☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل طب رپورٹ فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا متفرق کھیل خواتین روحانی مسائل
بھارت میں ’’ پاکستان‘‘

بھارت میں ’’ پاکستان‘‘

تحریر : محمد ندیم بھٹی

10-27-2019

ایک بھارتی جریدے سے پتہ چلا کہ بھارتی ریاستوں، شہروں اور دیہات میں مسلمانوں نے ناصرف ادارے قائم کئے تھے بلکہ ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو عزت سے نوازا تھا۔

ایسی ہی محبت کی ایک علامت بھارتی ریاست بہار میں قائم ہوئی ۔ جہاں1947ء میں ایک بڑے گائوں کا نام ’’پاکستان‘‘ رکھ کرمسلمانوں اور پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا ۔ یہ اس محبت کا جواب تھا کو مسلمانوںنے ان سے کی تھی۔

ہندوستان کے ضلع پورنیامیں واقع (Purnia)اس گائوں میں کبھی کوئی فساد یا بلوہ نہیںہوا بلکہ یہ بھارت بھر میںہندو سے مسلمانوں کے پیار، خلوص اور محبت کی نشانی تھا۔مسلمان جین مت،بدھ مت اور ہندئوں کو عزت و وقار سے رکھا کرتے تھے۔ قدیم قبائلی طرز زندگی کے حامل اس گائوںکے تمام مسلمان 1947ء کے بعد سابقہ مشرقی پاکستان ہجرت کرگئے تھے۔یہ ہزاروں میں تھے۔جاتے جاتے انہوں نے اپنی تمام جائیدادیں مقامی ہندوئوں اور بدھ متیوں کے نام کردی تھیں۔ مقامی باشندے اس قربانی کو کبھی نہیں بھولے۔ ان کے دل میں بسنے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ مقامی باشندے پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کا سلوک دیکھ کر وہ پاکستان کی محبت میں سرشار تھے مگر جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر مائونٹ بیٹن نے ان لوگوں کو ’’بیٹ‘‘(Beat ) کرتے ہوئے یہ گائوں بھی بھارت کو دے دیا جب مائونٹ بیٹن نے اسے بھارت کے حوالے کیا تو مقامی لوگوں نے اسکا نام ’’پاکستان ‘‘رکھ کردل کی مراد پوری کی۔ اس طرح انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو گئے ہیں۔وہ بھارت میں رہ کر پاکستان کا حصہ سمجھے جاتے تھے اور انہیں ’’پاکستانی‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کیا جاتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ 

’’ہمیں چھوڑ کر جانے والے بہت ہی پیارے لوگ تھے، ہم ان کی محبت آج بھی نہیں بھولے ، ہمارے بڑے اپنے اورمسلمانوں کی محبت کی باتیں بتایاکرتے تھے ،ہمارے بڑوں نے اس سے محبت کا قرض چکاتے ہوئے ،ان کی یاد میں گائوں کا نام بدل کر’’ پاکستان‘‘ رکھاتھا۔یہ گائوں گزشتہ کئی عشروں سے مسلمانوں، دو قوموں ،دو ممالک کے مابین محبت کی علامت تھا۔جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کی تمام مسلمان دشمنی کے باوجود یہ واحد گائوں تھا جہاں سب محبت کی لڑی میں پروئے گئے تھے ۔اس گائوں کی خوبی یہ بھی ہے کہ ہمارے اہم رہنمائوںنے بھی وہاں مسلم لیگ کے لئے رکنیت سازی کی تھی لیکن ہندوآتہ آگ نفرت انگیز آگ نے اس پیار اور محبت کو بھی سرکاری فائلوںکو جلا کر راکھ کر دیا ہے ۔اہل دیہہ کہتے ہیں کہ انہیںپاکستان سے محبت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے، تمام انسانی سہولتوں سے محروم رکھ کر انہیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا گیاہے۔بھارت کے دوسرے مسلمان اکثریتی علاقوں اور سابق ریاستوں کی طرح یہ گائوں بھی زندگی کی ہر نعمت کو ترس رہا ہے۔

قیام پاکستان سے قبل یہ گائوں نیپال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔قیام پاکستان کے وقت بھی یہ گائوں اس سرحد کے قریب تھا جو پاکستان میں شامل ہوئی ۔ تقسیم کے وقت یہ بھی ایجنڈے پر تھا اور اسے بھی پاکستان میںہی شامل ہونا چاہیے تھا کیونکہ ارد گرد کے کئی گائوں پاکستان کا ہی حصہ بن گئے تھے ۔ یہ باتیںحقیقت بن چکی ہیںکیونکہ کسی ایک رہنما نے بھی وہاں ترقیاتی کاموں کی اجازت نہ دی ، ’’پاکستان‘‘ کی مناسبت سے نام رکھنے کی وجہ سے انہیں ایک عذاب کا سامنا ہے۔گائوں کے رہنما گورو بیسارا (Guru Besara)نے ہندو انتہا پسندی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بھی ہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنمائوں سے ترقیاتی منصوبوں کی بات کرتے ہیں، پینے کے پانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔اور ہمیں بھارت پاکستان موجودہ تنازعے کے پس منظر میں دیکھا جانے لگتا ہے‘‘۔ہندو انتہا پسندی کے دور میں بہاریوں کی پریشانیاں بھی بڑھ گئیں ۔یہ ہندوستان کے ان بے شمار دیہات میںشامل ہے جہاں 21 ویں صدی میںپتھر کے زمانے جیسی ’’سہولتیں‘‘ حاصل ہیں، پانی ہے نہ گیس، کسی نے صنعت لگانے کی اجازت دی نہ ہی مشینری لائی گئی۔پورے گائوں میں ایک بھی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا گیا۔ہسپتال ہے نہ کلینک،نہ ہی ڈاکٹر آتا ہے۔کار ہے نہ پٹرول پمپ ۔ حتیٰ کہ اسے کئی سڑکوں سے بھی محروم رکھا گیا۔بقول اہل دیہہ ۔۔حکمران کہتے ہیںہے کہ تم تو ’’پاکستان ‘‘ہو۔اسی سے بجلی ،پانی اور گیس مانگو ،وہی تمہیں روٹی ،کپڑا اور مکان دے گا۔ تماری ترقیاتی سکیموں پر کام کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے‘‘۔ 

