☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(محمد رمضان) عالمی امور(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کچن کی دنیا() انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(روہاب لطیف) خواتین() خواتین() خواتین() رپورٹ(طاہر محمود) متفرق(آسیہ پری ) متفرق(آمنہ وحید)
جنوبی پنجاب کی نہروں میں دھْول اڑتی ہے !

جنوبی پنجاب کی نہروں میں دھْول اڑتی ہے !

تحریر : محمد رمضان

01-26-2020

بہاولپور جاتے ہوئے دریائے ستلج کا پل عبور کریں تو ایک لمحے کیلئے تاحد ِ نظر پانی کے بجائے ریت ہی ریت کا منظر مبہوت کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ انجینئرز کی مخالفت کے باوجود سندھ طاس معاہدے کے تحت جنوبی پنجاب کی اراضی کو سیراب کرنے والے دریائے ستلج ،دریائے بیاس اور دریائے راوی کو انڈیا کے حوالے کردیا گیا۔

دریائوں کو بیچنے کا یہ انوکھا معاہدہ تھا اس طرح جنوبی پنجاب کی نہروں کو تربیلا ڈیم سے لنک کردیا گیا جو مٹی جمع ہونے سے اپنی افادیت کھو رہا ہے ان نہروں میں آج پانی کے بجائے ریت اُڑتی ہے۔ 2010کے تباہ کن سیلاب سے چند روز پہلے کے دو واقعات ایسے ہیں جس میں ایک واقعہ میں عوام سراپا احتجاج ہوئے جب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم اور پانی کی عدم دستیابی کے خلاف جام پور سے اونٹ گاڑیوں پر لاہور تک ایک قافلے نے مارچ کیا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے تین دن تک دھرنا دیا،چولستانیوں نے جو پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں نے میلوں کا سفر کرکے کمشنر آفس بہاولپور کا گھیرائو کیا تھا۔

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی طرف سے سرائیکی وسیب کے حصے کے پانی میں کمی کرنے سے ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے نہری زونوں کی چار بڑی نہروں میں پانی کی کمی ساڑھے دس ہزار کیوسک ہو گئی ہے ،پانی کی کمی سے گندم کی آمدہ ،سبزیات اور آم کے باغات سمیت فصلات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں پینے کا پانی بھی کم دستیاب ہے۔ ڈیرہ غازی کینال میں پانی کی کمی سے سینکڑوں دیہاتوں میں پینے کے پانی کی کمی ہوگئی ہیں ۔دوسری طرف ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ارسا کی طرف سے پانی کی فراہمی میں کمی سے گندم کے علاقوں میں نہروں کا وارہ بندی شیڈول درہم برہم ہو گیا ہے ۔محکمہ انہار ڈیرہ غازی خان زون کے زیر انتظام ڈیرہ غازی خان کینال ڈی جی خان کینال میں پانی کی کمی 37ہزارکیوسک تک ڈیرہ غازی خان کینال کو 9ہزارکیوسک ڈیمانڈ کے بدلے صرف 13ہزارکیوسک پانی دیا جا تارہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سینکڑوں دیہی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے پینے کا پانی کا بھی واحد ذریعہ یہی نہر ہے ان علاقوں میں جو اس نہر کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے ۔

