☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(طاہر محمود) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(محمدریحان ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
ریڑھی بازار ۔۔ شہروں کی ضرورت یا بدصورتی؟

ریڑھی بازار ۔۔ شہروں کی ضرورت یا بدصورتی؟

تحریر : ایم آر ملک

03-01-2020

مدینۃ الاولیا ملتان کے پر رونق اور پر ہجوم حسین آگاہی بازار میں کبھی جانے کا اتفاق ہو تو ہمیں اس بازار کو گھیرے ’’ریڑھی والے ‘‘نظر آئیں گے دکانوں کے آگے یہ بازار ’’ریڑھی بازار ‘‘کہلاتا ہے وطن عزیز کے چند بڑے شہروں میں جہاں آبادی کی کثرت دیکھنے میں آئی وہاں ان ’’ریڑھی بازاروں ‘‘ نے بھی ترقی کرلی اس کا پس منظر یہ ہے کہ غریب طبقہ اور اس سے منسلک خواتین اپنی تمام شاپنگ ریڑھیوں سے کرتی ہیں۔
 

 

جب سروے کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ دکانوں سے زیادہ ریڑھیوں پر سستا مال فروخت ہوتا ہے اکثر ریڑھی والے دکانوں کے مالکان سے کہیں زیادہ کمالیتے ہیں جب ایک دکاندار سے اس ضمن میں پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ریڑھی والوں کے اخراجات دکان کے مقابلے میں بہت کم ہوتے ہیں مگر ریڑھی والے اس بات کی تردید کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے ریڑھی لگانے کا کرایہ اپنی دکان کے کرائے سے دگنا وصول کرتے ہیں جب دکاندار کو اپنی دکان کا پورا کرایہ ایک ریڑھی والا ادا کرتا ہے تو وہ جوبھی کماتا ہے اس کا منافع ہی منافع ہوتا ہے جبکہ چوکیدار کو الگ سے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ عملہ تہہ بازاری اور ٹریفک پولیس کا عملہ باقاعدہ ہم سے حصہ وصول کرتا ہے گھنٹہ گھر چوک میں کھڑے ایک ریڑھی بان کا کہنا ہے کہ ریڑھی والوں کو سب سے زیادہ ’’پھٹیکیں ‘‘بھگتنا پڑتی ہیں ہر محکمہ ہمیں بلیک میل کرتا ہے اور بلیک میل کرنے والے نہ صرف ہم سے رقم وصول کرتے ہیں بلکہ مفت سبزیاں ،پھل لے جاتے ہیں۔ شب برات کے موقع پر جب ہم بچوں کی تفریح کا سامان بیچتے ہیں تو سرکاری اہلکار اپنے بچوں کیلئے ہم سے مفت یہ سامان ہتھیا کر لے جاتے ہیں جبکہ تجاوزات کے نام پر انتظامیہ اکثر اوقات ہماری ریڑھیان سامان سمیت اُٹھا کر ضبط کر لیتی ہے جس کیلئے کئی کئی روز ہمیں انتظامیہ سے ریڑھی چھڑوانے میں دھکے کھانا پڑتے ہیں بعض اوقات ہمیں ریڑھی تو مل جاتی ہے مگر سامان نہیں مل پاتااگر ہم عملہ تہہ بازاری کے قابو میں آجائیں تو وہ کسی نقصان کی پرواہ کئے بغیر سارا سامان سڑک پر الٹ دیتے ہیں اور وہ بھی