☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
ہماراٹرک آرٹ ،جاپان میں بھی مشہور

ہماراٹرک آرٹ ،جاپان میں بھی مشہور

تحریر : ایم آر ملک

03-08-2020

 اس لوک آرٹ میں قومی سیاست ، ممتا کی محبت اورگھریلو ناچاقیوں کی جھلک نظرآتی ہے

 

ایک دور تھا جب ٹرک باڈی کیلئے سب سے بڑی مارکیٹ پشاور ہوا کرتی تھی ،پاکستان بھر سے بیڈ فورڈ کے مالکان ٹرک کی نئی باڈیاں بنوانے کیلئے پشاور کا رخ کرتے، پھر آہستہ آہستہ پشاور میں باڈی میکنگ کا کام زوال کی جانب گامزن ہو گیا۔ اس کی جگہ پنجاب کے ضلع خوشاب نے لے لی ،جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازیخان میں بھی ٹرک کی باڈیاں بنانے کاکام انجام پارہا ہے خوشاب میں اس وقت ٹرک باڈی بنانے کی ملک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں 100سے زائد ورکشاپس موجود ہیں،دو عشرے قبل کئی نوجوان یہ کام سیکھنے کیلئے ان ورکشاپس میں آتے تھے مگر کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے ان کی تعداد میں کمی آ گئی ہے۔ اس فن سے وابستہ نئے چہروں کا مستقبل دھندلا رہا ہے ،یہ نوجوان پرانے کاریگروں کی شاگردی اختیار کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے تاہم اب ایسا نہیں ۔یہ فن پرانے کاریگروں کے ہاتھوں تک محدود نظر آتا ہے۔
 کٹھہ چوک خوشاب میں مرزا عبدالستار جو 40برسوں سے ٹرک باڈی کے کاروبار سے وابستہ ہے ،اس کا کہنا ہے کہ کسی دور میں ٹرک کی باڈیاں تیار کرنے والے افراد معاشرے کے خوشحال افراد گردانے جاتے تھے، ایک ورکشاپ سے کئی افراد روزگار کما سکتے تھے ،اب ایسا نہیں ہے۔ میرے والد بھی اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کے کئی شاگرد ہیں مگر اب یہ کاروبار بھی معدوم ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ،باربرداری کیلئے ٹرک مالکان کو ملنے والے محدود اور کم کرائے جب ٹرک مالکان کی آمدن ہی اتنی کم ہوگئی ہے کہ وہ نئی باڈی بنوانے کے متحمل نہیں یوں ٹرک مالکان اب باڈی میکرز کی ورکشاپس کا رخ کم ہی کرتے ہیں ۔ٹرک باڈی کیلئے تمام ضروری لوازمات کی قیمتیں بڑھنے سے ورکشاپس مالکان بھی بڑے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔ٹرک کی باڈی تیار کرنے میں ایک ماہ تک کا کم از کم عرصہ درکار ہوتا ہے ،ایک باڈی پر سات لاکھ تک لاگت آتی ہے لکڑی میں کندہ کام محنت طلب ہوتا ہے یہ اکثر لکڑی شیشم کی ہوتی ہے جو زیادہ تر ڈرائیور اور کلینر سائیڈ دروازوں پر کی جاتی ہے جبکہ ٹرک کی سامنے والی سائیڈ پر پڑتل ،دیار کی لکڑی سے کام کیا جاتا ہے پاکستان میں ٹرانسپورٹ کا سب سے اہم ذریعہ جس کے ذریعے سامان سڑکوں کے راستے بندر گاہوں اور پہاڑی علاقوں میں لے جایا جاتا ہے ’’ٹرک ‘‘ہیں یہ ٹرک نہ صرف سامان سے لدے ہوئے بلکہ اس سے بھی زیادہ سجے ہوئے اور رنگ و روغن کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ 
کسی بھی تیار کی گئی چیزمیں اس وقت تک تشنگی  معلوم ہوتی ہے جب تک اس کی مناسب آرائش و زیبائش کرکے اسے خوبصورت انداز میں پیش نہ کیا جائے ۔عمارتوں اور عام استعمال کی اشیا ہوں یا کھانے پینے کا سامان ان سب اشیاء میں رنگ بھر کر انہیں خوش رنگ اور دلکش بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار نہ صرف ان کی تخلیق سے کیا بلکہ انہیں خوش نما رنگوں میں پیدا کرکے انسان کے اندر ذوق نظر پیدا کیا آسمان ،ستاروں ،سیاروں سمندری اور زمینی مخلوقات ،رنگا برنگ پھل اور پھول قدرت کے حسین مناظر ہماری زندگی میں خوشیوں کے کینوس پر رنگ بھرتے ہیں اسی طرح رنگ و آہنگ کا یہ ذوق و شوق انسان کی فطرت ثانیہ بن چکا ہے ہمہ اقسام مصنوعات کو خوبصورت رنگوں سے رنگ کر جاذب نظر بنا کر پیش کیا جارہا ہے ان میں ایک شعبہ آٹو موبائل بھی ہے جس میں نت نئے ماڈل کی گاڑیاں اور مشینری انوکھے رنگوں میں فروخت کیلئے پیش کی جارہی ہیں مگر آٹو موبائل استعمال کرنے والے ہر ملک ،علاقے اور ہر شخص کا اپنا بھی ایک ذوق ہے کمپنیاں اپنی گاڑیاں جس نام ،جس رنگ اور جس نعرے کے ساتھ مارکیٹ میں لاتی ہیں ان کے خریدار ان میں اپنی مرضی کے مطابق ترامیم و اضافے کرتے رہتے ہیں ڈاکٹر اپنی گاڑیوں پر طبی علامات اور مسلح افواج کے ارکان فوجی علامات یا نعرہ ،اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ڈگری یافتہ بعض افراد اپنی یونیورسٹی کا حوالہ درج کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ہمارے ہاں ٹرک ،بس یا رکشہ وغیرہ چلانے والے اکثر ان پڑھ یا نیم خواندہ ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے خیالات ،جذبات اور احساسات کا اظہار علامتی تصاویر ،بے ساختہ الفاظ ،نیم تراشیدہ اشعار اور محاوروں سے کرتے ہیں کبھی تو یہ اختراعات گاڑی چلانے والوں کی خواہش پر گاڑیوں کی زینت بنتی ہیں اور کبھی گاڑیوں کے آر ٹسٹ ان گاڑیوں کے مالکان کے مزاج اور پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے خود وضع کرتے ہیں۔ ڈیزائن اور اشعار کے پیٹرن اکثر ایک دوسرے سے چوری کئے جاتے ہیں یا کبھی مقابلے پر تیار کئے جاتے ہیں ٹرک باڈی کا بیشتر کام خوشاب ،پشاور اور ڈیرہ غازیخاں میں انجام پاتا ہے اس لئے ٹرک آرٹ پر بھی انہی علاقوں کا کلچرچھایا ہوا اور نمایاں نظر آتا ہے ۔
تہذیب و ثقافت کی شناخت اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے لیکن ٹرک باڈی کے ساتھ ساتھ اس خصوصی کلچر کے ساتھ ہزاروں خواندہ و نیم خواندہ اور ان پڑھ افراد کا روز گار وابستہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو گھر سے خالی ہاتھ محنت مزدوری کو نکلے تھے اور کسی استاد کی شاگردی اختیار کرکے آرٹ کے ماہربن گئے ان میں کوئی پینٹر ہے ،کوئی خطاط ،کوئی ڈیزائنر ہے اس کے علاوہ پلاسٹک ،ریفلکٹر ،ٹین گر ،لکڑی اور لوہے کاکام کرنے والے شامل ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے شعبے کا ماہر ہے ان کی مہارت کے مظاہرے بھی ٹرکوں اور بسوں ،موٹروں پر نظر آتے ہیں اگرچہ جدید گاڑیوں پر اس نوع کے ڈیزائن کم کم ہی نظر آتے ہیں تاہم ٹرک آرٹ پورے ٹرانسپورٹ کلچر پر پورے شدو مد کے ساتھ چھایا ہوا ہے ٹرکوں پر رنگوں کے حسیں امتزاج کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مختلف روایتی اشیا ء اور خوبصورت مناظر ،مشہور شخصیات کی تصاویر بنی ہوئی نظر آتی ہیں ٹرک آرٹ پاکستانی فوک آرٹ کی ایک اہم شاخ ہے جسے عرصہ پہلے شناخت ملی پاکستان میں ٹرکوں کے گیراج مکینکوں کیلئے ہی آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ باڈی میکر (ٹرک کے لکڑی کے حصوں پر کام کرنے والے کاریگر ،ویلڈرز جوکہ مرمت کا کام کرتے ہیں ماسٹر پینٹرز جنہیں استاد کہا جاتا ہے جونیئر پینٹرز جو شاگرد کہلاتے ہیں اور سجاوٹ کرنے والوں کو بھی روزگار فراہم کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں ٹرک کے’’ نقوش‘‘ ابھارتے ہیں یہ سجے ہوئے ٹرک نہ صرف پاکستانی سڑکوں کی روایت ہیں بلکہ ٹرک پینٹرز کے فن ،ٹرانسپورٹروں اور ڈرائیوروں کیلئے بھی فخر کا باعث ہیں اور لوگوں کی امیدوں اور تمنائوں کی علامت ہیں ایک اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر میں شاہرات پر رواں دواں ان ٹرکوں کے بڑے اڈے زیادہ تر انہی سجاوٹ اور مرمت کرنے والی ورکشاپس کے قریب ہوتے ہیں ۔
ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ حضرات ٹرکوں کی سجاوٹ پر ایک خطیر رقم خرچ کرتے ہیں،  ٹرک چاہے کتنے بھی پرانے کیوں نہ ہوںگرانی کے اس دور میں مالکان یا ڈرائیور اس وقت تک ان کے سپیئر پارٹس اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک مرمت سے ان کا کام چلتا رہے لیکن ٹرکوں کی سجاوٹ ہر صورت میں ضروری سمجھی جاتی ہے ٹرکوں کی باڈی کی تکمیل کے بعد لکڑی کی باڈی کو پہلے دو مخصوص انداز سے رنگوں سے سجایا جاتا ہے جن میں ایک کو ’’سادہ پینٹنگ ‘‘اور دوسری کو’’ ڈسکو پینٹنگ ‘‘کا نام دیا جاتا ہے سادہ پینٹنگ میں کچھ جگہ خالی بھی چھوڑ دی جاتی ہے تاہم ڈسکو پینٹنگ میں ذرا سی بھی خالی جگہ نہیں چھوڑی جاتی سادہ پینٹنگ مکمل ہونے میں بھی چند دن لگ جاتے ہیں دیگر سجاوٹ میں چھوٹی چھوٹی شیشے کی ٹکڑیاں ،مختلف اشیاء ،چمکیلی پٹیوں سے بنے ڈیزائن ،بمپر میں بندھی شور مچاتی زنجیریں بھی شامل ہیں جن کے شور سے شیطان اور بری نگاہ ڈالنے والا خوف زدہ ہو جائے باڈیاں  بنانے والے افراد اور مالکان اپنی ورکشاپس میں صرف تربیت یافتہ پینٹرز سے ہی تصویریں بنواتے ہیں جبکہ بیک گرائونڈ کلر کرنے اور سادہ سجاوٹ کیلئے جونئر پینٹرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں خوشاب کا شیر خان بگا اور کامران جیسے پینٹرز ٹرک کی باڈیوں پر تصاویر پینٹ کرنے اور لکھائی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے یہ حضرات اپنے کام میں جدت پیدا کرنے کیلئے تصاویر کے نئے آہنگ متعارف کرارہے ہیں۔ پینٹنگ کا کام مکمل ہونے کے بعد ٹرک کو اندر سے شیشوں ،لکڑی کے کندہ کار دروازوں ،گھنٹیوں ،زنجیروں اور کڑھائی والے کپڑوں کی پٹیوں سے سجایا جاتا ہے۔ ٹرک کی سجاوٹ کے متعلق علامات ،ایف 16فائٹرز جیٹ ،معروف شخصیات کی تصاویر ،شاعری اور مشہور فقرے ٹرک آرٹ کے مشہور ذرائع میں شمار ہوتے ہیں مذہبی علامات کو اہم جگہوں یعنی ٹرک کے تاج پر جگہ دی جاتی ہے ٹرک کے ماتھے پر مکہ میں خانہ کعبہ اور مدینے میں مسجد نبوی کے سبز گنبد کی تصاویر بنی ہوتی ہیں پشاور اور ڈیرہ غازیخان میں یہ مقدس تصاویر پلاسٹک کے شیشہ سے بنائی جاتی ہیں جبکہ خوشاب میں یہ تصاویر پینٹ کی جاتی ہیں  اسی طرح ٹرک کے تاج پر قرآنی آیات اور دعائیں ،اللہ تعالیٰ کے پاک نام ،حضور ﷺکے نام ، کلمہ اور احادیث بھی بھی لکھی جاتی ہیں ٹرک کے دیگر حصوں پر اکثر براق یعنی عورت کی شکل کا اڑنے والا گھوڑا ،مشہور صوفیائے کرام کی تصاویر ،خوبصور ت آنکھ جسے نظر بد سے بچانے کی علامت سمجھا جاتا ہے نظر آتی ہے ٹر ک کا باقی حصہ پاکستان کے لوگوں ،ان کی تمنائوں ،ان کے خوابوں ،خواہشات اور امیدوں کی عکاسی کرتا ہے ٹرک کے پچھلے حصہ پر مشہور شخصیات کی تصاویر یا کسی خوبصورت علاقہ کی سینری بنائی جاتی ہیں پشاور میں اکثر ٹرک ڈرائیورز ،مالکان سابق صدر ایوب خان کی تصویربھی بنواتے ہیں جس کے نیچے یہ فقرہ بھی لکھا نظر آتا ہے کہ ’’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ‘‘میانوالی جہاں ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے ایک بڑا طبقہ منسلک ہے عمران خان موجودہ وزیر اعظم پاکستان کی تصاویر بھی بنواتے ہیں جبکہ ایک معروف عالم دین عبدالستار خان نیازی ؒجن کا تعلق میانوالی سے تھا کی تصویر بھی بنواتے ہیں اسی طرح فوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی تصاویر بھی میانوالی کے ٹرک مالکان کی گاڑیوں کی پشت پر دیکھی جاسکتی  ہیں نقاب کے پیچھے جھانکنے والی خوبصورت آنکھیں بھی اکثر ٹرکوں پر پینٹ کی ہو ئی ہمیں نظر آتی ہیں بہادری اور خوبصورتی کی علامت سمجھے جانے والے جانور جیسے شیر ،چیتا ،عقاب ،رنگ برنگے طوطے اور مور کوبھی پینٹ کیا جاتا ہے خوبصور ت پہاڑی قبائلی علاقوں اور پہاڑی وادیوں کے ساتھ دریائوں جھیلوں ،درختوں اور چھوٹے چھوٹے مکانوں کی عکاسی ،قراقرم کے پہاڑی سلسلے سوئیٹزر لینڈ کی پہاڑی چوٹیوں کا منظر پیش کرتی ہیں بین الاقوامی واقعات ،حالات حاضرہ ،سیاست کو تصاویر کے رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے جیسے افغانستان میں جنگ کے طویل دورانیئے نے زور پکڑا تو افغانی قالین کی جگہ ہیلی کاپٹر اور بندوقیں پینٹ کی گئیں پاکستان کو جب امریکہ نے ایف سولہ طیارے دینے سے انکار کیا تو ان ٹرکوں پر ایف سولہ کی خیالی تصاویر نظر آنے لگیں ٹرک کے دونوں اطراف اردو اور انگریزی میں ٹرانسپورٹ کمپنی کا نام لکھنے کا رواج بھی عام ہے ٹرک آرٹ کی سب سے خاص بات اس پر لکھی جانے والی شاعری اور فقرات ہیں ٹرک مالکان یہ فقرے شوقیہ لکھواتے ہیں اکثر فقرات سے علاقائی کلچر بھی نمایاں ہوتا ہے خوشاب ،چکوال ،میانوالی ۔تلہ گنگ کے ٹرک مالکان یہ فقرہ بھی لکھواتے ہیں ’’پرت کے تکنا کرم نوازی ڈھولے دی ‘‘یعنی( مڑ کر دیکھنا محبوب کی کرم نوازی ہے )توں لنگ جا ساڈی خیر اے ،ٹرک آرٹ میں ایسے فقرے یا جملے بھی ہماری نظروں سے گزرتے ہیں جن میں والدین کے احترام کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
 اس سلسلہ میں ماں کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ ’’ماں کی دعا جنت کی ہوا ‘‘بعض ٹرکوں کی پشت پر پاک آرمی کے کسی بہادر سپوت کی تصویر بنا کر نیچے لکھا جاتا ہے ’’پاک فوج کو سلام ‘‘ٹرک آرٹ پر لکھی جانے والی عبارت دلچسپی سے خالی نہیں ہوتی وہ عملی کام جو ہماری ٹریفک پولیس کو کرنا چاہیئے فقرات کی شکل میں ٹرک مالکان اس شعور کو یوں اجاگر کرتے ہیں ’ ’تیز رفتاری ،انجام موت ‘‘یعنی اکثر ٹرکوں پر لکھے جانے والے فقرات ہماری روز مرہ زندگی اور ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں شاہرات پر رواں دواں ان ٹرکوں کے مالکان کے خیالات سے ان فقرات کے ذریعے آشنائی ہوتی ہے اور ان کی سوچ ایک طرح سے فکر انگیزی کا ذریعہ ہے ٹرک آرٹ میں ان فقرات سے ایک نئی سوچ متعین ہوتی ہے ٹرک آرٹ کی ایک اور شکل فوک آرٹ کو فنکشنل سے آرٹسٹک میں ڈھالے گئے لکڑی کے فریم ہیں خوبصورت اور تخیلاتی تصاویر کو ان فریموں پر پینٹ کے ذریعے حقیقی رنگ دیا جاتا ہے جس سے ٹرک آرٹ میں ایک انقلاب برپا ہوا اس آرٹ نے آرٹ کے مقامی تنقید نگاروں کو ایک نیا موضوع دیا ہے پاکستانی ٹرک آرٹ صرف محفوظ کرنے کیلئے نہیں بلکہ اس خاص قسم کے آرٹ سے ایک انقلاب برپا ہواٹرک کی باڈیاں بنانے کا کام ایک انڈسٹری ہے جو مہنگائی اور گرانی کی بدولت دم توڑ رہی ہے حکومت وقت کو چاہیئے کہ اس انڈسٹری کی سرپرستی کرتے ہوئے اس فن کے ساتھ جڑے افراد کے روزگار کو محفوظ بنانے میں اہم رول ادا کرے اس انڈسڑی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیکر بلاسود قرضوں کا اجرا کیا جائے ۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ ایک ان دیکھا، انجان دشمن مسلسل میرا اور آپ کا پیچھا کر رہا ہے، اور ہم سب بے بس ہیں۔ گھر، دفتر، اندر، باہر موجود چھوٹے، بڑے سب ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔    

مزید پڑھیں

اٹلی سسلئین مافیا کا گھر ،اب چاروں طرف سے لاک ڈائون ہے ۔ویٹی کن بھی یہیں ہے جہاں پوپ فرانسس کی رہائشگاہ ہے۔ کچھ سنا ہے کہ وہاں کیا چل رہا ہے ،دعائوں اور اللہ سے رحم کی درخواستوں کے سوا اور کیا بات ہو رہی ہو گی۔    

مزید پڑھیں

 ملک بھر میں فرسودہ رسموں کا خاتمہ ضروری ہے جو دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ یہاں بھی ان کا خاتمہ ہو جاناچاہیے تھا لیکن جدید دور میں بھی یہ زندہ ہیں۔    

مزید پڑھیں