☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(محمد رمضان) عالمی امور(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کچن کی دنیا() انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(روہاب لطیف) خواتین() خواتین() خواتین() رپورٹ(طاہر محمود) متفرق(آسیہ پری ) متفرق(آمنہ وحید)
کھیل کھیل میں

کھیل کھیل میں

تحریر : آسیہ پری

01-26-2020

کچن میں ہوتی کھٹر پٹر پہ علی کچن کی طرف آیا۔ سامنے ہی کھلے کیبنٹ کے سامنے چھپ کے بیٹھے اپنے چھ سالہ اور ساڑھے چار سالہ بیٹوں کو مزے مزے سے منہ میں کچھ چباتے دیکھ کر وہ ساری بات سمجھ کر مسکرا پڑا۔ شوبی صہبی۔۔۔

اچانک باپ کی آواز سن کر اپنی واردات میں مشغول وہ دونوں چونک پڑے اور دروازے میں کھڑے باپ کو دیکھ کر خفت سے مسکرانے لگے۔ یس پاپا، ان دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔ دونوں نے منہ کھول دئیے جس میں سے آدھی چبائی چینی ظاہر ہوکر ان کی چوری پکڑا رہی تھی۔ علی ان دونوں کے سامنے جاکر کھڑے ہوگئے۔ بیٹا آپ دونوں کو کتنی دفعہ یوں چینی کھانے سے منع کیا ہے۔آپ کو پتا ہے ناں کہ زیادہ چینی کھانے سے دانت بھی خراب ہوسکتے ہیں، اِن میں کیڑے لگ سکتے ہیں اور کانوں میں بھی درد ہوسکتا ہے ، مما آپ کیلئے مناسب چینی ڈال کر جو اتنی ساری میٹھی چیزیں بناتی ہیں کیا وہ چیزیں کھانا زیادہ اچھا نہیں؟ علی کے اتنے پیار سے سمجھانے پہ دونوں نے شرمندگی سے سوری پاپا کہا۔ لیکن علی کو اچھی طرح پتا تھا کہ دونوں کی یہ شرمندگی بھری سوری صرف چند گھنٹوں کے لیے ہے۔ پاپا ایک بار پھر سے کھیلیں؟ شعیب اور صہیب ایک بار پھر سے اپنا پسندیدہ کھیل کھیلنے کو مچلنے لگے تو علی بھی کھیلنے کو تیار ہوگئے۔

شوبی صہبی۔۔۔ یس پاپا

ایٹنگ شوگر؟ نو پاپا

ٹیلنگ لائز؟ نو پاپا

اوپن یور ماؤتھ۔۔۔ ہا ہا ہا، وہ دونوں کھلکھلاتے ہوئے باپ سے چمٹ گئے۔ علی نے بھی ہنستے ہوئے انہیں بازوئوں میں بھینچ لیا۔ بیٹے اور پوتوں کے درمیان کھیلے جانے والے اس کھیل کو ان کے پیچھے کھڑے ذیشان صاحب کو بھی یہ کھیل بہت دلچسپ اور اچھا لگتا تھا۔تھوڑی دیر بعد باپ بیٹے آپس میں ہنستے اور باتیں کرتے ہوئے کچن سے باہر چلے گئے۔چند گھنٹوں بعد پھر سے کچن میں ہوتی کھٹر پٹر پہ علی بچوں کی شرارت سمجھ کر مسکراتے ہوئے کچن میں آئے لیکن اس دفعہ سامنے کا منظرکچھ اور تھا۔ پاپا! یہ کیا کررہے ہیں آپ؟ اچانک بیٹے کی آواز سن کر ذیشان صاحب ڈر کر اچھل پڑے۔ کسٹرڈ کا باؤل اور چمچہ ان کے ہاتھوں میں لرز گیا۔ بیٹے کو سامنے دیکھ کر وہ خفت سے مسکرائے۔ماہم بیٹی نے کسٹرڈ بنایا تھا۔ وہ کھانے کو بہت دل کررہا تھا سو تھوڑا سا چکھ رہا تھا۔پاپا آپ کو پتا تو ہے کہ شوگر کی وجہ سے یہ سب میٹھی چیزیں آپ کیلئے کتنی نقصان دہ ہیں۔ آپ کو کچھ احساس بھی ہے کہ جب آپ کی شوگر بڑھ جاتی ہے تو آپ کیساتھ ساتھ ہم سب بھی کتنی تکلیف میں آجاتے ہیں۔ یہ تھوڑا سا کسٹرڈ چکھنے سے اگر آپ کی طبیعت خراب ہوگئی تو کس کو پریشانی ہوگی۔ کون آپ کو اسپتال لے کر بھاگے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپکے ساتھ کیا کیا جائے۔ باپ سے بات کرتے ہوئے علی کی وہ ساری نرمی اور شگفتگی کہیں غائب ہوگئی تھی جو کچھ دیر پہلے اولاد سے بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں تھی۔ علی نے غصے سے باپ کے لرزتے ہاتھوں سے کسٹرڈ کا باؤل چھین کر واپس فریج میں رکھ دیا۔ میں ماہم سے کہتا ہوں آئندہ وہ فریج کو تالا لگا کر رکھے۔ بہت مشکل سے آنسو ضبط کرتے باپ پہ ایک تیز نظر ڈال کر علی کچن سے باہر نکل گیا اور ذیشان صاحب کے آنسو بھی باہر نکل پڑے۔پاپا پاپا۔۔۔ ذیشان صاحب نے روتی آنکھوں کے ساتھ منہ سے بیٹے کی غصے بھری آواز نکال کر اپنے، بیٹے اور پوتوں کے پسندیدہ کھیل کا خود کو حصہ بنانے کی خواہش پوری کرنی چاہی۔یس بیٹا۔ ذیشان صاحب کی آواز میں بے پناہ دکھ اتر آیا۔ایٹنگ شوگر؟نو بیٹا۔ بیٹے کی غصیلی آواز میں پوچھ کر وہ اپنی روتی آواز میں منمنائے۔

ٹیلنگ لائز؟ نو بیٹا۔

اوپن یور ماؤتھ۔۔ ہا ہا ہا، غصے بھری آواز کرختگی میں بدل کر انہوں نے منہ کھولا جس میں کچھ بچا ہوا کسٹرڈ ظاہر ہورہا تھا۔باپ کے غصے اور دادا کے آنسوؤں کی اصل وجہ سے بے خبر کچن کے دروازے پہ آکر کھڑے ہوئے شعیب اور صہیب کو دادا کا اکیلے میں ہی کھیلا جانے والا یہ کھیل اپنے کھیل سے زیادہ دلچسپ لگا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو شرارت سے دیکھتے کمرے میں آ گئے ۔ پاپا پاپا۔۔۔ شعیب نے غصے سے پکارا۔۔۔۔یس بیٹا۔۔ شعیب کی غصے بھری پکار پہ صہیب نے اپنے لہجے کو بوڑھی اور روتی آواز میں بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے منمناتے جواب دیا۔۔۔۔ایٹنگ شوگر؟ صہیب کی منمناہٹ سن کر شعیب نے اپنی آواز میں مزید رعب پیدا کردیا۔ نو بیٹا۔۔۔۔ٹیلنگ لائز؟ نو بیٹا۔۔۔۔اوپن یور ماؤتھ، ہا ہا ہا۔۔ صہیب نے ڈرتے ڈرتے منہ کھول دیا۔ پھر وہ دونوں بھائی کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور ایک دفعہ پھر سے اپنے من پسند کھیل کو اس ہاتھ آئے نئے طریقے سے کھیلنے کی تیاری کرنے لگے۔ بیٹوں کے کمرے کی طرف آتے علی نے دروازے میں رک کر ایک عجیب سے احساس کے ساتھ بیٹوں کا یہ کھیل دیکھا جس میں بوڑھے لہجے میں روتے، منمناتے ساڑھے چار سالہ صہیب میں اسے اپنا آپ دکھائی دیا تو اپنا 6 سالہ بیٹا اسے جوان لگا جس کے سامنے وہ باپ ہونے کے باوجود خود کو بونا اور چھوٹا محسوس کررہا تھا۔باپ سے بدتمیزی کرنے والے علی کیلئے یہ صرف ایک کھیل نہیں تھا بلکہ مستقبل کی آگہی دیتا احساس تھا جس نے اسے باپ سے معافی مانگنے کے لیے ندامت سے سر جھکا کر باپ کے کمرے کی طرف قدم بڑھانے پہ مجبور کردیا تھا۔

مزید پڑھیں

بچے پھول جیسے ہوتے ہیں،ان کے معصوم چہرے سورج کی پہلی کرن سے مشابہت رکھتے ہیں۔ بچوں نے پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے لیکن ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 جنوری 2020ء میں ایک نئی قسم کی کروناوائرس Coronavirusچین کے علاقے ووہانWuhanمیں دریافت کی گئی ہے ، جس سے ووہان کے مقیم کچھ باشندوں میں نمونیا کی علامات پیدا ہوئیں ۔    

مزید پڑھیں

 دنگل کا کھیل بھی کراچی کی عمومی زندگی میں بڑی ہلچل مچائے رکھتا تھا۔ یہاں قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے۔    

مزید پڑھیں

  اسلام ہمارے اندر جو صفات پیداکرتااور ان میں مزید اضافہ کرتاہے‘ان میں والدین کی اطاعت بھی شامل ہے۔والدین کے ساتھ حسن سلوک‘ ان کے ساتھ پیار محبت‘ان کے کام آنا‘ان کی باتوں کو ہربات پرترجیح دینا‘ ان کی رضا حاصل کرنا‘ ان کی اطاعت کرناایسے کام ہیں کہ اللہ رب العزت بھی اس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی تزکیہ نفس ہے۔ والدین کے ساتھ احسان کرنا ہے۔اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہیں کہنا نہ ہی انہیں جھڑکنا ہے۔ان کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کرنا ہے۔والدین کے سامنے محبت سے جھک کران کے لیے دعائیں کرنی ہیں کہ اے میرے رب ان پر رحم کر ‘ جس طرح انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ رحم کیااور میری تربیت کی ہے۔    

مزید پڑھیں