ریڑھی اٹھا کر لے جاتے ہیں جس سے تازہ سبزیاں اور پھل سڑک پر خراب ہوجاتے ہیں جرمانے کی رقم ہمیں الگ سے ادا کرنا پڑتی ہے ،کا رپوریشن کا کچھ عملہ ایک ظلم یہ کرتا ہے کہ اچھی اور نئی ریڑھیاں اصل مالکان کے بجائے رقم لیکر دوسرے افراد کو دے دیتے ہیں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریڑھی بان کے پاس جرمانہ ادا کرنے کیلئے رقم ہی نہیں ہوتی اس کی ریڑھی ملی بھگت کرکے کسی اور کو جرمانہ کرکے دے دی جاتی ہے چنانچہ اصل مالک اپنی ریڑھی تک سے محروم ہوجاتا ہے اس کے علاوہ ہمارا ریٹ دکانداروں سے انتہائی کم ہوتا ہے لوگوں کے ذہن میں ریڑھی پر بکنے والی اشیاء کا تصور سستے داموں کا ہوتا ہے یوں دور دراز اور دیہی علاقوں کے عوام ریڑھیوں پر بکنے والی اشیا کو ترجیح دیتے ہیں بعض ریڑھی والوں کا موقف ہے کہ سارا سودا ہمیں شام تک ہر حال میں بیچنا پڑتا ہے اس لئے شام کے وقت کم ریٹ پر بھی سودا بیچنا پڑتا ہے جس سے اکثر ہمیں نقصان ہوتا ہے یہی وجہ ہے ریڑھی والوں کی تما م عمر ریڑھی پر سامان بیچتے گزر جاتی ہے ہمارے پاس دکان کا کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں ہوتی اس لئے ریڑھی پر ہی ہماری دکانداری کا سارا دارومدار ہوتا ہے ۔
  معاشرے میں عزت و وقار 
ریڑھی بان کی معاشرے میں بھی وہ عزت نہیں ہوتی جو ایک محنت کش کو ملنے کا تصور ہوتا ہے ان کے امیر رشتہ دار بھی انہیں وہ عزت نہیں دیتے جس کا انہیں حق ہوتا ہے اس سلسلہ میں ایک ریڑھی والے کا کہنا تھا کہ میری ابھی تک شادی اس لئے نہیں ہوسکی کہ جب لڑکی والوں کو پتہ چلتا ہے کہ میں ایک ریڑھی لگاتا ہوں تو وہ پلٹ کر نہیں آتے حالانکہ میں ایک دکاندار سے زیادہ رقم کما لیتا ہوں۔کوٹ ادو کا اک شہری جو چاول کی دیگ لگاتا ہے اس کی روزانہ کی بچت ایک بڑے دکاندار سے زیادہ ہے اس کے بچے اچھے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس نے اسی کمائی سے ایک کار خرید رکھی ہے جس پر وہ چھٹی کے دن بچوں کو باہر لے جاتا ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ مجھے لوگ اس لئے عزت نہیں دیتے کہ میں چاولوں کی ریڑھی لگاتا ہوں اس کام میں ذلت ہی ذلت ہے ریڑھی لگانے والوں کو سارا دن گلے پھاڑ پھاڑ کر آوازیں لگانا بھی مشکل کام ہے کم ریٹ کے باوجود لوگ کہتے ہیں کہ یہ کون سی دکان ہے وہ بھائو تائو کرتے ہیں۔ 
ملتان میں سب سے پہلے ریڑھی بازار ڈیرہ اڈہ میں معرض وجود میں آیا البتہ اس کو ریڑھیوں والا بازار ہی کہا جاتا تھا اسی طرح لاہور میں سب سے پہلے خود رو پودے کی مانند مین بازار اچھرہ کے نزدیک قائم ہوا اس بازار کا کیا نام تھا یہ تو سب شاید بھول چکے ہیں البتہ اس بازار کا نام ریڑھیوں والا بازار ہی پڑگیا نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ریڑھی والوں نے ایک شاہراہ ہی بند کردی جس پر اچھرہ کے ایک سابق ڈی ایس پی نے یہاں سے تمام ریڑھی والوں کو اُٹھا کر ایک پختہ پولیس چوکی قائم کردی چنانچہ یہاں ریڑھی والوں کی خاصی کمی واقع ہوگئی مگر اس علاقے کا نام اب تک ریڑھیوں والا بازار ہی ہے البتہ اچھرہ کے دوسرے تمام بازار اب ریڑھی بازار بن چکے ہیں اس طرح ہر علاقہ یا شہر میں کوئی نہ کوئی ریڑھی بازار ضرور قائم ہے ۔ریڑھی بازاروں کے قائم ہونے سے جہاں پیدل آمدورفت کا سلسلہ دشوار ہوا ہے وہاں ٹریفک کے بھی بے پناہ مسائل نے جنم لیا ہے بازار سکڑنے سے گاڑیاں بازاروں میں پھنس کر رہ جاتی ہیں اور عام افراد جن میں خصوصاً خواتین اور ضعیف افراد کو دشواری کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ریڑھیوں پر چونکہ بہت سی اشیا سستی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ وہ چیزیں جو ریڑھیوں پر ملتی ہیں اور دکانوں پر بھی وہی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں دکانوں پر ان چیزوں کی سیل میں 50فیصد کمی واقع ہوچکی ہے ریڑھیوں پر سبزیوں کے علاوہ روزمرہ کی تمام ضروریات زندگی کی اشیا دستیاب ہوتی ہیں جن میں سامان منیاری سے لیکر جوتوں اور ملبوسات تک ہمیں ریڑھیوں پر بکتے نظر آتے ہیں جو لوگ گھروں میں مختلف اشیا یا مصنوعات تیار کرتے ہیں ان کو بھی ریڑھی والوں کا ہی محتاج ہونا پڑتا ہے مثلاً خشک میوہ جات اور مصالحہ جات بھی ریڑھیوں پر نظر آتے ہیں ایک بات جو خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے اور سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین گاہکوں کا رحجان ریڑھی سے اشیا خریدنے پر نظر آتا ہے فیکٹریوں کا نقص زدہ مال بھی ریڑھیوں پر ہی نظر آتا ہے مثلاً گارمنٹس کا سامان بچوں کے ملبوسات ،بنیانیں ،وغیرہ جو فیکٹری میں نقائص زدہ ہوتا ہے اس کو بھی بیچنے کیلئے ریڑھی بان ہی کام آتے ہیں زندہ دلان لاہور میں 40ہزار افراد ریڑھی پر کاروبار کر رہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریڑھی بازار ایک طرح سے ہماری معیشت کا لازمی جزو قرار پاچکے ہیں اور ملک بھر میں لاکھوں افراد کا روزگار ہی ریڑھی سے جڑا ہوا ہے اگر ریڑھیوں پر پابندی لگادی جائے تو وطن عزیز میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں ۔
  تصویر کا دوسرا رخ 
ریڑھی بازاروں کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان کی مصروف شاہرات پر ریڑھیوں کے وجود کو بعض حلقے بد نما داغ قرار دیتے ہیں آپ کسی بھی شہر میں پیدل چل کر دیکھ لیں بے ہنگم مجموعی و قومی زندگی کا عکس آپ کو نظر آئے گا تجاوزات سے عجیب افراتفری کا سماں دیکھنے کو ملتا ہے اوپر سے نظم و ضبط کا فقدان الگ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں ریڑھی والوں کی نفسیات قائم ہو جاتی ہیں ان لوگوں کا یہ المیہ ہے کہ ان کو دکانیں بھی دے دی جائیں تو ریڑھی بان ان میں کاروبار نہیں کرسکتے اس کی مثال انار کلی بازار میں ان ریڑھی بانوں کی ہے جنہیں 35سال قبل سرکلر روڈ کے باغات کے گرد دکانیں بنا کر انہیں الاٹ کی گئیں یہ دکانیں کارپوریشن نے شاہ عالمی سے لیکر لوہاری تک تعمیر کرائی تھی مگر ریڑھی بانوں نے یہ کیا کہ انہوں نے ان دکانوں میں کاروبار کرنے کے بجائے ان دکانوں کو بیچ کر دوبارہ ریڑھیاں لگا لیں۔ ریڑھی بانوں کا کہنا ہے کہ دکان میں تو ایک جگہ پر بیٹھ کر کاروبار کرنا پڑتا ہے اور انسان سارا دن ایک ہی جگہ پر مبحوس ہوکر رہ جاتا ہے لیکن ریڑھی پر کاروبار کی بات اور ایک جگہ سے دوسری جگہ یا پھر بازار میں گھوم کر انسان جلد فارغ ہوجاتا ہے یعنی بہت کم ریڑھی بان اس حصار سے نکل پاتے ہیں، کارپوریشن کے ایک ملازم کے مطابق اگر ہم ان ریڑھی والوں کے خلاف کارروائی کریں تو ان کا چولہا ٹھنڈا ہوجائے جبکہ عام شہری اس بات سے نالاں نظر آتے ہیں کہ ریڑھی والوں نے تجاوزات کی شکل میں بازار بند کر رکھے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ان کا کہنا ہے کہ صاف ستھرے بازار ہی اچھے لگتے ہیں ۔
  ٹریفک پولیس کا موقف کیا ہے ؟
ٹریفک پولیس کا ان ریڑھی بازاروں کے بارے میں موقف ہے کہ جو دکاندار ریڑھی والوں کو اپنی دکان کے سامنے جگہ دیکر بٹھاتے ہیں وہ ان کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں جب ہم ایسے کسی ریڑھی والے کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جس نے بازار اور رستے میں رکاوٹ پیدا کر رکھی ہو تو متعلقہ دکاندار جس نے اس ریڑھی والے کو اپنی دکان کے سامنے بٹھا رکھا ہوتا ہے وہ اس ریڑھی والے کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے خود سامنے آجاتاہے اور مزاحمت کا یہ سلسلہ انجمن تاجران نامی تنظیموں کے فورم پر پہنچ جاتا ہے جو ایک پریشر گروپ کی شکل میں افسران بالا تک اپنی آواز پہنچاتے ہیں اور اس طرح ٹریفک کے اہلکار بھی بعض اوقات بے بس ہوجاتے ہیں ۔

ریڑھی بازار سے پیدا ہونے والے مسائل

ہر سڑک پر پارکنگ ،اور ریڑھیوں نے تجاوازت کی شکل میں مسائل پیدا کر رکھے ہیں اگر اس ہجوم میں کوئی گاڑی پھنس جائے تو ہارن بجا بجا کر مزید سر درد پیدا کر نے کے علاوہ کسی مریض کی پریشانی کا سبب بنتی ہے یہ ایک طرح کی ماحولیاتی آلودگی ہے ڈاکٹر شیر محمد خان کا کہنا ہے کہ ان ریڑھیوں پر جو سامان بکتا ہے ان پر تمام دن شاہرات پر رواں دواں گرد اور دھوئیں کی وجہ سے سینکڑوں بیماریاں جنم لیتی ہیں اور حفظان صحت کے اصولوں سے عاری یہ عوام الناس کو زہر کھلا رہے ہیں جانوروں کا فضلہ کھانے پینے کی چیزوں پر تحلیل ہوتا رہتا ہے اگر کوئی فرد حرم گیٹ سے ڈیرہ اڈہ تک یا لاہور میں ڈیفنس سے بھاٹی گیٹ تک چکر لگا آئے تو اس کے منہ اور کپڑوں پر مٹی کی تہہ جم جاتی ہے انہی جگہوں کے بارے میں اگر تصور کر لیا جائے تو باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا پر کس قدر مٹی کی تہہ جم جاتی ہوگی اور اکثر طالب علم سکول کی دہلیز پار کرتے ہی ان ریڑھیوں کا رخ کرتے ہیں اور بغیر دھوئے خریدا ہوا پھل کھانا شروع کر دیتے ہیں اگرچہ ریڑھی بازار ہماری مجموعی قومی زندگی کا لازمی جزو بن چکے ہیں اور بازاروں سے لاکھوں افراد کا روزگار بھی وابستہ ہے مگر ٹریفک اور شہر کا رخ کرنے والے افراد کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے توبہ ہی بھلی ایک بے ہنگم پھیلائو ہے جو بڑھتا جارہا ہے ان ریڑھیوں کو ان میدانوں تک ہی یا ان بازاروں تک ہی محدود رہنا چاہیئے جہاں اتوار بازار مختص کئے گئے ہیں اور وہ افسران جو اس سلسلہ میں غفلت برتتے ہیں جنہوں نے ان ریڑھی والوں کو شاہرات کے ساتھ عوام الناس کی سہولت کیلئے بنائے گئے سروس روڈز پر بیٹھنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کی بھی باز پرس ضروری ہے وہ ان تجاوازت کے انسداد کے ذمہ دار ہیں کیونکہ کارپوریشن ہی کے بعض اہلکار خرچہ پانی لیکر یا محض چند پیسوں کے لالچ میں پورے شہر کو ریڑھی بازار میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہ اکثر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر ان ریڑھیوں پر پابندی لگا دی گئی تو بہت سے گھروں کا چولہا بجھ جائے گا ان کے اس موقف کے پیچھے ذاتی مفاد یا لالچ بھی چھپا ہوتا ہے یہ جواز پیش کرنے والے کل کلاں یہ جواز بھی پیش کرسکتے ہیں کہ بھکاریوں کو بھی حق بجانب قرار دیا جائے۔ 

ریڑھی بازار سے پیدا ہونے والی
مشکلات کا تدارک کیسے ممکن ہے ؟
آنے والے کل میں ان ریڑھی بازاروں میں مزید اضافہ نظر آرہا ہے اس لئے ریڑھی بازاروں کو ایک مخصوص جگہ پر مختص کردیا جائے ان دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے ان ریڑھی والوں کو اپنی دکان کے سامنے فٹ پاتھوں پر بر اجمان کر رکھا ہے حیران کن بات یہ ہے بعض دکاندارریڑھی کھڑی کرنے والوں سے رقم وصول کرتے ہیں ایسے دکانداروں پر بھی گرفت سخت کی جائے جبکہ ان کارپوریشن کے اہلکاروں کا بھی قبلہ درست کیا جائے جو پیسے لیکر ریڑھی والوں کو عوامی گزر گاہوں پر قابض کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں ۔
 

مزید پڑھیں

 قدرتی آفات ایک عالمگیر حقیقت ہیں، زمانہ ازل سے  انسان کو غیرمعمولی قدرتی حادثات اور آفات کا سامنا رہا ہے۔ آج کے دور میں قدرتی ا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ ایک ان دیکھا، انجان دشمن مسلسل میرا اور آپ کا پیچھا کر رہا ہے، اور ہم سب بے بس ہیں۔ گھر، دفتر، اندر، باہر موجود چھوٹے، بڑے سب ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔    

مزید پڑھیں

اٹلی سسلئین مافیا کا گھر ،اب چاروں طرف سے لاک ڈائون ہے ۔ویٹی کن بھی یہیں ہے جہاں پوپ فرانسس کی رہائشگاہ ہے۔ کچھ سنا ہے کہ وہاں کیا چل رہا ہے ،دعائوں اور اللہ سے رحم کی درخواستوں کے سوا اور کیا بات ہو رہی ہو گی۔    

مزید پڑھیں

 ملک بھر میں فرسودہ رسموں کا خاتمہ ضروری ہے جو دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ یہاں بھی ان کا خاتمہ ہو جاناچاہیے تھا لیکن جدید دور میں بھی یہ زندہ ہیں۔    

مزید پڑھیں