کچن کی دنیا

کوکنگ شوز میں اسکرین کے پس پردہ کیا ہورہا ہے۔۔۔؟

چوں کہ خواتین کا براہِ راست تعلق کچن سے ہوتا ہے اس لیے وہ کوکنگ شوز بہت دلچسپی سے دیکھتی ہیں۔کیوں کہ ٹی وی پر ماہرین کے زیرِنگرانی بننے والے کھانے بعد میں آزما کر انہیں اپنے ڈائننگ ٹیبل کی رونق جوبڑھانی ہوتی ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ جو آپ کو نظر آرہا ہے وہ ہو بھی رہا ہو اس کے پس پردہ بھی بہت سے عوامل ہوتے ہیں ۔ آپ کے پسندیدہ شیف کس صورت حال سے گزرتے ہیں اس کے بارے میںآج ہم آپ کو دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔

شیف کی اکثریت کا کھانوں کی ترکیبیں لکھنے سے گریز خواتین آئے دن کھانا پکانے کی نت نئی ترکیبیں آزماتی رہتی ہیں ۔اوران کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی ترکیبیں استعمال کریں جو مشہور شیف خواتین وحضرات کی ہوں ۔لیکن ٹی وی پر کوکنگ پروگرام کرنے والے اکثر شیف کھانا بنانے کے لیے اپنی ترکیبیں لکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی ترکیبیں اپناتے ہیں ۔اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ بہت سے شیف کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی ترکیبیں لکھ سکیں ۔جب کہ بعض شیف کا رحجان کسی خاص مقصد کے حصول کی خاطر ٹی وی تک رسائی پانے کے لیے کوکنگ شو کو بطورِآلہ استعمال کرنے کی طرف ہوتا ہے۔اور ان میں سے کچھ ترکیب تشکیل دینا جانتے ہی نہیں۔ پلیٹ میں کھانے کی مقدار کم رکھیں اگر آپ کھانا کھانا چاہتے ہیں تو پلیٹ بھرنے کی بجائے کھانے کی ظاہری خوب صورتی پر بھرپور توجہ دیں۔ بڑی پلیٹ میں کھانا اگر کم ڈالا جائے تو وہ خوب صورت دکھائی دیتا ہے ۔خاص طور پر اگر آپ ایک ہی پلیٹ میںمختلف اقسام کی ڈشز رکھنا چاہ رہے ہیںتو کھانے کا انبار لگانے کے بجائے اسے کم مقدار میں سلیقے سے رکھیں تاکہ ہر کھانے کی منفرد شناخت ہوسکے اوراُس کی خوب صورتی بھی برقرار رہے۔ کوکنگ شو کے کچن کے پس منظر میں ایک اور کچن کوکنگ شو کا ایک محدوددورانیہ ہوتا ہے اور بعض ڈشز جیسے روسٹ اور لزانیہ تیار ہونے میںکافی وقت لیتی ہیںاس لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ دوران شوہاتھ پرہاتھ دھرکراس کے تیارہونے کا انتظار کیا جائے اس مقصد کے لیے ایک دوسرا کچن ہوتا ہے جہاں یہ تمام ڈشز بالکل اسی ترکیب کے تحت مرحلہ وار تیار کی جاتی ہیں۔اور تیار ہونے کے بعد اسے اسکرین پر تیار ہوتے ہوئے دکھائی دینے والی ڈش سے تبدیل کردیا جاتا ہے۔ گرما گرم ظاہر کرکے کھائے جانے والے ٹھنڈے بد مزہ کھانے چوں کہ دوسرے کچن میںاکثر ڈشزآن ائیر پروگرام میں بننے والی ڈشز سے پہلے تیار ہوجاتی ہیں اس لیے وہ برف کی طرح ٹھنڈی ہو چکی ہوتی ہیں اس لیے جب ڈش تیار ہونے کے بعد اُسے چکھنے کا مرحلہ آتا ہے تو بظاہر یہ کہا جارہا ہوتا ہے کہ ہم م م مزیدار لیکن حقیقت میں اس کا ذائقہ بہت خراب محسوس ہوتا ہے اس کے باوجود بھی اس کو مسکراہٹ کے ساتھ کھانا مجبوری ہوتی ہے کھانا جل جانا ضروری نہیں ہے کہ ماہر شیف کھانا بنانے میں کوئی غلطی نہ کریں بلکہ مہارت کے باوجود بھی دورانِ پروگرام ان سے اکثرکھانا جل جاتا ہے ۔جب بھی ایسا ہوتا ہے تو ان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ جلنے والی سائیڈ کو کیمرے کی آنکھ سے بچایا جائے اور اسے دوسری جانب پلٹ دیا جائے ۔اس لیے ناظرین پر سب اچھا ہے کا تاثر ہی پیش کیا جاتا ہے۔ کہیں یہ آپ کے لیے نقصان دہ تو نہیں اکثرشیف یہ تسلیم کرتے ہیںکہ لوگوں کی صحت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔لیکن وہ لوگوں کو یہ بتانے سے قاصر ہوتے ہیںکہ اس ڈش کا استعمال اُن کی صحت پر کیا اثر ڈالے گا۔اس لیے چاکلیٹ کیک ہو یا تلی ہوئی اشیاء ناظرین اُس میں موجود کیلوریز کی مقدار پر غور نہیں کرتے۔ کھانے کو زود ہضم بنانے کے لیے ترش ذائقے کا استعمال اگر کھانے میں کوئی ترش چیزمثلاًاورنج جوس یا تھوڑا سا سرکہ ہی شامل کر لیاجائے تو اس سے ہاضمے کے غدود ایکٹو ہو جاتے ہیں اور کھانا جلد از جلد ہضم ہوجاتا ہے۔ گھر پر ترکیب آزمانا اتنا مشکل کیوں؟ کوکنگ شو کے میزبان کو کسی بھی ترکیب کے ہر مرحلے میں آرٹ ڈائریکٹر ،سیٹ سٹائلسٹ اور فوڈ سٹائلسٹ کی مکمل رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیںکہ شیف کے پاس کھانا بنانے کے تمام آلات موجود ہیںوہ تمام اجزاء ان کے خاص مقام پر رکھتے ہیں اور تمام اجزائے ترکیبی کی پیمائش اور تیاری کرتے ہیں اس کے علاوہ ڈش کی خوب صورتی کے لیے اس کی بہترین گارنشنگ کی جاتی ہے۔اس لیے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گھر میں کسی بھی ترکیب کو آزمانے کے لیے آپ کو کافی محنت اور وقت درکار ہوگا اور ضروری نہیں کہ آپ کی ڈش تیار ہونے کے بعد بالکل پرفیکٹ دکھائی دے۔ کھانا بناتے وقت اپنا طریقہ ذہن میں رکھیں کسی بھی ترکیب میں ناظرین کی رہنمائی کے لیے ایک عام خاکہ تیار کیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی دو اجزاء بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے ۔اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ جو اجزاء آپ برسہابرس سے استعمال کر رہے ہیں وہی استعمال کریں کیوں کہ آپ نے اس کا ذائقہ چکھا ہوتا ہے اور آپ اس کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ برائون کرنے کا مطلب جلانا ہرگز نہیں ہے جب یہ کہا جائے کہ پیاز یا مچھلی برائون ہونے تک تلیںتواس کا مطلب برائون ہی ہے جلانا ہرگز نہیں ہے۔گھروں میں تیار کیے جانے والے تقریباًتمام کھانے ہی ہلکے برائون کیے جاتے ہیں کیوں کہ اس سے کھانوں میں جادوئی ذائقہ آجاتا ہے۔ گارنشنگ سے کھانوں کی خوب صورتی بڑھائیں اگر کوئی بھی ڈش تیار ہونے کے بعد دیکھنے میں اچھی نہیں لگ رہی تو پریشان نہ ہوں بلکہ سبز مرچ ،دھنیا اور پو دینہ باریک کتر کر اس کے اوپر چھڑک دیں۔ اس سے ناصرف خوش بو بہت اچھی آئے گی بلکہ مختلف رنگوں کا امتزاج بھی اس کو خوب صورت بنائے گا ۔اور آپ خود ہی اس کی طرف کشش محسوس کریں گے۔ کچن میںہلچل نہ مچائیں ریستوران میں کھانا ایک خاص طریقہ کا ر کے تحت بنایا جاتا ہے ۔چوں کہ برتن اور دیگر اشیاء استعمال کرنے کے بعد فوراً ہی اس کے اصل مقام پر رکھ دی جاتی ہیں اس لیے ہلچل نہیں مچتی۔لیکن عموما دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ جلد بازی میں شیف اور گھر میں کام کرتے وقت خواتین کچن کا تمام نظم و نسق تباہ کر دیتی ہیں۔اس لیے کوئی چیز جگہ پر نہیں ملتی ۔کھانے کی تیاری کے بعد فرش پر چھلکوں کے ڈھیر،سنک میں برتنوں کا انبار اور دیواریں مایونیز اور مصالحوں سے بھری نظر آتی ہیں۔اکثر تو جلد بازی میں چولھا بھی جلتا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ روزمرہ ہونے والی غلطیاں کھانا بناتے وقت شیف سے اکثر غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں ۔کبھی صافی جل جاتی ہے توکبھی کھانا فرش پر گر جاتا ہے ۔کبھی چھری لگ جاتی ہے یاہاتھ جل جاتا ہے۔ عام طور پر تمام شیف ہی اس کا شکارہوتے ہیں۔ گرما گرم برتن پکڑنے یا اوون سے نکالنے کے بعد فوراً گرم حصے پر ہاتھ لگانے سے جلنے کی وجہ سے اس کا نشان کافی دن تک رہتا ہے لیکن جب پروگرام آن ائیر ہوتا ہے تو اس قسم کی کسی بھی غلطی کا پروگرام میں شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اجزائے ترکیبی کی برانڈ سے مکمل لاعلمی کوکنگ شو کی میزبانی کرنے والے شیف کو ڈش میں استعمال ہونے والے اجزائے ترکیبی جیسے کیچپ اور بیکنگ پائوڈر وغیرہ کی برانڈ سے لاعلم رکھا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے گرافک آرٹسٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جس کا کام کسی بھی برانڈ کے نام کو ظاہر ہونے سے روکنا ہے اس لیے وہ اس پر جعلی ناموں کے نئے لیبلز لگا دیتے ہیںاس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کمپنی کی مصنوعات کی بلامعاوضہ تشہیر نہ ہو۔ سب سے مشکل کام مارننگ شو میں جانا اکثر شیف مارننگ شو میں شرکت کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مارننگ شو میں انہیںایک عجوبے کا کردار ادا کرنا پڑتا ہے ایک طرف تو پروگرام میں موجود مہمان کے ساتھ گفتگو میں شریک ہونا پڑتا ہے تو دوسری جانب شیف کا کوسٹیوم پہنے ،ہاتھوں پر ربر کے دستانے چڑھائے کیک آئس کرنے کی کوشش ہورہی ہوتی ہے اس لیے سب کچھ آپس میں خلط ملط ہوجاتا ہے،ایک ہی وقت میں سوالات کے جواب دینااور اگلے پروگرام کا لائحہ عمل بتانا،یہ سارے کام بہت دقت طلب ہوتے ہیں اور اس پر متزادیہ کہ ان کے پاس وقت محدود ہوتا ہے اور پروگرام لائیو چل رہا ہوتا ہے۔ کوکنگ شو کی میزبانی کرنا اتنا آسان نہیں کوکنگ کے ساتھ ایک ایک مرحلے کی وضاحت کرنا ،مختلف اجزائے ترکیبی کے بارے میں تفصیل سے بتانااورکیمرے پربھی نظریں مرکوز رکھنا ایک شیف کے لیے کافی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کان میں اچانک کہا جائے کہ اب اگلے مرحلے کی جانب بڑھیں یا سامنے سے مرچ والاڈبہ ہٹائیں کیوں کہ اس سے شاٹ لینے میں مشکل ہورہی ہے۔توبظاہر یہ سب جتنا آسان لگتا ہے درحقیقت اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ کٹلری کا انتخاب کوکنگ شو میں کھانا بنانے کے لیے وہی کٹلری استعمال کی جاتی ہے جو انھیں فراہم کر دی جاتی ہے۔محض نامور شیف کو ہی یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی مصنوعات اور آلات استعمال کرسکتے ہیں ورنہ وہی استعمال کرنا ہوتا ہے جوفراہم کیا جاتا ہے۔ مزے دار کھانے بنائیں ہم، کھائے کوئی اور شیف ٹی وی پر مزے مزے کے کھانے بناتے ہیں لیکن ان لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع انھیںکم ہی ملتا ہے ۔