☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
حیاتیاتی دہشتگردی

حیاتیاتی دہشتگردی

تحریر : حامد اشرف

04-19-2020

 اقوام عالم کی موجودہ افراتفری کا سبب کورونا وائرس کے ذریعے اموت کا واقع ہونا ہے۔ بذاتِ خود یہ وائرس مہلک نہیں مگر متعدی ضرور ہے۔
 

 

کیمیکل میڈیسن میں اس کا علاج موجود نہیں ۔ کورونا وائرس اک ایسا خوردبینی جسم ہے جو بدنِ انسانی میں انفیکشن پیدا کرسکتا ہے۔ یہ کوئی نیا وائرس نہیں۔ یہ عام فلو کی طرح ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ کورونا اک حیاتیاتی ہتھیار ہے، جو وبائی فلو کی شکل میں متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ عالمی حیاتیاتی دہشتگردی کا ایجنڈا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسی دہشتگردی پھیلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔یاد رہے ماضی میں کئی ممالک اپنے مخالفین کے خلاف ایسے حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرچکے ہیں۔

 سیاسی تجزیہ :عالمی قوتوں نے اس خوف کے ذریعے اقوامِ عالم پر حسبِ منشاء اپنا معاشی تسلط قائم کرنے کی غرض سے یہ کھیل کھیلا ہے اور یہ کھیل معاشی اہداف کے حصول تک جاری ہے گا۔ اس کھیل کا منظر نامہ کس نے تیار کیا وقت آنے پر سب عیاں ہو جائے گا۔ اس کھیل کا ایک منظر خوف و ہراس کو عروج پر لے جانے کے لیے اٹلی میں وائرس زدہ لاشوں کو بنا تدفینی رسومات جلا کر فلمایا گیا۔ یہ کونسی سائنس ہے جس کے مطابق مردہ جسم میں کوئی بھی وائرس آٹھ گھنٹوں سے زائد زندہ رہ سکتا ہے ؟ کیا ان میتوں کی تدفین کیلئے8گھنٹے کا انتظار ممکن نہ تھا ؟ ان لاشوں کو چھوا تک نہیں گیا بلکہ پسماندگان کو ان سے کوسوں دور رکھا گیا۔ ذرا سوچئے خوف اور دہشت کی یہ کیفیت کیا دل ہلا دینے والی نہیں ؟ اور کیا یہ عالمی حیاتیاتی دہشتگردی نہیں؟ کیا ان حقائق میں چھپے مکروہ مقاصد عیاں نہیں ؟ اس مصنوعی وباء کے بعد کی دنیا میں عالمی حکومتیں انسان دشمن قوانین بنائیں گی اور عوام آئندہ وبائی تحفظ کے عوض انہیں بخوشی قبول کریں گے۔
 عزیزانِ گرامی ! بحمداللہ ہم مسلمان ہیں۔ اسی کے ہاتھ میں خیر ہے یہ ہمارا ایمان ہے۔ مصائب میں پر امید رہنا ہماری پہچان ہے۔ موت سے بے خوف ہو کر جینا ہماری شان ہے۔ تو پھر آیئے!  اس وائرس کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ بنائیے۔
موجودہ حالات کا تجزیہ : آج انسان عالمی احوال سے یہ پیغام موصول کر رہا ہے۔مائکرونز سائز کا یہ وائرس جس نے کرہ ارض کی بڑی بڑی تہذیبوں کو بے بس کر دیا۔ آج تیس ممالک اس وائرس کے ہاتھوں مفلوج ہو کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اصل طاقت، طاقت والے کے پاس ہے اصل قدرت، قدرت والے کے پاس ہے۔ جو اک وائرس سے لے کر آسمانوں تک کا بلا شرکتِ غیر خالق و مالک ہے اور ہر قسم کے تصرف کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ جس نے ماضی میں اپنی طاقت و قدرت کا اظہار مچھر اور ابابیل سے کیا۔ آج وہ رب العالمین اپنی طاقت کا اظہار اک ننھے سے بے جان وائرس کے ذریعے کررہا ہے۔
روحانی و طبی تجزیہ : جس شخص کا ایمان اور مدافعتی نظام طاقتور ہو اس پر کسی وائرس کا حملہ کامیاب نہیں ہوتا۔ لہذا ہمیں ایمان اور مدافعتی نظام دونوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے کی سب سے اہم بات جان لیجیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی امر میں تاثیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وائرس سے اموات کیوں کر ہو رہی ہیں؟ تو عرض یہ ہے کہ اموات کا طبی سبب خوف زدہ ہونا اور قوتِ مدافعت میں کمی کا واقع ہونا ہے۔خوف مایوسی پیدا کر کے انسان کی کیمسٹری بدل دیتا ہے اور کیمیکل میڈیسن قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کا مشاہدہ کورونا سے واقع ہونے والی شرحِ اموات سے کیا جا سکتا ہے۔
اٹلی میں اموات کی شرح 95 فیصد جبکہ چین میں40 فیصد ہے۔چین میں موت کی شرح میں کمی کا سبب چائنیز ٹریڈیشنل میڈیسن کا استعمال ہے جو جڑی بوٹی سے بنتی ہیں۔ جڑی بوٹیاں انسان دوست ہوتی ہیں جو قوتِ مدافعت کو برباد نہیں کرتیں۔ نیز چین میں خوف و ہراس کا وہ عالم نہیں تھا جو اٹلی میں ہے۔ لہٰذا خوف کا طاری ہونا اور قوتِ مدافعت کا کم ہونا مریض کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ 
مدافعتی نظام کو بہتر حالت میں لانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے روحانی اور جسمانی ہائیجین بہتر کرنا ہوگی۔ روحانی صفائی کے لیے ہمیں اپنے اندر کی گندگی کو صاف کرنا ہوگا جو گناہوں کے تعفن سے پیدا ہوتی ہے۔ ہر اچھائی خوشبو کی طرف اور ہر برائی بدبو کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ 
لازمی کرنے کے کام :
اللہ تعالیٰ سے مغفرت و عافیت طلب کریں۔صدقہ و خیرات کریں خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ۔منفی سوچ اور موت کے خوف سے بے نیاز ہو جائیں۔صبح صادق سے قبل چھ گھنٹے کی نیند پوری کریں۔ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم اور ڈبہ بند اشیاء سے اجتناب کریں۔پیٹ بھر کر کھانے سے پرہیز کریں۔تازہ اور سادہ غذائوں کا استعمال کریں۔ہر نماز کے لیے مسنون طریقے سے تازہ وضو کریں۔مسواک کا بکثرت استعمال کریں۔روزانہ غسل کریں۔
اختیاری کرنے کے کام :
معمول کی غذا میں پیاز، لیموں اور لہسن کا استعمال زیادہ کریں۔علی الصبح ایک چمچ شہد ہمراہ آبِ تازہ کا استعمال کریں۔ 
علاماتِ مرض ظاہر ہونے پر ابتدائی علاج :
 کلونجی ۳ تا ۵ دانے حسبِ عمر چبا کر ہمراہ ایک چمچ شہد تین بار یومیہ لیں۔
 کلونجی ۵ دانے کٹے ہوئے شہد نصف چمچ نصف کپ ابلتے پانی میں ڈال کر بھاپ ۲ تا ۳ منٹ ۲ بار یومیہ لیں۔ 
بادی، ثقیل غذا اور ٹھنڈے پانی کا استعمال ہرگز نہ کریں۔
 
