☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
بی آر ٹی ۔۔۔ عوامی پراجیکٹ یا گلے کی ہڈی؟

بی آر ٹی ۔۔۔ عوامی پراجیکٹ یا گلے کی ہڈی؟

تحریر : سید عبداللہ

02-16-2020

پشاورمیٹرو پراجیکٹ ڈیڈلائن پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل ہیڈلائنز میں رہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اِس معاملہ پر چُپ سادھ لی ہے ۔
 

 

گزشتہ سال پشاورہائی کورٹ نے نیب کو تحقیقات کا حکم دیا تو خیبر پختونخوا حکومت نے عدالت میں اپیل کر دی اورحکم امتناعی حاصل کر لیا۔ اور پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تو تب بھی خیبرپختونخوا حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا ۔اس پر بات آگے چل کر کریں گے پہلے آپ کو پشاور ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بتاتے ہیں۔جسے خیبرپختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پشاور میٹرو پراجیکٹ کی تحقیقات سے متعلق پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد کا 14 نومبرکو تحریر کردہ فیصلہ6 دسمبر 2019 ء کو جاری کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور کو ٹریفک مینجمنٹ پلان اور دیگر مسائل کے حل کی ضرورت تھی۔ اس کے بجائے پشاور میٹرو منصوبے کا انتخاب عوام کی مشکلات کی قیمت پرکیا گیا۔اِس منصوبے کا قرض آئندہ کی دو نسلیں ادا کریں گی۔قرضے کو آئل اینڈ گیس یا زراعت و سیاحت کے شعبوں میں لگایا جاتا تو صوبے کا معاشی منظرنامہ ہی بدل سکتا تھا، اس سے صوبے میں روزگار اور وسائل کے مواقع پیدا ہو جاتے ۔عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ وژن سے محروم پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک شہر میں قرضے کی رقم پر ہی توجہ رکھی، مگرعوام کی زندگی میں شاید کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لاسکی، صرف یہی نہیں دوردراز علاقوں کے عوام کی محرومیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
عدالت عالیہ نے فیصلے میں لکھا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور کمشنر پشاور سمیت صوبے کے دیگر صوبائی افسران جن کا اس منصوبے کے انتظامی امور سے تعلق نہیں تھا انہیں پرکشش مراعات دی گئیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ 2017 میں منصوبے کے نا مکمل ڈیزائن اور پی سی ون کے غیر فعال ہونے کے باوجود 49 ارب روپے کی لاگت سے اس کی منظوری دی گئی، جبکہ منصوبے کا ڈیزائن 2017 کی آخری سہ ماہی میں مکمل ہوا ۔مئی 2018 میں منصوبے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا جو 50 ارب روپے سے زائد تھا۔ جس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا 53 ارب روپے سے زائد کا قرضہ بھی شامل تھا. فیصلے کے مطابق بی آر ٹی منصوبہ بغیر کسی فزیبلٹی رپورٹ اور بغیر کسی ڈیزائننگ کے شروع کیا گیا جو کسی بھی بڑے پروجیکٹ کے لئے دو بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ صوبائی حکومت نے منصوبے کے آغاز کے لئے پلاننگ کمیشن کے طے کردہ حددو و قواعد کی خلاف ورزی کی۔
 ہائی کورٹ نے منصوبے کے لیے دی گئی چھ ماہ کی ڈیڈ لائن پر بھی سوال اٹھائے ۔کہاگیاکہ 27.37 کلومیٹر طویل پشاور میٹرو جس میں مختلف پُل،انڈرپاس اور دیگر عمارتیں شامل تھی اسے 6ماہ کی مدت میں مکمل ہونا تھا، سیاسی اعلانات میں عجلت برتی گئی جس کے باعث غلطیاں ہوئی اورپراجیکٹ کوپایہ تکمیل تک پہنچانے میں زیادہ پیسے لگے ، فیصلے میں بی آر ٹی پر مزید سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیاپروجیکٹ کا تخمینہ 66 ارب روپے سے زائد لگاگیا، جو تقریبا 2 ارب 42 کروڑ روپے فی کلومیٹر بنتا ہے ، عدالت میں کہا گیا کہ غیر مناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے پراجیکٹ کو تبدیل کیا گیا جس سے اس کی لاگت میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ سب کنسلٹنٹ اور صوبائی حکام کی غیرمناسب منصوبہ بندی کا ثبوت ہے ۔
 عدالت نے کہا کہ آغاز سے ہی اس میٹرو پروجیکٹ کے کاموں میں حکام کی جانب سے بدانتظامی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ابھی تک اس منصوبے میں تین پراجیکٹ ڈائریکٹر تبدیل ہو چکے ہیں۔اسی طرح عدالت میں میٹرو بس میں سفر کرنے والوں کی تعداد کاجو اندازہ لگایا گیا اس پر بھی سوال اٹھائے گئے ۔ عدالت نے بتایا کہ کنسلٹنٹس کا اندازہ ہے کہ پشاور میٹرو میں روزانہ تین لاکھ چالیس ہزار لوگ سفر کریں گے جبکہ یہ تعداد لاہور جیسے شہر میں میٹرو بس میں سفر کرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔ جہاں منصوبہ شروع ہونے کے پانچ سال بعد بھی روزانہ ڈیڈھ لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں ،اسی طرح منصوبے کا جو مالی ماڈل تیار کیا گیاوہ غلط اور دھوکے بازی پر مبنی ہے اور آنکھوں میں دھول جھونکنے جیسا ہے ۔ 
عدالت کے مطابق بی آر ٹی کے معاملات میں معاونت کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ میں بھاری تنخواہوں پرجوکنسلٹنٹ رکھے گئے وہ کسی کام کہ نہیں نکلے اور سرکاری پیسے کا سراسر ضیاع ہوا، عدالتی فیصلے میں بسوں کی تعداد سے متعلق کہا گیا ہے کے پنجاب کے میٹرو پروجیکٹ میں 65 بسوں کا فلیٹ ہے جن میں سے پانچ سٹینڈ بائی پر رہتی ہیں۔ جبکہ پشاور میٹرو کے ابتدائی طور پر 419 بسوں کی تجویز دی گئی جو کم کرکے 219 کردی گئی ہیں۔ ان میں سے 155 بس فیڈر روٹس کے لیے استعمال ہوں گے ان 155 بسوں کو پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز استعمال کریں گے سوال یہ ہے کہ عوام کیوں پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کو کرایہ ادا کرے ؟ عدالت نے لکھا کہ یہ خبریں بھی سننے میں آئی ہیں کہ بی آر ٹی کے ٹھیکے لینے والے کچھ بینیفیشریز میں بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں وہ سوالات بھی اٹھائے جن کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بغیر کسی منصوبے اور وژن کے اس پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کے لیے قرضہ صوبے کی معاشی بہتری کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا، عدالت میں کہا گیا کہ اس منصوبے کی کیوں منظوری دی گئی؟ کیا حکومت کو اندازہ نہیں تھا کہ ناکافی تیاری کے بغیر ایسا کرنے سے عوام کے وسائل کا ضیاع ہوگا؟ عدالت نے سوال پوچھا کہ پشاور میٹرو کے کوریڈور کے ایک طرف کم سے کم کتنی روڈ لائن گزریں گیں؟ فیڈر روڈ پر عوامی فنڈ سے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کی کیا دلیل ہے ؟ پراجیکٹ کے موجودہ معاشی ماڈل میں قرضوں کی واپسی کی ادائیگی کے معاملے کو مدنظر نہیں رکھا گیا اس ماڈل کی بنیاد مسافروں کی تعداد کی وجہ آمدنی پر رکھی گئی ہے ، لگتا ہے اس منصوبے کے لیے نااہل کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی ہیں جو اس قابل نہیں تھے کہ اس پروجیکٹ کے آگے بڑھنے سے متعلق اندازہ لگا سکیں، 
پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر قابل غور نکات کی تحقیقات پر بھی ایف آئی اے کی توجہ دلائی ہے ۔عدالت نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے یہ فیس سیونگ پروجیکٹ تھا۔جس کی وجہ سے صوبے پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور جو پشاور کے عوام کے لیے تکلیف کا باعث بنا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اس منصوبے کی پروینشل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے کیوں منظوری دی اور کیا اس کے لئے پلاننگ کمیشن بھیجا گیا؟ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی ذمہ داری تھی کہ وہ میگا پروجیکٹ سے متعلق مطلوبہ طریقہ کار پر عمل درآمد کے لئے وزیراعلی کو قائل کرتے ، عدالت نے کہا کہ معلوم کیا جائے کے پرویز خٹک،ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اعظم خان، شہباز علی شاہ اور وزیر ٹرانسپورٹ شاہ محمد میں کیا گٹھ جوڑ ہے ؟ اور یہ گٹھ جوڑ کیسے بنا؟ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہفتہ وار اجلاس ہونے کے باوجود رابطے کا فقدان تھا جس سے خزانے کو نقصان ہوا یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اہم فیصلے اس وقت کیوں کیے گئے جب منصوبے کی منظوری ہی نہیں ہوئی تھی؟ عدالت نے مزید کہا کہ فرم کیلسن اینڈ مقبول کنسلٹنسی کی ہی خدمات کیوں حاصل کی گئی جبکہ وہ اسی طرح کے منصوبوں کیلئے پنجاب میں بلیک لسٹ ہوچکے تھے ؟ اگرکوئی فرم ایک صوبے میں بلیک لسٹ ہوجائے تو وہ تمام صوبوں میں بلیک لسٹ ہوجاتی ہے ۔
یہ بھی بتایا گیا کہ سیکریٹری ٹرانسپورٹ ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کمشنر پشاور کو کنسلٹنسی فرم نے قیمتی گاڑیاں بطور تحفہ پیش کی۔عدالت کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ گاڑیاں کیوں قبول کی جبکہ ان کے پاس بڑی تعداد میں گاڑیاں موجود تھی۔غیر مناسب ڈیزائن بنیادی ڈیٹا کی عدم دستیابی اور میگا پروجیکٹ پر برے طریقے سے عمل درآمد سے منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا۔غلط ڈیزائن اور غلط اندازے کے لیے منصوبے کے چیف کنسلٹنٹ کو بیس ملین یعنی دو کروڑ روپے کیوں دیئے گئے ۔اگر عدالت میں اپنے فیصلے میں بسوں کی تعداد پر بھی سوالات اٹھائے ۔ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں 220 بسیں خریدنے کا فیصلہ کس نے کیا۔جبکہ پنجاب میں چلنے والی میٹرو بس کا روٹ زیادہ طویل ہے وہاں پر صرف 65 سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ٹرانس پشاور کے چیف ایگزیکٹو الطاف اکبر درانی نے استعفی کیوں دیا۔الطاف اکبردرانی کے اعتراض کے باوجود بسوں کی خریداری کا ورق آرڈر کیوں جاری کیا گیا۔اصل تنازعہ کیا تھا عدالت کا سوال۔فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ بارشوں نے بیٹی کے ٹریک پر ہونے والے کام کا پول کھول دیا۔ اس ساری صورتحال کے باوجود تعمیراتی کمپنی کوسزاسنادی گئی یا کھلا چھوڑ دیا گیا۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی اے ٹی کی دہینی دیوار پر نصب کرنے والا ٹھیکا انتہائی مہنگے داموں کیا گیا جس میں بیوروکریٹ اور سابق صوبائی وزیر ٹھیکیدار کے خاموش شراکت دار تھے ۔معیار اور مقدار کو جانچے بغیر پیش کی ادائیگی کردی گئی۔فیصلے کے اگلے ہفتے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسٹیکر کو منافع بخش بنانے کے لئے آہنی باڑھ کا ڈیزائن تبدیل کیا گیا۔بی آر ٹی منصوبے پر عمل داری کا جائزہ لینے کے لیے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ تشکیل دیا گیا تھا۔جسے پروجیکٹ کی جاری رہنے کے باوجود 2019جون میں بند کر دیا گیا کس کے پیچھے ارادہ یہ ہے کہ اگر مستقبل میں تحقیقات کی نوبت آئے تو ریکارڈ ختم کردیا جائے ۔
عدالت میں یہ بھی سوال اٹھائے کہ منصوبے کو ایک سال کی متوقع مدد میں کیوں مکمل نہیں کیا گیا۔پشاور میٹرو کے معاملات کو دیکھنے والی ٹرانس پشاور کے پاس مطلوبہ صلاحیت موجود تھی اس کے باوجود جسم کو چلانے اور انہیں سنبھالنے کی ذمہ داری ایک اور کمپنی کو دی گئی۔اسی طریقے سے آئی ٹی سسٹم کی تنصیبات کا کام موجودہ حکومت کے اعلی عہدیدار کو فائدہ پہنچانے کے لیے دیا گیا۔عدالت نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ منصوبے کیفی کا صلہ بھی مناسب نہیں تھی چھوٹے سے شہر کے لیے یہ لوگ بہت زیادہ ہے ۔اسی وجہ سے شہر کی بہت سی سڑکوں کو بہت زیادہ تنگ کر دیا گیا ہے جو کہ موجودہ اور مستقبل میں ٹریفک کے نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔پشاور میٹرو کی ڈیزائن کی تیاری کے لیے جس کنسلٹنٹ کا انتخاب کیا گیا عدالت نے اس پر بھی اعتراض اٹھایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پشاور میٹرو کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کے لئے نچلے معیار کے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی گئیں جو کہ اس میگا پروجیکٹ کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔اس منصوبے کی تعمیرات کی ذمہ داری ایسی کمپنی کو دی گئی جو پہلے اسی طرح کے ایک منصوبے میں کی تعمیراتی غلطیاں کر چکی تھی۔اسی وجہ سے منصوبے میں کئی ڈیزائن تبدیل ہوئے جس کی وجہ سے اس لاگت میں اضافہ ہوا۔منصوبے کی ڈیزائننگ سے پہلے ٹریفک پلان کی سٹڈی نہیں کرائی گئی۔جس کی وجہ سے بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔اسپنج کا کنٹری پاکستانی اور چینی کمپنی کے جوائنٹ وینچر کو دیا گیا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف ٹیکنیکل معیار کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا۔اگر چینی کمپنی کا کردار درآمد کے وقت کہیں دکھائی نہیں دیا۔پہلے دن سے ہی پراجیکٹس سے متعلق تمام سرگرمیوں میں بدنظمی نظر آئی اس کی وجہ سے موجودہ ڈھانچہ ضائع ہوا ہے اور درست طریقے سے استعمال نہیں ہوا۔مرکزی contracts سب کنٹریکٹرز کو دیے گیا جس کی مطلوبہ مہارت نہ ہونے کی وجہ سے منصوبے کے معیار کو نقصان پہنچا۔عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ یہ شرم کا موقع ہے کہ تعمیر کے دوران ہی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔برسوں کے چلنے کے لئے مطلوبہ ضروریات نہ پوری ہونے کی وجہ سے کئی مقامات پر تعمیر کیے گئے راستوں کو توڑنا پڑا اور دوبارہ مطلوبہ سائز کے مطابق عمل کیا گیاا۔فیصلے کی آخر میں پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کے لیے 45 دن میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت۔غلط نے یہ بھی کہا کہ انکوائری رپورٹ میں اگر کوئی بھی قصوروار نکلا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 کچھ اسی طرح کا حال سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کا بھی ہے جہاں پر نواز شریف کے دور میں شروع کیا گیا گرین لائن میٹرو بس پروجیکٹ ابھی تک مکمل نہ ہوسکا۔اور موجودہ حکومت بھی اس پروجیکٹ کی کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے آئیں بائیں شائیں کرتی نظر آتی ہے ۔نا تو صحیح طور پر بسوں کی تعداد کا اندازہ لگایا گیا اور نہ ہی اس منصوبے کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی کوئی کسی قسم کی کوئی کاوش کی جارہی ہے ۔گورنر سندھ جناب عمران اسماعیل نے 07 فروری کو گرین لائن میٹرو بس پروجیکٹ کا افتتاح کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن پروجیکٹ کی موجودہ صورتحال دیکھ کر کر یہ دعوی بھی ان جھوٹے دعووں کی طرح نظر آتا ہے جو کہ پشاور میٹرو بس کی تعمیر کے دوران کیے گئے ۔یہ کہنا تھا تھا سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ کا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وفاق کا پروجیکٹ ہے اور انہی کو اس کی داد وصول کرنی چاہیے لیکن کم ازکم وفاق کو یہ چاہیے کہ یہ پروجیکٹ جلد سے جلد مکمل کر کے سندھ کی اور کراچی کی عوام کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے دیں۔
پی ڈی اے چیف نے اجلاس کے شُرکاء کو بتایا کہ بی آر ٹی نہ صرف بسوں کی گزرگاہ ہے بلکہ یہ صوبائی دارالحکومت کو ترقی دینے کا ایک مربوط منصوبہ بھی ہے
انہوں نے کہا کہ 27 کلومیٹر طویل بی آر ٹی راہداری کی تعمیر پر 30 ارب روپے لاگت آء گی اور راہداری کے دونوں اطراف سیوریج نالے اورمتفرق ٹریفک کے لیے سڑکیں تعمیر کرنے پر خرچ ہوں گے ۔
پی ڈی اے چیف نے کہا کہ بسیں خیریدنے پر تقریباََ 7.5 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ گاڑیوں کی ڈیوٹی کی مَد میں 2.4 ارب روپے کی ٹیکس رقوم ادا کیے جائیں گے ۔
اس منصوبے میں شامل کمرشل پلازوں پر 8.5 ارب روپے ، کباڑاور ملبہ جات کو ٹھکانے لگانے پر 1 ارب روپے ، یوٹیلیٹیزکی منتقلی پر1.5 ارب روپے ، اراضی کی لاگت 1 ارب روپے اور 11 ارب روپے صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں کی بہتری پر خرچ ہوں گے ۔
 نظر ثانی کے بعد دوبارہ پیش کی گئیں دستاویزات میں فراہم کردہ لاگت کی جزویات کے مطابق منصوبے کی لاگت 62.8 ارب روپے ہوگی۔ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے واجبات اِس لاگت کو 69.3 ارب روپے سے بھی اُوپر پہنچا دیتے ہیں۔نظرثانی کے بعد لاگت میں ایک بڑا اضافہ سِول ورکسں کی مد میں کیا گیا ہے جو دوبارہ پیش کی گئی لاگت میں 40 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ہو گئی ہے جو کہ اصل پی۔سی-ون میں 29.7 ارب روپے تھی۔ اِس لحاظ سے مجموعی طور پر 30 سے 40 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوا ہے ۔
 پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبہ اِس کی تکمیل کی تاریخوں کے متعلق غیر حقیقت پسندانہ حکومتی دعووں کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے ۔
2018 ء کے اختتام پر بس پروجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے مقررکی گئی چوتھی ڈیڈلائن بھی گزر گئی - لیکن یہ نظر انداز نہیں ہوئی۔ شہرمیں ٹریفک کی بندشں میں مبتلا ہونے کے بعد پشاور کے رہائشیوں کا غم و غصہ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ جِس کے نتیجے میں میڈیا کی تنقید کا رُخ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیرقیادت قائم شدہ حکومت کی طرف ہو گیا جس میں ان سے پی ٹی آئی کی پِچھلی صوبائی حکومت جس کے سربراہ پرویز خٹک تھے ، کے وعدوں کی یاد دہانی کروائی گئی اور ان پر قائم رہنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مارچ 2019 میں ، وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف سے اس منصوبے کے تمام عہدیداروں کو ایک سخت انتباہ جاری کیا اور اِںہیں مطلع کیا گیا کہ انہیں ابھی تک ملازمت سے اِس لئے برطرف نہیں کیا گیا تاکہ مزید تاخیر سے بچا جاسکے ۔ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ خیبرپختونخواہ حکومت کی نظم و نسق کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا، اس کے برعکس، یہ ایک عبرتناک مثال بن گیا ہے کہ کسی شہری منصوبہ کا انتظام اِس طرح نہ چلایا جائے اِس انتباہ کے ڈیڑھ ہفتہ بعد خیبر پختونخواہ حکومت نے اس منصوبے کی سربراہی کرنے والے دو اہلکاروں, پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے ) کے ڈائریکٹر جنرل اسرارالحق اور سکریٹری کے پی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ ، کامران رحمان خان کو برطرف کردیا۔ 
 اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مزید ملازمین کی برطرفی متوقع ہے کیونکہ اب اہلکاروں کو اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مزید ملازمین کی برطرفی متوقع ہے کیونکہ اب اہلکاروں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ان کو ہٹانے کی ظاہری بنیاد ایک خوفناک رپورٹ ہے جو بی آر ٹی منصوبے کے بارے میں صوبائی انسپیکشن ٹیم (پی آئی ٹی) نے دو ماہ قبل وزیر اعلیٰ کو پیش کی تھی۔
الزام تراشی کے کھیل کو جاری رکھتے ہوئے دو اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفی سے ظاہری طور پر حالات کو بہتردکھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن معاملات اِس نہج پر آئے کیسے ؟ بڑے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل و فراہمی میں معلومات اور مہارت رکھنے والے عہدیداروں اور سیاستدانوں کے پس پردہ انٹرویو پر مبنی بی آر ٹی منصوبے کی تفتیش کا اس کے بعد کیا ہوگا۔ شہرکی نقل وحرکت میں آسانی کے لیے شروع ہونے والا پراجیکٹ ہمارے زمانے کے متنازعہ ترین موضوع میں کیسے تبدیل ہوگیا؟
 ابتدائی طور پر پشاور بی آر ٹی کو امریکی ریاست اوریگون کے ایک ڈیزائن کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اوریگون کے اِس ڈیزائن کو ماحول دوست سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے سطح کے نیچے ایک آبی گزرگاہ کو محفوظ کرتا ہے ۔
اس منصوبے کو پہلے دھچکے کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب ٹیم نے چمکانی کے علاقے میں سطح کے نیچے پانی دریافت ہونے کی خبر دی۔ تب ہی عہدیداروں نے فوری طور پر ڈیزائن میں ترمیم کا فیصلہ کیا۔
جب ترمیم کے بارے میں رائے دینے کے لئے اے ڈی بی سے رابطہ کیا گیا تو ، ان کے عہدیداراِس موقف پر قائم رہے کہ میگا پراجیکٹس میں اس طرح کی تبدیلیاں ہونا معمول کی بات ہیں۔ نمائندوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو قطعی طور پر غلط قرار دینا غیر مناسب ہے اور وہ بھی اِس قیاس آرائی کی بنیاد پر کہ ٹیم سطح کے نیچے موجود پانی کے بارے میں لاعلم تھی۔
لیکن ناقدین کی نظر میں اے ڈی بی اور کے -پی حکومت ایک دوسرے کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ دعوی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) کی طرف سے کی گئی سینکڑوں ای میلز پر مبنی ہے جو کہ منصوبے کے سربراہوں کو بیجھی گئیں جس میں ڈیزائن میں غلطیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مگر یہ صدائیں بہرے کانوں پر پڑتی رہیں۔
ایسے ہی ایک اورموقع پر یہ بات 6 دسمبر2018 کو سامنے آئی تھی کہ بی آر ٹی منصوبے کے لئے پراجیکٹ مینجمنٹ اینڈ کنسٹرکشن سپروائزیشن کنسلٹنٹ (پی ایم سی سی) کے ذریعہ بصری جائزہ کے لئے بنائے گئے ایک تصوراتی نمونہ کو عملی استعمال میں لایا گیا ہے ۔ اصل میں اس معاملے کو پہلے ہی 23 اکتوبر 2018 میں اس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے طلب کردہ اجلاس کی میٹنگ کے دوران منظرِ عام پر لایا گیا تھا، عہدیداروں نے اِسی ملاقات کے دوران ان U-shaped girders کو دریافت کیا ، جو اِس وقت پشاور میں ناردرن بائی پاس پر گِرا دیئے گئے ہیں ، اور انھیں تنصیب کے لئے سائٹ پر پہنچایا گیا اور یہ سوچے بغیر کہ یہ صرف ایک تصوراتی ڈیزائن تھا جو بالکل بھی عمل درآمد کے لئے تیار نہیں کیا گیا تھا۔
بی آر ٹی کے روٹ والے علاقوں میں سائیکل لین تیار کرنے کے خیال پر بھی غور کیا گیا۔ لیکن اسے پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا کیونکہ یہ ترکیب بین الاقوامی طریقوں کے مطابق نہیں تھی۔
19 دسمبر2018 کو ایک اور خط میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بی-آر-ٹی کے مختلف مقامات پر راہداریوں کے اونچائی پر بننے والے سیکشنز کے مختلف حصوں میں پیئر شافٹس کی ریٹروفٹنگ کی گئی ہے خط میں بتایا گیا ک "ریٹروفٹنگ پیئر شافٹ ایک غیر معیاری عمل ہے جو تعمیری ڈھانچے کی مطلوبہ طاقت اور سالمیت پر سمجھوتہ کرکے ڈیزائن کی افادیت کو ممکنہ طور پر متاثر کرسکتا ہے
آگے کیا ہوتا ہے ؟
خیبر پختونخواہ حکومت نے ایک بار پھر ڈیڈ لائن دی ہے معاہدے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2017 سے جون 2018 تک تھا۔ فی الحال ، بی آر ٹی ٹریک تیار ہے ، جس میں سے ایک حصہ جس کا نام ہے وہ ابھی موجود نہیں ہے ۔ یہ وہی حصہ ہے جہاں بس جب اسٹیشن پر پہنچتی ہے تو کھڑی کی جاتی ہے تاکہ مسافر اِس میں داخل ہوسکیں ، اس منصوبے کی نگرانی کرنے والے ایک عہدیدارنے بتایا کہ وہ مطلوبہ حصہ ایک ماہ کے اندر اندر مقامی طور پر تیار کیا جاسکتا ہے ، لیکن حکومت چاہتی ہے کہ اسے جرمنی سے درآمد کیا جائے جس کے لئے تین سے چھ ماہ تک کا عرصہ درکار ہے ۔
پشاور بی آر ٹی کا معاملہ اب مزید پیچیدہ ہوگیا ہے کیونکہ جن عہدیداروں کو اس منصوبے سے ہٹایا گیا ہے وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ عرصے تک اس منصوبے سے وابستہ رہے تھے ۔
حکومت نے پی ڈی اے کے اندر سے جس عہدیدار کو مقرر کیا تھا اسے پانچ گھنٹوں کے اندر ہی ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ بدعنوانی میں ملوث پایا گیا اور اُس نے نیب میں رضاکارانہ رقوم کی واپسی (پلی بارگین) کی درخواست بھی جمع کروا رکھی تھی۔ شاید اگلے انچارج کے لئے مشکل ترین فیصلہ مالیاتی لین دین کے لئے ضروری دستخط کرنے کے حوالے سے ہوگا جس کے لئے حکام کے مطابق ڈیڑھ ماہ عرصہ درکار ہے ۔
پی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دستخط کے پی کے حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں اکنامک افیئرز ڈویژن اور پھر تصدیق کے لئے منیلا میں اے ڈی بی کے دفتر بھیجنا پڑیں گے ۔
اس کے بعد دستخطوں کو کسی الیکٹرانک آلے میں منتقل کیا جاتا ہے جس میں مزید 10 دن لگتے ہیں اورفنڈز کی منتقلی میں مزید 15 دِن کا وقت درکار ہوتا ہے ۔
"نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی سب سے پہلی ذمہ داری 39 ارب روپے پر دستخط کرنا ہوگا ،" اس صورتحال سے نمٹنے والے ایک عہدیدار کا کہنا ہے ۔کہ اگر پی ڈی اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل 15 اپریل 2019 تک چارج لیتے ہیں اور سب کچھ ٹھیک طرح سے چلتا رہے تو فقط اِس رقم کو ہی 15 جون تک پروجیکٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے ۔
چونکہ ورکنگ معاہدہ 30 جون کو ختم ہورہا ہے ، لہذاٰ وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں عہد کیا گیا کہ جولاء کے پہلے ہفتے بسیں چلا دی جائیں گی۔ عہدیدار کا کہنا ہے کہ "اگر کے پی حکومت فوری فیصلے نہیں کرتی ہے تو ہمیں ایک اور توسیع کی طرف جانا پڑے گا ، جِس کے سبب اِس منصوبے کی لاگت میں مزید اضافہ ہو گا۔۔
پی ڈی اے کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق حکومت کے لیے ایک اور مشکل ویری ایشن آرڈر (VO) سے نمٹنا ہے ۔ نظرثانی کے بعد ترتتیب دئیے گئے پی سی- 1 تخمینہ لاگت کے مطابق مرتب کیا گیا تھا۔ وی او کا انحصار میٹیریل کی قیمت ، مقدار ، وقت اور کام کے دائرہ کار پر ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اِن سب میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اُنہیں کُچھ ایسی جگہوں پر میٹیریل اور مشینری کا استعمال کرنا پڑا جو جگہیں پی سی-ون کا حصہ بھی نہیں تھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ٹھیکیدار کے ساتھ قیمت پر دوبارہ بات چیت کرنی ہوگی۔ کیونکہ اس منصوبے کو حاصل ہونے والی مالی اعانت مقامی نہیں ہے لہذاٰکسی بھی طرح کے اختلافِ رائے کی صورت میں وہ ثالثی عدالت میں جائیں گے اور ہمیں توقع سے کہیں زیادہ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
پشاور کی بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) تعمیر مکمل ہونے پر مہنگے ترین بی آر ٹی منصوبوں میں سے ایک ہوگی۔ فی کلومیٹر کی بنیاد پر لاگت کا موازنہ ملاحظہ فرمائیں: احمد آباد 2.4 ملین ڈالر؛ دالیان (چین) 2.6 ملین ڈالر؛ چانگزو (چین) 4 ملین ڈالر؛ گوانگ (چین) 4.4 ملین؛ بیجنگ 4.8 ملین ڈالر؛ بوگوٹا 5.3 ملین ڈالر؛ پیرس 7 ملین؛ اور استنبول 8.8 ملین ڈالر.
اس سے پہلے ، لاہور میٹرو کی تعمیرسے پہلے استنبول میٹرو دنیا کا سب سے مہنگا منصوبہ تھا۔ لاہور میٹرو کی لاگت 11 ملین ڈالرفی کلو میٹر ہے ۔ اس کے بعد اسلام آباد میٹرو 20 ملین ڈالر فی کلومیٹر کے ساتھ پہلے نمبر پر آگء۔
ابھی دیکھتے جائیں ، پشاور بی آر ٹی 22 ملین ڈالر فی کلو میٹر میں اِس قرہ ارض پرسب سے مہنگا ہوگا۔ پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کے مطابق ، "27.37 کلومیٹر کی اِس سڑک کے منصوبے کے لئے کل لاگت کا تخمینہ 66.437 بلین روپے ہے۔
حیرت انگیز طور پر"غیرمناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے اِس قلیل مدتی منصوبے پر لاگت میں 35 فیصد اور اِس کے کچھ اجزاء میں غیر معمولی طور پر 237 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورتی فرم کی اس منصوبے کے لئے ہونے والی ناقص منصوبہ بندی کا ثبوت ہے مریخ پر ہندوستان کے مشن کے لئے بجٹ 74 ملین ڈالر تھا اور پشاور بی آر ٹی پر 600 ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ ریکارڈ کے مطابق صحت اور تعلیم کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ بالترتیب 11 ارب اور 18 ارب روپے ہے ۔ بی آر ٹی کے لئے 2017 میں پہلا پی سی ون 49.453 ارب روپے تھا جو صرف ایک سال کے اندر بڑھا کر 66.437 ارب روپے کردیا گیا تھا ( اب متوقع لاگت تقریباََ 90 ارب روپے ہو گئی ہے )۔
پشاور ہائی کورٹ یہ جاننا چاہتا ہے ۔ کہ اس منصوبے میں ہنگامی صورتحال کے لیے تقریباََ (ساڑھے چھ ارب روپے کے لئے خصوصی دفعات کیوں ظاہر کی گئیں؟جو کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق جائز نہیں ہے اِسی طرح مروجہ حکومتی نرخوں (ایم آر ایس 17) پر 20 فیصد پریمیم (تقریبا 7 ارب) کی اجازت کیوں دی گئی؟ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
خیبر پختونخوا کی حکومت اب تک کم سے کم سات تاریخیں دے چکی ہے ۔ جِس میں 20 اپریل 2018، 20 مئی ، 2018؛ 30 جون ، 2018؛ 31 دسمبر ، 2018؛ 23 مارچ 2019 اور دسمبر 2019۔ 
خیبر پختونخوا کی حکومت اب تک اپنی دی گئی ہر ڈیڈلائن پوری کرنے سے قاصر رہی ہے ۔ نئی ڈیڈ لائن جون 2021 ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ راہداری منصوبے کے تحت 335 ملین ڈالر قرض دیا ہے ۔ اے ڈی بی نے \\\'تکنیکی معاونت، پروجیکٹ ڈیزائن ایڈوانس (PDA) منظور کیا ، آپریشنل منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کی اور سول ورکس اور آلات کی خریداری کا کام بھی انجام دیا۔ اس منصوبے کے ذمہ داروں میں شامل اے ڈی بی ٹیم کو بھی جوابدہ ہونا چاہئے ۔
مختلف ممالک میں بی آر ٹی پر ہونے والے اخراجات 
 کلومیٹر میٹرو پروجیکٹ کا تخمینہ 66 ارب روپے سے زائد لگاگیا، جو تقریبا 2 ارب 42 کروڑ روپے فی کلومیٹر بنتا ہے
مجموعی طور پر 30 سے 40 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوا ہے ۔
احمد آباد 2.4 ملین ڈالر
دالیان (چین) 2.6 ملین ڈالر
چانگزو (چین) 4 ملین ڈالر؛ گوانگ (چین) 4.4 ملین
بیجنگ 4.8 ملین ڈالر
بوگوٹا 5.3 ملین ڈالر
 پیرس 7 ملین
 استنبول 8.8 ملین ڈالر
اس سے پہلے ، لاہور میٹرو کی تعمیرسے پہلے استنبول میٹرو دنیا کا سب سے مہنگا منصوبہ تھا۔
 

مزید پڑھیں

انسان کی نسل درنسل مسلسل مجموعی زندگی کا تسلسل بھی ریل گاڑی کے آپس میں جڑے ہوئے ڈبوں کی طرح ہے ،وقت جس طرح زندگی کو سفر میں رکھتا ہے    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں  

مزید پڑھیں