انھیں پروگرام کے وقفے کے دوران عام کھانے ہی کھانے پڑتے ہیں۔ آخر ٹی وی والا پر آسائش کچن ہمارا کیوں نہیں اکثر ناظرین ٹی وی پر پر آسائش کچن دیکھ کر اپنے کچن سے اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں اور دل گرفتہ ہوجاتے ہیں کہ ان کا کچن ایسا کیوں نہیں کیوں کہ اکثریت کو یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ کوکنگ شوز کے اندر جو کچن استعمال کیے جاتے ہیں وہ درحقیقت عارضی سیٹ ہوتے ہیں۔ جو پروگرام ختم ہونے کے بعد ختم کردیئے جاتے ہیں ۔اگر آپ کو بیک گرائونڈ میںکاریں چلتی نظر آرہی ہیں تو وہ محض ویڈیو ہی ہوتی ہے۔ زائد اجزائے ترکیبی کا استعمال اگر کوکنگ شو میں آپ کو کہا جارہا ہے کہ ایک پائو اجزاء شامل کریں تو حقیقت میں انہیں ایک کلو فراہم کیے جاتے ہیں کیوں کہ اگر ایک شو میں چار ترکیبیں شامل ہیں اور ایک دن میں چار شو ریکارڈ کرانے پڑتے ہیںتو ریکارڈنگ کے بعد بہت سا کھانا بچ جاتا ہے جسے بسا اوقات فوڈ پینٹریز میں تقسیم کر دیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات عملے کے لیے دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران پیش آنے والے دلچسپ واقعات شیف سے پہلی بار کوکنگ شو کی ریکارڈنگ کے وقت بہت سی غلطیاں سر زد ہوتی ہیں۔ اکثر چاکلیٹ شیک بناتے وقت بلینڈر سے اچھل کر کپڑوں پر گر جاتا ہے۔عملے کے نزدیک یہ ایک نہایت مزے دار تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ اس کے بعد عجیب افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔وہاں ایک عارضی وارڈ روب بھی موجود ہوتی ہے اور ایسی سچویشن میں اس سے استفادہ کرنا پڑتا ہے ۔لیکن اگر پروگرام لائیو چل رہا ہوتو مستقلاً اس کو نہیں پہنا جاسکتا بلکہ پرانی شرٹ کو دھونے اور سکھانے کے بعد پروگرام میں اسی حالت میں واپس آنا پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ میک اپ اور بالوں کے اسٹائل کو بھی پہلے جیسا رکھنا ہوتا ہے جب تک کھانا ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔لیکن ناظرین اس ساری کارروائی سے مکمل طورپرلاعلم ہوتے ہیں۔بعض اوقات ڈش میںبعض اجزاء شامل کرنا ہی بھول جاتے ہیںاور تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ سب اچھا ہے۔

Share This :

ریسرچ

انسانی دماغ کی طرز پر بنائی گئی دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر چِپ

مریکہ کے ادارے ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی...

اصل دماغ جیسا جیتا جاگتا تھری ڈی دماغ بنانے میں کامیابی

امریکہ کی ٹفٹ یونی ورسٹی کے ٹشو انجیئرنگ ریسورس سینٹر...

کھیل

فاسٹ بائولرز کا انحطاط

جان بوجھ کر ایسی وکٹیں بنائی جارہی ہیں جو تیز...

ہاکی کھیل کا عروج و زوال

حکومت کی خصوصی توجہ سے کھویا ہوا مقام حاصل کیا جا سکتا...

لارڈز کا ہیرو :جوزف ایڈورڈروٹ

ون ڈے سیریز ہارنے کے بعدانگلش ٹیم لارڈز میں سری لنکا...


Copyright 2014 © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved.

All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited.