☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)
خاندانی اکائی کیوں ٹوٹ رہی ہے ؟

خاندانی اکائی کیوں ٹوٹ رہی ہے ؟

تحریر : ایم آر ملک

03-22-2020

 کبھی گارے مٹی سے بنا گھر خوشیوں کا گہوارا ہوا کرتا تھا ،باپ ،ماں ،بیٹی ،بیٹے ،بہوجیسے رشتے ایک ہی آنگن اور چھت تلے گھر کی رونق ہوتے تھے، رشتوں کا تقدس تھا خالہ ،پھوپھی ،ممانی ،ماموں ،چچا ،چچازاد بہن ، خالہ زاد ،ماموں زاد جیسے رشتے خاندان کی زنجیر میں ایک کڑی کی طرح جڑے ہوتے مگر وقت نے آنکھیں پھیرلیں تو رشتوں کے نام تک بدل گئے ماموں ،چچا ،خالو جیسے رشتے ’’انکل ‘‘بن گئے ۔
 

 

خالہ ،پھوپھی ، ممانی ،چچی جیسے رشتوں کیلئے ’’آنٹی ‘‘ کا لفظ مختص ہوگیا چچا زاد ،خالہ زاد ،ماموں زاد بہن بھائی ’’کزن ‘‘ جیسے لفظ کے ساتھ جڑ گئے۔ ساس ، بہو جیسے رشتہ میں گو ایک خلیج قائم تھی مگر اب یہ دراڑ گہری ہوچکی ہے اب خاندانوں کے آنگن میں خلوص ،محبت ،پیار ،اتفاق و اتحاد کے پھول نہیں کھلتے اب اینٹوں سے بنے بنگلے ،کوٹھیوں کو گھر بنانے کیلئے لاکھ جتن کرنا پڑتے ہیں ۔مشرق میں مشترکہ خاندانی نظام ہی اتحادو اتفاق کی ضمانت ہے ایک گھر جہاں دادا ،دادی ،والدین اور بچوں کا ساتھ صدیوں سے قائم ہے جہاں خاندان کے بڑے ،بزرگ اور خاندان سے جڑے رشتہ دار دکھ ، سکھ میں شریک ہوتے ہوں کوئی بھی گھمبیر مسئلہ درپیش ہو تو مل بیٹھ کر حل کرنے میں جن کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ۔اپنے تجربے کی بنیاد پر حل تلاش کرنے والے ایک ایسے نظام سے جڑے ہوئے ہیںجس کے فائدے بہت زیادہ اور نقصانات انتہائی کم مگر یہ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ رہا ہے نئی نسل کو بزرگوں کی طرف سے کی جانے والی نصیحت تک بے جا مداخلت لگتی ہے ایسا کیوں ہورہا ہے ؟یہ سوالات جواب مانگتے ہیں یہ رویئے بحث طلب ہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟

  
خاندانی نظام کیوں دم توڑ رہا ہے ؟

  
جدید دور کا انسان سائنسی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ترقی کی منازل تو طے کررہا ہے لیکن اخلاقی اور سماجی اقدار سے ایک طویل فاصلے پر کھڑا ہے سرمائے کی ہوس نے انسانی ،سماجی نظام کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے اتنے رشتوں کے ہجوم میں بھی انسان اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ رشتے ،ناطے ،پیار ،محبت پیسے کی ہوس کے سامنے شاید ہیچ ہوگئے ہیں مشرق میں عموماً اور برصغیر میں خصوصاًمشترکہ خاندانی نظام جو صدیوں سے قائم و دائم تھا شاید اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے ایک بہن جو ایک دولت مند گھرانے کی بہو ہے اور اس کی اولاد بھی اسی سوچ کی حامل ہے مگر جب اس کا غریب بھائی اس کے گھر جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ہمارے گھر دور کے رشتہ دار آئے ہیں تم ہمارے ان رشتہ داروں کے سامنے خود کو میرا بھائی مت ظاہر کرنا کیونکہ میرے اور تمہارے سٹیٹس میں بڑا فرق ہے یہ ہمارے معاشرے کا ایک حقیقی عکس ہے ایک پس منظر یہ ہے کہ وطن عزیز کی کثیر آبادی دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں صدیوں سے لوگوں کا رہن سہن ایک خاندانی نظام کے تحت برادری سسٹم سے منسلک ہے لوگوں کا بڑا ذریعہ آمدن کاشتکاری اور غلہ بانی ہے جب باہر زمین سانجھی ملکیت میں ہوگی تو گھر کاسار نظام ،یعنی کھانا پینا ،رہائش میں بھی ساجھے داری کا نظام چل رہا ہے گھر کا ایک بڑا ،بزرگ یا سربراہ ہوتا تھا رشتے ناطے کرنے کا اختیار بھی بزرگوں کی دسترس میں ہوتا تھا بزرگوں کے فیصلے چونکہ دور اندیشی کے حامل ہوتے تھے سو اس بنا پر نوجوانوں کو ان فیصلوں پر سر تسلیم خم کرنا پڑتا تھا مگر آج ان بزرگوں کے فیصلوں کی نئی نسل کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ان کی باتیں روک ٹوک محسوس ہوتی ہیں زمانے کا چلن کیا بدلا، مغرب کے اثرات اور تہذیب نے ہمارے دلوں سے بزرگوں کا احترام تک کھرچ ڈالا ۔
ماضی میں لوگ اپنے خاندان میں اپنے بچوں کی شادیاں کرتے تھے ،لڑکی یا لڑکے کے سسرال اس کے اپنے ہوتے تھے ،لڑکی کا سسر اس کا ماما ،چاچا ،تایا وغیرہ ہوتا تھا۔ ساس ممانی ،پھوپھی یا خالہ ہوتی تھی اس طرح لڑکے اور لڑکی کا بھی اپنے سسر اور ساس سے کوئی نہ کوئی قریبی رشتہ ہوتا تھا جس سے رشتوں کی عزت و تکریم قائم رہتی تھی ،رشتوں کا تقدس قائم رہتا ،لڑکی کی طرف سے کوئی بات ہوتی تو بڑے رشتوں کی لاج رکھنے کی خاطر کوئی ایک بھرم کے ساتھ نصیحت کرتے اور اس طرح رشتہ میں آئی دراڑ ختم ہوجاتی اسی طرح اگر لڑکے کی طرف سے کوئی نامناسب رویہ سامنے آتا تو خاندان کے بڑے بیٹھ کر اسے حل کرنے میں دیر نہ لگاتے مگر حالات کی تبدیلی نے نیا رخ اختیار کیا۔ رشتے خاندان سے باہر کرنا ایک رواج بن گیا ،رویوں کی بنا پر رشتے خاندان سے باہر کرنا مجبوری بن گیا اس طرح خاندانی سسٹم جو صدیوں سے ایک زنجیر کی مانند تھا بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا لڑکی اپنے میکے والوں کو ترجیح دیتی ہے لڑکا اپنے خاندان کی بات کرتا ہے یوں خاندانی نظام قائم نہ رہا۔ 
 
