☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
فکرِ اقبال ؒاورعالمی بے روزگاری

فکرِ اقبال ؒاورعالمی بے روزگاری

تحریر : ڈاکٹر مختار احمد عزمی

04-19-2020

برصغیر میں اقبالؒ سے پہلے کسی فکری شاعر نے مزدور اور مظلوم طبقات کے بارے میں ایک مربوط،متعین اور منظم فکر کے طور پر بہت کم لکھا ہے۔کسی کے ہاں ایک شعر،کسی کے ہاں دو یا زیادہ سے زیادہ دو چار نظمیں نظر آ سکتی ہیں۔
 

 

اقبالؒ وہ واحد عظیم المرتبت فکری شاعر ہے جس نے مزدور کے پسینے کو اپنے اشعار میں جذب کر کے اسے مشکِ نافہ بنا دیا ۔ان کی دردمندی میں محنت کی مہک اور مزدور کے لہو کی باس موجود ہے۔خاص طور سے ایک ایسے وقت میں جب دنیا مسائل سے دوچار ہے اور آنکھوں سے نظر نہ آنے والے ننھے سے کورونا وائرس نے دنیا کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ، صنعتوں کی بندش سے بے روزگاری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،کوئی کہتاہے کہ دنیا بھر میں 60کروڑ کے قریب بے روزگار ہوں گے ۔کوئی اس سے بھی زیادہ افراد کے روزگار چھینے جانے کی درد ناک باتوں سے دل دہلا دیتا ہے۔لیکن علامہ صاحب کو علم تھا کہ کسی بھی مصیبت میں مشینوں کے سرمایہ دارمحنت کشوں کوکچل دیں گے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج یہ کچھ ہو رہا ہے۔کھربوں ڈالر کی امداد کے قصے دنیا بھر میں عام ہیں لیکن غریب کو کہیں بھی کچھ نہیں مل رہا۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی غریب خون کے آنسو رو رہے ہیں۔علامہ صاحب جانتے تھے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بنایا گیا نظام غریب کا کبھی ساتھ نہیں دے گا اور یہ ہم نے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک دیکھ لیا ہے۔    
 دا نشور سجاد ظہیر لکھتے ہیں۔
’’اقبالؒ ایک پسماندہ، نو آبادیاتی معاشرے میں پیدا ہوئے لیکن انہوں نے عالمی استعمار کے خلاف جس انقلابی وژن سے کام لیا اور جس تخلیقی انداز سے نو آبادیاتی نظام کے خلاف آواز بلند کی، افروایشیائی اقوام کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے‘‘ ۔اقبالؒ نے مغرب سے مرعوب ہونے کی بجائے اس کے کھوکھلے پن کا سراغ لگایا۔شاخِ نازک پر آشیانہ بنانے والوں کے سامنے اس کی ناپائیداری کا کھلم کھلا اعلان کر دیا حالانکہ اس وقت سلطنتِ برطانیہ پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اگر ہم ارتقائی لحاظ سے اقبالؒ کے ہاں غم مزدور یامظلوم لوگوں کی حالتِ زار کانقشہ دیکھنا چاہیں تو سب سے پہلے ۱۰۹۱ء میں ’’ نالہء یتیم‘‘ سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔اس نظم میں پوشیدہ کرب ۱۰۹۱ء ہی میں ’’علم الا قتصاد‘‘کی صورت میں ایک ٹھوس نثری احتجاج بن جاتا ہے۔اس میں اقبالؒ اس درد اور احساسِ زیاں کی عکاسی کرتے ہیں جو اس وقت کے مزدوروں اور کسانوں بلکہ پورے ہندوستان پر مسلط تھا۔آگے چلیے تو ایک عہد آفریں رسالے ’’مخزن‘‘ (۵۔۴۰۹۱ء ) میں ان کا ایک بصیرت افروز مضمون ملتا ہے۔اس میں کشتگانِ جبر اور اسیرانِ استحصال کی زبوں حالی پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ لکھتے ہیں 
’’…(یہ قوم) اب وقت کے تقاضوں سے غافل اور افلاس کی تیز تلوار سے مجروح ہو کر ایک بے معنی توکل کا عصا ٹیکے کھڑی ہے۔میں صنعت و حرفت کو قوم کی سب سے بڑی دولت خیال کر تا ہوں۔میری نگاہ میں اس بڑھئی کے کھردرے ہاتھ ان نرم و نازک ہاتھوں کی نسبت بدرجہا بہتر، خوبصورت اور مفید ہیں جنہوں نے قلم کے سوا کسی چیز کا بوجھ محسوس نہیں کیا۔ ‘‘ 
بندۂ مزدور کے اوقات کی تلخی کم کرنے کے لئے اقبالؒ نے نہ صرف شعروادب کو استعمال کیا بلکہ عملی جدّوجہد بھی کی۔اس سلسلے میں قائداعظم ؒکو خطوط بھی لکھے اور مسئلے کے حل کے لئے اُبھارا۔وہ جس پاکستان کا مطالبہ کر رہے تھے اس میں مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کے زبردست حامی تھے۔حضرت قائد اعظم ؒبھی اپنی کئی تقاریر میں پسینہ خشک ہونے سے پہلے محنت کا صلہ دینے کے حامی تھے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو پاکستان میں کسی کو بھی محنت کشوں کے حقوق غضب کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ہمیں یاد ہے کہ جب ۶۲۹۱ء میں جب اقبالؒ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو کسانوں پر لگائے جانے والے ناروا لگان کی سخت مخالفت کی اور دیہاتی عورتوں کے لئے طبّی سہولتوں کا مطالبہ کیا۔
علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری کے عہدِ آغاز میں بارگاہِ خداوندی میں ایک دعا مانگی تھی
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درمندوں سے ،ضعیفوں سے محبت کرنا
اقبالؒ ان لوگوں سے پیار کرتے ہیں جو اللہ کے بندوں سے پیار کرتے ہیں اور مزدور، کسان اور غرباء ہی تو پیار کے لائق ہیں۔یورپ سے واپس آنے کے بعد،اسی خیال کو نظم ’’ جوابِ شکوہ‘‘ میں ایک اور انداز سے بیان کیا ہے۔
امراء نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملتِ بیضا غرباء کے دم سے 
اسی زمانے میں ایک اور معرکۃ الآراء نظم’’شمع و شاعر‘‘ میں بھی استعاراتی انداز میں مظلوموں اورمجبوروں کی کم نصیبی کا ذکر ملتا ہے
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ  ُتو ،کھیتی بھی  ُتو، باراں بھی  ُتو، حاصل بھی ُتو
یہاں ’دہقان‘ سے مراد زوال پذیر مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور عام دہقان مزدور بھی۔اقبالؒ نے یہی اسلوب نظم ’’بڈھے بلوچ کی نصیحت ‘‘ میں بھی برتا ہے۔
موسم اچھا ، پانی وافر ،مٹی بھی زرخیز 
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا،وہ کیسا دہقان
یہاں یہ بتا دینا مناسب ہو گا کہ فکرِ اقبال میں مزدور سے مراد صرف اینٹیں اور گارا ڈھونے والے محنت کش ہی نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس میں وہ تمام محنت کش طبقات شامل ہیں جو اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور آجر اور اجیر کے متعین مفہوم میں شامل ہیں۔ ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اقبالؒ کا بندہ مزدور، اس کے باقی نظامِ فکر کا ایک حصہ ہے۔وہ جہاں بندۂ مزدور ہے وہاں وہ بندۂ مومن کا پرتو بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ نانِ جویں پر گزارا کرتا ہے۔۰۱۹۱ء میں اقبالؒ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اصحابِ فکرو نظر اورطلباء کے سامنے ایک خطبہ پیش کیا۔عنوان تھا ’’ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘۔ اس میں وہ وطن کی غربت اور افلاس پر لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’سب سے اہم عقیدہ اس مسلمان کے سامنے جو قومی کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتا ہے،یہ ہے کہ وہ کیونکر اپنی قوم کی اقتصادی حالت کو سدھارے۔اس کا فرض ہے کہ ہندوستان کی تمام اقتصادی حالت پر نظرِ غائر ڈال کران اسباب کا پتا لگائے جنہوں ملک کی یہ حالت کر دی ہے۔‘‘ کلامِ اقبال میں بندۂ مزدور کے حوالے سے ایک واضح جھلک نظم ’’خضر راہ‘‘ میں بھی ملتی ہے۔اس نظم میں اقبالؒ کی فکری تمازت شعلہ آفریں ہو جاتی ہے اور یہ موضوع جامعیت اور آفاقیت حاصل کر لیتا ہے۔’’پیام مشرق‘‘ ہی کی ایک اوراہم نظم ’نوائے مزدور ‘ ہے جسے خلیفہ عبدالخکیم نے محنت کشوں کا پیغامِ انتقام کہا ہے۔فکرِ اقبال میں بندۂ مزدور کا مقام اس قدر بلند ہے کہ اقبال کا کلام مزدور تحریک کا منشور کہا جا سکتا ہے۔
 

مزید پڑھیں

  کیا پاکستان ،کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیگا؟ ہر جانب یہی سوال سننے کو مل رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔    

مزید پڑھیں

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،    

مزید پڑھیں

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے،    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں  

مزید پڑھیں