☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(طاہر محمود) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(محمدریحان ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
آپ زندگی میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

آپ زندگی میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟

تحریر : محمدریحان

03-01-2020

 یقین کامیابی کی بنیادہے اور شک ناکامی کی بنیادہے۔ دوسروں پریقین اور شک کاخاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ پر ایمان پختہ ہوایمان کامل ہو۔جب انسان کے دل میں ایمان گھر کرجاتاہے تووہ انسان کی سوچ اوراسکے ارادوں میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔
 

 

دوسری چیز جو کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہے وہ خوف ،سستی اورناامیدی ہے۔کامیابی کے لئے بے خوف اور نڈر ہوناضروری ہے۔ اپنے آپ کاخوف دوسرے بندوں کاخوف یہ ناکامی کی علامت ہے۔اللہ پر توکل اوراللہ کاخوف ہر قسم کے خوف سے نجات دلاتاہے ۔ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ا پنے حال اورمستقبل کو سنوارے۔سیدھی راہ بتلانے والی کتاب یعنی قرآن پر عمل کرے۔ 

 انسان کوروزانہ ہی کئی مرتبہ فلاح وکامیابی کی طرف بلایاجاتاہے اورانسان کے اندر سے بھی آوازآتی ہے کامیابی کی طرف آئو۔پھربھی انسان سمجھتا نہیں کامیابی کیاہے؟فلاح وکامیابی کامطلب ہے ہرمراد حاصل ہواور ہر تکلیف دور ہو۔مکمل فلاح کہ ایک مراد بھی ایسی نہ رہے جوپوری نہ ہو اور ہر ایک تکلیف ایسی نہ رہے جودور نہ ہویہ دنیامیں کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کیونکہ دنیادارالتکلیف والمحنت ہے۔ یہاں کسی چیز کو بقا نہیں، یہاں ہرچیزنے فناہوناہے،ہرعروج کوزوال ہے۔سکھ کے بعد دکھ اور دکھ کے بعد سکھ ہے۔ہرمشکل کے بعد آسانی اور ہر آسانی کے بعدمشکل ہے۔ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لیے اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔فلاح کامل آخرت میں ملے گی ۔ اس دنیا کے اندر کامیابی ہر حالت میں صراط مستقیم پر ڈٹے رہنے کانام ہے اور انجام اچھاہویہ کامیابی ہے۔بطور انسان اور مسلمان دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے کچھ اصول و اوصاف ہیں جن کو اپناناضروری ہے۔ہر شعبے کے اپنے اصول ہوتے ہیں جن کوجاننااوراس شعبہ کی قابلیت کاہونابہت ضروری ہے ۔ مثلاًاگرآپ حکمران ہیں توحکمرانی کے اصول اور اسکی اہلیت ہونی چاہئے۔
سب سے پہلے قدرت کے اصوـل:یہ یادرکھیں اللہ کی مرضی جوچاہے جب چاہے جوکردے وہ قادر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہرچیزکووجود عطا کیا اور ہرچیزکوخاص شکل وصورت عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیزکوخاص کام کے لئے پیدا کیا۔ پھراسکواس کام کے لئے وسائل دیے اس کام میں شوق ورغبت دی۔جسکوجس کام کیلئے پیداکیاپھر اسکواس کام کے متعلق ہدایت بھی کردی کہ اس کام کو کیسے سرانجام دیناہے۔راستہ بھی دکھا دیا اس کام کی سمجھ عقل وشعوراور علم عطاکیا۔اور مخالف چیزوں کودفع کرنے کی صلاحیت بھی دی ہے۔کائنات کے اندر ہرچیزاپنامقصد لیکر آئی ہے اوراپنی ڈیوٹی پر لگی ہوئی ہے ’’نہیں چیزن کمی کوئی زمانے میں،کوئی برانہیں قدرت کے کارخانے میں‘‘
انسان توپھر اشرف المخلوقات ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرہرکام کی صلاحیت رکھی ہے لیکن ہرکسی کے اندر خاص کام میں خاص شعبہ ، پروفیشن میں مہارت کی صلاحیت رکھی ہے وہ اس کام کی علامت بن جاتاہے۔بعض لوگوں کے اندر ایک سے زیادہ کام میں مہارت حاصل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یہ سب تب ہوگاجب انسان اپنے آپ کوپہنچانے گااپنی ’’خودی ‘‘کوپہنچانے گا۔میں کس مقصد کے لئے آیا ہوں قدرت مجھ سے کیاکام لیناچاہتی ہے ’’جس نے اپنے نفس کوپہچان لیااس نے اپنے رب کوپہچان لیا‘‘انسان اپنے اندر غور وفکر کرے اپنے اندر ڈوب جائے اپنے آپ کوپہنچانے کسی نے کیاخوب کہا
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
دنیا میں ہرکسی نے اپنی صلاحیتوں کاحصہ ڈالاہواہے ۔انسان کو سمجھایاگیاہے کہ ہرچیزعارضی ہے ہرجوانی کوبڑھاپاہے۔اللہ تعالیٰ جس کے اندر جوصلاحیت رکھتاہے جوذمہ داریاں دیتاہے اس کام میں اس کے لئے آسانیاں بھی پیدافرماتاہے اسکی مددفرماتاہے۔وہ کام اس کی طبیعت بن جاتاہے۔مشکلات وآسانیاں زندگی کاحصہ ہیں۔بندہ کواخلاص کیساتھ اپنے فرائض وذمہ داریاں اداکرتے رہنے چاہئے ،نتیجہ کی طرف نہیں دیکھناچاہئے۔نتیجہ اللہ پرچھوڑ دوایک دن اللہ تعالیٰ اچھانتیجہ پیدافرمادیتاہے۔انسان اپنے آپ کوبدلے اپنے اندر تبدیلی لائے جواپنے آپ کونہیں بدلتاپھرزمانہ اسے بدلتاہے پھراسکے اختیار میں ہوتا ہے۔ بندے کواپنے نفس کاتزکیہ کرناچاہئے۔دنیاپرآخرت کوترجیح دینی چاہئے۔یہاں پریہ وضاحت ضروری ہے کہ آخرت کوترجیح دینے کامطلب یہ نہیں صرف مسجدمیں بیٹھ کراللہ اللہ کرتارہے اورکوئی کام نہ کرے۔وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔حالات ایک جیسے نہیں رہتے کوئی چیزہروقت ترقی میں نہیں رہتی اور کوئی چیزہروقت تنزلی میں نہیں رہتی ۔ اس دنیامیں جوبھی آیااس نے عروج بھی دیکھااورزوال بھی دیکھاتوکوئی نشان عبرت بن گیاتوکوئی مشعل راہ بن گیا۔
انسان کے اندرجوصلاحیت ہے دوسروں کی بہتری کے لئے استعمال کرے نہ کہ خلق خداکانقصان کرتاپھرے ۔جس جگہ پر مسائل ہوں وہیں پر ان کاحل بھی موجود ہوتاہے چاہئے عارضی حل ہویامستقل ،بعض اوقات لاشعوری طور پرانسان اپنے لئے خود مسائل ومشکلات پیداکرتاہے بعض اوقات آزمائش بھی ہوتی ہے۔کسی نے کیاخوب کہاکہ مشکلوں سے عشق کرو۔جب کوئی مشکلوں سے عشق کرناسیکھ جاتاہے توپھر آسانیاں اسکے پیچھے پیچھے بھاگتی ہیں۔
انسان کوجس چیزسے جس کام سے عشق ہوتاہے شوق ومحبت ہوتی ہے۔اسکے لئے جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا۔عشق تن، من، دھن قربان کرنے کانام ہے۔ کامیابی کے لئے ضروری ہے آپکواپنے کام سے عشق ہو۔محبت ہی کی وجہ سے انسان کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جب انسان کوکسی کام سے عشق ہوتاہے لگن ہوتی ہے تواسے محنت،محنت محسوس نہیں ہوتی ۔یعنی وہ کام کرتے وقت محنت ومشقت اور تھکن محسوس نہیں ہوتی۔اور وہ کام انسان زمان ومکاں کی قیدسے آزاد ہوکر کرتاہے۔کسی چیزتک پہنچنے کے لئے محنت ضروری ہے۔کامیابی کے لئے صرف محنت کافی نہیں۔بلکہ ضروری ہے نیت، محنت، صلاحیت، راستہ، طریقہ، اصول واوصاف،قسمت یہ نہیں ہوسکتا کوئی ان باتوں پر عمل کرے اورکامیابی نہ ملے۔یعنی نیت کے اندراخلاص ہو،محنت ہواورصلاحیت ہوویسے توانسان ہرکام کرلیتاہے محنت کرکے ہر صلاحیت اپنے اندرپیداکرسکتاہے لیکن انسان اپنے اندر غورکرے کہ قدرت مجھ سے کیاکام کرواناچاہتی ہے۔محنت کاپھل ضرور ملتا ہے۔ انسان کونہیں پتا میری قسمت میں کیاہے بس انسان کوکام کرتے رہناچاہئے۔اے نوجوان!اٹھ کچھ نیاکرکے دیکھاٹرینڈپرنہ چل لکیر کا فقیر نہ بن اورمشقت سے نہ گبھراکیونکہ انسان مشقت میں پیداہوہے انسان کی فطرت میں مشقت ہے اسکومشقت سے گبھرانا نہیں چاہئے۔ انسان کومحنت کرنی چاہئے نتائج کی طرف نہیں دیکھناچاہئے ۔بڑے لوگ نتائج کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ مسلسل محنت کرتے ہیں ایک دن وہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔
دوسری بات انسان کواپنی محنت پر نازنہیں کرناچاہئے۔اگراللہ توفیق نہ دیتاتوکام کربھی نہ سکتا۔بغیر خداتعالیٰ کی امداد اوراعانت کسی کا بیڑا پار نہیں ہوتااللہ کافضل جس پرہوجائے۔انسان اپنی فطرت سے ایساپیداکیاگیاہے اول عمر سے آخرتک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا دنیا میں مکمل راحت جس میں کوئی تکلیف نہ ہوکسی کوحاصل نہیں اسلئے انسان کوچاہئے مشقت کے لئے تیاررہے۔زندگی میں مشکلات ہیں تو آسانیاں بھی ہیں۔اندھیری رات کے بعدروشن صبح طلوع ہوتی ہے۔ایک دروازہ بندہوتواللہ تعالیٰ سودروازے کھول دیتاہے۔صحیح راستے میں مشکلات زیادہ آتی ہیں’’اوردیکھوہم تمہیں آزمائیں گے ضرور،کبھی خوف سے اورکبھی بھوک سے کبھی مال وجان اورپھلوں میں کمی کرکے اورجولوگ(ایسے حالات میں)صبرسے کام لیں ان کوخوشخبری سنادو‘‘ (القرآن) مصیبت کیساتھ راحت اورتنگی کے ساتھ فراخی ہے۔ نشیب وفراززندگی کاحصہ ہے۔مصائب ومشکلات سہنے کے بعد انسان مضبوط ہوتاہے۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا وائرس کے بارے میں امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ چائنا سے پھوٹا ہے جبکہ چین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے امریکہ سے چین پہنچایا ۔کچھ لوگ اسکو بائیولوجیکل ہتھیار ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور کچھ اِسے عذابِ الہی قرار دے رہے ہیں۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس نے دنیا بھر میں ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ جہاں معیشت، ثقافت، سیاحت اور امن وسکون کوتباہ کر کے رکھ دیا،    

مزید پڑھیں

   " کوروناوائرس " نام تو آپ نے سنا ہی ہو گامگر اس وائرس کا آغاز کب ،کہاں اور اس سے کتنے ممالک متاثر ہوئے؟ اس کے متعلق بہت کم لوگ ہی علم رکھتے ہیں۔    

مزید پڑھیں