☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ متفرق عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا رپورٹ انٹرویوز کھیل خواتین
امن کے متلاشی

امن کے متلاشی

تحریر : انیلہ افضال

10-06-2019

امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو منسوخ کردیا ہے۔ اس کی وجہ امریکی صدارتی دفتر نے یہ بتائی ہے کہ افغان طالبان نے کابل میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر کے اپنی پوزیشن کمزور کر لی ہے۔

یاد رہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے کابل میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی سمیت متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ امریکہ نے اپنے فوجی کی ہلاکت کو مذاکرات کی منسوخی کی وجہ بنایا ہے جو کہ یقیناً ایک بھونڈی سی وجہ ہے۔ طالبان کی یہ کارروائی امریکی اسٹیبلشمنٹ کو ایک آنکھ نہیں بھائی اور انہوں نے ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے قطعاً انکار کر دیا ہے جو اپنی شرائط کو منوانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان کسی بھی طرح سے افغان مسئلے کو حل کرنا نہیں چاہتے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو مذاکرات سے فوراً پہلے دارالحکومت میں اس قسم کی دہشتگردی نہ کی جاتی۔ اس قسم کے واقعات کا ہونا اور پھر اس کی ذمہ داری کو ڈنکے کی چوٹ پر قبول کرنا دراصل اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کس قدر ضروری ہے۔ لیکن یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی افواج جہاں بھی گئی ہیں انہوں نے صرف انارکی ہی پیدا کی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی امن کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ اور وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعاون سے ملک میں مکمل اور پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان مجاہد ذبیح اللہ کے مطابق طالبان ملک میں امن قائم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو غالباً اب بھی تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے امن مذاکرات کو منسوخ کر کے شاید غلطی کی ہے۔ جبکہ افغان مجاہدین کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ امن مذاکرات کو منسوخ کرنے سے امریکہ کو پہلے سے زیادہ نقصان اٹھانے کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کی دعوت حصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے دی تھی لیکن طالبان نے اسے قطر امن معاہدے پر دستخط تک معطل کر دیا تھا۔

پاکستان نے ہمیشہ امن کی کوششوں کو سراہا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور وہ بطور ایک امن پسند ملک کے کسی بھی طرح دہشت گردانہ کارروائیوں کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ افغان امریکہ امن مذاکرات کا یوں اچانک منسوخ کردیا جانا پاکستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان دونوں فریقین کی جانب سے برداشت اور تحمل کا مظاہرہ چاہتا ہے۔ کیونکہ اتنے سالوں کے تجربات کے بعد یہ تو طے ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خطے میں پاکستان کی پوزیشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جس طرح سے پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اس کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔ ہمت اور حوصلے کے ساتھ ساتھ بے شمار قربانیاں بھی پاک افواج کے بورڈ پر ہیں۔ان تمام تر تجربات سے ہم نے یہی سبق سیکھا ہے کہ خطے میں مستقل اور پائیدار امن کے واحد راستہ مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے جبکہ طاقت کے استعمال سے امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جس طرح افغانستان کئی دہائیوں سے اپنے بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اسی طرح کشمیر بھی گزشتہ بہتر سالوں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک عظیم سپاہی سمیت کئی دوسرے لوگوں کی اموات نے امریکی صدر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور انہوں نے افغان امن مذاکرات کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ ستر سالوں سے قربانیاں دے رہی کشمیری قوم کی جانیں، مال اور عصمتیں کسی گنتی میں نہیں آتیں۔ اگرچہ اس بات سے انکار نہیں کہ صدر ٹرمپ نے مسلح کشمیر پر ثالثی کی واضح پیشکش کی ہے مگر عملی طور پر تو درکنار ، اخلاقی طور پر بھی کشمیریوں کے لیے کوئی بیان نہیں دیا۔ کیا ایک امریکی فوجی کی جان لاکھوں کشمیریوں کی جانوں اور عصمتوں سے بڑھ کر ہے۔ 

افغانستان، پاکستان اور کشمیر تینوں ہی امن چاہتے ہیں۔ پھر چاہے یہ امن اپنے ہی ملک میں جنگ لڑ کر حاصل ہو، یا مجاہدین کی جنگ ہو یا پھر کشمیریوں کی بے شمار جانی قربانیاں ہوں یا خواتین کی عصمت کی قربانیاں، ان سب کی چاہت ، ان سب کا مقصد امن کاقیام ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پر امن معاشرہ دیا جا سکے۔ ان تمام قربانیوں اور ان قربانیوں کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا ہو گا۔کیونکہ افغانستان ہو یا کشمیر یا پھر اپنے ہی ملک میں دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑتا ہوا پاکستان؛ یہاں کا ہر شہری امن کا متلاشی ہے اور بطور ایک سپر پاور کے امریکہ کو امن کے قیام میں کردار ادا کرنا ہی ہو گا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

0 2نومبر کا دن بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روزاقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ ’’چائلڈ رائٹس کنونشن ‘&ls ...

مزید پڑھیں

یہ تاریخی فوارہ ایوب خان نے امریکہ کے صدر آئزن ہاور کے استقبال کے لیے بنوایا تھا جنہوں نے صدر پاکستان کی دعوت پر دسمبر 1959ء میں پاکستان پ ...

مزید پڑھیں

ایک بھارتی جریدے سے پتہ چلا کہ بھارتی ریاستوں، شہروں اور دیہات میں مسلمانوں نے ناصرف ادارے قائم کئے تھے بلکہ ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ...

مزید پڑھیں