☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
غفلت کی گنجائش نہیں ۔۔۔۔

غفلت کی گنجائش نہیں ۔۔۔۔

تحریر : ملک سراج مسن

04-26-2020

کورونا وائرس کی وباء جس جس ملک  میں عروج کو پہنچ رہی ہے وہاں لاشوں کے انبار لگتے جارہے ہیں۔ چین سے جب اس وائرس نے آغاز کیا تھا تو اس وقت دنیا اسکی ہلاکت خیزی سے آگاہ نہیں تھی۔
 

 

اسی طرح چائنا کو بھی ابتدا ء میں سمجھ نہیں آئی کہ اس مئوذی مرض سے کس طرح نجات حاصل کریں اور کون سی احتیاطی تدابیر اس ضمن میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔ کچھ دنوں کے مشاہدے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک مکمل لاک ڈائون نہیں ہوگا تب تک اس سے نمٹنا سہل نہیں لہٰذا انہوں نے سب سے پہلے اس شہر کو مکمل لاک ڈائون کیا جہاں سے یہ وائرس نمودار ہوا تھا اور بتدریج انہوں نے پورے ملک کو لاک ڈائون کرکے اس کو کافی حد تک اپنے کنٹرول میں کرلیا ۔ اسکے برعکس اگر ہم یورپ کا مشاہدہ کریں تو اٹلی اور سپین کی مثال سب سے زیادہ نمایاں ہے کہ جب وہاں اسکے آثار نمودار ہوئے تو حکومتوں نے اسے ضرورت سے زیادہ نارمل لیا۔ عوام اپنے معمول کے مطابق سڑکوں پر رہے،روز مرہ کے معمولات چلتے رہے اور اس بھیانک غفلت کا نتیجہ ان دونوں ممالک میں 40 ہزار کے قریب اموات کے طور پر سامنے آیا اور اب بھی مسلسل ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔انّیسویں صدی میں جب یورپ میں نزلہ وبائی مرض کی صورت میں سامنے آیا تو اس سے لاکھوں اموات ہوئیں اور اس پر قابو پانے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔اس وقت انہوں نے ایک حکمتِ عملی یہ اختیار کی کہ جو مسافر بھی بحری جہاز کے ذریعے ساحلی شہر پہنچتے ان کو وہیں پر 40 دن تک بڑے بڑے ہالز میں رکھا جاتا۔ ان کا بغور مشاہدہ کیا جاتا اور 40 دن تک جس میں علامات ظاہر نہ ہوتیں انہیں جانے کی اجازت مل جاتی وگرنہ ان کے علاج یا پھر فوت ہونے تک ان کو وہاں سے نکلنے پر ممانعت ہوتی۔ وہیں سے ہی قرانطین لفظ نکلا جس کے معنی 40 دن ہیں۔ اس احتیاط کیساتھ ہی لاکھوں افراد کے لقمۂ اجل ہونے کے بعد اس مئوذی مرض سے نجات حاصل ہوسکی۔
پاکستان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ کورونا کی ابتداء سے تقریباً 1ماہ بعد اس کا پہلا کیس ہمارے ملک میں ظاہر ہوا گویا ہمیں تیاری کا کافی حد تک موقع ملا مگر بدقسمتی سے ہم نے اس سے بدترین لاپرواہی برتی۔ ہمیں بروقت ایکشن لیتے ہوئے پورے ملک کا لاک ڈائون کردینا چاہیے تھا۔جو جس ملک سے آرہے تھے اول تو اسی ملک سے بات کرکے ان کو وہیں قرانطین کردیتے یا پھر پاکستان آتے ہی ائیرپورٹ کے ساتھ ہی قرانطین کردئیے جاتے۔ جس طرح ایران سے لوگ واپس آئے اس کا خمیازہ اللہ نہ کرے کہ آنے والے دنوں میں بھگتنا پڑے۔ اسی طرح عمرہ زائرین اور یورپ سے آنے والوں کو بھی بغیر چیک کئے اور بعض جگہوں پر’’نذرانے‘‘ لیکر یا ’’فیور ‘‘ دیکران کے گھروں میں جانے دینے سے بھی اس میں اضافہ ہوا۔ اس ساری صورتِ حال کے بعد مکمل لاک ڈائون نہ کرنا حیران کن ہے۔ اسی روئیے کے باعث صوبے بھی اپنی لاک ڈائون حکمت عملی پر مکمل عملدرآمد سے قاصر ہوئے چاہتے ہیں۔ وزیرِ اعظم کا یہ کہنا کہ مکمل لاک ڈائون سے معاشی بدحالی بڑھے گی اور لوگ بھوک سے مرجائیں گے بھی درست ہے لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہر ملک اس طرح کے بحرانی حالات سے نمٹنے کے لئے اپنے تمام وسائل اس میں جھونک رہا ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں کے اہلِ ثروت اپنے دامن کو وسیع کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہاں کے رفاعی ادارے جس طریقے سے بلند و بالا پہاڑی علاقوں تک پہنچ کے لوگوں کو راشن پہنچارہے ہیں وہ لائق ِتحسین ہے۔ جس دن پاکستان میں پہلا مریض ظاہر ہوا تھا اس کے بعد 20 دنوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 1000 تھی اور اب ہر دن درجنوں مریضوں کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے مکمل لاک ڈائون یا کرفیو نہ لگایا گیا تو یہ تعداد خدانخواستہ ہزاروں تک بھی پہنچ جانا خارج از امکان نہیں۔ لہٰذا حکومت اور اس سے منسلک قومی سلامتی کے سارے ادارے لاک ڈائون پر سختی سے عمل کروائیں اور ملک بھر میں شٹرڈائون ممکن بنائیں کیونکہ ابتک امریکہ سمیت جس جس ملک نے اس میں غفلت برتی وہاں روزانہ سینکڑوں اموات ہوئیں جبکہ ان کے پاس ہم سے بہتر ہسپتال اور دیگر ذرائع موجود ہیں۔اگر اب بھی لاک ڈائون کو ممکن نہ بنایاجاسکا تو وطن عزیز بدترین حالات سے دوچار ہوسکتا ہے۔ لہٰذا کسی کی بے جا ضد اور غفلت پر عوام کو موت کے منہ میں نہ جھونکا جائے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جس کا جتنا رزق لکھا جاچکا اس کو وہ ضرور ملے گا۔ رزق کی تلاش میں باہر جانے والا اس ہلاکت آمیز وائرس کو اپنے گھر لے گیا تو سب کو ہی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کراچی کے ایک ہی گھر میں سے7 افراد جوکہ پورا کنبہ تھا اس وائرس کا شکار ہوچکا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں اور یونیسف کے اس اصول کو اپناتے ہوئے مکمل لاک ڈائون پر جائیں اور رفاعی اداروں اور مخیر افراد کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں غریب عوام کے چولہے کی آگ جلتی رہے۔
 

مزید پڑھیں

 سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنیااس وقت کوروناوائرس کی وجہ سے جس کرب اورمشکل ترین حالات سے گزررہی ہے اس کااندازہ ان تمام ممالک کوبخوبی ہے جواس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، البتہ بعض ممالک میں اس کاپھیلاؤ اتناشدید ہے کہ کئی بڑے ترقی یافتہ ملک تمام وسائل رکھنے کے باوجود بھی ہاتھ کھڑے کرچکے ہیں  

مزید پڑھیں

 نریندر مودی کہتے ہیں کہ یوگا سے دماغ ٹھنڈا ہوتا ہے ‘‘لیکن ان کے ایما ء پر بھارتی میڈیا نے ملک بھر میں اسلام دشمنی کی آگ بھڑکا دی ہے، بھارتی حکومت اور میڈیا نے کوروناوائرس کو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کیا پاکستان ،کورونا کے خلاف جنگ جیت جائیگا؟ ہر جانب یہی سوال سننے کو مل رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔    

مزید پڑھیں

برصغیر کی مدبراور زیرک قیادتوں کے اذہان پر برطانوی سامراج کے انخلاء کے بعد متحدہ برصغیر کا جو نقشہ ابھر رہا تھا اس میں دو پہلو نظر آ رہے تھے ، ایک یہ کہ متحدہ برصغیر کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچا تے ہوئے متحد ہی رہنا چاہیے،    

مزید پڑھیں

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات بخش قوت قرار دیا تو اس بات کا اصل مفہوم کیا ہے؟ہم، جو عام لوگ ہیں اور تصوف کی گہری باتوں کو مطلقاً نہیں سمجھ پاتے،    

مزید پڑھیں