چنانچہ اب وہ گائوں کانام بدل کر’’بارسا نگر‘‘ (Barsa Nagar)رکھنا چاہتے ہیں۔بارسا اسی گائوں کے ایک کمزور سے سرپنچ تھے جنہوں نے دونوں ممالک کے مابین رشتے استوا رکھنے کی اپنے تئیں کوشش کی مگر ہندو آتہ کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔مقامی میجسٹریٹ راہول کمار درخواست پر غور کر رہے ہیں۔گائوں کے سرپنچ وپن چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی کچہری کے حکام نام کی تبدیلی پر متفق ہو گئے ہیں۔ میجسٹریٹ نے کہا ہے کہ وہ خود مسائل کو دیکھیں گے مگر اس درخواست پر فیصلہ کرنا ان کے بھی بس میں نہیں ہے۔ وہ اوپر سے رائے لیں گے۔اس وقت درخواست کے مختلف پہلوئوں پر آر ایس ایس غورلررہی ہے ۔پاکستان اور اسلام سے متعلق تمام اموربھارتی ایوانوں میں جانے سے پہلے آر ایس ایس کے دفتر کا رخ کرتے ہیں وہاں سے ہاں ملنے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے ورنہ درخواست وہیں روک لی جاتی ہے۔آر ایس ایس ہندوآتہ کے پس منظر میں ہر کام کا جائزہ لیتی ہے۔گائوں کا نام پاکستان سے بدل کر بسارا نگر رکھنے کا فیصلہ بھی آر ایس ایس کی مرضی کے بعد ہی نافذ ہوگا۔فی الحال تو نام بدلنے کی تجویز پڑھتے ہی بھارتی ایوانوں میں شور مچ گیاہے۔ہر کوئی سوال کر رہا ہے کہ یہ کیسے ہو گیا؟بھارت میں پاکستان کیسے بن گیا؟ کس نے رکھا یہ نام؟ کون تھے ان کے پس منظر میں ؟یہ اور ایسے بہت سے سوالات کا کھوج لگانے کے لئے بھارتی سینا سینہ سپر ہو گئی ہے۔اہل دیہہ کے بارے میں مکمل معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں تاکہ گائوں کا نام پاکستان رکھنے والوں کے خاندانوں کوسزا دی جا سکے۔

لیکن بھارت میں یہ ایک پاکستان نہیں ہے ایسے کئی اور پاکستان بھی قائم ہیں جن کی جانب بہار سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مبر راجیہ سبھا گوپال نارائن سنگھ نے اشارہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے ۔۔’’بہار کے کئی علاقوں کو ’’منی پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے ،منی پاکستان کہلائے جانے والے علاقوں میںسیمانچل پردیش(Seemanchal) کے علاقے ’’کاٹیھاڑ‘‘ (Katihar)،’’پورنیا‘‘(Purnia) اور ’’اڑیاہ‘‘ (Ariria) قابل ذکر ہیں۔انہوںنے کہا کہ منی پاکستان کہلائے جانے والے علاقوں میں اور بھی کئی شہر اور قصبات شامل ہیں۔ ہندوئوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے سے عدم توازن قائم ہو گیا ہے جس پر ہندو پریشان ہو گئے ہیں۔انہوں نے ایک بڑے بھارتی نیٹ ورک سے باتیںکرتے ہوئے مسلمانوں کوہندوآتہ کے لئے خطرہ قرار دیا۔اسی لئے پاکستان سے محبت کرنے والوں کووہاں سے نکالنے کے لئے ’’نیشنل رجسٹریشن آ ف سٹیزن پروگرام ‘‘شروع کرنے کامطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ این آر سی کو سکیورٹی کے نام پر ملتوی کرنے کی بجائے بلاتاخیر مکمل کیا جائے تاکہ بنگال کی طرح یہاں بھی لاکھوں مسلانوں کو بے دخل اور شہریت سے محروم کرنے میں آسانی ہو۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

0 2نومبر کا دن بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روزاقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ ’’چائلڈ رائٹس کنونشن ‘&ls ...

مزید پڑھیں

یہ تاریخی فوارہ ایوب خان نے امریکہ کے صدر آئزن ہاور کے استقبال کے لیے بنوایا تھا جنہوں نے صدر پاکستان کی دعوت پر دسمبر 1959ء میں پاکستان پ ...

مزید پڑھیں

ایک تحقیق کے مطابق ہر4 بالغ افراد میں سے1 اور ہر 10 بچوں میں سے 1کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔ کسی ایک انسا ن کے دماغی مرض سے صرف وہی ن ...

مزید پڑھیں