☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
میوزک فائونٹین

میوزک فائونٹین

تحریر : محمد سعید جاوید

11-03-2019

یہ تاریخی فوارہ ایوب خان نے امریکہ کے صدر آئزن ہاور کے استقبال کے لیے بنوایا تھا جنہوں نے صدر پاکستان کی دعوت پر دسمبر 1959ء میں پاکستان پہنچنا تھا۔ دوران تعمیر اس کے چاروںطرف قناتیں تان دی گئی تھیں اور ان کے اندر ہی اندر خفیہ انداز میں کام ہوتا رہا۔کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ اس چوراہے پر یکا یک یہ پردے کیوں لگ گئے ہیں، لوگ بس تجسس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گزر جاتے تھے۔

پھر ایک دن یہ پردہ اٹھ گیا اور نیچے سے تالاب میں کھڑا ہوا سیاہ رنگت کا ایک عجیب و غریب سا مجسمہ نکل آیاجو دور سے کوئی لمبی سی گردن والا کوئی گھوڑا ہی نظر آتا تھا جس کی کمر کے اوپر سے پانی اچھل اچھل کر ہواؤں میں دور تک جاتا اور پھر اسی تالاب میں گر جاتا تھا ۔ اس کے پیٹ اور گردن کے اندر کہیں چھپا کر بڑے بڑے ا سپیکرلگائے گئے تھے جس میں سے ہلکی ہلکی مگر مدھر سی موسیقی کے سوتے پھوٹتے تھے جو کانوں اور ذہن کو بڑی بھلی لگتی تھی۔

 

پھر کسی سمجھ دار شخص نے بتایا کہ یہ گھوڑا نہیں بلکہ موسیقی کی کتاب سے بھاگا ہوا کوئی سُرہے جو اپنی غیر معمولی صحت مندی کی وجہ سے کچھ جناتی سا لگ رہا تھا ۔غور سے دیکھا تو وہ واقعی وہی تھا۔ شاید اسی لیے اس کا نام میوزیکل فاؤنٹین بھی رکھ دیا گیا تھا۔ گھوڑے اور ُسر میں فرق محسوس کرنے اور جاننے میں مجھے پورا ایک مہینہ لگ گیا تھا، شک ہے کئی لوگوں کو تو سال بعد بھی اس کا علم نہ ہوا ہو گا۔پہلے کچھ دنوں تک تو یہاں پر کافی بھیڑ بھاڑ اور رونق لگی رہتی تھی اور دور دور سے لوگ اپنے اہلِ خانہ کو یہ طلسماتی فوارہ دکھانے لاتے تھے جو موسیقی کے سُر فضائوں میں بکھیرتا تھا۔وہ اس کے چاروں طرف حلقہ بنا کر کھڑے گھنٹوں اسے تکا کرتے تھے اور جب کبھی کسی طرف سے تیز ہوا چلنے لگتی تو فوارے میں سے ہلکی ہلکی پھوار نکل کر مخالف سمت کو اڑنے لگتی اور لوگوں کو بھگو جاتی تھی جس کو د یکھ کر اور محسوس کرکے تماشائی نہال ہو جاتے تھے۔ اور کئی تو جان بوجھ کر اس کی طرف بھاگتے تاکہ موسیقی کے ہوائوں میں بکھرتے ہوئے سُروں کے ساتھ رم جھم کرتی پھوار سے اپنے آپ کو ٹھنڈا کرلیں۔ 

اس بدنما گھوڑے مگر خوش نما سُروں والے فوارے کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس میں سے ایک ملازم کبھی کبھار نیچے اترتا نظر آجاتا تھا ۔ جب کبھی کسی وجہ سے اس کی موسیقی بجنا بند ہو جاتی تو وہ تیزی سے اس سرنگ نما کھڑکی سے چھلانگ لگا کر نیچے اترجاتا اور نہ جانے کیا کل پرزے مروڑتا تھا کہ ایک بار پھر فضاؤں میں نغمے بکھرنے لگتے۔ اس فوارے کے گرد گھاس اور خوب صورت پھول بھی لگائے گئے تھے اور تالاب میں کچھ آبی پودے اور کنول کے پھول بھی چھوڑ دیئے گئے تھے ۔ یہ بلا شبہ اس زمانے میں کراچی کا ایک یاد گار مقام ہوا کرتا تھا جو باہر سے آنے والوں کو ان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اپنے شہر کی شو بازی کے لیے لازمی دکھایا جاتا تھا۔

پھر ایک دن صدر امریکہ آئزن ہاور بھی کراچی آن پہنچے۔ ان کے قافلے نے براستہ ڈرگ روڈ اس طرف آنا تھا ۔ وہ صدر ایوب کے ساتھ ایک کھلی کارمیں کھڑے تھے۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر سڑک کے دونوں طرف کھڑے استقبالی بچوں اور لوگوں کے سلام اور نعروںکا جواب دے رہے تھے ۔ تمام قریبی ا سکولوں کے بچوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اپنے صاف ستھرے یونیفارم میں قطار بنا کرکھڑے ہو جائیں اور معزز مہمان کے آنے پر خوب تالیاں پیٹیں ، زندہ باد کے نعرے لگائیں اور چھوٹے چھوٹے امریکی اور پاکستانی پرچم لہرائیں جو ہمیں ایک روز پہلے اسی مقصد کے لیے دیئے گئے تھے۔ہمارا اسکول چونکہ اس مقام سے نزدیک ترین تھا اس لیے ہم نے جلدی سے یہاں آکر اس فوارے کے بالکل سامنے والے فٹ پاتھ پر قبضہ کرکے اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے ۔جب دونوں صدور ہمارے اور فوارے کے قریب پہنچے تو ان کو خاص طور پر اس خوب صورت فوارے کا پورا چکر لگوایا گیا جس میں سے اس وقت بلند آواز میں کوئی مغربی موسیقی بج رہی تھی۔سبز گھاس کے تختوں میں سجائے گئے رنگ برنگے پھولوں کے گملے بڑا خوب صورت منظر پیش کر رہے تھے ۔ 

پھر یوں ہوا کہ جس کام کے لیے ہم چار گھنٹے سے وہاں کھڑے تھے وہ ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو گیا ۔ بلا شبہ ان کا شان دار استقبال کیا گیا تھا ۔ دونوں ہمیں دیکھ کر مسکراتے اور ہاتھ ہلاتے رہے ، اندازایسا تھا کہ وہاں کھڑا ہر کوئی یہی سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے خاص طور پر ان کے سلام کا جواب دینے کے لیے ہاتھ ہلائے تھے۔ یہاں سے ایک سڑک ہلکا سا موڑلے کربائیں طرف کو چلی جاتی تھی جس پرکچھ آگے قصرِ صدارت کا مرکزی دروازہ ہوتا تھا ۔ یہیں سے معزز مہمان اندر چلے گئے اور ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح دوبارہ ٹرکوں میں لادکر اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچا دیا گیا ۔یہ فوارہ ایک دو سال تو فضائوں میںسُر بکھیر کر لوگوں کو محظوظ کرتا رہا ۔ فلم والوں کو اس کی خوب صورت لوکیشن اتنی پسند آئی کہ اس وقت کراچی کے سٹوڈیو میں بننے والی کوئی بھی فلم اس کا پھیرا لیے بنا مکمل ہی نہ ہوتی تھی ۔ چاہے وہاں ہیرو اور ہیروئین کی رومانوی سرگرمیاں ہوں یا بیچاری ہیروئین اغوا ہورہی ہو، اس فوارے کا کم از کم ایک چکر لگانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔

 ایک روز کچھ ایسا ہوا کہ پہلے ایک دن اس کے سُر اچانک خاموش ہو گئے ۔ ایک دو بار اس کو دھکا اسٹارٹ کیا گیا مگر بات نہ بنی تو کاریگروں نے ہاتھ اٹھا دیئے۔بعد میں یہ محض ایک فوارہ ہی رہ گیا تھا جو صرف خانہ پری کے لیے مخصوص اوقات میں فضائوں میں پانی اچھالتا رہتا تھا اور تب ہی ایک دن اس فوارے نے بھی پانی اگلنے سے صاف انکار کر دیا ۔ ہنستا کھیلتا فوارہ کیا بند ہوا، متعلقہ محکمے والوں نے اس کی طرف سے آنکھیں موندھ لیں اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر خود ادھر اُدھر ہو گئے ۔ تالاب خشک ہوا تو اس میں تیرتے ہوئے کنول کے خوب صورت پھول اور حسین بیلیں بھی مرجھا گئیں اور پھر آہستہ آہستہ پھول بھی سڑ گل کر ختم ہو گئے۔ گھاس بھی رفتہ رفتہ سوکھ گئی اور یوں جہاں ہر وقت میٹھے سُر فضائوں میں بکھرتے تھے اب وہاں ٹریفک کے بے ہنگم شور میں یہ بے کس و لاچار گھوڑا نما ساز کئی سال تک تھکا ہارا کھڑا رہا ۔ اس پر رفتہ رفتہ وقت کی دھول جمتی گئی، رنگ بھی سیاہ سے مٹیالا ہوا اور پھر یہ خود بخود ہی جھڑنے لگا ۔ ایک دن کچھ لوگ کدال اور بیلچے اٹھائے ہوئے آئے اور اس کو وہاںسے اکھاڑ کر چوک کو ہموار کر دیا۔پتہ ہی نہ لگا کہ اس بیچارے کی لاش کو کہاں لے جایا گیا ۔ میں نے اس فوار ے کا ذکر اس لیے بھی کچھ زیادہ تفصیل سے کر دیا ہے کہ جتنا میں نے اس کوقریب سے دیکھا اور محسوس کیا تھا، شاید ہی کسی اور نے کیا ہو۔ بعد میںہماری سکونت قصر صدارت کے اندر ہی رہی تھی اور وہیں اسٹاف کالونی کے دروازے پر ہی یہ فوارہ نصب کیا گیا تھا ۔آتے جاتے تو نظر پڑتی ہی تھی، کبھی کبھار بغیر کسی وجہ کے بھی گیٹ کے ساتھ رکھی ہوئی بینچ پر بیٹھ کر میں گھنٹوں اسے تکا کرتا تھا۔ بڑا سکون ملتا تھا اس کی موسیقی اور پانی کے جھرنوں کی آواز سن کر!

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

0 2نومبر کا دن بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روزاقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ ’’چائلڈ رائٹس کنونشن ‘&ls ...

مزید پڑھیں

ایک بھارتی جریدے سے پتہ چلا کہ بھارتی ریاستوں، شہروں اور دیہات میں مسلمانوں نے ناصرف ادارے قائم کئے تھے بلکہ ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کے ...

مزید پڑھیں

ایک تحقیق کے مطابق ہر4 بالغ افراد میں سے1 اور ہر 10 بچوں میں سے 1کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔ کسی ایک انسا ن کے دماغی مرض سے صرف وہی ن ...

مزید پڑھیں