☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
بھارتی بجٹ میں مقبوضہ کشمیر کے فنڈز میں کمی کشمیریوں کو پسماندہ رکھنے کا بھارتی منصوبہ بے نقاب

بھارتی بجٹ میں مقبوضہ کشمیر کے فنڈز میں کمی کشمیریوں کو پسماندہ رکھنے کا بھارتی منصوبہ بے نقاب

تحریر : محمد ندیم بھٹی

02-09-2020

1952 میں مقبوضہ کشمیراسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ’مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور انڈیاکی جائیداد نہیں۔
 

 

کشمیر، کشمیریوں کا ہے۔ہم یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے ہیں۔اور وہاں ہم نے پرامن حل کے لئے زبان دی ہے۔ایک عظیم ملک کے طور پرہم اپنے الفاظ سے نہیں پھر رہے۔ہم نے مسئلہ کشمیر کا حتمی حل کشمیری عوام پر چھوڑ دیا ہے۔اور ہم ان کے فیصلے کی پاسداری کریں گے۔‘‘
مودی نے اب وہی کچھ کیا ہے جسے نہرو نے رد کیا تھا۔اپنے الفاظ سے پھرتے ہوئے انہوں نے مقبوضہ کشمیریوں کے ساتھ حتمی دھوکہ بھی کر دیا ہے۔تاج برطانیہ کی نوآبادیاتی نظام کے حصہ ہونے سے (UN yielding)مسلمانوں کو نوآبادیات بناتے تک کا سفرانڈین ملک پر ضرب کاری کے طور پر آشکارا ہو گا۔میں نے مقبوضہ کشمیر میں دو دن گزارنے کے بعد دہلی واپس آنے والے ایک صحافی سے استفسار کیا تو میرے سوال کے جواب میں اس نے صرف اتنا کہا۔۔۔۔۔’’فلسطین‘‘۔۔۔مطلب واضح تھا۔۔یہ خطہ کالونی بن گیا ہے۔اس کا کوئی مستقبل نہیں۔
آئین کا یہ آرٹیکل منسوخ کرتے وقت نریندر مودی نے کچھ بیانات جاری کئے تھے۔پہلی بات یہ کی تھی کہ یہ آرٹیکل کشمیر کی ترقی کے راستے کی رکاوٹ بن گیا ہے،اسے منسوخ کرنے سے سرمایہ کاری کے دروازے کھل جائیں گے۔ مودی کی باتوں سے ایسا لگاکہ آئین کا آرٹیکل 370کشمیر کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔کیا یہ سچ ہے؟ثابت کریں ،آپ کے پاس کیا دلائل ہیں؟ 
آپ یہ بھی ہیں جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی معیشت دوسری ریاستوں سے کہیں بہتر تھی۔ عالمی بینک کی رپورٹ اگر مودی صاحب کی نظر سے گزری ہو تو اس میں 32 ریاستوں اور یونین ٹریٹریز سے اچھی کاکردگی کشمیر کی تھی۔بھارتی حکومت نے وہاں بجلی اور گیس کی سہولت ہی مہیا نہیں کی جس سے ترقی متاثر ہوئی ۔اسی طرح ’’سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی‘‘ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مجموعی بے روز گاری کے مقابلے میں دگنی تھی۔ بھارت میں مجموعی بے روزگاری کا تناسب 7 فیصد اور کشمیر میں 16فیصد تھا اس فرق کو ختم کرنا چاہیے تھا۔ اکنامک سروے میں بھارتی کشمیر میں بے روزگاری کا تناسب 24فیصد بتا یا گیا ہے۔DIPPکے اعداد و شمار کے مطابق 2010ء سے 2019 تک کشمیر میں صرف 39 کروڑ روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔جبکہ بھارت میں 1.5لاکھ کروڑ روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں 11000 کروڑ روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ڈیٹاکے مطابق کشمیر میں اندرونی سرمایہ کاری کا تناسب بھی کئی برسوں سے ایک جیسا تھا اس میں کوئی فرق نہیں پڑا۔کشمیر کا حصہ ایک فیصد سے چار فیصد تک ہی رہا ہے۔کشمیر میں گراس فکسڈ ڈیپازٹ میں 2000سے 2019 تک کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ 645کروڑ روپے پر رکے ہوئے ہیں۔ارون جیٹلے کے مطابق کشمیر میں اندر سے سرمایہ کاری نہیں ہو رہی تو کوئی باہر سے کیوں کرے۔ 2016 کی صنعتی پالیسی سے پہلے کشمیر میں19960 اور جموں میں 12380 صنعتی یونٹ قائم تھے۔بھارت کی فوج کشی کے بعد یہ تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہونے لگی۔
مقبوضہ کشمیر کئی اشاریوں میں مودی کے ’’گھر ‘‘گجرات اوران ریاستوں سے کہیں آگے تھا جہاں انتہا پسندوں نے برس ہا برس تک حکومت کی۔کیامودی صاحب نہیں جانتے کہ کشمیر میں غربت کا تناسب فیصد8.1تھا؟ جبکہ پورے بھارت میں غربت کا مجموعی تناسب 29.1 فیصد ہے۔کشمیر بہترین ریاستوں سے بھی اس ضمن میں کہیں آگے تھا۔اقوام متحدہ کے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے مطابق بھی کشمیر سب سے آگے تھا۔اسی اقوام متحدہ کے اشاریوں کے مطابق جس کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں، بھارت کا مجموعی انڈکس 0.639 اورکشمیرکا ہیومن ڈویلمنٹ انڈکس0.679 تھا ۔ کشمیر بھارت سے کہیں آگے تھا۔
 میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ یہ انڈکس بنایا کیسے جاتا ہے، انڈکس کی تیاری کے لئے متعلقہ علاقوں میں تعلیم، صحت اورانفراسٹرکچر کی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر ہی اشاریے بنائے جاتے ہیں کہ کونسا ملک آگے ہے اور کون سا حصہ پیچھے ہے۔مودی جی!آپ کی اپنی ریاست گجرات کشمیر تو کیا بھارت کے مجموعی انڈکس سے کہیں پیچھے تھی۔ گجرات کا انڈکس تھا 0.665 ۔مودی گجرات کو ترقی نہ دے سکے تو اب کشمیر کو کیسے ترقی دیں گے؟، ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ گجرات کے زوال میں سب سے زیادہ کردار آپ ہی کی جماعت کا تھا۔ قتل و غارت گری کے بھیانک ترین واقعات مودی دور کی نشانی ہیں،انہوں نے گجرات میں تفرقہ کوجنم دے کر ترقی کے دروازے بندکردئیے تھے۔کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ جو وزیر اعظم اپنے گجرات میں انسانی ترقی کے اشاریے بہتر نہیں بنا سکا وہ کشمیر کو جیل میں بدل کر ترقی کی منزلیں کیسے طے کرنا چاہتا ہے؟۔
سروے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹروں کی کمی تھی، حکومت کی پالیسیوں نے خو ف و ہراس پیدا کر رکھا تھا ،اس لئے دوسری ریاست سے کوئی بھی ڈاکٹروہاں آنے کو تیار نہیں۔ہسپتال اس لئے خالی پڑے رہے۔ وفاق نے بار بار تشدد کی فضا قائم کر کے ڈاکٹروں اور دوسرے پروفیشنلز کو کشمیر آنے سے روک دیا ۔یہ کیفیت اب بھی جاری ہے۔ اس کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔حکومت کی پیدا کردہ سیاسی بے یقینی کی کوکھ سے جنم لینے والے معاشی بحران نے کشمیر کی معیشت کو 16سو کروڑ روپے کا نقصان پہنچایاہے۔جس سے صنعت جمود کا شکار ہو گئی۔بار بار انٹر نیٹ کی سروس شہریوں نے بند نہیں کی ، یہ کام حکومت نے ہی سرانجام دے کر سرمایہ کاری کو روک دیا ہے۔ ان حالات میں اگر کسی نے سرمایہ کاری کر لی ہے تو اسے سیلوٹ ہی کرنا چاہیے ۔اس کی ہمت کی دادا دینا چاہیے ۔
مودی کے پانچ برسوں میں کشمیر میں سب سے زیادہ تشددہوا۔ کئی ریاستوں میں دس دس سال تک مرکز کا رول قائم رہا و ہاں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ 2015 سے2018تک کشمیر پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکمرانی تھی جوبھارتیہ جنتا پارٹی سے لاکھ درجے بہتر تھی۔امن و امان کی صورتحال کشمیر میں مودی کے گجرات سے کہیں بہتر تھی۔نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو کے مطابق کرائم ریٹ0.1(فی لاکھ جرائم)تھا ،سب سے کم جرائم کشمیر میں ہوئے تھے ۔مودی راج میں گجرات جرائم کاگڑھ بن گیاتھا، جو رہنما اپنے گجرات کو نہ سنبھال سکا ،وہ اب آر ایس ایس راج کی مدد سے کشمیر کو کیسے سنبھالے گا۔ گجرات میں کرائم ریٹ 24.5اور بھارت میں مجموعی طور پر 20.6تھا۔ جس سے صاف ظاہر ہوا کہ سب سے پرامن ریاست کشمیر تھی جس کے لوگ چوری چکاری اور وقتل غارت گری سے کوسوں دور تھے ۔ بہتر تو یہ تھا کہ ریاست گجرات کے چارحصے کرکے اسے یونین بنا کر مرکز کے کنٹرول میں دے دیا جاتا لیکن انہوں نے یہ حرکت کشمیر کے ساتھ کر دی۔
آئین کے آرٹیکل 371کے تحت بھارتی حکومت تمام یونین ٹریٹریز اور ریاستوں کو مساویانہ ترقی دینے کی پابند ہے۔اگر ماضی میں اس نے کشمیر کو ترقی نہیں دی تو اس میں کشمیریوں کا کوئی قصور نہیں اس پسماندگی کی ذمہ داری خود بھارت پر عائد ہوتی ہے۔آئین کے تحت ترقیاتی بورڈز بھی بنائے جا سکتے ہیں جو کہ مقبوضہ کشمیر میں نہیں بنائے گئے۔
اگر دیکھا جائے تو ہری سنگھ نے انڈین حکومت کو صرف تین محکمے دئیے تھے، مواصلات ، دفاع اور خارجہ امور۔ دیگر امور کا انڈیا سے کوئی تعلق نہ تھا۔اسی خود مختاری کے اصول کومدنظر رکھتے ہوئے بعدازاں انڈین حکومت نے آرٹیکل 370جاری کیا تھا۔اسے منسوخ کر کے سب سے پہلے بھارت نے کشمیر کے آئین کی خالف ورزی کی ہے۔ ہری سنگھ نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جائیدادوں کی خریداری سے روک دیا تھا۔لہٰذا یہ آرٹیکل زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ہری سنگھ مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی جانب سے جائیدادوں کی خریداری میں دل چسپی کو دیکھتے ہوئے اس آرٹیکل پر آمادہ ہوئے تھے ، یہ آرٹیکل ان کے ہی دور میں جاری کیا گیا تھا۔بعد ازاں جب اسے منسوخ کیا گیا تو اس پر نا صرف مقبوضہ کشمیر میں احتجاج ہوا تھا ، عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی تھی۔اسی لئے چند ہی برسوں کے اندر اندر آرٹیکل 370کو دوبارہ نافذ کر دیا گیا تھا۔
ہری سنگھ نے صاف طور پر کہ دیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوکریاں نہیں ہیں۔کیونکہ بھارتی حکومت نے وہاں کبھی ادارں کو ترقی کرنے کا موقع ہی نہیں دیا،بار بار فوج کشء کی صورت میں بھلا کون سرمایہ کاری کرے گا۔ کئی شعبوں میں انڈین حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو اختیارات ہی نہیں دیئے۔ ضرورت کے باوجود فضائی کمپنی نہیں بننے دی گئی ،سیر و سیاحت کی انڈسٹری مفلوج رہی ۔ انڈیا نے ترقیاتی منصوبے نہ دے کر اسے پسماندہ رکھا۔ دقیانوسی کشتیوں کے سوا سیر و سیاحت کا کوئی طریقہ دستیاب نہیں۔ انڈین حکومت سے مستقبل میں بھی کوئی امید نہیں۔ کیونکہ اس نے اب تک جن درجن بھر ریاستوں کو یونین بنا کر ہڑپ کیا ہے وہاں کئی عشروں بھی ترقیاتی کام نہیں ہوسکے۔ ان ریاستوں میں غربت اور پسماندگی دوسرے علاقوں کی بہ نسبت دگنی ہے۔ تامل ناڈو ،میزو رام ،منی پور،ناگالینڈ کی مثال لے لیجئے، وہاں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں جو اب مقبوضہ کشمیر یں بہنا شروع ہو جائیگی ۔ جن ریاستوں میں آئین نافذ ہے وہاں بھی سرمایہ کاری حکومت کی پالیسیوں کے مطابق ہی گی ۔ انڈین حکومت نے اقلیتوں کے علاقوں میں خوشحالی لانے والی پالیسی 70برسوں میں جارہی نہیں کی۔ دلیت آج بھی پسماندہ ترین لوگ ہیں۔ان کی ریاستوں میں غربت کی شرح ریاستوں کی با نسبت دگنی ہے۔
 اگر نریندرمودی اور ان کا گروپ کشمیر سے مخلص ہوتا تو نئے بجٹ میں کشمیر کے لئے مناسب حصہ رکھتے لیکن چند روزقبل جس بجٹ کا اعلان کیا گیا ہے اس میں کشمیری پولیس کے فنڈز میں کٹوتی کر لی گئی ہے۔ ایک طرف تو کہا جا رہا ہے کہ کشمیری نوجوان پولیس میں بھرتی کے لئے تیار ہیں، دوسری طرف پولیس کے فنڈز میں کمی کے ذریعے بھرتی کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔وہاں مرکزی حکومت کی فورسز کے لئے اضافی وسائل رکھے گئے ہیں یعنی نریندر مودی کشمیر کو مستقل طور پر مرکز سے کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ نئے بجٹ میں کشمیر کے لئے صرف 30757کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جن کا بڑا حصہ وفاقی فورسز پر خرچ ہو جائے گا۔ وہاں صنعتی ترقی ،بجلی ، گیس، تعلیم اور ہسپتالوں کے فنڈز میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔یہ کام نجی شعبے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔کشمیر کے لئے رکھے گئے فنڈز میں یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ ان میں سے جموں کے لئے کتنے وسائل رکھے گئے ہیں ۔مجموعی حجم بتا کر کشمیریوں اور دنیا کو دھوکادیا گیا ہے۔ان فنڈز سے کشمیر میں ترقی کا کوئی امکان نہیں۔
مسٹر مودی!:۔آپ کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 370دہشت گردی کا سبب بنا تھا۔آپ کی دوسری باتوں کی طرح یہ الزام بھی بے سروپا ہے۔ بلکہ یہ حقائق کے الٹ ہے۔آئین میں آرٹیکل 370 کل شامل نہیں کیا گیا،یہ 1956میں شامل کیا گیا تھا۔ آئین میں شامل ہونے کے بعد 30برس تک ایک پتہ بھی نہیں ہلا۔1980ء کی دہائی تک کشمیر میں کسی قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،وہ آزادی ضرور مانگتے رہے مگر آئین کے اندر رہتے ہوئے۔انہوں ے حضرت قائداعظمؒ سے یہی سیکھا تھا کہ کبھی توڑ پھوڑ نہیں کرنی ، کبھی قانون سے بالاتر کوئی حرکت نہیں کرنی۔اس لئے سب کچھ قانون کے دائرے میں جاری رہا۔ایسا کیا ہوا کہ تین پرامن دہایئوں کے بعد کشمیر میں شعلے بھڑک اٹھے؟اگر آپ کی دلیل مان لی جائے کہ دہشت گردی کی جڑ آئین کا آرٹیکل 370ہے تو پھر اس کے نفاذ کے بعد تین دہائیوں تک ایک   آدمی بھی کیوں قتل نہیں ہوا، وہاں ایک فوجی رکھنے کی ضرورت بھی کیوں پیش نہیں آئی؟پھر 1980ء کی دہائی میں ایسا کیا ہوا کہ یک دم آگ بھڑک اٹھی؟بتایئے مسٹر مودی؟ ایک دم کون سی تبدیلی آگئی تھی جس نے کشمیر کو اندر ہی سے جلانا شروع کر دیاتھا؟وہاں بھارتی فوج کے ظلم نے یہ آگ بھڑکائی ۔ 1988کے بعد سے ہی بھارت سرکار کے مطابق وہاں44ہزار کشمیری شہید ہو چکے تھے؟
کشمیرکے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کا بھی ایک فیصلہ بھارتی حکم کی نفی کرتا ہے۔جس میں عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ ’’اپنے اپنے دائرہ کار میں ہر ریاست سپریم ہے۔مرکز ان کے اختیارات میں کمی پیشی نہیں کر سکتا۔بھارتی سپریم کورٹ نے 2018میں آرٹیکل370کو آئین کا ناقابل تبدیل حصہ قرار دیا تھا ،فیصلے کے مطابق آرٹیکل 370انڈین آئین کا مستقل حصہ ہے اس میں بھارتی اسمبلی بھی ترمیم کرنے کی مجاز نہیں۔اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر کا بل صرف دو دن میں زیر بحث رہنے کے بعد دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا تھا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے پہلے دور میں 26فیصد آئینی ترامیم طے شدہ جمہوری اصولوں کے مطابق کی گئیں۔یعنی صرف ایک چوتھائی بل سکروٹنی کے لئے ایوان کی کمیٹیوں کو بھیجے گئے تھے۔ٹرپل طلاق کا بل مسلمانوں کو سزائیں دینے کے لئے استعمال ہو گا ۔اس کا مصرف بھی مسلمانوں کو کچلنے اورا ن کے عقائدپر اثرانداز ہونے کے سواکچھ نہیں۔یہ بھی لوک سبھا میں پیش ہوتے ہی منظور ہو گیا تھا۔ اس پر قابل ذکر بحث نہیں ہوئی۔انسداد دہشت گردی کا بل بھی جس طرح بنایا گیا ہے اس کا واضح مطلب مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے سوا کچھ نہیں۔اس پر بھی لوک سبھا نے بحث کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ حکومت نے خواتین کے حقوق اور تحفظ کا بل پیش کیا مگر اسمبلی میں بل پیش کرنے والے وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے یہ نہیں بتایا کہ ہندو عورتوں کو کس قانون کے تحت ستی کیا جاتا ہے ،یہ رسم آج بھی کئی علاقوں میں زندہ ہے، جہاں مرد کے مرتے ہی عورت کوزندہ جلا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مرد کی موت کے بعد ہندو عورتوں کو کس قانون کے تحت دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے۔ برہمن سماج میں ایک طلاق کے بعد عورت دوسری شادی نہیں کر سکتی۔
نریندر مودی نے 14اگست کو بچوں کے تحفظ کی خاطر آئین میں ترمیم کا ذکر تو کیا مگر وہ مقبوضہ کشمیر میں سلاخوں کے پیچھے نوعمر کشمیری بچوں کا ذکر کرنا بھول گئے۔کویتا کرشن نے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کا دو روزہ دورہ کیا ۔وہ لکھتی ہیں’’وہاں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،انہیں غائب کر وا جاتا ہے۔ والدین کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنے پیارے بچوں کے لئے کیا کریں۔ کہاں تلاش کریں،ایف آئی آردرج ہوتی ہے نہ مقدمہ چلتا ہے۔‘‘
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ ایک ان دیکھا، انجان دشمن مسلسل میرا اور آپ کا پیچھا کر رہا ہے، اور ہم سب بے بس ہیں۔ گھر، دفتر، اندر، باہر موجود چھوٹے، بڑے سب ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔    

مزید پڑھیں

اٹلی سسلئین مافیا کا گھر ،اب چاروں طرف سے لاک ڈائون ہے ۔ویٹی کن بھی یہیں ہے جہاں پوپ فرانسس کی رہائشگاہ ہے۔ کچھ سنا ہے کہ وہاں کیا چل رہا ہے ،دعائوں اور اللہ سے رحم کی درخواستوں کے سوا اور کیا بات ہو رہی ہو گی۔    

مزید پڑھیں

 ملک بھر میں فرسودہ رسموں کا خاتمہ ضروری ہے جو دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ یہاں بھی ان کا خاتمہ ہو جاناچاہیے تھا لیکن جدید دور میں بھی یہ زندہ ہیں۔    

مزید پڑھیں