مظفر گڑھ کینال میں پانی کی کمی 73ہزارکیوسک سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ مظفر گڑھ کینال کیلئے پانی کی ڈیمانڈ 9ہزارکیوسک ہے اور اسے صرف 13سوکیوسک پانی دیا جارہا ہے ۔مظفر گڑھ میں آم ،انار کے باغات پانی نہ ملنے سے متاثر ہورہے ہیں سبزیات اور چارہ جات کی فصلیں بھی مرجھانے لگتی ہیں زیر زمین پانی کم ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی اس کی زد میں ہیں ہر طرف سے پانی کی صدائیں آرہی ہیں۔ محکمہ انہار ملتان زون کے زیر انتظام شجاع آباد برانچ (ششماہی نہر))میں بہت کم پانی دیا جاتا ہے، ملتان برانچ بند کر دی گئی ہے۔ صوبائی زراعت آبپاشی کے ذرائع کے مطابق ارسا کی طرف سے پانی کی کمی خطر ناک صورت حال اختیار کر گئی ہے اور نہروں کی وارہ بندی شیڈول کے تحت چلانا بھی مشکل ہے ۔کچھ عرصہ قبل وزارت آب پاشی کے کنسلٹ ایم ایچ صدیقی کی طرف سے حویلی کینال سرکل کے ایس ای ریاض مجید کو خصوصی تار بھی بھیجی گئی تھی جس میں بتایا گیا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی( ارسا) کی طرف سے پنجاب کے پانی میں کٹوتی کی وجہ سے نہروں میں پانی کم ہے۔محکمہ زراعت کے ماہرین گندم کی کاشت کو اتنا حساس قرار دیتے ہیں اگر کاشت ایک دن لیٹ ہو جائے تو اس کی فی ایکڑ پیداوار کے حساب سے کم ہو جاتی ہے جس سے صرف سرائیکی وسیب کا کاشتکار ہی نہیں ملکی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔پچھیتی کاشت سے آنے والی فصل بھی متاثر ہوئی ہے لیکن حکمران تمام باتوں کا علم ہونے کے باوجود وسیب دشمنی کے نظریئے پر کاربند نظر آتے ہیں۔دھان کی کاشت کو دیر ہونے کے باوجود منگلا کمانڈ کی نہریں لبالب چلتی ہیں اور پانی ضائع ہوجاتا ہے اگر منگلا کمانڈ کا فالتو پانی ہیڈ تریموں بھیج دیا جائے تو کم از کم ملتان زون کی نہریں چل سکتی ہیں اور ملتان زون جو نصف سرائیکی صوبہ ہے میں آمدہ فصل کاشت ہو جائے تو اس کا ملک و قوم کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے مگر ارسا ہر سال منگلا کا پانی ضائع کر دیتے ہیں لیکن سرائیکی وسیب کی طرف آنے نہیں دیتے۔ 1991میں میاں نواز شریف نے پانی کا جو معاہدہ کیا اس میں بھی اُنہوں نے نہ تو اپر پنجاب کا پانی کم کیا اور نہ کسی اور صوبے کا انہوں نے جنوبی پنجاب کی گردن پر چھری چلا کر سندھ کو خوش کر دیا۔

ہیڈ پنجند سے نکلنے والا پانی چاہے دریا کی شکل میں ہو یا نہروں کی شکل میں مظفر گڑھ کو الوداع کرتے ہوئے بہاول پور میں داخل ہوتا ہے۔ حکام کے لئے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ ہیڈ پنجند سے نکلنے والی ساری کی ساری نہریں اوچ شریف سے گزر کر جا رہی ہیں ،جن کے گزرنے سے ایک تو علاقہ میں سیم پھیلی ہے اوردوسری طرف ان تمام نہروں کے پانی کا متعلقہ علاقہ کو نہ ملنا نئی سوچ کو جنم دے رہا ہے ،ہر بیٹھک میںایک ہی بحث ہے کہ نہریں ہمارے سینے چیر کر گزریں اور ہمیں پانی نہ ملے، یہ کیا بات ہوئی۔ رحیم یار خان ،لیاقت پور ،خان پور وغیرہ کے کسانوں کو پانی کی فراہمی مقامی لوگوں کے حقوق کی تلفی ہے ۔

 ہیڈ پنجند سے نکلنے والی نہر پنجند کینال جوکہ اپنی نوعیت کی واحد نہر ہے جو ہیڈ پنجند سے نکل کر ترنڈہ محمد پناہ ،لیاقت پور ،اور رحیم یار خان کے زرعی رقبہ کو سیراب کرتی ہے اسی نہر پر ابتدا میں ریل وے لائن پل پھٹوں والا جوکہ مکھن بیلہ میں واقع ہے کے قریب موگہ نمبر R.D16000جو مکھن بیلہ ،نور پور ،کچی شکرانی ،رسول پور اور بختیاری کے علاقہ کو سیراب کرتا تھا مسلسل چالیس سال سے بند پڑا ہے اس کے علاوہ بہاول واہ نہر سے نکلنے والا موگہ بخت واہ جو دھوڑکوٹ ،بستی جندو ،رتڑ لعل ،عنایت پور ،بکھری ،چناب رسول پور ،سونک بیلہ ،بدھو والی ،اوردیگر زرخیز علاقہ کو سیراب کرتا تھا یہ بھی چالیس سال سے بند پڑا ہے ان کے بند ہونے کی وجہ 1973کا سیلاب بتایا جاتا ہے 1973کا فلڈ تباہی پھیلانے کے بعد یہاں کے مکینوں کو ہمیشہ کیلئے نہری پانی سے محروم کر گیا اسے قہر خداوندی کہا جائے ؟ خدا نے جو قہر سیلابی شکل میں بھیجا تھا وہ آیا اور گزر گیا لیکن حکومتی غفلت اور لاپرواہی کا عذاب ابھی تک لوگ برداشت کر رہے ہیں ۔ 

مملکت خدادا د میں تین بڑے صحرا ہیں جو جنوبی پنجاب میں واقع ہیں یہ تھر ، چولستان اور تھل کے نام سے موسوم ہیں خصوصاً تھل کا علاقہ صدیوں سے ایک ویران ریگستان پر مشتمل ہے اس وسیع و عریض علاقہ کی تعمیر و ترقی کی خاطر سندھ ساگر دوآب ایکٹ 1912کی شکل میں تھل کے زمینداروں اور گورنمنٹ پنجاب (انگریزی دور ) کے مابین برضا مندی ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ گورنمنٹ ایک مقررہ عرصے کے اندر تھل میں نہری نظام جاری کرنے کا بندوبست کرے گی اور نہری علاقہ کے زمیندار اس کے عوض اپنے رقبہ کا 3/1حصہ گورنمنٹ کے حوالے کریں گے مگر جنگ عظیم اول اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر گورنمنٹ پنجاب مقررہ میعاد کے اندر نہر لانے سے قاصر رہی حتٰی کہ سندھ ساگر دوآب ایکٹ متذکرہ بالا سال 1932ء میں ختم ہو گیا پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر پاک پنجاب گورنمنٹ کو جب مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ درپیش آیا تو اس سنگین صورت حال میں کثیر تعداد رقبہ کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ کو اس علاقہ کی طرف توجہ مبذول کرنا پڑی کہ کن ذرائع سے یہ کمی رقبہ پوری کی جانی مناسب ہے چنانچہ ان حالات کے پیش نظر تھل ڈویلپمنٹ ایکٹ (TDA)1949ء میں منظور ہوا اور ایک نیم خود مختار ادارہ TDAوجود میں آیا تاکہ مہاجرین کی آباد کاری کا کام جلدی نمٹایا جاسکے اور گنجان آباد اضلاع سے مہاجرین کا بوجھ کم کیا جائے اس پیش رفت میں گورنمنٹ پاک پنجاب نے مختلف نوٹیفیکیشن ہائے کے ذریعے اور ایک فارمولے کے تحت لوکل مالکان سے صرف ضلع لیہ میں دو لاکھ اکہتر ہزار دو سو انہتر ایکڑ رقبہ حاصل کیا واضح رہے کہ تھل کے علاقے میں ضلع بھکر ،ضلع خوشاب ،ضلع میانوالی ،ضلع لیہ ِاور جزوی طور پر ضلع مظفر گڑھ بھی شامل ہے لوکل مالکان سے حاصل کی گئی اراضی گورنمنٹ اپنے تصرف میں لا چکی ہے مگر تھل کے متذکرہ اضلاع کے علاقہ تھل کو آب پاش کرنے کیلئے تھل کینال جاری کی گئی جس میں دس ہزار کیوسک نہری پانی کی کم از کم ضرورت تھی اور صرف ضلع لیہ کی ضرورت 3500کیوسک تھی جبکہ لیہ کو اس وقت صرف 1600کیوسک پانی ملتا ہے ۔

 تھل کینال اریگیشن سسٹم کا پس منظر بڑا دل خراش ہے برصغیر میں یہ واحد اریگیشن سسٹم ہے جس کے لئے مقامی لوگوں سے زمینیں لیکر انہیں آبپاشی کی سہولت دینے کا وعدہ کیا گیا، دس ہزار کیوسک پانی کا وعدہ ہوا مگر آج تک خوشاب ،لیہ ،بھکر ،میانوالی ،مظفرگڑھ کے اضلاع کو پانچ ہزار کیوسک سے زیادہ پانی نہیں مل سکا ان اضلاع کے باسیوں نے یہ اریگیشن سسٹم خرید کیا ہے مگر انہیں ان کا حق مل نہیں رہا ان اضلاع کے لوگوں کو بتایا گیا پانی اس لیئے زائد نہیں مل سکتا کہ تھل کینال جہاں سے نکلتی ہے وہاں زمین کی نیچر اس قسم کی ہے کہ نہر کے پشتے پانی کا زیادہ بوجھ سہار نہیں سکتے آخر کار 1995میں یہ نوید سنائی گئی کہ تھل کینال کی ریماڈلنگ کا منصوبہ منظور ہو چکا ہے لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ اس کے مقابلے میں لوئر چناب کینال کی ری ماڈلنگ کر دی گئی مذکورہ اضلاع ابھی تک پانی کی مطلوبہ مقدار کو ترس رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع لیہ کی تحصیل چوبارہ جسے مشرف دور میں پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل قرار دیا گیا ،بھکر کی تحصیل منکیرہ ،خوشاب کی تحصیل نور پور تھل ،اور مظفر گڑھ میں رنگ پور کے علاقہ کو جہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بے آب و گیاہ صحرا ہیں جہاں زندگی پانی کی بوند بوند کو ترستی ہے کو سیراب کرنے کیلئے گریٹر تھل کینال کا منصوبہ بنا جس کا افتتاح سابق صدر پرویز مشرف نے 16اگست 2001 کو آدھی کوٹ تحصیل نور پور تھل کے مقام پر کیا ۔منصوبے کو 7 سال میں مکمل کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہوا ۔پہلے فیز میں مسلم لیگ ق کے دور میں آدھی کوٹ تا پلواں 20کلومیٹر میں نہر اور اس سے نکلنے والی چھوٹی نہریں منکیرہ برانچ ،رنگ پور اور راہداری ڈسٹری بیوٹر مکمل کی گئیں اور انہیں مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ محکمہ اریگیشن کے حوالے کیا جاچکا ہے لیکن دوسرا فیز جس کے تحت چوبارہ برانچ ،ڈنگا برانچ اور نور پور تھل برانچ پر18برس گزرنے کے باوجود کام شروع نہیں ہوسکا ۔جس کی بنا پراس اہم منصوبہ کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر فضل حسین سمراء مرحوم نے جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کے پانی کے مسئلہ کو پنجاب اسمبلی میں اجاگر کیا۔ اُنہوں نے26 فروری2003کو پنجاب کے حکمرانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ تھل کینال اریگیشن سسٹم ضلع خوشاب ،بھکر ،لیہ اور جزوی طور پر مظفر گڑھ کو سیراب کرتا ہے اس منصوبے سے لیہ ،بھکر،خوشاب ،مظفر گڑھ اورجھنگ کی 19لاکھ18ہزار ایکڑ بنجر وغیر آباد ارضی سیراب ہوگی ۔اسے مکمل کیا جائے۔

بھارت نے ہمارے حصے کے پانی پر ڈیمز بنا کے ہماری اراضی تک رسائی کو روک دیا ہے۔یہاں فصلوں کوبارش کے پانی کی دستیابی 15فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ہمارا قابل کاشت رقبہ 7.7کروڑ ایکڑ ہے جس میں سے صرف 3.6کرور ایکڑ نہری پانی سے سیراب ہوتا ہے۔ اگر پورا پانی مل جائے تو2.25کروڑ ایکڑ زمین پر اچھی فصل حاصل کی جا سکتی ہے ۔ہرسال 3.52کروڑ ایکڑ فٹ پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے ، اس مقدار کو کم اورپانی کی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کر کے کسانوں کے مسال میں کمی کی جاسکتی ہے۔ گریٹر تھل کینال وقت کی ضرورت ہے اسے انتہائی جلدی مکمل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ 

مزید پڑھیں

پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار 25ملین (2.5 کروڑ) ٹن ہے جبکہ ماہانہ ضرورت 20لاکھ ٹن ہے۔پنجاب 1.90 کروڑ ٹن گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے ۔ مہنگ ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پشاورمیٹرو پراجیکٹ ڈیڈلائن پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل ہیڈلائنز میں رہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اِس معاملہ پر چُپ سادھ لی ہے ۔    

مزید پڑھیں

انسان کی نسل درنسل مسلسل مجموعی زندگی کا تسلسل بھی ریل گاڑی کے آپس میں جڑے ہوئے ڈبوں کی طرح ہے ،وقت جس طرح زندگی کو سفر میں رکھتا ہے    

مزید پڑھیں

1952 میں مقبوضہ کشمیراسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ’مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور انڈیاکی جائیداد نہیں۔    

مزید پڑھیں