 
دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف

 
 ہجرت اور نئی سوچ 

 
خاندان سے علیحدہ ہوکر جب معاشی مسائل کسی فرد کو شہر کی جانب ہجرت پر مجبور کرتے ہیں تو اس کا خاندان سے رشتہ کمزور ہوجاتا ہے۔ رہن سہن کی تبدیلی اور خاندان سے دوری کی بنا پر وہ اکثر اوقات پسند کے ازدواجی رشتہ میں بندھ جاتا ہے اس طرح دو مختلف خاندانوں کے افراد کے رشتہ ازدواج میں بندھ جانے کی بنا پر چونکہ لڑکے اور لڑکی کی عادات مختلف ہوتی ہیں اس طرح دونوں کو ایک دوسرے کی عادات و اطوار کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے لڑکے کے گھر جاکر جب وہ اپنی ساس ،نند کے پرانے طور طریقے دیکھتی ہے تو اسے ان کی عادات و اطوار ،شفقت بھرا رویہ دقیانوسی لگتا ہے بعض اوقات پرائے گھر میں جاتے ہی وہ اس نظام کو رائج کرنا چاہتی ہے جو اس کے گھر ہوتا ہے جس سے ساس اور بہو میں الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ،دلوں میں نفرت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔بیٹا ماں باپ کے خلاف بولتا ہے اور نندیں بھائی کے خلاف اس طرح دوسرے خاندان کی لڑکی اپنے شوہر کو اس کے ماں باپ سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اکیلے میں خوش و خرم زندگی گزارنا چاہتی ہے  ۔
 

محدود آمدنی اور گھر کے اخراجات 

 خاندان سے باہر شادی کے بعد یوں ہوتا ہے کہ بیٹا اپنی محدود آمدنی سے سارے گھر کو خوش نہیں رکھ سکتا اگر بھائی سکولوں کالجوں میں پڑھ رہے ہوں تو ان کے اخراجات پورے نہ ہونے سے بھائی بھی خلاف ہو جاتے ہیں ۔آج کے دورِ ناہنجار میں ایک اکیلا کمانے والا انسان بجلی ،و دیگر اخراجات پورے کرے یا گھر والوں کی خواہشات یوں معاشی ،سماجی اور اقتصادی و ازدواجی وجوہات کی بنا پر بھی خاندانی نظام بر قرار نہیں رہتا کم آمدنی ،خاندان سے باہر شادی ،روپے پیسے کی کمی ،گھریلو پریشانیاں محبت کے رشتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ 

   
اولاد کے ذہن پر اثر

  
خاندان سے باہر شادی کے بعد اکثر مرد اپنی ساس اور سسر کی برائیاں بچوں کے سامنے کرتے ہیں جس کی بنا پر بچے بھی ان کی عزت نہیں کرتے وہ مرد یہ نہیں سوچتے کہ ان کی بیوی کے دل پر کیا گزرتی ہے جبکہ کئی گھرانوں میں ساس بہو میں ہم آہنگی اور رنجشوں کا مسئلہ مردوں کی نسبت سنگین ہوتا ہے شاید اس لئے کہ ساس ،بہو کے جھگڑے نے کئی گھروں میں مقابلے کی فضا پیدا کردی ہے جہاں صورت حال یہ ہوتی ہے کہ بچہ اگر دادی سے محبت کرتا ہے تو اس کی ماں کو بُرا لگتا ہے ایسے میں بچے کی پوزیشن سب سے زیادہ خراب ہوتی ہے وہ دادی سے محبت کرتا ہے مگر ماں کی وجہ سے اظہار نہیں کرسکتا بہت سی مائوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے ان کی دادی کی برائیاں کرتی ہیں یہ عمل بچوں کے دلوں سے بزرگوں کی عزت وتکریم ختم کر رہا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین ایسے بچوں سے احترام کی جو توقعات رکھتے ہیں اس پر وہ بچے پورے نہیں اترتے ایک ہی چھت تلے رہنے والوں میں غلط فہمیاں پروان چڑھتی ہیں اور محبتیں ختم ہونے لگتی ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ جوان اولاد ہمہ وقت اس بات سے نالاں نظر آتی ہے کہ والدین یا خاندان کے بزرگ کہاں جارہے ہو ؟کیوں جارہے ہو ؟،کب آئو گے ؟ بھوکے تو نہیں ؟دیر سے کیوں سوئے ؟کوئی پریشانی تو نہیں ؟بہت چپ چپ ہو کوئی پریشانی تو نہیں؟جیسے سوالات ہم سے کیوں پوچھتے ہیں ؟بد تہذیبی اور بیزاری کا چلن عام ہورہا ہے ۔
   

بزرگ گھر کی رحمت 

  
سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جنریشن گیپ یوں بھی آیا ہے کہ نئی نسل کو دادا ،دادی یا نانا ،نانی پرانے فیشن کے لگتے ہیں نئی نسل سمجھتی ہے کہ ان بوڑھوں کا اٹھنا بیٹھنا ،رہن سہن اور لباس ہمیں سب کے سامنے شرمندہ کر دیتا ہے یہ درست ہے کہ بعض بزرگ اپنے زمانے کے طور طریقوں اور روایات موجود ہ زمانے پر لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تبدیلیوں کو قبول نہیں کرتے اور چاہتے ہیں بچے وہی کریں جو وہ کہہ رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے بزرگوں کے ساتھ بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا جائے ان کی برائی کی جائے ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑا دی جائے یاا نہیں عضو معطل بنا کر چھوڑ دیا جائے نئی نسل یہ سوچنے اور سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ جتنی ہماری عمر ہے اس سے زیادہ  ان کا تجربہ ہے انہیں نئی نسل کے مشاغل ،جدید زمانے کے رواج نہ صرف عجیب لگتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک ناپسندیدہ بھی ہیں تبھی وہ ردِ عمل کے طور پر بر ہمی کا اظہار کرتے ہیں بزرگوں کے تجربہ اور نصیحت کو سجھتے ہوئے جو نوجوان اپنے بزرگوں کی روک ٹوک کو برداشت کرتے ہیں اور بزرگوں کو ان کا صحیح مقام بھی دیتے ہیں وہ زندگی کے ہر میدان میں کامران رہتے ہیں ایسے خاندان بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوپاتے ۔
 

  موبائل فون عدم توجہ کا ذریعہ 

  

 

عجیب دور پرفتن آیا ہے کہ ہر فرد موبائل میں ایسے گم ہے کہ اسے ارد گرد کے کسی وجود کا احساس تک نہیں رہا۔رشتوں کا تقدس بھی اس جدید ٹیکنالوجی کی سکرین کے پس پردہ گم ہورہا ہے، مغرب نے مشرقی روایات تک کا جنازہ نکال دیا ہے ،سوشل میڈیا پر مگن گھر کے افراد رشتوں سے زیادہ موبائل فون سے جڑے ہوئے ہیں جس کی بنا پر وہ بزرگوں کی باتوں اور کسی نصیحت کو قبول نہیں کرپاتے اس بنا پر بھی اب رشتوں کی شناخت اور خاندانی سسٹم ختم ہورہا ہے وہ وقت دور نہیں جب انسان ،انسان سے کٹ جائے گا ۔
   

عدم برداشت 

  
بعض گھروں میں ماحول اس قسم کا ہوتا ہے کہ کوئی بھی کسی کی بات حتیٰ کہ کسی کے وجود تک کو برداشت نہیں کرتا خواہ وہ دادا ،دادی یا نانا،نانی ہی کیوں نہ ہوں ایسے گھروں میں رہنے والے افراد میں برداشت اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی مثلاً ایک بیٹا اگر اپنے باپ کو اپنے ہاں لانا چاہتا ہے تو بیٹے میں اس حد تک عدم برداشت ہوتی ہے کہ اس کا باپ اگر کسی بات پر ٹوک دے تو بیٹا اس بات کو برداشت نہیں کرتا صرف غصے کی بنا پر گھر کا ماحول عجیب و غریب ہوجاتا ہے ایسے میں ایک روز باپ اپنے بیٹے کے گھر سے بوریا بستر سمیٹ کر عازم سفر ہوجاتا ہے۔ یہ جنریشن گیپ ہے جو نسل نو اور بزرگوں کے درمیان خلیج پیدا کر رہا ہے ۔یہ دو نسلوں کے درمیان ذہنی فاصلوں کا سوال ہے ایک مشترکہ خاندانی نظام جو رائج چلا آرہا تھا اب دیہی علاقوں میں بھی یہ جائنٹ فیملی سسٹم دم توڑ رہا ہے۔
   

