☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
ڈیورنڈ لائن اور بھارت کی شرانگیزی

ڈیورنڈ لائن اور بھارت کی شرانگیزی

تحریر : عبدالماجد قریشی

12-08-2019

گزشتہ دو دہائیوں سے وطن عزیز دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ایک طرف سے بھارت آنکھیں دکھا رہا تھا تو دوسری طرف سے افغان حکومت بھی ظالم ساس کا کردار اداکر رہی تھی اور اسے پٹیاں پڑھانے والی بھارتی لابی تھی جو امریکی قبضہ کے بعد سے آج تک افغانستان میں قدم جمائے بیٹھی ہے۔ بھارتی دہشت گردوں کا زور سندھ خاص طورپر کراچی اور بلوچستان میں تھا کیونکہ کلبھوشن یادیو بھی بلوچستان اور کراچی کے چکر لگاتا رہا ہے۔

افغانستان میں قدم جمانے کے بعد بھارت کیلئے یہ سب آسان ہوگیا کہ افغانی دہشت گردوں کو سرحد پار پہنچا کر دہشت گردی کرائی جائے۔ سوات میں آپریشن کے بعد ملا فضل اللہ اور دیگر دہشت گرد افغانستان ہی میں جاچھپے تھے انہیں افغان حکومت اور بھارتی ایجنسی را کی سرپرستی حاصل تھی۔ پاک بھارت سرحد کی نسبت پاک افغان سرحد پر مکمل نگرانی نہ ہونے کے سبب بھارت نے دہشت گردی کے بہت سے گل کھلائے اور ہزاروں کی تعداد میں نہتے عوام، پولیس ، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئے۔ یہ بات سامنے آئی کہ جب تک پاک افغان سرحد کو محفوظ نہیں کیا جاتا اس وقت تک دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنا محال ہے۔ آہنی باڑ لگانے کے فیصلے پر افغان حکومت نے اعتراض کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد کی بنیاد 1893 کے معاہدے پر رکھی گئی ہے اور اس کی دفعہ 6 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسے دونوں فریقوں نے باقاعدہ تسلیم کیا اور اسے اطمینان بخش حل قرار دیا۔ اس کے بعد اس معاہدے کو بعد میں آنے والی افغان حکومتوں نے بھی تسلیم کیا اور اس کی توثیق کی۔ امیر حبیب اللہ خان نے 1905 میں برطانوی حکومت اور اپنے والد امیر عبدالرحمٰن خان کے درمیان معاہدے کو جاری رکھا اور اس کی توثیق کی اور کہا کہ میں بھی اپنے والد کی طرح اس معاہدے پر عمل جاری رکھوں گا۔

برطانیہ اور افغان حکومت کے درمیان 8 اگست 1919 کو راولپنڈی میں ایک امن معاہدہ ہوا جس کے آرٹیکل 5 میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سابق امیر عبدالرحمٰن کے سرحدی معاہدے کو تسلیم کرتی ہے۔ اسی طرح 22 نومبر 1921 کو برطانیہ اور افغانستان کے درمیان دوستانہ اور تجارتی تعلقات کا سمجھوتہ ہوا جس کے آرٹیکل 2 میں کہا گیا ہے کہ دونوں حکومتیں راولپنڈی میں ہونے والے 1919 کے معاہدے کے مطابق افغان ـ ہند سرحد کو قبول کرتی ہے۔ اس کے بعد 6 مئی 1930 کو لندن میں برطانوی حکومت کے نمائندے مسٹر آرتھر ہینڈرسن اور افغان وزیر جنرل شاہ ولی خان کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ ہوا اور یہ طے پایا کہ کابل میں 22 نومبر 1921 کو ہونے والا معاہدہ پوری طرح مؤثر اور کارآمد ہے اور اس پر عملدرآمد جاری رہے گا۔ 

جب آزادی ہند کی تحریک چلی اور ہندوستان کی عبوری حکومت 1946ء میں پنڈت جواہر لعل نہرو، بیرونی وزارت کے سربراہ تھے اور لیاقت علی خان وزارت خزانہ کے سربراہ تھے۔ 4 جولائی 1947ء کو پنڈت نہرو نے لیاقت علی خان کی موجودگی میں اخباری بیان یوں دیا تھا ’’کہ ایک ماہ قبل سے افغانستان ریڈیو سے نشر کیا جا رہا ہے کہ سرحد کے پٹھان افغان ہیں وہ انڈین نہیں ہیں۔ دونوں حصوں کے پٹھانوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی قسمت اور مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ ان کو اس عمل سے روکا نہیں جا سکتا اور ہونے والے ریفرنڈم سرحد میں یہ فیصلہ ہوا کہ آیا پٹھان افغان جدا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ یا وہ افغانستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘‘ ۔ ایلف کیرو سرحد کے گورنر تھے۔ انہوں نے ایک بڑی ضیخم کتاب ’’دی پٹھان‘‘ تحریر کی اور عبدالغفار خان کو لقمہ پختونستان کا دیا۔ جب یہ پراپیگنڈہ کابل ریڈیو سے عام ہوا تو برطانوی حکومت نے اس کو سنجیدگی سے سوچا اور حکومت (برطانیہ) ہندوستان نے کابل کے اس کلیم کو غلط قرار دیا۔ ہز میجسٹی حکومت نے افغانستان حکومت کو خبردار کیا کہ اپنے اندرونی حالات کو درست کریں۔ دوسرے ملک میں مداخلت کرنا درست نہیں‘ کابل ریڈیومسلسل پٹھانوں اور پختونوں کے حق میں غلط تاثر دیتا رہا۔ 

13جون 1948 کو پاکستان میں افغان سفیر شاہ ولی خان نے اعلان کیا کہ افغانستان کے بادشاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور میں افغانستان کے نمائندے کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ افغانستان کسی سرحدی علاقہ پرکوئی دعویٰ نہیں رکھتا۔بین الاقوامی معاہدے جب ایک دفعہ طے ہوجائیں تو انہیں دونوں فریق ہی ختم کر سکتے ہیں نہ کہ ان میں سے کوئی ایک فریق۔ جب تک کسی معاہدے میں اس کی مدت کا تعین نہ کیا گیا ہو تو یہ معاہدہ مستقل نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور 1893 کے معاہدے پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔ 

یہ تو تھی ڈیورنڈ لائن کی حقیقت ۔ اب اصل بات جو افغان حکومت کو کھٹک رہی ہے وہ یہ کہ باڑ لگنے کے بعد افغانستان سے دہشت گرد کس طرح پاکستان بھیجے جائیں گے۔ کیونکہ افغانستان میں موجود بھارت افغان حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے کہ کسی بھی طرح سرحد پر باڑ رکوائی جائے تاکہ اس کو دہشت گردی کا موقع ملتا رہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے لیے روایتی حریف بھارت ایک مرتبہ پھر میدان میں آگیا اور پاک افغان بارڈر ڈیورنڈ لائن پر متنازع کتاب کی ہندو ستان میں اشاعت شروع کردی جس سے دونوں ممالک کے درمیان مزید اشتعال پید اہوسکتاہے۔ ہندوستان کے سب بڑے پبلشر ہارش زویا پبلشر سابق سفارتکار راجیوڈوگرا کی کتاب کو شائع کر رہا ہے۔ کتاب میں جہاں ڈیورنڈلائن کی حیثیت کو متنازعہ بنا یا گیا ہے ، وہیں کتاب ممکنہ طورپر پاک افغان بارڈر کی حیثیت متنازعہ بنا کر اشتعال انگیزی کی نئی کوشش ہو سکتی ہے۔ راجیو ڈوگرا اس سے قبل پاک انڈیا بارڈر پر بھی کتاب لکھ چکے ہیں۔ بھارت بھی کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے محاذ آرائی کا بازار گرم رکھتا ہے اور افغانستان بھی اس معاملہ میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان افغان ڈیورنڈ لائن کو چیلنج کرنے کے بعدسے پاکستان کی سالمیت کیخلاف افغانستان کی سازشی سوچ پروان چڑھائی جا رہی ہے اور حیلے بہانے سے پاکستان کی چوکیوں کو یکطرفہ گولہ باری کی زد میں لایا جا رہا ہے تو بھارت کو بھی اسی موقع پر کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ ’’چھیڑ چھاڑ‘‘ کی سوجھنے لگی ہے۔ سرحدی جھڑپوں کی شکل میں افغانستان اور بھارت کی جانب سے سرحدی کشیدگی پیدا کرنے کا مقصد اس خطہ میں بھارتی تھانیداری کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرانا ہی نظر آتا ہے جبکہ پاکستان افغان سرحد کو افغانستان اور بھارت دونوں پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

 بھارت نے خطے میں گڑبڑ پیدا کرنے اور پاکستان کو زک پہنچانے کیلئے پختونستان تحریک کا شوشہ چھوڑا۔ان ممالک نے خیبر پختونخوا میں پختونستان تحریک پر توجہ اس لئے بھی مرکوز کی کہ اقتصادی کوریڈور خیبر پختون کے ہزارہ ڈویژن، ضلع کوہستان اور ڈی آئی خان سے گزرے گا۔ جبکہ یہاں سے گلگت بلتستان اور چین کی سرحد بھی لگتی ہے۔ اسی لئے یہاں منصوبہ کے تحت بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لندن، افغانستان اور امریکہ میں موجود بعض قوم پرستوں کو اقتصادی کوریڈور کے جعلی نقشے تھما کر بتایا گیا ہے کہ اصل نقشے یہ ہیں۔پاکستان میں ایک قوم پرست جماعت کی کانفرنس میں یہ نقشے دکھائے گئے تو ذمہ دار افراد حیران رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر ان نقشوں کو چیلنج کریں گے۔ قوم پرستوں کے پاس جو نقشے ہیں وہ جعلی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے کوریڈوروالے علاقوںمیں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اقتصادی کوریڈور ضلع کوہستان سے ہوتا ہوا ہزارہ ڈویژن سے اسلام آباد اور پھر ڈی آئی خان سے ہوتا ہوا ژوب میں داخل ہوگا۔ اس روٹ اس روٹ کا نقشہ چین نے خود بنایا ہے ،اس میں تبدیلی ممکن نہیں ۔ خیبر پختونخوا کے جعلی نقشے انٹر نیٹ پر بھی ڈالے گئے ہیں۔یہ پاکستان کے خلاف سازش ہیں اور ہمیں مل جل کر اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بھارتی سپریم کورٹ کی’’ مہربانی‘‘ سے بابری مسجد کا فیصلہ ہنددؤں کے حق میں کیا آیا وہ تو اب ہر معاملے میں شیر ہوگئے ہیں، خصوصا ...

مزید پڑھیں

ہمارے گائو ں میں ایک شخص فوت ہو گیا جس کے جنازے میں ایک درد بھرا منظر پیش آیا ، ایسا واقعہ نہ پہلے کہیں سنا اور نہ ہی کہیں پڑھا ،کہ ایک شخص ...

مزید پڑھیں

شاہ زیب نے ایک انتہائی غریب گھر میں آنکھ کھولی، بچپن سے لاابالی طبیعت اور مزاج رکھتا تھا، پڑھائی میں بہت اچھا، ہمیشہ اول نمبر ہی حاصل کئ ...

مزید پڑھیں