☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(محمد رمضان) عالمی امور(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کچن کی دنیا() انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(روہاب لطیف) خواتین() خواتین() خواتین() رپورٹ(طاہر محمود) متفرق(آسیہ پری ) متفرق(آمنہ وحید)
آٹے کا خطرناک بحران پس منظر کیا ہے ?

آٹے کا خطرناک بحران پس منظر کیا ہے ?

تحریر : ایم آر ملک

01-26-2020

پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار 25ملین (2.5 کروڑ) ٹن ہے جبکہ ماہانہ ضرورت 20لاکھ ٹن ہے۔پنجاب 1.90 کروڑ ٹن گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے ۔ مہنگائی نے جہاں غریب پاکستانیوں کی کمر توڑ رکھی ہے وہاں آٹے کے بحران کے بعد اس کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

چند عشرے قبل روٹی 25 پیسے میں ملتی تھی،وزن بھی زیادہ تھا، اب روٹی 15روپے تک پہنچنے والی ہے اور وزن بھی کم ہو گیا ہے، معیار بھی پہلے جیسا نہیں۔ہوٹل مالکان نے روٹی کی قیمت 15روپے کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

 

 چکی مالکان آٹا 70 روپے کلو فروخت کر تے رہے ہیں جبکہ کھلی مارکیٹ میں گندم کی قیمت 47روپے کلوسے بڑھ کر 70روپے کلو تک پہنچ گئی ہے ۔محکمہ خوراک پنجاب نے 20 کلو تھیلے کا ایکس مل ریٹ 783 روپے مقرر کیا تھاجسے اہمیت نہیں مل رہی۔ صارف کو اتنا آٹا ایک ہزار روپے تک میں مل رہا ہے۔کراچی میں گندم کی بوری 5200روپے میں ،حیدر آباد میں 10کلو آٹا 640روپے میں اورپنجاب میں 20کلو آٹے کا تھیلا 1050روپے میں مل رہا ہے۔ فلور ملز مالکان اپنے ایریا کے ایک ڈپو کو 100تھیلوں کی بجائے صرف 20تھیلے سپلائی کر رہے ہیں ۔80تھیلے اپنے منظور نظر دکانداروں کی مدد سے بلیک میں فروخت کئے جا رہے تھے ۔ سندھ میں فلور ملز کی ماہانہ کھپت 4 لا کھ ٹن ہے اور مارکیٹ میں آٹا 60 روپے کلومیں مل رہا ہے۔ 

ہر مہذب ملک میں یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے، حکمرانوں کی پالیسیوں میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وطن باسیوں کی بنیادی ضروریات جیسا کہ روٹی ،کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو،کوئی ملاوٹ نہ کرسکے ۔لیکن ہمارے عوام کے خادم ہونے کے دعویدارروٹی کی قیمت کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔بلیک مارکیٹنگ سے حاصل کی گئی یہ کثیر رقم اور سبسڈی بعض فلور ملز مالکان کی جیبوں میں جارہی تھی ۔ جبکہ صارفین نمی اور ناقص آٹا کھانے پر مجبور تھے ،اس میں سے چوکر ،سوجی اور میدہ نکلا ہواہوتا ہے ۔

زرعی ملک میں آٹے کی کمی کیوں؟

پاکستان جیسے بہترین زرعی ملک میں گندم کی قیمت میں ہوشربا اضافہ لمحہ فکریہ ہے ،اس کے بعد پاکستان جنوبی ایشیا کے مہنگے ممالک کی فہرست میں شامل ہے ۔اس وقت عوام کا اصل مسئلہ ’’روٹی ‘‘ہے عوام کی زندگی کا محور صرف ’’روٹی ‘‘ہے،گندم میں خود کفالت کے باوجود کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت کو باہر سے گندم منگوانا پڑے گی ۔کیونکہ بند کمروں میں فیصلہ ساز حکمرانوں کے کانوں تک پہنچنے والی عوام کی بنیادی ضروریات کی آواز کو سائونڈ پروف دیواروں نے روک رکھا ہے لیکن پیٹ پر لگنے والی بھوک کی ضرب کو کوئی روک نہیں پاتا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انقلاب فرانس کا جنم ’’روٹی ‘‘سے ہواتھا۔ 

یہ سوال زبان زد عام ہے کہ عوامی ضرورت سے کئی لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ہونے کے باوجود گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اعتدال کیوں نہ آسکا ؟اس سوال کا جواب کسی معاشی منیجرکے پاس نہیں ہے۔ بحران کو کئی روز ہونے کو آئے لیکن ذمہ داروں کا تعین تک نہیں کیا جاسکا نہ ہی عوام کے کروڑوں روپے لوٹنے والے بااثر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوسکی ہے۔ 

وفاقی وزیر کی تردید کے باوجود بحران آیا

نومبر 2019میں وفاقی وزیر برائے غذائی تحقیق و تحفظ صاحبزادہ محبوب سلطان نے آٹے کے بحران کے خدشات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ’’ پاکستان 25ملین ٹن گندم پیدا کرتا ہے مگر ہمارے پاس ذخائر 27ملین ٹن ہیں ‘‘۔ انہوں نے اس وقت کے پی اور بلوچستان کو گندم کی ترسیل کے لئے جو حکم نامہ جاری کیا اس سے افغان بارڈر پر سمگلنگ کی راہ کھلی۔گندم ، گنا، کپاس اور چاول میں پاکستان خود کفیل ہے، ان فصلوں کی مصنوعی قلت ہمارے لئے تازیانے سے کم نہیں ۔ 

روٹی اور سیاست دان

حالیہ بحران کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف گندم کی خریداری کاسرکاری ہدف بھی پورا نہیں کیا جاسکا تھا وہیں دوسری طرف مافیا نے حکو مت کو گندم برآمد کرنے پر راضی کر لیا۔سندھ حکومت نے 7لاکھ ٹن میں سے ایک دانہ بھی نہیں خریدا۔ پاسکو نے بھی اہداف پورے نہیں کئے ۔پنجاب حکومت نے 33لاکھ 15ہزار ٹن گندم خریدی ۔کاشت کاروں کو پنجاب میں 108ارب روپے ادا کے گئے۔پنجاب میں حکومت نے چھاپے مار کر1.40لاکھ ٹن ذخیرہ شدہ گندم برآمد کر لی لیکن سندھ میں یہ کام بھی نہیں کیا گیا۔پاسکو اور صوبائی محکموں نے گودام پہلے ہی پورے نہیں بھرے تھے ۔ ایکسپورٹر نے اوپن مارکیٹ سے گندم خرید کرچھپا لی ۔اس وقت بھی ذخیرہ اندوز گندم مہنگے داموں بیچی جا رہی ہے ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

روسی ریاستوں میں بھی ہمارا آٹامل رہا ہے! 

 افغانستان کے بعد روسی ریاستیں بھی پاکستانی آٹے ،میدے اور سوجی سے مستفیض ہورہی ہیں جبکہ گندم کی ذیلی مصنوعات آٹا ، میدہ ، سوجی اور بھوسے کی بڑے پیمانے پر خریداری کے لئے افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی غیر معمولی دلچسپی بھی اس بحران کی وجہ ہوسکتی ہے۔

بحران کی جڑ

بحران کی جڑ یہ ہے کہ ملک بھر میں حکومت گندم کی خریداری کے بزنس سے ہی نکلنا چاہتی ہے اس ضمن میں عالمی اداروں کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کر لیا گیا جس پر عمل درآمد کا ابھی وقت نہیں آیا لیکن حالی بحران اس کی ریہرسل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ گندم کی مارکیٹ کو فری کرنے سے پہلے اگر حکومت مافیاز کو قابو میں نہیں کرے گی تو ملک میں گندم کی ذخیرہ اندوزی خطرناک بے چینی کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو گندم کی خریداری سے متعلق کئے گئے عالمی معاہدوں سے آگاہ کرے۔ عوام کو بتائے کہ اس شعبے میں وہ کیا کرنے والی ہے۔

فلور ملز مالکان کے کارٹیل نے محکمہ خوراک اور پاسکو سنٹرز کے مقررہ ہدف سے قبل ہی گندم کی خریداری شروع کر دی تھی۔ جس سے حکومتی ادارے ہدف پورا نہیں کر پائے،بعض فلور ملز مالکان نے اپنے گودام بھر لئے۔ پاسکو اور محکمہ خوارک نے جس گندم کا ریٹ 3ہزار روپے مقرر کیا تھا،فلور ملز مالکان نے 3.5روپے تک ادائیگی کر کے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ۔برآمد کنندگان نے بھی جب زیادہ رقم دیکر گندم اٹھانا شروع کردی تو مارکیٹ سے گندم غائب ہوتی چلی گئی ۔عام زمیندار نے زیادہ قیمت ملنے کسی مشکل وقت کے لئے رکھا گیاذخیرہ بھی ختم کر دیا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ فلور ملز مالکان نے صوبہ بندی نہ ہونے کی بنا پر یہ گندم بلیک میں فروخت کرکے خوب نوٹ کمائے اور جن فلور ملز کو فوڈ سنٹروں سے 1350روپے فی من گورنمنٹ نے سبسڈی کے تحت گندم سپلائی کی تو انہی فلور ملز مالکان نے وہ عوامی حق بھی بالا بالا فروخت کرنے پر اکتفا کیا ۔اس لئے کہ عوام کو آٹا ترسیل کرنے سے زیادہ رقم انہیں گندم کی سمگلنگ سے مل رہی تھی ۔کئی فلور ملوں کے گیٹس سے گندم سے بھرے ٹرک روزانہ لوڈ ہورہے ہیں اور جانے کہاں بھیجے جارہے ہیں ۔

لائسنس منسوخی کی سزائیں

 حکومت کے ساتھ معاہدے کی پاسداری اور سبسڈی کے تحت ایک فلور مل 1044بیگز کی مارکیٹ میں ترسیل کی پابند ہے۔اس کی خلاف ورزی پر 15فلور ملز کے لائسنس منسوخ کرنے ،376فلور ملز کے خلاف کارروائی کرنے اور180فلور ملز کا کوٹہ معطل کردیا گیا ہے۔ جس کی روک تھام کے لئے وزیر اعلیٰ کے حکم پر چار افسروں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے ،حکومت نے تاثر دیا ہے کہ حکومت آٹے میں کالا دھندہ برداشت نہیں کرے گی ،اس کے باوجود آٹے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پرکیسے پہنچ گئی ؟

سرکاری موقف

صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ،19ایسی گھوسٹ فلور ملز سامنے آئی ہیں جو گندم کا کوٹہ لیکر مارکیٹ میں فروخت کر رہی تھیں ۔ان کا کوٹہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس وقت ’’سب اچھا ‘‘کے گیت گائے جا رہے ہیں کہ گندم کا یہ مصنوعی بحران ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

ملک بھر میں انتظامیہ مصنوعی مہنگائی اور قلت پیدا کرنے والے بااثر افراد پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے ۔ادارے سنجیدگی سے کام لیں تو عام آدمی کو ریلیف مل سکتا ہے ،ذخیرہ اندوزوں کے گودام فضائوں میں یا زیر زمین نہیں آبادیوں میں موجود ہیں ۔یہ ارباب اختیار کا بھی امتحان ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ۔آٹا مافیا کے لائسنس معطل کرنا ،کوٹہ معطل کرنا اور جرمانے کوئی سزا نہیں ایسے افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ضروری ہے ۔جب ضلعی انتظامیہ ان گھوسٹ فلور ملز کو کوٹے کا جرا کرارہی تھی تو کیااس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی ؟کیاا نہوں نے اس بحران کے پس منظر کا کھوج لگایا ہے ؟

 2007میں آٹے کا مصنوعی بحران 

 2007میں آٹے کے بحران کا پس منظر یہ تھا کہ حکومت نے اہم افراد کو نوازنے کیلئے گندم برآمد کرنے کی اجازت دے دی تھی جس سے ان کی جیبیں تو ڈالروں سے بھر گئیں مگر غریب روٹی کے نوالے کو ترس گئے،عوام کے پیٹ خالی رہ گئے۔ اس وقت وفاقی وزیر پیداوار جہانگیر ترین کا موقف تھا کہ ’’وزیر اعظم کی ہدایت کے باوجود یکم ستمبر 2007تک پنجاب حکومت نے فلور ملز مالکان کو گندم فراہم نہیں کی جس کے باعث قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ‘‘۔ مگر اسی دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان کی نفی کرتے ہوئے واضح کیاتھا کہ ’’پاکستانی گندم افغانستان اور ترکمانستان میں فروخت ہورہی ہے اس لئے یہ بحران پیدا ہوا جس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے ‘‘۔اس بار بھی حکومت نے3لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد بحران نے سر اٹھایا۔

1947سے اب تک آٹے کی قیمتوں کا موازنہ

 1947میں گندم کی قیمت خرید 26پیسے فی کلو تھی ۔لیاقت علی خان کے دور میں 1947سے1951تک آٹا 20پیسے فی کلو اور خواجہ ناظم الدین کے دور میں( 1951تا 1953) اس کی قیمت 75پیسے فی کلو تھی ۔جنرل (ر)ایوب دور میں آٹا50پیسے اور بھٹو دور میں 1 روپے کلو میں بکا۔1967میں 36پیسے فی کلو تھی ۔اسی دور میں پاکستان گندم کی قلت کے باعث امریکی گندم کی اہم مارکیٹ بنا ۔ 1973میں گندم کی قیمت 63پیسے فی کلو کردی گئی تاہم راشن سے آتا 8آنے فی سیر ملتا تھا ۔جنرل (ر)ضیاء دور میں آٹے کی قیمت اڑھائی روپے کلواور بے نظیر دور میں ساڑھے تین روپے کلو ہوگئی ۔ 1990-91میں آٹے کی اوسط قیمت ساڑھے تین روپے فی کلو تھی۔ اس میں 1993میں ایک رو پیہ فی کلو کا اضافہ ہوا ۔ جولائی 1996میں آٹے کی قیمت 7 روپے کلو تک جاپہنچی۔ 2000-1میں آٹے کی قیمت 10روپے کلو ہوگئی ۔ 2004 میں 12روپے اور جولائی 2006میں یہ قیمت 13 روپے فی کلو، اپریل 2007میں 14روپے فی کلو، 2010 میں 20 روپے اور 2015تا2017-18میں 30 روپے فی کلو رہی۔ نواز شریف کے پہلے دور میں ایک روپیہ کا اضافہ ہوا جبکہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں یہ قیمت 6روپے60پیسے کلو اور نواز شریف کے دوسرے دور قیمت 5 روپے کلو تھی۔ مشرف دور میں آٹا 16روپے 50پیسے کلو میں بکا۔تاہم 2007میںآنے والے بحران کے بعد اس کی قیمت 20روپے تک جا پہنچی۔ زرداری دور میں یہ 23روپے اور پھر نواز شریف کے دور میں 30روپے کلو تک رہی ۔عمران خان دورمیں قیمت 70روپے کلو تک جاپہنچی ہے ۔

اب کیا کیا جائے؟

دونوں منتخب ایوانوں میں بیٹھے اراکین اسمبلی کی کثیر تعداد ٹیکسٹائل ،چینی ،کھاد اور گندم کے کاروبار سے جڑی ہوئی ہے ان حالات میں کسی کے خلاف کارروائی سراب کے سوا کچھ بھی نہیں کہی جاسکتی ۔جس طرح ماضی میں چینی مافیا اپنے خلاف ہونے والی کارروائی رکواتا رہا ہے اسی طرح یہ معاملہ بھی وقت کی دھول میں گم ہوجائے گا۔ مستقبل کو محفوظ بنانے کی خاطر ایسا کرنے والے اہلکاروں کا محاسبہ بھی کرنا ضروری ہے ۔عام فرد کی چمڑی اتارنے والوں کی چمڑی اتارنے سے ہی حالات بہتر ہوں گے ۔

 

مزید پڑھیں

بہاولپور جاتے ہوئے دریائے ستلج کا پل عبور کریں تو ایک لمحے کیلئے تاحد ِ نظر پانی کے بجائے ریت ہی ریت کا منظر مبہوت کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک ک ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پشاورمیٹرو پراجیکٹ ڈیڈلائن پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل ہیڈلائنز میں رہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اِس معاملہ پر چُپ سادھ لی ہے ۔    

مزید پڑھیں

انسان کی نسل درنسل مسلسل مجموعی زندگی کا تسلسل بھی ریل گاڑی کے آپس میں جڑے ہوئے ڈبوں کی طرح ہے ،وقت جس طرح زندگی کو سفر میں رکھتا ہے    

مزید پڑھیں

1952 میں مقبوضہ کشمیراسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ’مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور انڈیاکی جائیداد نہیں۔    

مزید پڑھیں