☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
سیاسی تنازعات بمقابلہ عوام کی فلاح

سیاسی تنازعات بمقابلہ عوام کی فلاح

تحریر : عابد حسین

04-19-2020

  کیا پاکستان ،کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیگا؟ ہر جانب یہی سوال سننے کو مل رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔
 

 

پوری دنیا میں صرف لاک ڈاؤن ہی اس کا واحد حل سامنے آیا ہے۔ جنگ کی کامیابی کا تناسب بھی عوام کے روئیے یعنی سماجی فاصلے برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔پاکستان میں کورونا کے خلاف جاری اقدامات کا آغازفروری کے آخری دنوں سے تعلیمی ادارے بند کرکے کیا گیا تھا۔اس کے بعد مارچ کے آخری عشرے میں لاک ڈاؤن کے اعلان نے عوام میں خوف کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی بڑھایا کہ اب یہ سنجیدہ معاملہ بن چکا ہے۔دیکھا جائے تو مسئلے کی سنگینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں،سب اپنے اپنے طور پر کورونا کے خلاف اقدامات اور متاثر ہونے والے طبقے کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔بحالی کا یہ کا م ضرورت مندوں کو راشن اور نقد رقم تقسیم کرنے کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔

 وفاقی حکومت کا’’ احساس ‘‘پروگرام بھی جاری ہے جس کے تحت مستحق گھرانوں کو 12ہزار روپے نقد دئیے جارہے ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے راشن بیگز تقسیم کیے جارہے ہیں۔نقد رقم اور راشن کی تقسیم کے دوران گذشتہ دنوں بد انتظامی بھی دیکھنے میں آئی۔دونوں طرح کی امدادی تقسیم کے دوران مستحقین کی قطاریں کورونا کے خلاف جنگ کے پہلے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کا منظر نامہ پیش کررہی تھیں، کیونکہ بیشتر مقامات پر لوگوں کے درمیان سماجی فاصلے کے اصول کا خیال نہیں رکھا گیاتھا۔
اس وقت دنیا کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی کے چوتھے ماہ میں اور پاکستان دوسرے ماہ کی تکمیل کے قریب ہے ۔خیر و برکات اور کشادگی رزق کا مہینہ ، رمضان المبارک بھی شروع ہونے والا ہے لیکن عوام کا مالی اور ملک کا معاشی بحران اپنے عروج پر ہے۔عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مڈل انکم گروپ بھی غربت کی لکیر پر آچکا ہے جو کسی بھی وقت اس لکیر سے نیچے چلا جائیگا۔ ایسے وقت میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں جن میں سرفہرست عوام کی دیکھ بھال ہے۔پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی ترقی یافتہ ملک سیاسی تنازعات کی بحث سے بچ کر صرف عوام کی فلاح پر توجہ دے رہاہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ حد درجہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب کورونا وائرس کی وجہ سے بڑی بڑی جنگیں سکوت کا شکار ہیں ،بھارت کی جانب سے گذشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف کارروائیاں اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی کہانیاں ختم ہونے میں نہیں آرہیں۔ مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف اپنا بغض اس عالمی آفت کے دوران بھی نہیں بھولی ہے۔مسلمانوں کے خلاف قانون سازی پر اٹھنے والی مزاحمتی تحریک کو کچلنے میں ناکامی پر مودی سرکار کو کورونا کرفیو کے نفاذ میں ہی عافیت نظر آرہی ہے۔اقوام متحدہ سمیت دیگر اداروں خاص طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو اس رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو واقعی دنیا بدل رہی ہے۔ یہ کتنی بدلے گی،اس بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے۔البتہ بارگاہِ الہٰی میں سر بسجود ہونے کے لیے پانچ وقت صفیں بناتے مسلمان ہوں یاگرجاگھروں کے مسیحی عبادت گزار،مندروں کی پوجا پاٹ ہو یا گردواروں میں ہونے والی گریہ وزاری ۔ فی الحال سب ہی لوگ ایک خوردبینی مخلوق سے خوف زدہ ہیں۔ماہرین طب نے روحانی طور پر سکون دینے والے ان مقامات پر یہ کہہ کر تالے ڈلوادیئے ہیں کہ مجمع اکٹھا کرنا خطر ناک ہے۔ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں،مصافحہ ممنوع،معانقہ سے مکمل گریز کریں ۔ گھر میں بھی رہیں تو دور رہ کر باتیں کریں۔بچے والدین سے اور والدین بچوں سے لپٹنے کے لیے بے چین ہیں لیکن  جان لیوا وائرس ان رشتوں کے لمس کے درمیان حائل ہے۔خود بہت ہی چھوٹا ہے لیکن گز گز بھر کے فاصلے پیدا کرچکا ہے۔مارکیٹ سے اشیائے ضرورت درکار ہوں یا بینک سے رقم لینا مقصود،اس وائرس نے ہر جگہ قطار بنوادی ہے ۔اب احتیا ط کرنے میں ہی عافیت ہے کیونکہ قانون کی خلاف ورزی کا نتیجہ جان کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ہلاکت پھیلانے والا یہ وائرس کہیں انسان کو تمیز کے دائرے میں لارہا ہے اور کہیں اس کا تکبر خاک میں ملارہا ہے۔جو احتیاط کررہا ہے ،یہ اس کا دوست ہے ،جو بار بار ہاتھ دھوتا ہے یہ اس کے پاس سے نقصان پہنچائے بغیر پانی میں گھل مل کر ختم ہوجاتا ہے ۔جو احتیاط نہ کرے یہ اس کا دشمن ہے،ہاتھوں سے منہ ،ناک ،کان یا آنکھ کے ذریعے پہلے حلق اور پھر پھیپھڑوں میں داخل ہوکر اپنا مسکن بناتا ہے۔اس لیے ماہرین طب کا مشورہ ہے کہ انسان گھروں میں ہی رہیں۔نہ جانے کب باہر جانے پر آپ کا واسطہ کسی ایسے غافل شخص سے پڑجائے جس کے جسم پر یہ وائرس موجودہو اور آپ سے چپک کرگھر میں داخل ہو جائے۔
 صورتحال یہ ہے کہ پورے ملک میں احساس پروگرام کے تحت مستحقین میں 12 ہزار روپے کی تقسیم کا عمل جاری ہے لیکن افسوس کہ متعلقہ بعض بینکوں کے باہر لگی قطاریں صحت کے لیے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں۔انسان سے انسان جڑے ہوئے جگہ جگہ نظر آرہے ہیں۔کہیں امداد اور کہیں راشن کے حصول کے لیے جان لیوا بیماری کے احساس سے عاری بدحواس لوگوں کی قطاریں لگی ہیں۔
سرکاری سطح پر نقد امداد یاراشن کی تقسیم کے عمل کو حفظانِ صحت کے اصول پامال کرکے انجام دینے کا’’بُرا نتیجہ ‘‘سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ کورونا وائرس پوش علاقوں سے کچی آبادیوں تک پہنچ چکا ہے۔ملک بھر میں اب علاقے سیل کرنے کی نوبت آگئی ہے۔امداد کی تقسیم کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر تشکیل نہ دیا گیا تو نہ جانے کتنے انسان ’’کورونا مثبت‘‘ہونا شروع ہوجائیں گے۔
 کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے دوران دنیا بھر میں رہن سہن اور کام کاج کے قواعدوضوابط از سرنو تشکیل پارہے ہیں،لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہم اب بھی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔پولیس کا تمام زور ان لوگوں پر ہے جو مرکزی شاہراہوں پر کسی نہ کسی ضروری کام یا ڈیوٹی پر جا رہے ہیں۔انہیں علاقوں کے اندر کی ان رونقوں کا نوٹس لینا چاہیے جو علاقے سیل کرانے کا سبب بن رہی ہیں۔
   صنعتی ترقی کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے انسان کے رہن سہن کو بدل دیا تھا،پھر کارپوریٹ کلچر نے رہی سہی کسر نکال دی تھی۔ ان ادوار میں ہزاروں مزدور اور ملازمین بے روزگار کردیے گئے تھے۔اس بے روزگاری نے کئی ترقی پذیر معاشروں میں غربت کی لکیروں کو دراز کردیاتھا،امیر اور غریب کے فرق کو بڑھادیاتھا۔اس دوران عالمی بینک نے خوب قرضے دیئے اور خوب سود کمایا لیکن کبھی کسی ادارے کو مکمل سنبھلنے کے لیے رقم نہیں دی۔اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے پاکستان اسٹیل کو اپنے پاؤں پرکھڑا نہیں ہونے دیا گیا۔ ہمیشہ چند ارب دے کر ملازمین کو تنخواہوں کا بھکاری بنادیا گیا۔اب یہ وزیر اعظم عمران خان پر منحصر ہے کہ اگر وہ لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے پر 144 ارب روپے احسا س پروگرام کو دینے پر مجبور ہوگئے ہیں تو کیوں نہ پاکستان اسٹیل کو ایک مکمل بیل آؤٹ پیکیج دے دیں تاکہ یہ ادارہ ہر کچھ ماہ بعد چند ارب روپے کا بھکاری بننے سے بچ جائے اور ایک بار پھر روزگار دینے والا منافع بخش پیداواری ادارہ بن جائے۔
کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ کورونا سے لڑنا نہیں بلکہ بچنا اور سیکھنا ہے تو شاید پاکستان بننے کے 74سال بعد ہم بھی تعلیم و صحت کے میدان میں انقلاب برپا کرسکیں۔لہٰذا اسے صرف ایک نعرے کی بجائے نصب العین بنالیا جائے تو ممکن ہے کہ اگلے دس سال میں پاکستان کی قسمت بدل جائے۔وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ایٹم بم بنانے والا ملک وینٹی لیٹر کیوں نہیں بنا سکتا۔یہ حقیقت ہے کہ کورونا بحران کے ایک ماہ بعد بھی ہم  ماسک لگانے یا نہ لگانے کی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں۔لاک ڈاؤن کی سختی اور نرمی کے نتائج سامنے آچکے ہیں۔ذخیرہ اندوزوں کے اندازے درست ثابت ہورہے ہیں۔لاک ڈاؤن کے آغاز میں ہی انہوں نے سستا آٹا مارکیٹ اور یوٹیلیٹی اسٹورز سے اُٹھالیا تھا۔اب امکان ہے کہ رمضان المبارک میں انتظامی نااہلی کے باعث عوام گراں فروشی کو بھی بھگتیں گے۔
 سندھ حکومت نے آنے والے دنوں کا ادراک کرتے ہوئے بعض اقدامات تجویز کیے ہیں۔ جن میں کورونا وائرس سے متاثرہ طبقات کو سماجی ومعاشی کاروباری ریلیف دینا شامل ہے۔گزشتہ دنوں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے ایک نجی کمپنی نے ڈہرکی کے مقامی افراد کو مدد فراہم کرنے کی غرض سے علاقے میں قائم اپنے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کو 60بستروں پر مشتمل قرنطینہ مرکز میں تبدیل کردیاہے جو ایک خوش آئند اقدام ہے۔ایسا ہی جذبہ دیگر نجی اداروں کو بھی دکھانا چاہیے۔
ماضی کے عیب ،خوبیاں اور ماضی کی خوبیاں ،عیب بنتی جارہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا جب (حکم ِربی سے )خاتمہ ہو گا تو گویا انسان ایک نئی دنیا آبادکرنے کی فکر کا آغاز کرچکا ہوگا۔فوری طور پراسے بدترین معاشی بدحالی کا سامنا ہوگا۔
یہ طے ہے کہ کورونا وائرس کی وباء نے دنیا بھرکے بڑے بڑے ممالک کی معیشت کو زمین پر لاکھڑا کیا ہے اور ایک اندازہ ہے کہ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا بھر میں50کروڑ سے بھی زائد لوگ غربت کا شکار ہوسکتے ہیں،خیال کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے غربت کا شکار ہونے وا لوں میں سے ایک تہائی افراد کا تعلق جنوبی ایشیائی اور ایک تہائی افراد کا تعلق جنوبی ایشیائی خطے اور افریقہ سے ہوگا ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھنے والے اسی بحران کی وجہ سے افریقہ و جنوبی ایشیا کے متعدد ممالک کا تقریباً تین دہائیاں پیچھے چلے جانے کا خدشہ ہے۔
کورونا وائرس سے جنگ کے دوران تقریبا ً پوری دنیا لاک ڈاؤن کی کیفیت سے دوچار ہے۔کارخانے،ریل گاڑیاں،ہیوی ٹریفک، طیارے سمیت ہر قسم کا کاروبار زندگی معطل ہے۔اس دوران فطرت کو اپنے رنگ دکھانے کا بھرپور موقع مل رہا ہے۔آسمان نیلگوں ہوگیا ہے۔اوزون کی ازسرنر تشکیل ہورہی ہے۔زمین کے ارتعاش نے سکون کا سانس لیا ہے۔سمندر اور دریاؤں کی آلودگی ختم ہونے سے آبی مخلوق بھی خوش ہے اور اسے قدرت کی مہربانی قرار دے رہی ہے۔گویا ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آئی ٹی انقلاب کے بعدخالق کائنات نے ’’کائنات کی ہارڈ ڈسک کو ریفریش کرنے کا بٹن ‘‘دبادیا ہے۔
 افواہوں پر دھیان مت دیں
ایک ایسے وقت میں جبکہ میڈیا سے سرکاری سطح پر مصدقہ خبریں عوام تک پہنچائی جارہی ہیں،مختلف افواہیں بھی تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ایسی ہی ایک غلط خبر کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کو کہنا پڑا کہ صوبے میں 3 افرادکے بھوک سے مر نے کی خبر حقائق پرمبنی نہیں ہے۔ بحرانی صورتحال میں بے بنیادباتیں، افواہیں پھیلانے اور شائع کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ حقائق یہ ہیں کہ سوبھل شر نے اپنی اہلیہ اور سسرال کے ساتھ گھریلو معاملات کی وجہ سے بلوچستان کے شہر جھٹ پٹ میں خود کو آگ لگائی اور اسے ہسپتال سکھر لایا گیا ،یہاں سے بعد میں پیر عبدالقادر شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، گمبٹ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔شاہ زیب سہتو ایک معروف اسکول کے استاد شہان سہتو کا بیٹا ہے ، جس کی گمبٹ کے شہری اور دیہی علاقوں میں جائیدادیں ہیں اور معاشی طورپر مستحکم ہے۔ اس کے بیٹے نے خاندانی مسائل کی وجہ سے خود کو آگ لگائی۔55 سالہ ریاض میتلو ، لقمان خیرپور کے شیشم کالونی کا رہائشی ہے ، پچھلے 15 روز سے شدید بیمار تھاجس کے باعث وہ جاں بر نہ ہوسکا اور یہ ایک فطری موت تھی۔
 اُمیدیں اورڈائو یونیورسٹی کی بڑی کامیابی
نہ صرف دنیا بدل رہی ہے بلکہ مملکت خداداد میں بھی ترقی کی اُمیدیں بڑھ رہی ہیں۔’’ڈاؤ یونیورسٹی‘‘ کے ماہرین نے انسانی جین میں قدرتی طور پر موجود کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والی دوایسی صلاحیتوں کا پتہ لگا لیاہے جو نوول کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہیں۔ جن انسانوں کی جین میں یہ تبدیلیاں پائی جاتی ہیں کرونا وائرس ان کے جسم میں جاکر غیر مئوثر ہوسکتاہے۔ یہ تحقیق وائرولوجی کے بین الاقوامی’’ جریدے جرنل آف میڈیکل وائرولوجی‘‘ میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان ماہرین کا کہناہے کہ حالیہ ریسرچ کے نتیجے میں عالمی وبا کورونا وائرس کے لیے طبی وسائل کے تعین میں مدد ملے گی۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اسکریننگ کے دوران لیے گئے ٹیسٹ سیمپل سے ہی مذکورہ جینیاتی تغیرات کی موجودگی کا بھی علم ہوسکتا ہے۔ ان دونوں یا کسی ایک تبدیلی کی صورت  میں کورونا وائرس کی علامات میں شدت آنے کے امکانات کم ہوجائیں گے ۔اس صورت میں متاثرہ شخص کو محض گھر کے ایک کمرے میں قرنطینہ کی ضرورت ہوگی، جبکہ دوسری صورت میں متاثرہ شخص کو دواؤں کے ساتھ اسپتال کے آئسولیشن وارڈ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے ۔ڈاؤ کالج آف بائیوٹیکنا لوجی کے وائس پرنسپل ڈاکٹرمشتاق حسین کی سربراہی میں کام کرنے والی طلباء اور اساتذہ کی ٹیم نے ایک ہزار انسانی جینوم کی ڈیٹا مائننگ کرکے معلوم کیاکہ اے سی ای ٹو(اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم ٹو) نامی جین میں ہونے والے دو تغیرات ایس انیس پی اور ای تھری ٹو نائن جی کورونا کی راہ میں مزاحم ہوسکتے ہیں ،کیونکہ کورونا کا باعث بننے والا سارس کووڈ ٹو انفیکشن کے ابتدائی مرحلے میں اے سی ای ٹو(اینجیو ٹینسن کنورٹنگ انزائم ٹو) سے ہی جاکر جڑتاہے ۔ریسرچ ٹیم جس میں ڈاکٹرنصرت جبیں ، فوزیہ رضا،ثانیہ شبیر،عائشہ اشرف بیگ ،انوشہ امان اللہ اور بسمہ عزیز شامل ہیں۔
 
 

مزید پڑھیں

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،    

مزید پڑھیں

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے،    

مزید پڑھیں

برصغیر میں اقبالؒ سے پہلے کسی فکری شاعر نے مزدور اور مظلوم طبقات کے بارے میں ایک مربوط،متعین اور منظم فکر کے طور پر بہت کم لکھا ہے۔کسی کے ہاں ایک شعر،کسی کے ہاں دو یا زیادہ سے زیادہ دو چار نظمیں نظر آ سکتی ہیں۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں  

مزید پڑھیں