☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
خطۂ کشمیر اور اقبال کی تمنائیں

خطۂ کشمیر اور اقبال کی تمنائیں

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین

11-03-2019

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است

علامہ اقبالؒ ملتِ اسلامیہ کی فلاح وبقا کے داعی تھے اور اپنے تمام تر قلبی و اردات کو اُمتِ مُسلمہ سے وابستہ قرار دیتے تھے۔ اُن کی نوائے شعر ملتِ اسلامیہ کی نوا ہے ۔ اُن کا دل حریمِ حجاز سے وابستہ ہے تو نوائے شعر، شیراز سے ہے۔ اقبالؒ کشمیری الاصل تھے اور بحیثیت مسلمان بھی کشمیر سے گہری محبت رکھتے تھے۔ کشمیر سے علّامہ کی یہ محبت وموانست کہیں تو اس جنتِ ارضی کی خوب صورت، دل کش اور دل رُبا فضاؤں اور منظر ناموں کا احاطہ کرتی ہے تو کہیں وہ اس بے مثل خطے سے متعلق مشاہیر کے ذکر سے اپنے کلام میں قوت وشوکت کے عناصر پیدا کرگئے ہیں۔ بلاشبہ علّامہ کی کشمیر سے محبت اور عقیدت کا قوی تر اظہار اُن کے ہاں حریت پسندانہ افکار کو شعری قالب میں ڈھالنے سے عبارت ہے۔ اقبالؒ نے اس خطۂ جمال پر استبدادی ، سامراجی اور طاغوتی قوتوں کے تسلط اور غلبے کو حقیقی و واقعی کرداروں کے ذریعے بھی بیان کیا ہے اور وہ بعض فرضی و شعری کرداروں کی شمولیت سے بھی اپنے شعری بیانات کو مضبوط بناتے ہیں۔ کمال تو یہ کہ ان کے کلام میں ہر مقام پر آزادی، تحرک ، جنگ جوئی اور حریت کے جذبات ابھارے گئے ہیں۔ اقبالؒ کے ہاں کشمیرکے حوالے سے مرقوم تمام تر شعر پارے ان کے جذبات واحساسات کو اُمتِ مسلمہ کے داخلی و خارجی حالات سے مربوط کرتے ہیں اور وہ اکثر وبیش تر بڑی درد مندی سے اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کا اتحاد ہی وہ واحد حل ہے جس سے خطۂ کشمیر میں محکومیت ، مظلومیت اور جبر واستبداد کا خاتمہ ممکن ہے۔ 

کلامِ اقبالؒ میں تذکرۂ کشمیر محض بیانِ موضوع سے آگے کی چیز ہے۔ ان کے ہاں کہیں اس امرکا احساس نہیں ہوتا کہ وہ محض کشمیر کی سیاسی حساسیت کے پیشِ نظر اس پرا ظہار خیال کررہے ہیں اس کے برعکس یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ ان کا ملّی جذبہ انھیں اس خطۂ بے نظیر کی آزادی کا خواب دیکھنے اور دکھانے پر اُکسارہا ہے۔اقبال ؒکی شاعری میں ہر جگہ یہ احساس کارفرما ہے کہ وہ ملتِ اسلامیہ کے لیے اپنے دل کی تمام تر بے چینیوں کو صفحۂ قرطاس پر اُتار دینا چاہتے ہیں۔ اقبالؒ کا پیرایۂ بیان ہر کہیں مدلل ہے اور اُسلوب شعر کی روانی نے ان کے کشمیر سے متعلق شعرپاروں کو زیادہ تر نغمہ حریت کے موثر بیانیے میں ڈھال دیا ہے۔ 

خطۂ کشمیر کی محبت اقبالؒ کے رگ وپے میںجاری وساری تھی اور اس کا اظہار اُن کے اُردو اور فارسی شعرپاروں میں نمایاں طورپر ہوا۔ ’’پیامِ مشرق‘‘ میں شامل ’’ساقی نامہ‘‘ جو نشاط باغ(کشمیر) میں لکھا گیا، اقبالؒ کی اس موانست کا دل کش اظہار ہے ۔اہل ادب جانتے ہیں کہ شعروسخن میں ساقی کا کردار متعدد زاویے رکھتا ہے اور اقبالؒ کے ہاں بھی ان تمام زاویوں میںبے شمار مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ ساقی کا کردار ان کے کلام میں ساقی ازل ( اللہ تعالیٰ) کے حوالے سے بھی مذکور ہے اور ساقی کو ثر (حضرت محمد ﷺ) کی ذاتِ اقدس کی مناسبت سے بھی اکثر مقامات پر تاثیر کلام کے لیے موزوں ہوا ہے۔ کشمیر میں لکھے گئے اس ’’ساقی نامہ‘‘ میں اقبالؒ ساقی ازل سے دعاگو ہیں۔اس کا آغاز خطۂ کشمیر کے حوالے سے اس مسلم خطے کی دل کشی و دل ربائی سے ہوتا ہے جو بالآخر ساقی ازل سے استمدادکی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ آغاز کے اشعار دیکھیے جو نہ صرف اقبالؒ کی اس خطۂ بے مثال سے محبت کا ثبوت ہیں بلکہ کشمیر کی حسین وادی کی بھرپور جھلک دکھاتے ہیں: 

