☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) خصوصی رپورٹ(محمد نعمان چشتی) عید اسپیشل(طیبہ بخاری ) عید اسپیشل(سید علی شاہ نقوی) عید اسپیشل(ڈاکٹر آئی اے خان) عید اسپیشل(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) عید اسپیشل(عبدالحفیظ ظفر) عید اسپیشل() غور و طلب( عبدالماجد قریشی ) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
مصور پاکستان کا تصور بجٹ

مصور پاکستان کا تصور بجٹ

تحریر : محمد نعمان چشتی

06-02-2019

مفکر پاکستان، علامہ محمد اقبالؒ (۹، نومبر، ۱۸۷۷ء - ۲۱، اپریل، ۱۹۳۸ء) نے اپنے ۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے شہرہ آفاق خطبۂ آلہ آباد میں شمال مشرقی ہندوستان (پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان ) پر مشتمل الگ وطن کا تصور پیش کیا۔

اس خطبہ میں علامہ اقبالؒ اس تصوّر کی وضاحت اِن الفاظ میں کرتے ہیں ’’ یہاں کسی محکم دستوری نظام کے لیے صرف ایک ہی صورت ہو سکتی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں زبان، نسل، تاریخ، مذہب کی وحدت اور اقتصادی مفاد کی یکسانیت کی بنیادوں پر خودمختار ریاستیں قائم کی جائیں۔‘‘ اقبال کا یہی خطبہ قیام پاکستان کی سب سے بنیادی دستاویز ہے۔ علامہ اقبالؒ کے مطابق موجودہ پاکستان کی اکثریت کا اقتصادی مفاد ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

علامہ اقبالؒ کی وجہ شہرت اُن کی آفاقی شاعری ہے۔ لیکن اُن کی پہلی تصنیف ’’علم الاقتصادـ‘‘ نثری تھی۔ اس کتاب کو اُنھوں نے ’’علم سیاست مدنــ‘‘ کا نام بھی دیا۔ اس وقت وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے اور طلباء کو معاشیات پڑھاتے تھے۔ انھوں نے وجہ معیشت، جدید ضروریات کا پیدا ہونا اور صرفِ دولت کا ذمہ دار آبادی میں اضافے کو قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ ہم اپنی آئندہ نسلوں کی دولت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب تک ہم کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم خود کس قدر صرف کرتے ہیں اور کس طرح صرف کرتے ہیں۔ کسی قوم کی آئندہ عظمت کا اندازہ کرنے کے لیے یہ امر ضروری نہیں کہ اس قوم کی موجودہ دولت کا اندازہ کیا جائے بلکہ زیادہ ضروری اس بات کا معلوم کرنا ہے کہ وہ قوم اپنی موجودہ دولت کو کس طرح صرف کرتی ہے ۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی قوم اپنی دولت کو اس طرح صرف کرے کہ افراد کی تعدار بڑھتی جائے جس سے مفلسی، بیماری اور دیگر نتائج پیدا ہوتے جائیں‘‘۔ ’’ کسی باپ کے بچوں کی تعداد زیادہ ہو گی اسی قدر اس کے وسائل آمدن پر اثر پڑے گا۔ اگر کسی شخص کی آمدن قلیل ہو اور اس کی اولاد بڑھتی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ اس خاندان کی فارغ البالی نہ رہے گی جو پہلے اسے حاصل تھی۔ موجودہ آمدنی تمام افراد کے گزارے کے لیے کافی نہ ہو گیـ‘‘۔

سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بیسویں صدی کی سب سے مؤثر آواز علامہ اقبال ؒکی ہی ہے۔ اقبال سود کے سخت خلاف تھے ۔وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ بینکوں کی عمارات پر روپیہ مذہبی عمارات اور عبادت گاہوں سے کہیں زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔بالِ جبریل میں کہتے ہیں:

رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا میں

گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے

بانگِ درا میں حضرت خضر کی زباں سے سکھاتے ہیں:

بندۂ مزدور کو جا کے مرا پیغام دے

خضر کا پیغام کیا،ہے یہ پیغام کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر

شاخِ اہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

جنگِ عظیم اوّل کے بعد’’طلوعِ اسلام‘‘ کا طریقہ اس طرح سکھاتے ہیں:

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

اس نظام کی مزید وضاحت اپنی اس رعبائی میں کرتے ہیں:

محنت و سرمایہ دنیا میں صف آراء ہو گئے

دیکھیے ہوتا ہے کس کس کی تمناؤں کا خوں

حکمت و تدبیر سے یہ فتنۂ آشوب خیز

ٹل نہیں سکتا و قد کنتم بہ تستعجلون

کھُل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام

چشمِ مسلم دیکھ لے تفسیرِ حرف ینسلون

٭٭٭٭

کارخانے کا ہے مالک مردکِ ناکردہ کار

عیش کا پُتلا ہے، محنت ہے اسے ناسازگار

حکم ِ حق ہے لیس للانسان الا ما سعیٰ

کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار

٭٭٭٭

۱۹۳۶ء میں ابلیس اپنے مشیروں کو علامہ اقبالؒ کی زبان سے یہ پیغام دیتا ہے:

میں نے ناداروں کا سکھایا سبق تقدیر کا

میں نے منعم کو دیا سرمایہ درای کا جنوں

علامہ اقبالؒ ۶، دسمبر، ۱۹۲۶ء کو پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کی لاہور کی نشست سے رکن منتخب ہوئے۔ مالی سال ۲۸-۱۹۲۷ء کا میزانیہ ۲۸، فروری، ۱۹۲۷ء کو اس وقت کے وزیر خزانہ سر جیفری ڈی مونٹمورینسی نے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا۔چنانچہ علامہ اقبالؒ کی ۵، مارچ، ۱۹۲۷ء کی اسمبلی میں تقریر، ’’علم الاقتصاد‘‘ اور بعد ازاں خطبۂ الہ آباد میں پیش کیے گئے اُن کی نظریات کا نا صرف احاطہ کرتی ہے بلکہ پاکستان کا بجٹ بنانے والوں اور آئی ایم ایف سے گرانٹ لینے، اُدھار پر تیل لے کر خوش ہونے والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔

اس تقریر میں سب سے پہلے وہ آمدن سے زیادہ اخراجات بالخصوص غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر نمود و نمائش کے لیے رقم صرف کرنے پر ان الفاط میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں: ’’ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم نے اپنی پچھلے سال کی آمد ن سے ۲۳ لاکھ روپے زیادہ خرچ کیے ہیں اور اس سال ہم اپنی آمدن سے ۶۰ لاکھ روپے زائد خرچ کریں گے۔ کیا ہم ترقیاتی منصوبوں پر اتنی زیادہ رقم خرچ کرنے میں حق بجانب ہیں؟‘‘۔

’’ اگرچہ موجودہ صورتِ حال میں ٹیکسوں کی شرح میں کمی ممکن نہ ہے، لیکن وفاقی محصولات سے جاری اخراجات کی مد میں ۶۰ لاکھ اور ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ۲۶ لاکھ ملنے کی صورت میں، میری تجویز ہے کہ اس رقم کو ٹیکسوں کے نظام میں بے قاعدگی ختم کرنے اور اِن کی شرح میں کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جائے‘‘۔ہم زمینداروں سے مساوی انکم ٹیکس نہیں لیتے کیوں کہ یہ حکمران طبقہ کی ہیں۔’’اگر کوئی شخص ۲ کنال یا ۲۰۰ کنال زمیں کا مالک ہے، اسے مالیہ یعنی لینڈ ریوینو دینا ہوتا ہے۔ اس اُصول کو ہم نے انکم ٹیکس پر نافذ نہیں کیاـ‘‘

۔ حکومت کے اخراجات کی ترجیحات کا تعین کرتے ہو جس مد میں سب سے زیادہ توجہ کی طرف زور دیتے ہیں وہ خواتین بالخصوص دیہات میں رہنے والی خواتین کی صحت ہے۔ صحت مند ماں ہی اولاد کی صحیح تربیت کر سکتی ہے۔ لہذا علامہ اقبال حکومت کو اس ضمن میں اخراجات کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

اس بجٹ میں حکومتِ وقت کی طرف سے تعلیمی اخراجات میں کمی کی تجویز دی گئی تھی، جس پر بحث کرتے ہوئے علامہ اقبال کی ۱۰، مارچ، ۱۹۲۷ء کی تقریر حکومتِ پاکستان کی بجٹ درجیہات کے تعین میں مشعلِ راہ ہے: ’’ تعلیم کا شعبہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہر طبقہ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ غیر ملکی آقا ہمیں جاہل بنانا چاہتے ہیں۔کیا اس ایوان کے اندر یا باہر کوئی بھی شخص تعلیم کی اہمیت کی حقیقت سے انکار کر سکتا ہے؟ بنیادی، ثانوی، اعلیٰ یا فنی تعلیم، ہر سطح پر ایک ہی طرح کے مسائل ہیں۔‘‘ ۔۔۔’’زبانی جمع خرچ کی بجائے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مقامی تعلیم کے لیے مختص کی گئی رقم صرف اسی پر خرچ کی جائے‘‘۔۔۔’’دیہی علاقوں اور میونسپلیٹیز میں بچوں کا سکولوں میں داخلہ لازمی ہونا چاہیے۔۔۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو تعلیم پر خرچ کی جانے والی تمام رقم ضائع جائے گی۔ــ ہمیں اس بات کوبھی یقینی بنانا ہو گا کہ پرائمری سکولوں میں داخل ہونے والے تمام بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں‘‘۔

مالی سال ۲۸-۱۹۲۷ء کے لیے حکومت کی جانب سے پولیس اصلاحات کے نام پر ضمنی اور اضافی گرانٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر ۱۸، جولائی، ۱۹۲۷ء کوعلامہ اقبالؒ نے اپنے خطاب پولیس کی طرف سے عوام پر بلاجواز تشدد اور اس سلسلے میں عوامی نمائندوں سے غلط بیانی کی امثال پیش کیں اور اضافی گرانٹ کی مخالفت کی۔

تاہم وزیرِ خزانہ کی جانب سے پولیس میں مقابلہ کے امتحان کے ذریعے بھرتیوں کی حمایت کی۔ ۲۳، فروری، ۱۹۲۸ء کو اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ زرعی انکم ٹیکس کی تشخیص کی بنیاد معالیہ یعنی لینڈ ریوینو ہونا چاہیے اور یہ ٹیکس محنت کش کی بجائے زمیندار کے ذمہ ہونا چاہئے۔اگر کسی زمیندار کے دیگر ذرائع آمدن ہوں تو اسے بھی دیگر کاروبار تجارت کی طرح تمام آمدن جمع کر کے اس پر انکم ٹیکس لگنا چاہئے۔

’’ اگر ایک زمیندار، بڑایا چھوٹا لینڈ ریونیو ادا کرتا ہے اور اس کی دیگرآمدن ۲ ہزار روپے سے کم ہے تو اسے انکم ٹیکس اداء نہیں کرنا ہوتا۔ یہ نا انصافی پر مبنی ہے۔‘‘ ۔۔۔’’مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہ ہے کہ لینڈ ریونیو کی بنیاد پر انکم ٹیکس اکٹھا کرنے میں شدید مشکلات ہیں۔۔۔ لیکن اس ضمن میں مزید تحقیق ہونی چاہیے تاکہ حل نکالا جا سکے‘‘۔ مزید برآں انکم ٹیکس کی طرح لینڈ ریونیو کی بھی کم از کم حد ہونی چاہیے۔ علامہ اقبالؒ نے تجویز دی کہ اڑھائی ایکڑ سے کم ملکیت رکھنے والے زمیندار کو لینڈ ریونیو سے مستسنا قرار دیا جائے۔ ۲۹

-۱۹۲۸ء کی بجٹ تقریر میں انھوں نے ٹیکسوں کے نظام میں سائنسی اصولوں کے اطلاق کا ذکر کیا اور دیہی معیشت کی تباہی، زراعت کی کمرشلائیزیشن اور مشینی اشیاء کی ضرورت سے زیادہ دستیابی کو قرضوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔ اس سال بھی انھوں نے مسلمانوں کی تعلیم پر اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کیا اور فرمایا کہ ’’اگر مسلمانوں کو سرکاری سکولوں میں داخلے کی ترغیب دی جائے تو اس سے نا صرف ان کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا بلکہ وہ معیشت میں بھی اپنا مثبت حصہ ڈال سکیں گے۔‘‘

، مارچ، ۱۹۲۹ء کو مالی سال ۳۰-۱۹۲۹ء کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے حکومت کی بالخصوص محکمہ ایکسائز کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس سال زراعت اور جیل خانہ جات کے محکوموں میں منظور شدہ رقم سے زائد اس بنیاد پر خرچ کی گئی تھی کہ سیلاب کی وجہ سے زراعت کے شعبہ میں اخراجات میں اضافہ ہوا اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافے کو محکمہ جیل خانہ جات کے اخراجات میں اضافہ کی بنیاد بنایا گیا تھا۔

 

 

 

 

 

اس موقع پر اُنھوں نے بعض معمولی جرائم پر زیادہ قید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا مثلاً اگر ایک شخص ۱۰ روپے مالیت کی بھینس چوری کرے تو اس کو دو سال قید کی سزا ہے اوراس پر اُٹھنے والے اخراجات اس رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس سال بھی انھوں نے تعلیمی اخراجات میں غلط بیانی اور مرمت و سٹیشنری اخراجات کو تعلیمی اخراجات میں شامل کیے جانے پر تنقید کی۔ انھوں نے سال ۲۳-۱۹۲۲ء سے ہر سال کھولے جانے والے نئے سکولوں اور ان پر اُٹھنے والے اخراجات کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور اس امر پر زور دیا کہ نئے سکول کم ترقی یافتہ آبادی والے علاقوں میں کھولے جانے چاہئیں۔بنیادی ڈھانچے پر تخمینہ سے زائد اخراجات جن کی وجہ سے حکومت کو قرض لینا پڑا بھی علامہ اقبال ؒکے لیے نا قابلِ قبول تھے۔انھوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے اقدامات جاری رکھنے سے صوبہ [پنجاب] مستقل طور پر مقروض ہو جائے گا اور اس کے پاس قرض اتارنے کے لیے رقم نہ ہو گی۔ اس موقع پر انھوں نے صوبائی انکم ٹیکس کی تجویز بھی دی۔

۷ مارچ، ۱۹۳۰ء کو مالی سال ۳۱-۱۹۳۰ء کے موقع پر بھی انھوں نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر آمدن سے زائد اخراجات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ زراعت کے شعبہ میں ترقی کے باوجود حکومت کا مسلسل تیسرا نقصان کا بجٹ ہے۔بیروزگاری، قرضے اور کم تجارتی حجم کی موجودگی میں صوبے کے معاشی مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہے۔ ’’میرے خیال میں اس کہ وجہ ٹیکس کا موجودہ انتظامی سسٹم ہے،

جس وجہ سے آمدن اپنی جگہ پر منجمد ہے۔ـ‘‘علامہ اقبال ؒنے اس مسئلہ کا تین نقاتی متبادل حل بھی تجویز کیا: اوّل ٹیکس کے موجودہ نظام کو جڑ سے ختم کر دیا جائے اور نیا نظام متعارف کروایا جائے۔ حکومتی انتظامی اخراجات بشمول افسرانِ بالا کی تنخواہوں میں کمی کی جائے اور انھیں اس حد میں رکھا جائے جہاں وہ معیاری طرز زندگی بسر کر سکتے ہوں۔ تعلیم کو صنعت کی ضرورت کے ساتھ منسلک کیا جائے، صنعتی ترقی کو ترجیہی بنایا جائے تاکہ بیروزگاری ختم ہو سکے۔ اس موقع پر علامہ اقبال ؒنے کپڑے اور جوتے بنانے کی صنعت میں ترقی کے زیادہ امکانات کا جائزہ بھی پیش کیا۔ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر چلے جانے والے طلباء کی بڑھتی ہوی تعداد پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں حکومتی وضاحتوں کو مسترد کیا اور تقریباً ایک ہزار سکولوں میں تعلیم کے لیے مختص رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جانا ۲۷۰۰۰ ہزار سے زائد بچوں کے سکول چھوڑنے کی وجہ قرار دیا۔

درج بالا کی روشنی میں یہ نتیجہ آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال ٹیکسوں کے نظام میں عدم مساوات کے خاتمے، حکومتی اخراجات میں کمی، تعلیم اور صحت کے اخراجات کو بنیادی ترجہی قرار دیتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے پر آمدن سے زائد اخراجات کو حکومتی قرضوں میں اضافے کی وجہ قرار دیتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ حکومت ان قرضوں کی ادائیگی کے قابل نہ رہے گی۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بچوں کے لئے 2019ء بھی اچھا سال نہیں تھا۔ تھر سے قصور تک موت ہی موت ان کے سروں پہ منڈلاتی رہی۔کہتے ہیں کہ وہاں60فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں ...

مزید پڑھیں

بھارتی حکومت نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ قائم کر لیا، ایک سال میں کئی سو مرتبہ خلاف ورزیاں کر کے عالمی قوانین اور عالمی امن ک ...

مزید پڑھیں

وطن عزیز میں تین بڑے صحرا تھر ،تھل اور چولستان ہیں ۔چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66لاکھ 55ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جس ...

مزید پڑھیں