☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)
افغانستان کو پھر خانہ جنگی کا سامنا ؟

افغانستان کو پھر خانہ جنگی کا سامنا ؟

تحریر : خالد نجیب خان

03-22-2020

    ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ یہ بات یقینا ہم میں سے ہرکسی نے سنی ہوئی ہے ۔ مگر افغانستان میں ایک ہی دن میں تقریباً ایک ہی وقت میں دو مختلف مقامات پردو مختلف شخصیات کی حلف برداری کی تقریبات نے لوگوں کو حیران کر دیا ۔

 

اِس سے قبل لوگوں نے ایک ہی تنظیم خصوصاًٹریڈ یونین کے دو دو چار چار حتیٰ کہ دس دس صدور اور اُن کی کابینائیں دیکھی ہیں اور لوگوں نے یہ بھی ضرور دیکھا ہے کہ ملک کی سربراہی کیلئے منتخب ہونے والے دو افراد نے باہمی طور پر یہ طے کر لیا کہ اُدھر تم اِدھر ہم مگر کسی نے ایک ملک کے بیک وقت دو صدور نہیں دیکھے۔

   کابل کے صدارتی محل میں اشرف غنی نے خونریز دھماکوں کے دوران میں افغانستان کے صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا جبکہ ایک الگ تقریب میں عبداللہ عبداللہ نے بھی صدر کے عہدہ کا حلف اُٹھایا۔یہ سب کچھ اُس وقت ہوا ہے جبکہ افغانستان میں امریکہ طویل ترین جنگ کے بعد طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات انجام پا چکے ہیں۔ افغان صدرکی تقریب حلف برداری میں 10راکٹ فائر کیے گئے جِس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ۔ کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں نومنتخب صدر اشرف غنی نے حلف اُٹھاتے ہوئے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام پر حلف اُٹھاتا ہوں کہ’’ میں مذہب اسلام کی پاسداری اور حفاظت کروں گا اور آئین کی تکریم اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کروں گا‘‘۔اِس تقریب میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد، امریکی سکیورٹی اہلکار، انتظامیہ اور نیٹو اِتحاد کے متعدد ممالک کے سفارتکاروں کے علاوہ کئی غیر ملکی عمائدین اور سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔تاہم بعض سیاسی شخصیات اِس تقریب میں شرکت سے گریزاں رہیں جن میں سابق صدر حامد کرزئی، عبدالرب رسول سیاف اور یونس قانونی قابل ذکر ہیں۔
   اشرف غنی کے حلف اُٹھاتے ہی چند منٹ کے بعدسابق حکومت میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی صدارتی محل کے پاس قائم سپیدر پیلس میں حلف برداری کی تقریب منعقد کی۔ جس میں اُنہوں نے اپنے آپ کو نومنتخب صدر قرار دے کر حلف اُٹھایا۔واضح رہے کہ اِ س سے قبل عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان طویل مذاکرات  ہوتے رہے ۔عبداللہ عبداللہ نے ایگزیکٹو پرائم منسٹر کے عہدے، کابینہ میں 60 فیصد نمائندگی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اشرف غنی نے اُنہیں کابینہ میں 40 فیصد نمائندگی، سلامتی کونسل میں ایک پوسٹ اور اَمن کونسل کی صدارت کی پیشکش کی تھی۔ دونوں فریق کسی بھی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔حالانکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل صدارتی محل اور چیف ایگزیکٹو کے دفاترکے مسلسل چکر لگاتے رہے۔واضح رہے کہ افغانستان میں عام انتخابات گذشتہ برس ستمبر میں منعقد ہوئے تھے مگر نتائج کا اعلان حال ہی میں کیا گیا تھا۔عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دینے اور طاقت کی تقسیم کے نئے منصوبے کا مطالبہ کیا ہے ۔
    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تقریب حلف برداری کے دوران فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں تو اشرف غنی جذباتی ہو گئے اور کہا کہ میں نے کوئی بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنی ہوئی، عام کپڑے ہی پہن رکھے ہیں، یہ سینہ ِاس ملک اور یہاں کے لوگوں پر قربان ہونے کو تیار ہے۔اشرف غنی نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا میکانزم طے پاچکا ہے۔ مفاہمی عمل کے تحت 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں آئیگی ۔ افغان طالبان  کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ توڑنے سے متعلق امریکی میڈیا کی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے اوراَمن معاہدے پر عملدرآمد تسلی بخش طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔
   چند روز قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جب یہ مذاکرات اختتام پذیر ہوئے تواشرف غنی انتظامیہ نے کئی طرح کے اعتراضات اُٹھانے کے علاوہ یہ بھی کہا تھا کہ افغان حکومت اِن مذاکرات کی پابند ہر گز نہیں ہے اور اُن کا اشارہ خصوصاً طالبان قیدیوں کی رہائی کی طرف تھا ۔اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی اختیار نہیں ہے یہ خالصتاً ہمارا اختیار ہے اور ہم اس یقین دہانی کے بعدہی قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کریں گے کہ یہ لوگ دوبارہ جنگ پر آمادہ نہیں ہوں گے ۔ 
   افغانستان میں طالبان کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے اِس کے حوالے سے کچھ بھی کہنا مشکل ہر گز نہیں ہے مگر قبل از وقت ضرور ہے لیکن ایک مملکت میں دو حکمرانوں کی حکومت کیا رنگ لائے گی نہ قبل از وقت ہے اور نہ ہی مشکل ہے۔ سوویت روس نے جب افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں توخود تو ہاتھ جھاڑ کر آرام سے بیٹھ گیا اور افغانستان کو خانہ جنگی کے سپرد کردیا ۔اب امریکہ نے بمشکل اپنی جان بچا کر افغانستان سے نکلنے کا کچھ حیلہ کیا ہے تو ایک مرتبہ پھر اُسے خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا ہے ۔افغانستان کی خانہ جنگی پر کم از کم پاکستان تو آنکھیں بند کر بیٹھ نہیں سکتا کیونکہ اِس ممکنہ آگ میں اُس کا اپنابھی بہت کچھ خطرے میں ہے۔افغانستان کے دونوں صدور میں سے اشرف غنی کو بہرحال امریکی آشیر باد حاصل ہے اور انہوں نے طالبان قیدیوں کے حوالے سے نرمی کا اظہار بھی کیا ہے اور حلف برداری کی تقریب میں راکٹ فائر ہونے پر اپنا سینہ بھی کھول کر رکھ دیا ہے مگر کیا یہ سب کچھ ایک میان میں دو تلواریں رہنے کی گنجائش نکال سکتا ہے۔ میان میں تو ایک ہی تلوار کو رہنا ہے ۔ امریکی مفادات کا تحفظ کرنے والی یا پھر محض اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والی۔
   افغانستان ایک عرصے سے میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ ایک نسل جوان ہو کر بڑھاپے کی طرف گامزن ہے ۔ گزشتہ تقریباًبیس برس کے دوران میں امریکی افواج نے دنیا بھر کی دیگر بہترین افواج کی مدد سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اُسے ہر مرحلے پر بہت زیادہ مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بہت زیادہ محتاطاندازے کے مطابق 2001ء سے2020ء کے دوران کم از کم ایک لاکھ نفوس اِس جنگ کی نظر ہو گئے۔امریکہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018ء تک 2440امریکی فوجی مارے گئے اور20320فوجی زخمی ہوئے۔حقیقت یہ ہے کہ اصل اعدادو شمار اِس سے کہیں زیادہ ہیں۔اِن حالات میں جبکہ جنگ کے عادی افغانیوں کو اِس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ جنگ امریکہ اور اِسکے اتحادیوں کے خلاف ہے یا اپنے دشمنوں کے خلاف اور نہ ہی امریکہ اور اُسکے اتحادیوں کو فرق پڑتا ہے کہ اُن کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد وہاں اَمن ہو گا یا نہیں۔یہ سب کچھ تو اُن کی حسب خواہش ہی ہو رہاہے۔اِس متوقع خانہ جنگی سے اگر فرق پڑے گا تو وہ اِس پورے خطے کو پڑے گا اور سب سے زیادہ پاکستان کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
   افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کا انخلا ہو یا پھر امریکی افواج کا، پاکستان کا اِس میں بڑا اہم کردار رہا ہے۔امریکہ نے پاکستان سے بالا بالا یہ کام کرنے کی اپنی تئیں بڑی کوششیں کیں  مگراُن میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا اور آخر کار پاکستان کی مدد سے ہی 29فروری 2020ء کودوحا میں قیام امن کا معاہدہ امارات اسلامیہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان طے پایا ۔افغانستان میں بھارت کی خفیہ کاروائیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہیں مگر خدا نخواستہ افغانستان میں اگر خانہ جنگی کی صورتحال بن گئی تووہ 1971ء والا کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  بھگت کبیر ہندوستان کے مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ مسلمان اور ہندو دونوں ان کو روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا تعلق پندرہویں صدی میں بتایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک رائے کے مطابق ان کی پیدائش 1398 عیسوی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ 1440 ء میں پیدا ہوئے ۔جائے پیدائش بنارس کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مختلف معلومات روایات کی شکل میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

  کوہ قاف کا نام سامنے آئے تو کئی گمشدہ کہانیاں ذہن میں جاگ اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو بادشاہوں کی حسین شہزادیوں سے شروع ہو کر جنوں اور پریوں کے زیرقبضہ ہیبت ناک قلعوں میں ہونے والے طلسماتی واقعات پر منتہج ہوتیں۔ ایسی کہانیوں کا لبِ لباب عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ فلاں ملک کے طاقتور بادشاہ کی حسیں اور نرم و نازک شہزادی کو فلاں جن یا دیو نے اغوا کیا اور کوہ قاف کی کسی خاموش وادی کے تاریک محل میں لے جا کر قید کر دیا۔ ایسی کہانیاں پاکستان، بھارت، ایران اور عرب علاقوں کے افسانوی اور بچوں کے ادب میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ یہ کہانیاں تحریری شکل میں تو موجود ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ غیر تحریری شکل میں سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں بھی منتقل ہوتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے ہر شہری کا ہر روز سبزیاں،پھلوں اور اناج وغیرہ کی شکل میں زرعی اشیاء سے واسطہ پڑتا ہے،کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت اس وقت ٹڈی دل کے حملوں سے مزید خطرے سے دوچار ہے،جس کی وجہ سے آنیوالے دنوں میں پورا ملک غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے،

مزید پڑھیں