☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
وبائوں کی تاریخ سے سبق سیکھیں

وبائوں کی تاریخ سے سبق سیکھیں

تحریر : شہروزنوازسرگانہ/خانیوال

04-26-2020

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں

 

جن کوروزانہ کی بنیاد پہ سینکڑوں اموات اورہزاروں نئے کیسوں کا سامناکرنا پڑرہاہے۔ان ناگہانی آفات کا سامنا دنیا کو پہلی با ر نہیں کرناپڑرہابلکہ تاریخ میں ان کی موجودگی صدیوں پرانی ہے اور ہم سے پہلے والے لوگ اس کرب سے گزرچکے ہیں۔ اس سے پہلے مختلف قسم کے کئی وائرس دنیا کی آبادی کومتاثر کرنے میں کامیاب ہو ئے اورلاکھوں افرادان کاشکار ہوکرلقمۂ اجل بنے ۔حالیہ دنوں جس ناگہانی آفت کوروناوائرس کادنیا کو سا مناہے یہ بھی ماضی میں نمودار ہونے والے وائرس میں سے ایک ہے جس نے چندہی ماہ میں پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے کربڑی بڑی سپرپاورطاقتوں کوبھی گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردیا ہے ۔
ماضی میں ان وباؤں نے دنیا کی آبادی کوبے تحاشہ نقصان پہنچا یاتقریباًکروڑوں لوگ مئوذی وائرس کا شکار ہو ئے۔ کورونا وائرس بھی ان ہی کی طرح ایک خطرناک ترین بیماریہے جس نے دنیا بھرمیں تباہی مچا رکھی ہے، اور ایسے ہی حالات سے اس وقت ہمارا ملک بھی دوچار ہے ۔گویا باقی دنیاکے ممالک کی نسبت پاکستان میں اس وائرس کی شدت بہت کم ہے ، پھر بھی اس کے خطرا ت ہمارے سر پر بھی منڈلا رہے ہیں ،اور لوگوں کی غفلت و لاپروا ہی سے نئے کیسزاوراموات میں برابر اضافہ ہورہاہے۔ آج ہمیں ذمہ داری کامظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ،کیونکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور بڑے بحرانوں کاشکار ہے ۔ہماری معیشت پہلے ہی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ اگر مریض اسی رفتار سے بڑھتے رہے توبہت ساری مشکلات کاسامناہو گا جو شاید ہمارے جیسے غریب ملک کی قوت برداشت سے بھی باہرہوجائے، کیونکہ ماضی میں جب اسی طرح کے ایک وبائی وائرس نے یورپ امریکہ ودیگر کئی ممالک کوگھیراتھاتو کروڑوں لوگوں کی جان لے لی تھی اوران بڑے ملکوں کی معیشت برباد ہوگئی تھی۔ امریکہ جیسے ملک نے بھی امدادکی اپیل کردی تھی جبکہ اب بھی کورونا وائرس کے وار،برطانیہ ،اٹلی،سپین،جرمنی،امریکہ سمیت دنیابھرکے سینکڑوں ممالک میں بڑی تیزی سے جاری ہیں ،اور تاحال کے پھیلنے کی رفتار میں کمی واقع نہیں ہوسکی بلکہ روزبروزاس کی شدت میں اضافہ ہورہاہے۔ ان ممالک میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہارچکے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں نئے کیسز کاسامناہے۔ بعد کے حالات کاشاید ہمیں ابھی اندازہ ہی نہیں لیکن حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں آنے والے وقتوں کیلئے اپنے آپ کوذہنی طور پر تیار کرلیناچاہیے، ہوسکتاہے آنے والے چند ماہ وسال میں ہمیں بھی سخت حالات کاسامناکرناپڑجائے۔ ملک میں جزوی لاک ڈاؤن چل رہاہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ آزادی سے گھوم پھررہے ہیں۔ ایک سے دوسری جگہ جانے میں ذرابھربھی روک ٹوک نہیں ہے۔ سماجی میل جل بھی نہیں تھم سکااورلوگ ایک دوسرے کوپہلے ہی کی طرح مل رہے ہیں ۔ ہماری قوم اس قدر سنگین صورتحال کو سنجیدہ لینے کوتیارہی نہیں ،لیکن یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکارہرگز نہیں کیاجاسکتا کہ کوروناوائرس وسائل کیساتھ ساتھ زندگیاں بھی نگل رہاہے۔ وطن عزیز میں کچھ طبقے لاک ڈاؤن کے سخت خلاف ہیں مگراسی میں تو انسانی جانوں کاتحفظ ممکن ہے۔ اگرخدا نخواستہ صورتحال قابو میں نہیں رہتی توحکومت کے پاس باامرمجبوری اس میں توسیع کاآپشن ہے توہمیں اس کیلئے بھی تیار رہناچاہیے۔ ہماری حکومت نے پھربھی بہت سارے طبقوں کی مجبوریوں کے پیش نظر اس میں نرمی کر کے لوگوں کوکاروبارکھولنے کی اجازت دے دی ہے ۔ ہما رے مقابلے میں وسائل سے مالامال ملک تک کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم اموات کی شرح کو1 لا کھ لوگوں کی موت تک کنٹرول کرلیتے ہیں تواس میں ہماری کامیابی ہے اب ہمیں حالات کی سنگینی کو سمجھنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا میں انسانی زندگیاں داؤ پہ لگ چکی ہیں ۔جو بھی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات پر عمل نہیں کریگا وہ اپنے اور دوسر ے لوگوں کیلئے مسائل کاسبب بن سکتا ہے۔ جو پوز یشن اس وقت ترقی یافتہ ممالک کی ہے دنیا بھر کی معیشتوں کوبھی متاثر ہونے کے خدشات درپیش ہوں گے، اوراگر ان ممالک کی معیشت بیٹھ جاتی ہے تو ہمارے جیسے ترقی پذیر غر یب ملکو ں کاکیابنے گا جن کا سارانظام ہی قرضوں پہ چلتا ہے ۔توہمیں ایسے وقت کیلئے ابھی سے اپنے ذہن میں پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ سابقہ تاریخوں میں جب یہ وبائیں آئی تھیں توکئی بڑے مما لک کوخوراک کے مسائل پیش آتے رہے ہیں۔ ابھی سے ملک میں بیروزگاری میں اضافے کاخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کئی لوگ شہروں میں کاروباربند ہونے کی صورت میں واپس اپنے گھروں کو آچکے ہیں ۔ہمیں ان حالات کاسامنا ایک عرصہ تک کرناپڑسکتاہے ۔ہم سب کو اس بارے  میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک لائنوں میں کھڑے ہوکرحکومتی امد ادوصول کرتے رہیں گے؟
 کورونا وائرس کی وباء کے خاتمے کی صورت میں بھی طویل عرصے تک حالا ت نارمل ہونے کی اُمید خاصی کم نظرآ رہی ہے۔ اس قسم کے گرداب سے نکلنے کے بعدترقی یافتہ ملکوں اورحکومتوں کو سنبھلنے میں توہفتے مہینے لگیں گے جبکہ ہمیں کئی برسوں کا پلان بناناہوگا۔ سب سے اہم بات تویہ ہونی چاہیے کہ ہم چند فیصلے جو کرنے ہیں پورے اعتما د کیساتھ کر کے ان پرہرصورت عمل بھی کریں۔ کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جومشکل وقت میں گھبراتے نہیں اور خواہ جس طرح کے حالات ہوں وہ مقابلہ کرتے ہیں۔یہ ذمہ داری صرف حکومت کے کندھوں پر ہی نہیں ڈالنی یہ ہمارا بھی ملک ہے ہماری بھی اتنی ہی ذمہ داریاں ہیں جتنی حکومتِ وقت کی ہیں۔ہم سے پہلے والے لوگ بھی ان حالات سے گزرچکے ہیں جن کی معیشت تباہ وبرباد ہوگئی۔ لاشوں کے انبار گلیوں میں پڑے ہونے کے باو جود جب ان وباؤں کے اثرسے لوگ باہر نکلے تو ایک نئے جذبے کے سا تھ نئے سرے سے زندگی کاآغاز کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بن کراپنی آنے والی نسلوں کودنیا پر حکمرانی کے قابل بنادیا۔ آج ماضی کے جذبے کی پاکستانی قوم کوضرورت پیش آپڑی ہے ۔ہمیں بھی اپنی آنے والی نسلوں سے پُر اعتماد جذبوں کیساتھ عہدکرنا ہوگا کہ ہم ناصرف اس ناگہانی آفت کامقابلہ کرکے اسے شکست دیں گے بلکہ اس کے اثرات سے باہر آتے ہی اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسی مثالیں قائم کریں گے جورہتی دنیاتک یاد رکھی جائیں گی ۔یہ سب کچھ مشکل ضرورہوسکتاہے مگر نا ممکن ہرگز نہیں بس ہم سب کو مل کر حوصلے اور ہمت کامظاہرہ کرناہوگا۔
 

 

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔    

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 نریندر مودی کہتے ہیں کہ یوگا سے دماغ ٹھنڈا ہوتا ہے ‘‘لیکن ان کے ایما ء پر بھارتی میڈیا نے ملک بھر میں اسلام دشمنی کی آگ بھڑکا دی ہے، بھارتی حکومت اور میڈیا نے کوروناوائرس کو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کیا پاکستان ،کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیگا؟ ہر جانب یہی سوال سننے کو مل رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔    

مزید پڑھیں

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،    

مزید پڑھیں

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے،    

مزید پڑھیں