت کی مزید مشکوک پرواز پر بھی مقدمات قائم کئے ۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ED)پی ایم سی بینک سمیت کئی اداروں اورسیاسی شخصیات کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیسوں پر انکوائری کر رہا ہے ،اگرچہ ان میں زیادہ تر افراد کاروباری یا اپوزیشن کی شامل ہیںمگر سرکاری پارٹی کے ارکان بھی دودھ کے دھلے نہیں ،منی لانڈرنگ میں وہ بھی ملوث ہیں ،ان کی باری اگلے دور میں آ جائے گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس وقت بھارت میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمات زیر سماعت ہیں، کئی رہنما جیلوں میں ہیں کچھ باہر بھی دندنا رہے ہیں۔بھارتی ریاست مہاراشترا میں راج ٹھاکرے کے خلاف بھی انفورسمنٹ ڈائریٹوریٹ منی لانڈرنگ کے بڑے مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔8اکتوبر کو انوجہ ناد کرنی نے مضمون (Masala Indian restaurant boss pleads guilty to tax evasion and money laundering) میں لکھا کہ ’’بھارت بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ میں ملوث ہے ۔ یہ منی لانڈرنگ بھارت میں نہیں پکڑی گئی،بلکہ آک لینڈ میںان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا۔بھارتی نژادشہری روپندر ناتھ چہیل (Rupinder Singh Chahil) پر آک لینڈ میںمقدمہ بنا۔اس نے نیوزی لینڈ میں مسالہ نامی ہوٹل چین کھولی اور اس کی مدد سے پونڈ سمگل کرتا رہا۔ اسے نیوزی لینڈ میں دھر لیا گیا۔جہاں اس پر ٹیکس چوری کے 34اور منی لانڈرنگ 9مقدمات بنائے گئے۔ یہ دنیا کی تاریخ میں بڑی منی لانڈرنگ میں شامل ہیں مگر ہم نے کبھی دنیا کو بتایا ہی نہیں ،اس لئے بھارت بھی اس سمگلنگ کو چھپانے میں کامیاب ہو گیا ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وطن عزیز میں تین بڑے صحرا تھر ،تھل اور چولستان ہیں ۔چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66لاکھ 55ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جس ...

مزید پڑھیں

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است ...

مزید پڑھیں

5اگست کو مودی سرکار نے دنیا کی نظروں میںجھول جھونکتے ہوئے آزادی کے نام پر کشمیریوں کی غلامی کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔کشمیر کا درجہ ریاست ...

مزید پڑھیں