 
 

مزید پڑھیں

 ٹڈی دَل (مکڑی ) ایک عالمی نوعیت کا فصلوں کو نقصان پہنچانے والا کیڑاہے۔ جس طرح کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسی طرح ٹڈی دَل بھی پوری دنیا کی فصلات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔    

مزید پڑھیں

ابنِ آدم ایک سماجی مخلوق ہے۔ مال و دولت کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ صحت مند معاشرہ تب ہی پروان چڑھتا ہے جب ایثار، خلوص، ہمدردی، غم گساری کا جذبہ موجزن ہو۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ گراں فروشی کی نیت سے اشیاء کا ذخیرہ کرنا ہے۔    

مزید پڑھیں

غریب عوام اورلاک ڈاؤن دونوں ایک ساتھ کیسے چلیں گے اسطرح کے طویل لاک ڈاؤن ترقی پذیر ممالک میں عوام کو پریشان کردیتے ہیں۔ وطن عزیز میں تو پہلے ہی غربت بیروزگا ر ی کے طوفان برپاء تھے اور لوگ بڑ ی مشکل سے اپنا گزارا کررہے تھے کہ اچانک کوروناوائرس کی وباء نے ملک کو گھیر لیا    

مزید پڑھیں

 انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ہمارا جسم اس غذا سے تعمیر ہوتا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں‘‘دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں