☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
مودی کا اقتدارسمٹ رہاہے

مودی کا اقتدارسمٹ رہاہے

تحریر : عبدالماجد قریشی

02-02-2020

بھارتی مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال سے پہلے ہم ماضی میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں جب بھارتی حکومت نے کشمیری رہنمائوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے، انہیں کئی طرح کے مقدمات میں ملوث کر کے موت کی سزائیں دینا شروع کردی تھیں۔یہ الگ بات ہے کہ اب تو پورے کشمیر کو ہی سزا دے دی گئی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نریندرمودی کو اپنی انتہا پسندی کی سزا مل رہی ہے ،اعتدال پسند ہندو بھی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ بھی نریندر مودی کو تخت سے اتارنے کے جتن کر رہے ہیں ۔فروری میں ہی بھار ت نے دو اہم کشمیری رہنمائوں پرجھوٹے سنگین مقدمات بنا کر سزائیں دی تھیں۔ پہلے کچھ ان کا ذکر کرتے ہیں ۔ پھربھارت میں نریندر مودی کے سکڑتے ہوئے اقتدار کی بات بھی کریں گے۔

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے فرضی کیس میں کشمیری نوجوان محمد افضل گورو کو 9فروری 2013 نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں انتہائی خفیہ طور پر پھانسی دیدی گئی اور انکی میت کو ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے تہاڑ جیل کے اندر ہی انکے سیل میں دفنا دیا گیا۔ جیل حکام کے مطابق افضل گورو اس وقت اداس ہونے کے بجائے پرسکون تھے اور خوش اور صحت مند تھے۔ افضل گورو کی پھانسی کیخلاف آزاد کشمیر حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق اور بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نے اس عدالتی قتل کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں چار روز کی ہڑتال کی کال دی تھی۔
افضل گورو کو جو نئی دہلی میں ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے اور اپنی تعلیم کے تیسرے سال میں تھے، 13 دسمبر 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیکر حراست میں لیا گیا تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس میں انہیں 2004ء میں پھانسی کی سزا سنائی اور 20 اکتوبر 2006ء کو انہیں پھانسی دینا طے ہوا تاہم انکی اہلیہ تبسم کی رحم کی اپیل پر اسوقت کے بھارتی صدر نے انکی سزا پر عملدرآمد معطل کردیا جبکہ16 نومبر کو بھارتی صدر نے افضل گورو کی رحم کی درخواست مسترد کرکے وزارت داخلہ کو واپس بھجوا دی۔پھانسی والے دن اچانک انہیں صبح 5 بجے جگا کر پھانسی دینے کی اطلاع دی گئی اور صبح 8 بجے انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ 
 بھارتی پارلیمنٹ پر 13 دسمبر 2001ء کے حملے کو بھارتی تاریخ کے متنازعہ ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس روز جن پانچ افراد نے بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا، ان تمام کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کردیا تھا جبکہ اس حملے میں ایک مالی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا تھا۔ بھارت نے اس حملے کا الزام عسکریت پسند تنظیم جیش محمد پر عائد کیا اور کہا کہ اس تنظیم کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے جبکہ بعدازاں افضل گورو کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیکر گرفتار کرلیا گیا جن کا شمار جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سرگرم کارکنوں میں ہوتا تھا۔ اس پس منظر میں ہی پوری دنیا پریہ حقیقت منکشف ہوچکی تھی کہ افضل گورو کو ناجائز طور پر اس حملہ میں ملوث کیا گیا ہے جبکہ کشمیری عوام افضل گورو کی پھانسی کو کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے بدترین ریاستی ہتھکنڈے سے تعبیر کررہے ہیں اور اس زیادتی پر آزاد کشمیر ہی نہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام ابھی تک بھی سخت غم و غصہ کی کیفیت میں ہیں۔ 
بھارتی میڈیا پر مبصرین کی یہ آراء بھی سامنے آرہی تھیں کہ آئندہ انتخابات میں اس وقت کی بھارتی حکمران کانگریس نے بی جے پی کی سیاست کیخلاف پوائنٹ سکور کرنے کیلئے افضل گورو کی پھانسی کیلئے موجودہ وقت کا انتخاب کیا ہے تاہم یہ حکمت عملی بھارتی حکومت کو مہنگی پڑی کیونکہ اس وقت کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد میں متحرک تھے اور دنیا بھر سے انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انکے خود ارادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ افضل گورو کی پھانسی سے کشمیری عوام میں اپنی آزادی کی جدوجہد کو فیصلہ کن مرحلے تک لے جانے کیلئے ایک نیا جذبہ پیدا ہوگیا ۔افضل گورو کے معاملے میں کئی رخ ایسے ہیں جن پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ افضل گورو کو اس کیس میں اپنے دفاع کیلئے کماحقہ وکیل آخر کیوں فراہم نہ کیا گیا؟ کیس کے آغاز میں ہی اگر قانونی مشیر میسر آ جاتا تو صورتحال قدرے مختلف ہوسکتی تھی۔ دوسری بات یہ کہ افضل گورو کے خلاف مقدمہ واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر چلایا جاتا رہا اور اسی پر فیصلہ سنادیا گیا۔ حالانکہ افضل کا براہِ راست حملوں میں ملوث ہونا یا معاونت فراہم کرنا کہیں بھی ثابت نہ ہو پایا تھا۔ فیصلے میں باقاعدہ لکھا گیا کہ یہ سزا مکمل قانونی شہادتوں کی غیر موجودگی میں صادر کی گئی ہے بلکہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے سنائی گئی۔ کیا ایک بیگناہ کا لہو اتنا غیر اہم ہے کہ عوامی جذبات کی تسکین کیلئے اسے بہا دیا جائے؟ کیا افضل گورو بھارتیوں کے لئے مسیحا بن کے آیا تھا کہ اسے قوم کے گناہ دھونے کے لئے یوں تختہ دار پر چڑھا دیا جائے؟
افضل گورو کو آخر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا گیا؟ اس سوال کے بہرکیف بھارت کی عدلیہ، سرکار اور عوام سب جوابدہ ہیں۔ گرفتاری کے بعد چھ ماہ تک اسے کوئی وکیل فراہم نہ کیا جانا اور پھر تشدد کے ذریعے اعترافی بیان وکیل کی غیر موجودگی میں قلم بند کرنا بھی بھارت کی اعلی عدلیہ کے طریقہ عدل پہ سوالیہ نشان کھڑے کرنے کو کافی ہیں۔ افضل گورو کیس میں جس عجلت کا مظاہرہ بھارت نے کیا اس کی مثال ڈھونڈنا ممکن نہیں۔ پارلیمنٹ حملہ کیس میں جون 2002 میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے صرف 197 دنوں بعد اسے فیصلے کی صورت موت کا پروانہ تھما دیا گیا۔ اس کیس کی تحقیقات پہ مامور دہلی کے سپیشل پولیس سیل نے 17 دنوں میں تحقیقات مکمل کر کے بھی حیران کن پھرتی کا مظاہرہ کیا۔دہلی کی تہاڑ جیل میں ہی افضل گورو سے پہلے11 فروری 1984کو تختہ دار پر چڑھائے گئے فرزند کشمیر شہید مقبول بٹ کی 36ویں برسی بھی قریب ہے۔ شہید محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسی پر وادی میں کشمیریوں نے مکمل ہڑتال کا پروگرام بنایا ہے۔ جلسے جلوسوں اور مظاہروں میں بھارتی حکومت سے مقبول بٹ کا جسد خاکی کشمیریوں کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ مقبول بٹ کی والدہ شاہ مالی بیگم نے کہا کہ ان کے شہید فرزند محمد مقبول بٹ کے مشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ہر گھر میں ایک مقبول بٹ موجود ہے۔ اگر محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو دہشت گرد تھے تو ان کی برسیوں پر کشمیری ماتم کدہ کیوں ہیں۔ ان کی نعشیں واپس کیوں نہیں دی گئیں۔ 
 محمد مقبول بٹ کی پامردی اور شجاعت و قربانی قومِ کشمیر کیلئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔ غیر قانونی اور جبری قبضے اور ظلم و جبر کے خلاف مقبول بٹ نے اکیلے اپنی جدوجہد شروع کی لیکن جلد ہی ساری قوم جاگ اٹھی اور ایک تاریخ ساز عوامی انقلاب پبا کیا۔مقبول کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے ایک اور کشمیری محمد افضل گورو نے بھی مقدس مقصد کیلئے تختہ دار کو چوما اور ہمیشہ کی زندگی پاگئے۔ کشمیری اپنے ان شہداکی قربانیوں اور جدوجہد کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرسکتے۔ جس طرح سے محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو تہاڑ جیل کے اندر تختہ دار پر لٹکادیا گیا اور انکی اجساد خاکی تک کو ورثاکے حوالے کرنے سے انکار کیا گیا وہ بھارت کے ظالمانہ اور جابرانہ رویے کی واضح اور روشن دلیل ہے۔
سامراجی قوتوں اور ان کے ایجنٹوں نے مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کو ترک کر دیں گے لیکن سامراج کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ جبکہ شہادتیں تاریخ کے دامن میں عارضی اور غیرمستقل مزاج واقع نہیں ہوتیں بلکہ شہادتیں آنے والے دور میں شعور و آگہی کو ابھارتی ہیں۔ شہادتیں آزادی پسندوں کوشہید ہونے کا درس دیتی ہیں۔ شہادتیں تحریکوں کوجنم دیتی ہیں ۔شہید زندہ ہوتا ہے کیونکہ وہ شہید ہو کر تاریخ کے صفحات میں دائمی حیات حاصل کر لیتا ہے۔ شہادتیں کسی قوم کے اجتماعی شعور اور خودداری کی عکاسی کرتی ہیں ۔شہید شہادت کے بعد ایک سوچ بن کر قوم کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرتا ہے۔مقبول بٹ کی روح آج بھی سامراجی قوتوں اورانکے ایجنٹوں کے اعصاب پر خوف کے سائے کی طرح منڈلا رہی ہے جس سے وہ پیچھا چھڑانے کی جتنی بھی کوشش کر لیں یہ سایہ انکا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
قوموں میں ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ مقبول بٹ مزاحمت اور بغاوت کا ثبوت اور استعارہ ہے تحریک آزادی کشمیر کی روح ہے۔ مقبول بٹ نے زندگی کے انتہائی اہم مرحلے میں اپنی زندگی وطن پر قربان کرکے آنے والی نسلوں کو یہ درس دیاکہ آزادی دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے ۔مقبول بٹ اپنی زندگی خوشحال گزار سکتا تھا لیکن اس نے اپنی زندگی مادروطن کی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور خوشحالی کیلئے وقف کردی۔ حق کو جتنا دبایا جائے وہ اتناہی ابھرتا ہے حق کی قوتوں ،عوامی حقوق ،خودداری ،عزت نفس اور آزادی کا علمبردار مقبول بٹ شہید اتناہی مقبول عام اور عالمگیر ہوتا جا رہا ہے جتنا اس کوگمنام اور محدود کرنے کی سازشیں کی جاتی رہیں۔مقبول بٹ ایک غیرت مندکشمیری تھا۔جس نے آنکھیں غلامی میں کھولیں اوراپنے گرد وپیش میں ہر کسی کو بھارتی مظالم سہتے پایا۔ اپنے ہم وطنوں کی آہ وپکارسنی اور ان کے درد پر آہیں بھرنے اورخون کے آنسو بہانے کے بجائے کچھ کرنے کا عہدکیا۔دنیا میں خود تکلیف میں مبتلا ہو کر دوسروں کو آرام دینے والوں کی تعداد کم رہی ہے۔لیکن مقبول بٹ کا تخت و تاج کو ٹھکرا کر تختہ پر لٹک جانا منفرد بات ہے۔انہیں مختلف عہدوں کی پیشکش بھی ہوئی تھی۔لیکن ان کے سامنے اس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ کیوں کہ وہ اپنے لئے نہیں ، قوم کے لئے جینے کا جذبہ رکھتے تھے۔بھارت1947 سے بندوق کی نوک اور طاقت کے بل بوتے پرکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ غیراخلاقی قبضہ کبھی بھی مستقل بنیادیں حاصل نہیں کر سکتا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ہونے کا دعویدار بھارت آج کشمیری قوم کی نسل کشی اور جنت ارضی کے حسن کو تاراج کر رہا ہے۔ نام نہاد مہذب دنیا اور اقوام عالم کو کشمیریوں کا خون ،آہیں ،غم ،سسکیاں، قتل عام اور تحقیر نظر نہیں آتیں۔
یہ کشمیریوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت میں اب نریندر مودی کے اقتدار کا سورج غروب ہوتا جا رہا ہے۔ 
2017 میں بی جے پی بھارت کے 71 فیصد حصے پر برسر اقتدار تھی لیکن ناقص پالیسیوں اور انتہا پسندی کے باعث اس کا کنٹرول سمٹ کر 40 فیصد ریاستوں تک محدود رہ گیاہے۔کل تک بی جے پی کے انتہا پسند کارکن اس بات پر خو ش تھے کہ کانگریس پارٹی کے ہاتھ سے بھارت سے نکل گیاہے ، اب خاموش ہیں۔ ایک ایک کر کے بھارتی ریاستیں مودی کے اقتدار سے باہر ہو رہی ہیں۔ ان کے مصنوعی طلسم کی قلعی کھلتی جارہی ہے۔ 29 میں سے صرف 10 ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ جبکہ چھ ریاستوں میں اتحادیوں اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ ساز باز کر کے حکومت بنا رکھی ہے۔بہار میں بی جے پی جنتا دل یو کی اتحادی ہے تو تامل ناڈو میں صرف حکومت میں شامل ہے مگر قانون ساز اسمبلی میں اس کا ایک بھی ممبر نہیں۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں تھی وہاں اس نے مرکز میں اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھونس ، دھاندلی اور دھمکی سے حکومت بنا لی ۔ گوا میں اسے محض پندرہ نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ کانگریس نے سترہ نشستیں جیتی تھیں مگر تمام اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔ میزو رام ، میگھالیہ اور ناگالینڈ میں بھی یہ اصول اپنایا گیا۔ میگھالیہ میں صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی مگر ساٹھ نشستوں کی اس اسمبلی میں بی جے پی نے نیشنل پاپولر پارٹی، یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی۔ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور ہل اسٹیٹ کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔ میزو رام میں بھی چالیس نشستوں میں سے صرف ایک نشست جیت کر میزو رام نیشنل فرنٹ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ 
گزشتہ برس 30 نومبر سے 20 دسمبر کو جھاڑ کھنڈ اسمبلی کے 5 مرحلوں میں انتخابات ہوئے جن میں قومی پارٹیوں مثلاً بی جے پی، کانگریس وغیرہ کے ساتھ مقامی سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا ۔وہاں پر JMM (جھاڑ کھنڈ مکھی مورچا) ، AJSU (آل جھاڑ کھنڈ سٹوڈنٹ یونین)، JVM (جھاڑ کھنڈ وکاس مورچا) اور دوسری مقامی سیاسی جماعتیں ہیں جبکہ RJD(راشٹریا جنتا دل )بنیادی طورپر بہار سے تعلق رکھتی ہے۔ جھاڑ کھنڈ اسمبلی کی کل 81 نشستیں ہیں جن میں سے 41 نشستیں حاصل کرنے والی جماعت باآسانی حکومت بنا سکتی ہے۔ 2014 میں وہاں پارٹی کی نشستوں کی تعداد کچھ یوں تھی کہ بی جے پی نے 37 ، کانگریس نے چھ نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے علاوہ مقامی جماعتوں میں JMM نے 19، AJSU نے 5، JVM نے 8 نشستیںاور دیگر 6 امیدوار کامیاب ہوئے۔ اس کے برعکس 2019 میں بی جے پی نے 25، کانگریس نے15 اور JMM نے 30 نشستیں حاصل کیں۔ RJD نے 1 ، AJSU نے 3، JVM نے3 اور دیگر 4 امیدوار کامیاب ہوئے۔ 
جھاڑ کھنڈ اسمبلی میں نشستوں کی حالیہ ترتیب کے مطابق JMM اور کانگریس نے مل کر حکومت بنا لی کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں حکومت بنانے کی مطلوبہ تعداد کو بآسانی پورا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح مہاراشٹرا ریاست کے انتخابات میں مقامی سیاسی جماعتوں شیو سینا اور نیشنل کانگریس پارٹی نے کانگریس کا حکومت بنانے میں ساتھ دیا ۔مہاراشٹر کی 288 رکنی اسمبلی میں شیو سینا کو 56 اور بی جے پی کو 105 نشستیں حاصل ہوئی جو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ تھیں۔ لیکن حکومت کی تشکیل سے قبل شیو سینا نے وزارت اعلیٰ مانگ لی۔ بی جے پی اس کے لیے تیار نہ تھی اس لیے دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے سے سیاسی اتحاد توڑ لیا۔ یہاں پر بی جے پی اکیلی بڑی پارٹی ہونے کے باوجود اپوزیشن کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہے۔ایسا ہی بی جے پی نے گوا میں کانگریس کے ساتھ کیا تھا۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، شیو سینا سے اتنے بڑے سیاسی دھچکے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے شیو سینا اور کانگریس کی حکومت بننے سے پہلے ہی انتہائی ڈرامائی انداز میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما اجیت پوار کو اپنے ساتھ ملا لیا اور گورنر کی مدد سے دیوندر فڈ نویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔سپریم کورٹ نے جب فڈنویس کو مہارشٹر اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیاتومطلوبہ اکثریت نہ ہونے پر انھوں نے گنتی سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔اس کے بعد شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے ممبئی کے شیواجی پارک میں اپنے ہزاروں حامیوں کی موجودگی میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وہ شیو سینا کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں۔
2019کے انتخابات میں بی جے پی نے لوک سبھا میں تو سبھی پارٹیوں کو پچھاڑ کر حکومت بنا لی ۔بعدازاں طاقت کے زعم میں مختلف ریاستوں میں علاقائی ،سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال کر نیچا دکھانا چاہا لیکن ان علاقائی جماعتوں نے اپنی سیاست کا قبلہ درست کیااوربی جے پی کے مقابل آکھڑی ہوئیں۔ جھاڑ کھنڈ اور مہاراشٹرا کے انتخابات میں مرکزی حکومت کو منہ توڑ جواب ملا۔ ایسا ہی ایک نظارہ دہلی میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے کیونکہ یہاں فروری 2020 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انتخابی مہم میں بڑی سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں تاہم وہاں بھی وہ کوئی جادو نہیں چلا سکیں گے اگر ایسا ہوا تو یہ بی جے پی کیلئے بڑااپ سیٹ ہوگا۔ بھارتی ریاستیں ایک کے ایک کر کے اس کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہیں۔اس کے برعکس اپوزیشن اپنی انتخابی مہم میں بی جے پی کی انتہا پسندی کے خلاف عوامی ردعمل کو ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے جبکہ بی جے پی اپنے ہندو توا کے ایجنڈے کو لے کر ہی عوام میں جا رہی ہے۔ شیو سینا، بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ سخت گیر قوم پرست ہندو جماعت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن گذشتہ عشرے میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے عروج کے بعد ہندوئوں کی انتہا پسندانہ کا سارا فائدہ بی جے پی کو ہونے لگا تھا۔ بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں ہونے کے باوجود شیو سینا کا اثر مہاراشٹر میں تیزی سے گھٹ رہا تھا ۔بی جے پی اس کی جگہ لیتی جا رہی تھی۔گذشتہ برسوں میں ہجومی تشدد اور شہریت کے ترمیمی بل جیسے سوالات پر شیو سینا کا موقف بی جے پی سے الگ ہے ۔ وہ اپنی سیاست کو نیا رخ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے ساتھ حکومت بنانا شیوسینا کا ماسٹر سٹروک ہے۔ادھر قیادت کے بحران کا شکار اور شکست خوردہ کانگریس ایک اور ریاست میں اقتدار میں آ گئی ہے۔
بھارت کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت اور حالیہ ریاستی انتخابات میں خراب کارکردگی کچھ حد تک عوام کے بدلتے ہوئے موڈ کی غمازی کرتی ہے۔ایوان میں اپوزیشن کی مخالفت اب پہلے سے زیادہ سخت اور شدید ہو گی۔ کچھ عرصے قبل تک پورے بھارت میں بی جے پی کی جو یکطرفہ فضا نظر آتی تھی اس میں یقینی طور پر تبدیلی نظر آ رہی ہے۔بی جے پی کا سورج مئی 2018ء میں ہی غروب ہونا شروع ہو گیا تھا جب وہ کرناٹک میں حکومت سازی میں ناکام رہی۔ ہندی بیلٹ والی تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہو گئی اور وہاں کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ 2019ء سے اب تک سات میں سے بی جے پی کو چار ریاستوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
بی جے پی کی سیاست اور اقتدار کا اگرباریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو حقائق ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دیتے ہیں جو بی جے پی کے لیڈر اب تک کرتے آئے ہیں۔ بھارت میں کل 4120 اسمبلی حلقے ہیں جن میں 1322اسمبلی حلقوں میں ہی بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ دوسری بڑی پارٹیوں کے پاس 409ممبران اسمبلی ہیں ۔ریاستی اسمبلیوں میں آندھرا پردیش میں 175ممبران اسمبلی میں سے محض 2ممبربی جے پی کے ہیں۔ کیرالہ کی 140 سیٹوں میں محض ایک سیٹ بی جے پی کے پاس ہے ۔ پنجاب میں کل 177ممبران اسمبلی میں صرف 3ممبربی جے پی کے ہیں ۔ تلگانہ کی 119اسمبلی سیٹوں میں صرف ایک سیٹ بی جے پی کے حصہ میں ہے ۔ مغربی بنگال کی 244 سیٹیں ہیں جبکہ بی جے پی کے حصہ میں 14سیٹیں ہیں۔ دہلی کی 70سیٹوں میں صرف تین سیٹیں اس کے پاس ہیں۔ پانڈیچری کے 30اسمبلی حلقوں میں کسی پر بھی بی جے پی کوکامیابی نہیں حاصل ہوئی ۔ گو کہ بی جے پی 2014سے اقتدارمیں ہے لیکن پہلے پنجاب پھرمدھیہ پردیش ، راجستھان اورچھتیس گڑھ میں ہاری۔ اب مہاراشٹر اور جھاڑ کھنڈ میں شکست کے بعد بی جے پی کا اقتدار ڈولتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اقلیتیوں کی حالت زار اور ہندو انتہیا پسندی ہے۔ سیکولر ازم تو نجانے کہاں کھو گیا۔ اب تو حکومتی وزیر بھی کھلے عام سیکولر ازم کے خلاف بیانات دے کر اس کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ کچھ عرصہ مزید چلا تو مودی سرکار کے ہاتھوں بھارت کا اقتدار تو جائے گا ہی ، کہیں بھارت بھی ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوجائے۔ یہاں پر اقلیتیں اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ہر اقلیت ایک علیحدہ وطن بنا سکتی ہے۔بی جے پی کی حالیہ انتخابی شکست سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ بہت کم وقت میں ہی بی جے پی کے حوالے سے ووٹروں کی ترجیح بدل ہو گئی ہے۔بھارت کے انتخابی نقشے پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے ۔ ایسے وقت میں جب مرکز میں بی جے پی 2014ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشستیں حاصل کر کے اقتدار میں ہے اور نریندر مودی کے ہاتھوں میں اقتدار کی کمان ہے، یہ مودی سرکار کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں  

مزید پڑھیں