☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
93فیصدپاکستانی اداس کیوں؟ ہمارے ہاں صرف 7فیصد لوگ خوش ہیں،باقی ’’گزارہ‘‘ کر رہے ہیں

93فیصدپاکستانی اداس کیوں؟ ہمارے ہاں صرف 7فیصد لوگ خوش ہیں،باقی ’’گزارہ‘‘ کر رہے ہیں

تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

07-14-2019

ہمارے ایک دوست نے پورا پاکستان پھر کر دیکھا، اسے خال خال ہی خاندان خوش اور چہرے نہال دکھائی دئیے ،ہر کوئی اپنے اپنے غم میں ڈوبا ہوا، اپنی اپنی فکرمیں مگن ہے ۔ ہر کوئی پریشان اور گھٹا گھٹا سا دکھائی دیا۔ آخر ہم لوگ اتنے فکر مند اور پریشان کیوں ہیں؟۔

کیا خوشی کا تعلق روپے پیسے سے ہے ،یا یہ رشتے ناتوں سے ملتی ہے؟۔ کچھ کے نزدیک حقیقی خوشی دوسروں کی مدد میں چھپی ہوئی ہے اور کچھ سمجھتے ہیں کہ زندگی کا مقصد پورا کر کے ہی انسان خوش رہ سکتا ہے۔ یقینا حقیقی خوشی اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہے جس میں دین بھی ہے اور دنیا بھی۔ دونوں میں توازن ہی زندگی کا حسن اور اصل خوشی ہے۔

کون سا غم ہے جو ہمیں اندر ہی اندر کھائے جارہا ہے؟۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ملک میں خواتین سب سے زیادہ ناخوش ہیں۔ گھر کے اندر ہوں یا باہر ،ایک اذیت اور خوف انہیں ہر وقت گھیرے رہتا ہے۔ گھر کے اندر روپے پیسے کی تنگی ،خرچہ بند کرنے کی دھمکی اور طلاق کی تلوار سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھیں تو نئی طرح کاان دیکھا خوف ،غیر آنکھیں پیچھا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ہر لحظہ کوئی انہیں گھور رہا ہوتا ہے۔ ہراسمنٹ کا ماحول ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ مالی تنگی نہ بھی ہو ،تب بھی خوف اور دہشت نے خوشی چھین رکھی ہے۔پھر خوشی کا تعلق انسان کی کامیابی سے ہے۔ وہ کس قدر مطمئن ہے اور اپنی ضروریات اور مشن کو پورا کرنے میں اسے کتنی کامیابی ملی،یہ بات بھی خوشی دیتی ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ایک عالمی رپورٹ میں دنیا بھر میں خوش رہنے والی اقوام کے بارے میں بہت سی باتیں منظر عام پر آئیں۔ خوش رہنے والی اقوام میں پاکستان 75ویں پوزیشن پرتھا ۔بہت زیادہ خوش تو امریکہ والے بھی نہ تھے بلکہ کئی یورپی ممالک کے لوگ خوشیوں میں امریکہ سے بہت آگے تھے۔ اس سے ہمیں یہ خیال آیا کہ آخر ہمارے ہاں اداسی کا عالم کیوں ؟ کیوں لوگ پریشان ہیں ،اورپھر بھلاکتنے فیصد لوگ زندگی سے مطمئن ہیں؟۔ تب جا کر ہمیں پتہ چلا کہ پاکستان میں خوشی کا تناسب نا ہونے کے برابر ہے۔ آپ کو یہ جان کر ذرا برابر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ایک ملک گیر سروے کے مطابق یہاں ہر 100میں سے 93لوگ خوش نہیں۔ان کی ایک مناسب تعداد زندگی سے مطمئن ہے ۔ وہ زندگی کو’’ گزار ‘‘رہے ہیں ،دن پورے کر رہے ہیں۔مگر خوشی ان کے دلوں اور گھروں سے غائب ہے۔

 خوشی کے بارے میں جب پنجاب میں لوگوں سے پوچھا گیا تو کم ہی لوگ حقیقی خوشی کا اظہار کر پائے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر سو میں سے صر ف 7.3خواتین حقیقی معنوں میں مطمئن اور خوش تھیں البتہ 87فیصد نے مان لیا کہ وہ کسی حد تک خوش ہیں یا مطمئن ہیں یا یہ کہ بس کام چل رہا ہے ۔ مختلف عمروں کی خواتین میں یہ تناسب مختلف تھا لیکن فرق بہت معمولی تھا۔ مجموعی طور پر 7فیصد خواتین ہی پنجاب بھر میں مطمئن تھیں۔ دیہات کا تو مت پوچھئے وہاں خوشیوں کا تناسب شہروں سے کم ہے۔ جبکہ بڑے شہروں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں۔

ہر جگہ 100میں سے سات سے سوا سات فیصد خواتین حقیقی خوشی انجوائے کر رہی ہیں، ایک اور بات بتائوں15سے 19سال کی عمر کی خواتین میں خوشی کا تناسب بھی اتنا ہی ہے۔ البتہ غربت سے خوشی کا تعلق ضرور نکلا ، پنجاب میں 20فیصد لوگوں نے خوشی کا تناسب 6فیصد ہے جبکہ 20فیصد امیر ترین خاندانوں میں 7.7فیصد خواتین حقیقی معنوں میں خوش ہیں۔ البتہ مطمئن افراد کی تعداد 22سے 92فیصد تک ہے۔ دیہات کے مقابلے میں شہری بابو زیادہ مطمئن ہیں۔ غریب آدمی اپنی غربت کے باوجود اپنی زندگی سے تنگ ہونے کے باوجود اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں۔

ایسے لوگوں کا تناسب 100فیصد ہے جنہیں زندگی بدلنے کی امید ہے۔ 78فیصد سمجھتے ہیں کہ دال روٹی چل رہی ہے۔ یہ عالم غریب ترین طبقے کا ہے، اگر نیچے سے 20فیصد غریب ترین طبقے کے بعد ہم دوسرے غریب ترین طبقے کا جائزہ لیں تو اس میں بھی محض 6.6فیصد خواتین خوش ہیں باقی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں یا زندگی کو بھگت رہی ہیں۔ مڈل کلاس بھی اسی طرح سے پریشان ہے۔ ان کے خواتین میں خوشی کا تناسب 7.1فیصد ہے جبکہ مڈل کلاس کی 87.7فیصد خواتین کسی حد تک مطمئن ہیں۔ امیر ترین طبقے کی 92.7فیصد خواتین مطمئن ہیں۔ دولت میں کھیلنے والی خواتین مطمئن ضرور ہیں مگر حقیقی خوشی وہاں بھی مفقود ہے۔ 

اگر عورتوں کا یہ حال ہے تو کیا مردوں میں بھی ایسا ہی ہے َجی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ پنجاب میں مجموعی طورپر 6.7فیصد لوگ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ مختلف طبقوں میں اطمینان کا یہ عالم 6فیصد سے سوا سات فیصد تک ہے۔ جو کسی حد تک خوش یا تھوڑا بہت مطمئن ہیں ان کی تعداد پنجاب کے دیہات ہوں یا شہری علاقہ امیر ترین طبقہ ہو یا غریب ترین لوگ کافی حد تک ایک جیسا ہے۔

شہروں میں 83فیصد اور دیہات میں 86فیصد مرد اپنی زندگی سے کسی حد تک مطمئن ہیں۔ اگر ہم پنجاب کے غریب ترین خاندانوں کا جائزہ لیں تو وہاں بھی 77فیصد لوگ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں اللہ کا بڑا کرم ہے ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی ہمت ، کوشش اور بساط سے بڑھ کر دیا ہے۔ ان لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جس کی دونوں ٹانگیں ایک فیکٹری میں برباد ہوگئیں۔ فیکٹری مالک نے رول نمبر 110کو فیکٹری سے اٹھا کر باہر پھنکوا دیا۔ مذکورہ فیکٹری میں نام نہیں رول نمبر چلتے تھے تاکہ کسی ادارے کو کسی شخص کی ملازمت کا کچھ پتہ نہ چلے۔ زخمی شخص سڑک پر کچھ دیر تڑپتا رہا پھر کسی اللہ کے بندے نے اسے ہسپتال پہنچا دیا۔ بہت خون بہہ چکا تھا۔ لہٰذا دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔ 

مجھ پریہ راز اس وقت کھلا جب میں ایک رکشہ میں بیٹھنے کیلئے بھائو تائو کر رہا تھا۔ رکشہ ڈرائیور نے ایک جملے پر بات ختم کردی کہ اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے آپ جو دیں گے مجھے منظور ہوگا۔ وہ بہت مطمئن تھا۔ میں قدرے حیران ہوا کہ یہاں تو اربوں روپے کمانے والے کھربوں روپے کمانے کی دوڑ میں لگے ہیں ۔وہ مطمئن نہیں۔ اس ماحول میں یہ ایک رکشہ ڈرائیور کس طرح سے مطمئن ہے۔ میں رکشہ میں بیٹھ گیا۔

پھر اس سے پوچھا کہ وہ اتنا مطمئن اور خوش کیوں ہے۔ کہنے لگا یہ سامنے دیکھیں کیا ہے؟۔ میں نے دیکھا ،دو بیساکھیاں پڑی تھیں۔ پھر اس نے اپنا وہ واقعہ سنایا جو میں اوپر بیان کرچکا ہوں۔ کہنے لگا کہ فیکٹری مالکان نے مجھے باہر پھنکوا دیا مگر اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔

ہسپتال میں جب میری آنکھ کھلی تو مجھے جسم کے نچلے حصے میں تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو دونوں ٹانگیں گھٹنے کے نیچے سے غائب تھیں۔ سامنے نرس اور ڈاکٹر کھڑے تھے۔ ایک اور آدمی بھی ان کے ساتھ تھا ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ بے ہوش تھے ، ہمیں مجبوراً دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں کیونکہ کچھ زہر جسم میں پھیلنے لگا تھا۔ پھر انہوں نے پاس ہی کھڑے تیسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا کہ آپ کے علاج معالجے کا خرچہ انہو ںنے ادا کیا ہے۔ اس آدمی نے مجھ سے پوچھا کہ اب آپ کیا کریں گے ؟میں نے کہا کہ ڈرائیونگ جانتا ہوں رکشہ چلا سکتا ہوں۔

یہ بیساکھیاں اور رکشہ اسی شخص نے لے کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے مجھ سے جو کچھ چھینا دوسرے آدمی نے وہ سب کچھ واپس کر دیا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر خوش کر دیا یہ اللہ کا انصاف ہے ۔

اس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ غریب ترین آدمی بھی اگر اپنے سے نیچے کی طرف دیکھے تو ساری خوشیاں خود بخود اس کی جھولی میں آن گرتی ہیں، اسے رات کو میٹھی نیند آتی ہے اور صبح دماغ روشن رہتا ہے۔ اسی لیے غریب ترین طبقے کے بھی 6فیصد لوگ انتہائی خوش اور 77فیصد لوگ مطمئن اور کسی حد تک خوش ہیں۔ اب ہم اگر ان غریب ترین 20فیصد سے اوپر کے 20فیصد کا جائزہ لیں تو ان میں انتہائی خوش مردوں کا تناسب 6.5فیصد ہے یہ مڈل کلاس سے 0.2فیصد کم ہے۔ مڈل کلاس کے 87فیصد اور 20فیصد غریب ترین طبقے کے بعد اس کے اوپر کے 20فیصد غریب خوش ہیں۔ امراء میں یہ تناسب 7.3فیصد ہے۔ البتہ 9.5فیصد مرد بہت مطمئن ہیں۔ 

اب ہم کراچی چلتے ہیں وہاں اگرچہ تازہ ترین رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔ سروے ہو چکا ہے مگر رپورٹ زیر تکمیل ہے۔ شاید اگلے چند ماہ میں منظر عام پر آجائے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق کراچی میں خوف نے خوشیوں کو گرہن لگا رکھا ہے۔ ایک شخص نے بتایا کہ وہ صبح ملیر سے ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہوا تو پیچھے ایک اور گاڑی بھی آرہی تھی۔ پورے سفر کے دوران وہ یہ سوچتا رہا کہ کب اس گاڑی سے گولی اس کے سینے کے آر پار ہو گی یا کب وہ یہ گاڑی روک کر کہے گا کہ جو کچھ ہے نکال دو۔ایک اور شخص نے بتایا کہ وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ اچانک ایک کم سن لڑکا اندر داخل ہوا کہنے لگا آج ہڑتال ہے آپ نے آفس کیوں کھول رکھا ہے؟۔

وہ شخص بہت حیران ہوا اور اس سے پہلے کہ لڑکے کے ساتھ کسی تلخی سے پیش آتا اس کے نوکر نے بیچ بچائو کر ادیا۔ کہنے گا سر ہم ابھی آفس بند کر دیتے ہیں غلطی ہو گئی۔ وہ شخص کہنے لگا کہ میں نے اپنے ملازم کو ڈانٹا کہ ہم آفس بند نہیں کرنے والے۔ لیکن میرا ملازم بدستور میری جانب سے صفائیاں پیش کرتا رہا۔ اس نے مجھے کم سن لڑکے سے یہ بھی پوچھنے نہیں دیا کہ وہ اندر کیسے داخل ہوا۔ بند دفتر کی چابی اس کے پاس کیسے آئی۔ چائینز لاک لگا تھا باہر سے کھل ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ اندر کیسے آیا ۔ میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ لڑکا چند منٹوں میں آفس بند کر نے کی دھمکی دے کر باہر چلا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک گروپ کے پاس مکانوں کی اور دکانوں کی چابیاں بھی تھیں۔

بہت سے دکانداروں نے بھی اس سے ملتی جلتی بات بتائی۔ ایک شخص نے کہا کہ میں ناشتے کے لیے انڈے ڈبل روٹی خرید رہا تھا ۔ شوپر میں انڈے پیک تھے ، ڈبل روٹی بھی وہ پیکٹ میں ڈال چکا تھا۔ وہ اتنے میں جیب سے پیسے نکال کر اس کی جانب بڑھائے اس سے پہلے کہ وہ میرے پیسے پکڑا اور میں اس کے دوسرے ہاتھ سے انڈے اور ڈبل روٹی لیتا اچدانک ایک لڑکا آن دھمکا اس نے کہا کہ دکان بند آج ہڑتا ل ہے۔ دکاندار نے ایک لفظ کہے بغیر دکان بند کر دی ۔ میں روتا رہ گیا کہ پیسے پکڑ لے انڈے دے دے ۔ اس نے ایک ہی جملہ کہا کہ آپ تو چیزیں لے کر چلیں جائیں گے ہماری دکان تو یہی قائم رہے گی۔ یہ صورتحال نواز دور کی ہے۔ کیونکہ سروے رپورٹ اسی دور میں مکمل ہوئی۔

اب ماحول کچھ بہتر ہوا ہے۔ اس ماحول نے کراچی کی خوشیاں چھین رکھی تھیں ۔ سروے کے مطابق حقیقی خوش افراد کا تعلق کراچی میں بھی پنجاب جیسا ہے یعنی مختلف علاقوںمیں 5سے 10فیصد تک لوگ حقیقی معنوں میں خوش ہیں۔ مطمئن افراد کا تناسب پنجاب سے کم ہے۔ مجھے ایک مزدور نے بتایا کہ فیکٹری مالکان ہر 89ڈیز کے بعد ہمارا کنٹریکٹ منسوخ کر دیتے ہیں۔ اور پھر ہمیں در بدر پھرنا پڑتاہ ے بسا اوقات ہمیں اپنی پرانی فیکٹری میں بھی جانب مل جاتی ہے مگر سال دوسال بعد۔ لیکن اب یہ روزگار بھی ختم ہوتا جارہاہے۔ نواز دور کے بعد امن و امان بہتر ہوا مگر بے یقینی اور لمبی مایوسی نے خوشیاں چھین لیں۔

اب اگر ہم دیکھیں کہ کیا لوگ اپنی زندگی میں کوئی بہتر ی محسوس کر رہے ہیں تو اس کا تناسب بھی ملک بھر میں کم و بیش ایک جیسا ہے۔ ایک بڑے طبقے کے مطابق اس کی زندگی میں ماضی کے مقابلے میں تھوڑی سی بہتری آئی ے۔ بہتری کا یہ عمل 2018ء تک کے سروے میں ظاہر ہوا ہے۔ پنجاب کے مائیکرو انڈیکیٹر کے باعث پنجاب کی 61فیصد دیہاتوں دیہی خواتین کے خیال میں ان کی زندگی قدرے بہتر ہوئی ہے جبکہ شہروں میں یہ تناسب 68فیصد ہے۔ سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی حالات پنجاب جیسے ہیں ۔

البتہ بلوچستان میں صورتحال پنجاب سے زیادہ خراب ہے۔سندھ میں بھی 60فیصد تک لوگ اپنی زندگی سے مایوس نہیں اور ان کے خیال میں ان کا معیار زندگی ماضی کے مقابلے میں اب بلند ہوا ہے۔ اسی طرح کی سوچ خیبر پختونخوا میں بھی پائی اتی ہے۔ آزاد کشمیر ہم سے بہتر زندگی گزار رہا ہے اس کی وجہ وہ لاکھوں کشمیری ہیں جواپنے گھربار چھوڑ کر بہتر زندگی کی تلاش میں بیرون ملک پدھار گئے۔ اگر دیکھا جائے تو نوجوانوں کی زندگیوں میں زیادہ تبدیلی آئی۔ 69فیصد نوجوان لڑکیوں کے خیال میں ان کے حالات پہلے سے بہتر ہیں جبکہ 30سال سے 49سال کی 35سے 45فیصد خواتین کے خیال میں ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

حیرت تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ غریب ترین 40فیصد افراد بھی اپنی زندگی میں بہتری محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی ہو سکتی ہے۔ جس کا دائرہ کار مسلسل پھیلتا جاررہا ہے ۔رواں مالی سال کیلئے سوا سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ چنانچہ غریب ترین طبقے کی زندگی میں بہتری آنا ایک لازمی امر ہے۔اسی سے ان میں تھوڑی بہت خوشیوں نے جنم لیا ہے۔ البتہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے35فیصد افراد کے خیال میں ان کی حالت یا تو پہلے جیسی ہے یا پہلے سے بھی خراب ہو گئی ہے وہ بہتری کی جانب گامزن نہیں۔

امراء کی سوچ قدرے مختلف ہے۔ 76فیصد امرا کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ لوگ مطمئن ہیں۔اور انہیں اپنے مستقبل سے بہتری کی امید ہے۔ ایسا سوچ رکھنے والو ں کی تعداد غریب ترین طبقے میں 84فیصد اور امیر ترین طبقے میں 97فیصد ہے۔ اکثریت کا خیال ہے کہ آنے والا وقت اچھا ہوگا۔بہتر مستقبل کا خواب ہی ہمیں بہتری کی جانب لے کر جاسکتا ہے ان حالات میں میں یہ سوچ سکتا ہوں کہ جب میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں تو ہمارا مستقبل بھی روشن ہوگااور روشن مستقبل ہی حقیقی خوشی کا ضامن ہوگا۔ 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

گزشتہ چند سالوں سے مساجد ، سیاہ فاموں کے گرجا گھروں، دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں اور بائیں بازو کے سیاستدانوں پر حملے جاری ہیں۔ گور ے نسل ...

مزید پڑھیں

بھارتی مقبوضہ کشمیر 1947ء سے لے کر آج تک سلگ رہا ہے،چھ لاکھ فوج ہندوستان کی چھ لاکھ وحشی فوج کشمیر کے معصوم انسانوں کا خون بہارہی ہے اور سار ...

مزید پڑھیں

دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے مگر یہ اس سے بھی سکڑ کر چھوٹی سی سکرین میں سما گئی ہے،موبائل فون کی سکرین میں۔ہزاروں میل دور بیٹھا شخص فون، ...

مزید پڑھیں