خوشا روزگارے، خوشا نوبہارے

نجومِ پرن رست از مرغزارے 

زمیں از بہاراں چو بال تدروے

ز فوارہ الماس بار آبشارے

نہ پیچد نگہ جز کہ در لالہ و گل

نہ غلطد ہوا جز کہ بر سبزہ زارے

لبِ جو خود آرائی غنچہ دیدی؟

چہ زیبا نگارے، چہ آئینہ دارے

چہ شیریں نوائے، چہ دلکش صداے

کہ می آید از خلوتِ شاخسارے

بہ تن جاں، بہ جاں آرزو زندہ گردد

ز آوائے سارے، ز بانگِ ہزارے

نواہائے مرغِ بلند آشیانے

در آمیخت با نغمۂ جویبارے

تو گوئی کہ یزداں بہشتِ بریں را

نہاد است در دامنِ کوہسارے

بعدا زاں اقبالؒ اس جنتّ نظیر منظرنامے سے معنی آفرینی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ یہ جنتِ ارضی اس لیے بنائی گئی تھی کہ یہاں خدائے مطلق کے فراق کی کلفتیں دور ہوجائیں اور بہشت بریں کے نظارے انسان کو رومان کی دنیاؤں میں لے جائیں۔ اقبالؒ ان دل کش فضاؤں کا تذکرہ کرنے کے بعد اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ کیا یہ خطۂ دل پذیر اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں کے افراد غلامی کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھیں، یقینا نہیں ، ان فضاؤں کو انقلاب آشنا کرنا بھی ضروری ہے۔ چناں چہ اقبالؒ ’’ساقیِ ماہ سیما‘‘ ( اللہ تعالیٰ )سے شراب کہن(حرارت عمل کی شراب) کے طلب گار ہوتے ہیں اور التجا کرتے ہیں کہ اے ساقی میں تیرے قربان جاؤں،تو کشمیریوں کے ساغر جاں میں قرون اولیٰ کے مسلمان کے جذبۂ عشق کی مے اُنڈیل دے جس کا نور اُن کے رگ وپے میں یوں اترے کہ ان کے وجود میں انقلاب اور تحرک پیدا ہوجائے۔ وہ ساقی سے درخواست کرتے ہیںکہ اے ساقی ! مسلم دنیا کے منظرنامے پر نظر تو ڈال کہ کس طرح کا شغر سے کاشان تک ہر ملک و دیار میں ایک صدا گونج رہی ہے اور وہ صدائے آزادی ہے۔ یہ آزادی ہی کا خواب ہے جو اُمت مُسلمہ کی آنکھوں میں اُس اشکِ ناب کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس کی تاثیر سے خار میں بھی پھول کھل سکتے ہیں : 

سرت گردم اے ساقی ماہ سیما

بیار از نیاگانِ ما یادگارے 

بہ ساغر فرو ریز آبے کہ جاں را

فروزد چو نورے، بسوزد چو نارے

شقایق برو یاں ز خاکِ نثرندم

بہشتے فروچیں بمشتِ غبارے

نہ بینی کہ از کاشغر تا بہ کاشاں

ہماں یک نوا بالد از ہر دیارے

ز چشمِ امم ریخت آں اشکِ نابے

کہ تاثیر اُو گل دماند ز خارے

اقبالؒ توجہ دلاتے ہیں کہ کشمیر کی یہ حالتِ زارایک انقلاب کا تقاضاکررہی ہے ، فرماتے ہیں:

کشمیری کہ با بندگی خو گرفتہ 

بُتے می تراشد ز سنگِ مزارے

ضمیرش تہی از خیالِ بلندے 

خودی ناشناسے ز خود شرمسارے

بریشم قبا خواجہ از محنتِ او 

نصیبِ تنش جامۂ تارتارے

نہ در دیدۂ اُو فروغِ نگاہے

نہ در سینہ دارد دلِ بیقرارے

یاد رہے کہ یہ اہل خطۂ کشمیر کی وہ حالتِ زارہے جواقبالؒ کے زمانے میں تھی۔ آجٔ کشمیر میںبندگی کی خومُطلق ختم ہو چکی ہے اور ہر سُو انقلا ب کی لے جاری وساری ہے، ان کے ارادے بلند ہیں، وہ خود شناس ہیں، خود سے شرمسار نہیں۔ جذبہ جہاد یہاں کے بچے بچے کے رگ و پے میں جاری وساری ہے۔ اہل کشمیر کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ ان کی محنت حکمرانوں کی قبا کی زینت بن رہی ہے اور ان کے حصے میں محض جامۂ تار تارہے۔ اُن میں اپنی محنت کی کامیابی کا شعوربیدار ہوچکا ہے اور دینی، قانونی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے بھارت کی عائد کردہ تمام تر فصیلوں کو توڑ دینے کا عزم و استقلال عروج کوچھو چکا ہے۔ آج کشمیر کے ہر فرد کی نگاہوں میں آزادی کا نور سما چکا ہے۔ اہلِ کشمیر کے دلوں میں حریت کی بے قراری ہے اور ہر ایک سینے میں انقلاب آشنا دل دھڑک رہا ہے۔ کشمیری بے شمار قربانیاں دے چکے اور دے رہے ہیںلیکن ان کے حوصلے پست نہیں اور منزل قریب تر ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ’’ساقی نامہ‘‘ کے آخر میں علامہ نے ساقی ازل سے جو دعا کی تھی وہ قبولیت کا درجہ حاصل کرنے کوہے۔ دیکھیے علامہ نے کشمیر کی حالتِ زار کا نقشہ کھینچنے کے بعد پیش بینی کے رنگ میں کیا خوب لکھا ہے : 

ازاں مے فشاں قطرۂ بر کشیری

کہ خاکسترش آفریند شرارے

علّامہ کی یہ تمنا پوری ہوچکی ہے ۔اقبالؒ نے ساقی ازل سے اہل کشمیر کے لیے تحرک اور انقلاب کی جوآرزو کی گزرتے وقت سے شاہد ہے کہ ساقیِ ازل کی طرف سے اُس شراب عشق و عمل کا ایک ایک قطرہ اہل خطۂ کشمیر کے حلق میں انڈیل دیا گیا ہے۔ ہر ایک کشمیری مسلمان کی خاک چنگاریوں میں بدل چکی ہے۔علّامہ کی دعا بارگاہِ الہٰی میں قبولیت کا شرف حاصل کرچکی ہے۔ آج کشمیریوں کی جدوجہد عروج پر ہے اور ہر بند توڑدینے کو بے تاب ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے لیے سراپا جہاد ہے ۔ باوجود اس کے کہ ملتِ اسلامیہ کے افراد کے دلوں میں عشق کی چنگاری بجھ چکی ہے اور وہ گویا خاک کے ڈھیرمیں بدل چکے ہیں، باوجود اس کے کہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کا کردار ہمیشہ کی طرح مایوس کن ہے وہ’’ مجلس اقوام‘‘ جو مجموعی عالمی انسانیت کی علم بردار ہونے کی دعوے دار ہے ، آج اہل کشمیر کی چالیس دن سے زیادہ کی قیدو بند کی صعوبت پربدستور خاموش ہے ۔ وہ ’’اقوام متحدہ‘‘ ( ’’لیگ آف نیشنز‘‘)جس کے بارے میں علاّمہ نے اُس زمانے میں بھی بھانپ لیا تھا کہ یہ سرتاسر افرنگ زدہ ہے ، اہلِ مغرب کے منشور پر کام کرتی ہے اور مسلمانوں کے معاملات حل کرنے سے یکسر قاصر ہے ۔ یہ ’’جمعیت اقوام‘‘ تو ہے لیکن ’’جمعیت آدم‘‘نہیں: 

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام

پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم

مکّے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعّیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم !

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر

کل جسے اہل ِنظر کہتے تھے ایران ِصغیر

سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہِ سوز ناک

مرد ِحق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر

کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ٔایام کی

کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقان پیر

آہ یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ

ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر!

(ارمغانِ حجاز)

٭٭٭

پنجہ ظلم و جہالت نے برا حال کیا

بن کے مقراض ہمیں بے پر وبال کیا

توڑ اس دستِ جفاکش کو یارب جس نے

ْوحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا

٭٭٭

سو تدابیر کی اے قوم یہ ہے اک تدبیر

چشم اغیار میں بڑھتی ہے اسی سے توقیر

در مطلب ہے اخوت کے صدف میں پنہاں

مل کے دنیا میں رہو مثل حروف کشمیر

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ان دنوں دنیا بھر میں ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ‘‘زیر بحث ہے ۔یہ ادارہ امریکہ کی مدد سے یورپی ممالک نے قائم کیا ہے ،اس سلسلے میں ...

مزید پڑھیں

5اگست کو مودی سرکار نے دنیا کی نظروں میںجھول جھونکتے ہوئے آزادی کے نام پر کشمیریوں کی غلامی کا حکم نامہ جاری کر دیا ۔کشمیر کا درجہ ریاست ...

مزید پڑھیں

بڑے ممالک نے انسانیت کو مارنے کے لئے ہزاروں طاقتور ایٹمی ہتھیار تیارکر رکھے ہیں،اس دوڑ میں کوئی کسی سے پیچھے نہیں ۔ 13900ایٹمی ذخائر میں سے ...

مزید پڑھیں