☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
روایتی دنگل ۔۔۔

روایتی دنگل ۔۔۔

تحریر : محمد سعید جاوید

02-09-2020

 دنگل کا کھیل بھی کراچی کی عمومی زندگی میں بڑی ہلچل مچائے رکھتا تھا۔ یہاں قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے۔
 

 

پاکستان کے نامور بھولو برادران ، جو رہنے والے تو کراچی کے نہ تھے لیکن اس کھیل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کراچی میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے تھے ۔ دنگل قیام پاکستان کے فوراً بعدہی شروع ہو گیا تھا، خاص طور پر لاہور اور گوجرانوالہ تو اس کے گڑھ سمجھے جاتے تھے لیکن اس کوبین الاقوامی شہرت کراچی کے اکھاڑوں سے ہی ملی، جہاں دیسی کشتی کے برعکس فری اسٹائل کشتیوں کے مقابلے ہوتے تھے۔ اس کھیل کی اور بھولو برادران کی غیر معمولی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نے انہیں کراچی میں ایک عمارت اور اکھاڑا الاٹ کر دیا تھا جہاں وہ ہر وقت کسرت کرتے نظر آتے تھے ۔کچھ تو حقیقت تھی اور کچھ اخباروں اور پوسٹروں میں ان کی بہادری اور چابک دستی کے قصے اس طرح بیان کیے جاتے کہ وہ پاکستان کے ہیرو بن گئے تھے۔ جس راہ سے انہوں نے گزرنا ہوتا تھا وہاں سڑکوں پر لوگ ان کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے اور گھنٹوں انتظار کیا کرتے تھے ۔خواتین بھی پیچھے نہ تھیں، جو عمارتوں کی چھتوں سے یہ نظارہ دیکھا کرتی تھیں ۔

 اکھاڑے میں بھی وہ اپنی بے پناہ طاقت کا مظاہرہ کرتے اور ہاتھوں پر دو دو بچے لٹکا کر ادھر سے ادھر بھاگے پھرتے تھے ۔اسی طرح ان کی خوراک کے بارے میں بڑے عجیب و غریب قصے زبان زد عام تھے اور وہ اکثر اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا کرتے ۔ بالٹی بھر دودھ پی جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔ ان کا ایک بھائی اسلم تو بھنا ہوا سالم بکرا کھا کر دکھایا کرتا تھا جو گھر میں ایک پاؤ گوشت پکانے والے عوام کو حیرت زدہ کر دیتا تھا۔وہ ہر وقت باداموں ، پستے اور چاروں مغزیات کی سردائی پیا کرتے تھے اور پھر کوئی ایک گھنٹے بعد منہ میں انگلی ڈال کر قے کر دیتے اور سارا کھایا پیا باہر نکال دیتے تھے۔ جب کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہیں، تو بتایا جاتا کہ اس سردائی سے جو طاقت حاصل کرنا ہوتی ہے وہ ایک گھنٹے میں پوری ہو جاتی تھی، اس لیے فاضل چیزوں کو نکال باہر پھینکتے ہیں تاکہ نئی سردائی یا کسی اور مرغن غذا کے لیے معدے میں جگہ بن جائے۔ ان کے مشکیزوں کی طرح لٹکے ہوئے پیٹ اور بھاری بھر کم بازو اور رانیں دیکھ کر بڑا خوف آتاتھا ۔جن کو تن سازی یا کشتیوں کا شوق تھا، وہ بڑی حسرت سے ان کے مضبوط جسموں کو دیکھا کرتے تھے ، اور ان جیسا بننے کی دعا کیا کرتے تھے۔
اسی دوران ایک روز اچانک یہ اعلان ہو جاتا تھا کہ امریکہ یا برطانیہ کے سب سے بڑے فلاں پہلوان نے رستم زمان بھولو کو للکاراہے اور کشتی لڑنے کا پیغام بھیجا ہے۔یہاں بھی بھولو برادران ایک کھیل کرجاتے تھے اور للکارنے والوں کو کہتے کہ بڑے بھائی سے تو تم بعد میں نبٹنا پہلے تم ہم سے لڑو ، اگر کامیاب ہو گئے توپھر آخر میں ہمارابڑا بھائی یعنی رستم زماں بھولو پہلوان اکھاڑے میں اترے گا۔راتوں رات اس غیر ملکی پہلوان کے رنگین فوٹو والے پوسٹر چھپ جاتے، مقابلے کی تاریخ اور مقام کا اعلان ہو جاتا جو شہر کے اندر ہی کوئی بڑا سا میدان ہوتا تھا ۔ جہانگیر پارک اورنشتر پارک اس مقصد کے لیے بہترین مقام تصور کیے جاتے کیونکہ وہ شہر کے اندرہی تھے اور وہاں ذرائع آمدو رفت آسان ہونے کی وجہ سے تماشائیوں کا آنا جانا آسان تھا ۔
شام کو سارے بھولو برادران اور ان کے پٹھے پہلوان اکٹھے ہو کر بگھیوں کا جلوس لے کر نکلتے اورشہر خصوصاً صدر کی سڑکوں پر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے اور بکرے بلاتے نظر آتے تھے۔اس موقع پر وہ ایک خاص پہلوانی رقص بھی کرتے تھے۔ 
مغرب سے متاثر ہو کر کھیلی جانے والی ان فری اسٹائل کشتیوں کے لیے اکھاڑا بھی خاص ہی ہوتا تھا۔ یہ مٹی کی بجائے ایک قدرے بلند چوبی پلیٹ فارم پر تیار کیا جاتا جس پرسخت گدے بچھا کر چاروں طرف مضبوط رسے لگا دیئے جاتے تھے۔مہنگے ٹکٹوں والے تماشائیوں کو اکھاڑے کے نزدیک کرسیوں پر بٹھایا جاتا ، باقی لوگ دور کھڑے ہو کر یہ دنگل دیکھتے تھے ۔ یہ کھیل اتنا مقبول ہو گیا تھا کہ ایک دفعہ سابق صدر مملکت ایوب خان بھی اس کو دیکھنے کے لیے آئے تھے ۔ 
مقابلے سے ایک دن پہلے غیر ملکی پہلوانوں کا ٹولا بھی آن پہنچتا۔ ان کی خاص طور پر بڑے اہتمام سے رو نمائی ہوتی تھی، جس میں وہ چیختے چنگھاڑتے آتے اوربھولو برادران کو للکارتے اور انہیں سبق سکھانے کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے۔
مقابلہ رات آٹھ بجے شروع ہوتا تھا۔ تب تک اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر جاتا تھا ۔ پھر سوائے اکھاڑے کے وہاں کی ساری روشنیاں گل کردی جاتیں۔پہلے درجہ سوئم کے مقامی پہلوانوں کے آپس میں جوڑ پڑتے، اس کے بعد دوسرے درجے کے غیر ملکی پہلوان آپس میں لڑ پڑتے۔ آخر میں بڑا اور اصلی مقابلہ شروع ہوتا جو عموماً بھولو برادران میں سے کسی ایک یعنی اسلم ، اعظم ، اکرم یا گوگا کو لڑنا ہوتا تھا۔دونوں پہلوان دھم کرکے اکھاڑے میں آجاتے۔
 ماحول کو گرمانے کی خاطردنگل کے شروع ہی میں غیر ملکی پہلوان دو چار فلائنگ ککس لگا کر اور بازو مروڑ کربھولو برادر کی چیخیں نکلواتا اور پھر وہ ایسا ہی کرکے اس کا بدلہ لے لیتا تھا۔ یہ مقابلہ کافی دیر تک چلتا رہتا اور دونوں ایک دوسرے کو خوب ضربیں لگاتے، اٹھا اٹھا کر پٹختے، ہاتھ پیر مروڑتے اور منھ پر مکے جڑتے۔پھر اچانک کسی رائونڈ میں وہ گورا پہلوان اپنے دیسی پہلوان کی کسی فلائنگ کک یا دائو پیچ کا شکار ہوکر نیچے گرتا اوراس وقت تک گرا ہی رہتا جب تک کہ ریفری دس تک گنتی گن کر جیتنے والے پہلوان کا ہاتھ اٹھاکر اس کی جیت اور گورے پہلوان کی شکست کا اعلان نہ کر دیتا تھا۔
 پھر دونوں پہلوان اٹھ کر گلے ملتے ۔ رسمی طور پر گورے انگریزی میں اور اپنے پہلوان پنجابی میں ایک دوسرے کی طاقت کا اعتراف کرتے۔ تماشائی اپنے پہلوان کی جیت پر دل کھول کر خوشی کا اظہار کرتے اور اسٹیڈیم نعروں سے گونج اٹھتا تھا ۔ ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر جیت کا رقص کیا جاتا۔اگلے دن اخباروں میں اس غیر ملکی پہلوان کی پٹائی اور اپنے پہلوانوں کی جیت کے قصے بڑی سرخیوں میں تصویروں کے ساتھ چھپ جاتے ۔ 
اس ’’شرم ناک شکست ‘‘ کے بعد غیر ملکی پہلوان پس منظر میں چلے جاتے اورکراچی کے ہی کسی ہوٹل میں چھپ کر بیٹھے رہتے ۔ کچھ ہفتوں بعد ایک بار پھر بڑے مقابلے کا اعلان ہو جاتا اور انہی گھسے پٹے چیمپئن پہلوانوں کے ساتھ ایک بار پھر سے جوڑ پڑ جاتے۔
جیسا کہ غیر ملکی دنگل میں بہت الزامات لگتے ہیں کہ ہار جیت ملی بھگت سے ہوتی ہے لیکن کراچی میں ایسا کچھ نہ تھا۔ لیکن ٹی وی کی مقبوولیت کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کی اس کھیل میں دلچسپی کم ہوتی گئی اور اس بات کو محسوس کرکے بھولوبرادران پنجاب واپس لوٹ گئے جس سے کراچی کے اکھاڑے ویران اور لاہور اور گوجرانوالہ کے اکھاڑے آباد ہو گئے ۔
 
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 جنوری 2020ء میں ایک نئی قسم کی کروناوائرس Coronavirusچین کے علاقے ووہانWuhanمیں دریافت کی گئی ہے ، جس سے ووہان کے مقیم کچھ باشندوں میں نمونیا کی علامات پیدا ہوئیں ۔    

مزید پڑھیں

  اسلام ہمارے اندر جو صفات پیداکرتااور ان میں مزید اضافہ کرتاہے‘ان میں والدین کی اطاعت بھی شامل ہے۔والدین کے ساتھ حسن سلوک‘ ان کے ساتھ پیار محبت‘ان کے کام آنا‘ان کی باتوں کو ہربات پرترجیح دینا‘ ان کی رضا حاصل کرنا‘ ان کی اطاعت کرناایسے کام ہیں کہ اللہ رب العزت بھی اس سے خوش ہوتے ہیں اور یہی تزکیہ نفس ہے۔ والدین کے ساتھ احسان کرنا ہے۔اگر دونوں میں سے ایک یا دونوں ہی بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہیں کہنا نہ ہی انہیں جھڑکنا ہے۔ان کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کرنا ہے۔والدین کے سامنے محبت سے جھک کران کے لیے دعائیں کرنی ہیں کہ اے میرے رب ان پر رحم کر ‘ جس طرح انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ رحم کیااور میری تربیت کی ہے۔    

مزید پڑھیں

بچے پھول جیسے ہوتے ہیں،ان کے معصوم چہرے سورج کی پہلی کرن سے مشابہت رکھتے ہیں۔ بچوں نے پڑھ لکھ کر ملک کے مستقبل کا معمار بننا ہوتا ہے لیکن یہی معصوم پھول ڈالی سے ٹوٹ کر گلیوں کی دھول بن جاتے ہیں جس کی ایک صورت چائلڈ لیبر کی ہے۔چائلڈ لیبرسے مراد کم سن بچوں سے محنت مشقت اور ملازمت کروانا ہے۔

مزید پڑھیں