رویئے 

   ہمارے دماغوں کو مادہ پرستی نے مفلوج کردیا ہے ہمارے پاس احساست ،جذبات اور رویوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہم اپنے لوگوں کو پاس بٹھا کر اس سے سوال نہیں پوچھتے کہ کیا بات ہے ہم لوگ حد سے زیادہ پریکٹیکل ہوچکے ہیں ہم ہر چیز کو مادی انداز میں سوچتے ہیں ،معاشرے کے تنگ حالات اور خوف و ہراس کے ماحول میں ماں کے جھریوں بھرے پھیلے ہوئے ہاتھ اولاد کی عافیت کا سبب بن جاتے ،بے سمت زندگی کی دوڑ میں شفقت پدری میں لپٹا رہنما باپ گھر کو گھر بنائے رکھنے میں مصروف ،تو کہیں دادا ،دادی کی نصیحت ،بہن بھائیوں کی محبت بھری نوک جھونک گھر میں رونق لگایا کرتی ،مگر اب ہمارے ہاں مغرب کی طرح ’’اولڈ ایج ہومز ‘‘کا رواج شروع ہوچکا ،وقت کے ساتھ ساتھ نافرمان اولاد کی کثرت ،بڑے بوجھ بن گئے ،وقت ٹھہرتا کب ہے ہم نے اپنے ماضی میں جھانکنا گوارا ہی نہیں کیا ،محبت بھری نوک جھونک حقیقی بحث و تکرار کا روپ دھار رہی ہے ،گھر کے مکیں فرائض بھلا کراپنے موقف پر ڈٹے حق کی جنگ لڑنے کو تیار ہورہے ہیں ۔ وقت اور مسائل کی آندھی کو روکنا مشکل تو ہے لیکن اگر ہم دل و دماغ سے سوچیں تو آج بھی ہم اپنے گھروں میں خوشیوں کو واپس لاسکتے ہیں پرانا خاندانی نظام زندہ کیا جاسکتا ہے جس سے گھروں میں سکون کا تصور ہوگا گھر کے بزرگوں کا احترام بھی پریشانیوں کا حل ہے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جوں جوں ذرائع آمدنی محدود ہورہے ہیں ،ذرائع پیداوار تبدیل ہورہے ہیں ہمارے سماجی ،معاشرتی اور معاشی نظام نے بھی خاندانی نظام کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اردو اور تامل زبان میں اس کی نعت رسول مقبول’’یا نبی ؐ‘‘ نے دنیا میں دھوم مچا دی ہے ’’میں نے دنیاکے زہریلے ترین کیڑوں مکوڑوں، سانپوں اور بچھوئوں سمیت ہر ایک کے خلاف اللہ تعالیٰ کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے،اب مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں ‘‘:راجہ شنکر وہ ہر وقت سوچتا تھا کہ انسان کا بنایا ہوا بت اس کا خالق کیسے ہو سکتا ہے ،کوئی نہ کوئی سپر طاقت ہے جس نے دنیا بنائی!  

مزید پڑھیں

 ہم عہدِ فتن میں جی رہے ہیں۔ فتنے ہیں کہ دم تو کیا لیں گے، تعداد میں بھی بڑھ رہے ہیں اور جوش و خروش میں بھی۔ بہت کچھ جاچکا ہے، بہت کچھ جانے والا ہے۔ جو کچھ آچکا ہے وہ ناک میں دم کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ خدا جانے اور کیا کیا آنے والا ہے اور کس حد تک ناکوں چنے چبوانے والا ہے۔ تین چار عشروں کے دوران جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں وہ عقل کو دنگ اور تنگ کیے دیتی ہیں۔

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں