☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
دم توڑتی پوسٹل سروس

دم توڑتی پوسٹل سروس

تحریر : محمد ندیم بھٹی

08-04-2019

دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے مگر یہ اس سے بھی سکڑ کر چھوٹی سی سکرین میں سما گئی ہے،موبائل فون کی سکرین میں۔ہزاروں میل دور بیٹھا شخص فون،انٹرنیٹ ،سوشل میڈیایا لیپ ٹاپ کے ذریعے آپ سے یوں مخاطب ہوتا ہے جیسے ساتھ ہی بیٹھا ہو۔کہتے ہیں کہ دنیا میں کئی صدور اور وزرائے اعظم کو جتوانے یا حکومت سے ہٹانے میں بھی اس کمپیوٹر نے ہی اپنا رنگ دکھایا ہے ۔ اس کے پیچھے چھپے ہوئے دماغوں نے نا صرف دنیا بدل دی ہے بلکہ زندگی آسان بھی بنا دی ہے۔

آج جن سہولتوں سے ہم بہرہ ور ہو رہے ہیں ،کل کسی نے ان کا سوچا بھی نہ تھا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ڈاک کے ذریعے عید کارڈ بھیجے جاتے تھے، جومدتوں تک ایک میزوں پر سجے ایک دوسرے کی محبت کی یاد دلاتے رہتے تھے۔یہ دور پرانا ہو گیا،ماضی میں کہیں کھو گیا۔اب ایک ایس ایم ایس سے ہی کام چل جاتا ہے ،کم خرچ بالانشیں۔دو انگلیا ں چلائیں اور دل کی بات کہہ دی۔ ایک منٹ میں کئی شادیوں اور درجنوں بچوں کے پاس ہونے کی مبارک باد بھی سینڈ کر دی جاتی ہیں۔غمی میں شرکت بھی منٹوں میں ممکن ہے ۔

پہلے کیا تھا، ماضی بعید میں لوگ کس طرح ایک دوسرے کویاد کیا کرتے تھے،یہ جاننے کے لئے ہمیں بہت پیچھے جانا پڑے گا، فائلوں پرکافی گرد ہے، بہت کچھ دھرتی کے سینے سے مٹ چکا ہے،لیکن بھر بھی تاریخ کے اوراق الٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس دور میںدور افتادہ مقامات پر اپنے پیاروں سے رابطوں کا ایک ہی طریقہ تھا ،وہ تھا پوسٹ آفس۔ بارش ہو یا کڑکتی دھوپ ،برف باری ہو یارات کی تاریکی،پوسٹ آفس کے کام میں کوئی چیز بھی رکاوٹ بن نہیں سکتی، ڈاک بابو کوہر مشکل جھیلنا ہی پڑتی ہے۔ امریکہ میں توہر پوسٹ مین حلف اٹھاتا ہے کہ دن ہو یارات سورج سوا نیزے پر ہو ہڈیاں توڑتی برف پڑرہی ہو، دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنی ڈاک کی تقسیم کے مشن سے نہیں روک سکتی۔

پوسٹ مین ماضی میں دلوں کی دوریوں کو ختم کرتا تھا، پوسٹ مین ہی وہ شخص تھا جس کا ہر گلی میں انتظار رہتا تھا۔کب ڈاک بابو آئے گا اور ان کے پیاروں کی خبر لائے گا،کب انہیں بتائے گا کہ ان کے اپنے کس حال میں ہیں ۔ غمی خوشی کی خبر اسی سے ملتی تھی۔ ناخواندگی کے باعث پوسٹ مین گھر کے کسی فرد کی مانند ہوتا تھا، ہر گھر کا راز داں بھی وہی تھا اور مہرباں بھی ۔ اسے معلوم ہوتا تھا کہ کس کا بچہ امتحان میں فیل ہو گیا ہے یا کس کے بیٹے نے کامیابی حاصل کی ہے،کس گھر میں روپے پیسے کی تنگی ہے اور کون ڈالروں میں کھیل رہا ہے۔وہ گھرگھر کاحال جانتا تھا،مگرمجال ہے کہ گھر کی بات باہر نکل جائے۔لاتعداد گھروں کا چولہا اسی کی خدمت سے جل رہا تھا،اسی کے لائے گئے منی آرڈرز طلبا کی پڑھائی کے خرچے پورے کر رہے تھے ،وہی بینک بھی تھا اورارجنٹ میل سروس بھی اسی کے ذمے تھی۔عید پر زندگی میں رنگ بھرنے والے رنگا رنگ عید کارڈ بھی وہی لاتا تھا۔ کئی ایک ڈاک بابو تو عید کے لئے ڈاک بچا رکھتے تھے ۔ ڈاک بھی دیں گے اورعیدی بھی لیں گے۔لوگ ان کا منہ میٹھا کرواتے۔

ریلوے کی طرح یہ بھی قومی یک جہتی کی علامت ہے۔کراچی سے خیبر تک ملک ملانے والی یہ سروس اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے اس کی جان ہی نکال لی ہے، جیسے کسی نے اس کی روح ہی کھینچ لی ہو، زیادہ تر کام سرکاری اداروں، علامہ اقبال یونیورسٹی کی ڈاک ،گیس کے بل اور بورڈ کے نتائج وغیرہ کی تقسیم تک محدود رہ گیا ہے، ان کی وجہ سے ہی یہ سروس زندہ ہے۔قابل اعتبار اور سرکاری سرپرستی ہونے کے باوجود نجی اداروں نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔یہ نظام ’’پاکستان پوسٹ ‘‘کی شکل میں اپنی آخری سانسیںلے رہاہے۔ زندگی کی دوڑ میں ہمارے پوسٹ آفس نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ پھر بھی پاکستان پوسٹ تقریباََ 5 کروڑ افراد کو خدمات مہیا کر رہا ہے۔ یہ محکمہ چلانے کے لئے خود مختار ادارہ ’’پوسٹل سروس مینجمنٹ بورڈ‘‘ تشکیل دیا گیا ہے،تمام پوسٹ آفسز اسی کے ماتحت ہیں۔سرکاری ڈاک نہ ہوتی تو اب تک32ہزار سے زائد ملازمین بے روزگار ہو جاتے۔اسی لئے اب ان کا معاشرتی کردار بھی محدود ہو گیا ہے۔

پہلے کیا ہوتا تھا؟

بادشاہوں پر ہمارے ہاں تنقید کے بہت نشتر چلائے جاتے ہیں ۔جنہوں نے بادشاہت کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ پڑھا ہو، وہ بھی دو چار باتیں سنا ہی دیتے ہیںلیکن مغلوں نے تیرہویں صدی میں وادی سندھ کے کنارے کے ساتھ ساتھ اس سروس کی بنیاد رکھی ۔ وہ مغل ہی تھے جنہوں نے ڈاک کے نظام کو خالص پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا۔ڈاک کی فوری تقسیم کا فریضہ تیز رفتار انسان بھرتی کر رکھے تھے۔ جوڈاک کوایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچاتے۔ دوسری منزل پر وہ ڈاک وہاں پہلے سے موجود شخص کے حوالے کر دیتے ،اس طرح یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک ڈاک اپنی منزل پر نہ پہنچ جاتی۔ہر ’’بھگوڑے‘‘ کو ڈاک کے وزن اور طے شدہ فاصلے کے مطابق معاوضہ مل جاتا تھا۔ابتدائی طور پر یہ سہولت ٹھٹھہ سے براستہ کوٹری حیدر آبادشمال میں سکھر کے گرد و نواح کی آبادیوں کو میسر تھی۔بعد ازاں پنجاب کے ملتان او ربہاولپور بھی اس نظام کا حصہ بنا دیئے گئے۔

اب آیا انگریز بہادر۔1843میں انگریزوں اور سندھیوں کے مابین ایک بڑی جنگ لڑی گئی جسے ’’جنگ میانی ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں سندھیوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔سندھ پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا۔انہوں نے 1845 تک پورے پنجاب میں اپنا راج قائم کر لیا۔ سر کہلوانے والے (Bartley Frere) 1850میں چیف کمشنر سندھ بنے۔انہیں ڈاک کانظام بہتر بنانے کا خیال آیا۔دیر آید درست آید کے مصداق انہوں نے سنڈی کی مدد سے اس نظام کو دوبارہ شروع کیا ، انہوں نے اپنے نام سے بھی ٹکٹیں جاری کیں۔ انہوں نے پوسٹ ماسٹر جنرل کرتاچیایڈروڈ لی کی مدد سے جدید ترین، ایمباس شدہ ٹکٹیں پرنٹ کروائیں۔سنڈی گورنر ممبئی جان آرتھر کے داماد تھے ۔اقربا پروری عروج پر تھی۔ان ٹکٹوں کو سندھی ڈاک بھی کہا جاتا ہے۔1855ء میںScinde ریلوے سروس کا آغاز ہو گیا۔جس کے بعد گھووڑوں اور اونٹوں کی جگہ ریل گاڑی نے لے لی۔ جن راستوں پر ریل سروس دستیاب نہ تھی وہاں بدستور اونٹ اور گھوڑوں کا راج رہا۔1886ء میں نارتھ ویسٹرن ریلوے سروس شروع ہونے سے عوامی رابطوںکو نئی زندگی ملی۔ ڈاک کی تقسیم بذریعہ ریل گاڑی ہونے لگی۔حتیٰ کہ کراچی اور گلگت بھی ان کی رینج میں تھا۔جون 1886میں سنڈی کے نام سے جاری شدہ ٹکٹوں کا اجرا بند کر دیا گیا۔ یکم اکتوبر1886 ء کوانڈیا کے نام سے ہی ٹکیٹں جاری کی جانے لگیں۔دور بدل چکا تھا، 1851 میںڈاک کی ترسیل کا فریضہ اونٹ اور گھوڑے بردار جون استعمال ہونے لگے۔جس سے سرکاری رابطے بھی بہتر ہوئے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ پوسٹل سروس تیزی سے پھیلتی رہی۔1854سے1866تک یہ دگنی ہو گئی۔ بعدزاں پوسٹل سروس میں ایک بار پھر 1871تک دگنی ترقی ہوئی۔یورپی خاندانوں کو آپس میں جوڑنے کے لئے 1863 میں برطانیہ کے لئے ڈاک سستی کر دی گئی ۔اسی دور میںسٹیمرز کی خدمات بھی حاصل کی جانے لگیں۔

ایئر میل کے ذریعے بھیجی جانے والی پہلی ڈاک میں بادشاہ پنجم کا خط بھی شامل تھا،جو الہ باد سے نینی بھیجا گیا تھا۔انگریزوں نے ملک بھر میں 1861 تک 889 ڈاک خانے قائم کر دیئے تھے۔گورنمنٹ سیونگ بینک ایکٹ 1873کے تحت ڈاک خانے کو سیونگس اکائونٹس رکھنے کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔پوسٹل لائف انشورنس کا آغاز 1اپریل 1884کو ہوا۔ یہ سروس بھی ابتدائی طور پر صرف ملازمین تک محدود تھی اس کا دائر کار بعد میں عام آدمی تک پھیلا دیا گیا۔

پاکستان بننے کے بعد کیا ہوا؟

 یہ پاکستان کا ایک قدیم ترین محکمہ ہے ، بوڑھا ہو گیا اپنے پیروں پر اب تک کھڑا نہیں ہو سکا۔حالانکہ اس میں پھلنے پھولنے کی بہت گنجائش تھی۔ اپنے پیاروں کے حال احوال سے واقفیت انتہائی اہم ضرورت تھی۔کہیں لٹے پٹے قافلے تھے،تو کہیں ہزار ہا پریشانیوں میں جکڑے مقامی لوگ۔ ڈاک کا نظام ہی انہیں آپس میں جوڑ سکتا تھا، قیام پاکستان کے بعد 1898ء کے ایکٹ میں رد و بدل کر کے ’’پاکستان پوسٹ آفس‘‘ کی بنیادیں رکھ دی گئیں( تاکہ بعد میں آنے والے نااہل حکمران ان بنیادوں کو ہلا سکیں)۔ وزارت مواصلات کے ماتحت ’’ڈیپارٹمنٹ آف پوسٹ آفس اینڈ ٹیلی گراف ‘‘قائم کیا گیا۔لاہور میں آفس آف دی پوسٹ ماسٹر جنرل قائم کیا گیا۔ٹیلی گراف آفس کا کام ٹیلی گرام کی تقسیم تھا۔ وائرلیس ٹیلی گراف ایکٹ 1933میں جاری کیا گیا ،یہ بعد کی ٹیکنالوجی تھی مگر ڈاک سسٹم سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ کسی ایمرجنسی کی صورت میںٹیلی گرام بھیجا جاسکتا ہے، یہ انتہائی مختصر اور چند سطروں پر مشتمل ہوتا تھا۔ نومبر1947ء میں پاکستان پوسٹ کا محکمہ عالمی تنظیم ’’یونیورسل پوسٹ یونین‘‘ کا ممبر بن گیا۔ 1948ء میں چار ٹکٹوں پر مشتمل ایک سیٹ جاری کیا گیا۔ 1959میں اسے پی آئی اے کی مدد سے ایئر میل (All up Airmail) سروس شروع ہوئی ۔ یہ عام ڈاک سے ذرا مہنگی تھی ۔سابقہ مشرقی پاکستان میں ڈاک کی تقسیم کے لئے ’’سکورسکی‘‘( Sikorsky)ہیلی کاپٹر خرید لئے گئے۔

جولائی 1962ء میں پوسٹ آفس کو وزارت مواصلات ہی کے ماتحت ایک الگ محکمے کا درجہ دے دیا گیا۔جنوری 1987میں ’’ارجنٹ میل سروس ‘‘اوراپریل1987میں لوکل پیکٹ اینڈ پارسل سروس متعارف کروائی۔یکم جنوری 1988ء کوملک میں پہلی پوسٹل کوڈز جاری کئے گئے جنہیں پڑھتے ہی سب کوپتہ چل جاتا تھا کہ خط کہاں پہنچانا ہے۔اگست 1992میں پوسٹل سروس نے آزادی کے مطالبے شروع کر دیئے، 6جولائی 1996ء کو ان کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو گیا ۔پوسٹل سروس کو وزارت مواصلات کے ماتحت ہی کارپوریشن کا سٹیٹس مل گیا۔یکم دسمبر 1992کو بیرون ملک بھی مقیم پاکستانیوں کے لئے ’’اوورسیز پوسٹل سرکل ‘‘ کا شعبہ قائم کر دیا گیا۔قبل ازیں تمام غیر ملکی ڈاک براستہ کراچی جاتی تھی،اب یہ سروس براہ راست دوسرے شہروں سے بھی شروع کر دی گئی ۔ 1990کی دہائی میں ملک بھر میں تیرہ ہزار ڈاک خانے قائم ہو چکے تھے ۔اس وقت ملک بھر کے شہری علاقوں میں 2055اور دیہی علاقوں میں9470ڈاکخانے قائم ہیں۔افرادی قوت 32130ہزار سے زائد ہے ۔مشرف دور میں پہلی مرتبہ 27کروڑ منافع ہوا جو سیاسی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھایا،وہ دن اور آج کا دن، یہ محکمہ اپنے پیروں پرکبھی کھڑا ہی نہیں ہو سکا۔گزشتہ برس اس نے 13 ارب روپے کمائے ،اس برس کے لئے بھی یہی ہدف مقرر کیا گیاہے۔

حقیقت میں پوسٹ مین ہی اپنا خون پسینہ بہا رہا ہے مگر اسے پوسٹ آفس میں سب سے کم عزت ملتی ہے۔افسر اور پوسٹ مین کی تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے 22سال سے کام کرنے والوں کی تنخواہ میں معمولی اضافہ ہوا ۔ کئی شہروں میں پوسٹ مینوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔پھر دیہات بھی ساتھ لگا دیئے گئے ہیں۔ کلیریکل کا م بھی ہوتا ہے ۔ پوسٹ آفس میں ماضی میں مال لگانے والوں کو آسان ڈیوٹی مل جاتی تھی ۔ایک پوسٹ مین نے اپنی سائیکل کو میٹر لگا کر سفر کیا تو وہ صرف 34 کلو میٹر ہو گانہ کوئی گٹر دیکھتا ہے نہ بارش کی پرواہ ہوتی ہے، قانون کے مطابق اسی دن ڈاک تقسیم کرنا ہوتی ہے۔ترقی نام کی کوئی شے موجود نہیں بیس بیس سال پوسٹ مین ایک ہی گریڈ میں گزار دیتے ہیں۔گیس کے بلوں کی تقسیم پرپوسٹ مین کو فی بل 65پیسے ملتے ہیں۔بلوں کی تقسیم کے کروڑوں روپے ان لوگوں کو مل جاتے ہیں جو بلوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے ۔مگر پوسٹ مین اپنے حق سے بھی محروم رہتا ہے۔ہر سال ’’ پوسٹ مین آف دی ایئر ایوارڈ‘‘ بھی دیا جاتا ہے ، پہلے یہ چہیتوں میں بھی تقسیم ہو جاتا تھا۔ بندر بانٹ کی شکایت عام تھی۔ پوسٹ مین کا ورکنگ ٹائم بھی دوسروں سے ایک گھنٹہ پہلے شروع ہوتا ہے۔ جبکہ ڈاک کی تقسیم، کے بعد ہی فرصت ملتی ہے۔ہر پوسٹ آفس میں ایک ڈیلوری ہال ہوتا ہے، اگر کام کرنے کے بعد آفس میں بیٹھ کر فالتو لائٹ بند کر دے تو پھر پوسٹ مین نظروں کھٹکتا ہے۔۔۔۔’’بڑا آیا قومی بچت کا ماموں‘‘۔بدعنوانی کا حال یہ ہے کہ ایک پوسٹ مین اپنی تنخواہ سے آفس کے لئے 900 روپے کی ایک چیز لایا، اس کے ایک افسر نے اسی چیز کے حکومت سے 18سو روپے وصول کر لئے ۔یہ ہے خسارے کی اصل وجہ!۔

 

 

پوسٹل سروس کے بارہ شعبے کب قائم ہوئے ؟

ائیر ایکسپریس(ائیریکس):2اگست 1986ء

فیکس میل سروس(ایس ایم):یکم اگست 1988

فیکس منی آرڈر(ایف ایم او):15اگست 1988

انٹرنیشنل سپیڈ پوسٹ :یکم ستمبر1986

لوکل ایکسپریس ڈیلوری:22اپریل 1987

پوسٹل ڈرافٹ سروس:15نومبر 1987

پوسٹل جیرو سروس:15مارچ 1988

سیونگ بینک موبائل اکائونٹ:12 جنوری1988

ارجنٹ میل سروس :یکم جنوری1987

ارجنٹ منی آرڈر سروس:15اپریل1988

الیکٹرانک منی آرڈر سروس (ای ایم او) :یوٹیلیٹی بلز کی وصولی:جون2007ء

 

 

اس کے ذمے کام کون کون سے ہیں!

وفاقی حکومت کے کام 

بے نظیر انکم سپورٹ کروگرام کے فنڈز کی تقسیم

نیشنل سیونگ سیکیم کے منافع پر انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی

قدرتی گیس اور پی ٹی سی ایل کے بلوں کی ترسیل 

غیر ملکی پوسٹل سروس پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی وصولی

 افواج کے پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی

ہائی وے اور موٹر وے پولیس کی سیفٹی بکس کی فروخت

سرکاری کام

پی ٹی سی ایل اورسی ڈی اے کے پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی

زرعی پاس بکس کی فروخت

پوسٹل لائف انشورنس

صوبائی خدمات

اسلحہ لائسنسوں کی تجدید

روٹ پرمٹ کی فروخت

موٹر وہیکلزفٹنس سٹیمپس کی فروخت

 

 

پوسٹل سروس کوتین سال میں 102ارب روپے ملیں گے!

رواں بجٹ میں پوسٹل سروس کے محکمے کو 19.6ارب روپے ملے ہیں۔ان میں سے دس ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوں گے۔آپریٹنگ اخراجات ا ور ریٹائرمنٹ کے اخراجات پونے چار اروب روپے سے کم نہیں ہوں گے۔ اگلے سال کے لئے ابھی سے 36.6اور اس سے اگلے برس کے لئے 46ارب روپے کے تخمینے لگائے گئے ہیں۔اس محکمے میں اگلے تین برسوں میں نجانے کونسا انقلاب آنے والا ہے کہ اسے حکومت نے 2021ء تک اسے 102ارب روپے دینے کی ٹھان لی ہے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وطن عزیز میں تین بڑے صحرا تھر ،تھل اور چولستان ہیں ۔چولستان بہاولپور کے جنوب میں 66لاکھ 55ہزار ایکڑ پر مشتمل دنیا کا ساتواں بڑا صحرا ہے جس ...

مزید پڑھیں

تنم گلے ز خیابانِ جنتِ کشمیر

دل از حریمِ حجاز و نوا ز شیراز است ...

مزید پڑھیں

ان دنوں دنیا بھر میں ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ‘‘زیر بحث ہے ۔یہ ادارہ امریکہ کی مدد سے یورپی ممالک نے قائم کیا ہے ،اس سلسلے میں ...

مزید پڑھیں