☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
امراض سے بچائو ممکن ہے، مگر کیسے۔۔۔؟

امراض سے بچائو ممکن ہے، مگر کیسے۔۔۔؟

تحریر : حکیم نیازاحمد ڈیال

04-19-2020

 انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ہمارا جسم اس غذا سے تعمیر ہوتا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں‘‘دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔
 

 

ہم جس قدر اعلیٰ،معیاری ،متوازن اور غذائیت سے بھر پورقدرتی غذائوں کا انتخاب کریں گے اسی قدر ہمارا جسم زیادہ طاقت ور ،توا نا،صحت مند اور مضبوط ہو گا۔جسم کی مضبوطی وتوانائی اور صحت مندی کا تمام تر انحصار قوتِ مْدافعت پر ہوتا ہے۔ قوتِ مْدافعت کی مضبوطی اور توانائی کا دارومدار عمدہ،معیاری اور متوازن غذا پر ہوتا ہے۔غذائیت سے بھرپور خوراک کا ذریعہ چند ایسے بنیادی غذائی اجزاء ہیں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اورنشو ونما کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ان اجزاء میں وٹامنز،اے،بی،سی،ڈی،ای اور پر وٹینز، نشاستہ، چکنائیاں،زنک،فولاد،کیلشیم،میگنیشیم،فاسفورس،پوٹاشیم،آیو ڈین،کلورین،گندھک ،آکسیجن اور سوڈیم وغیر ہ شامل ہیں۔ ان غذا ئی اجزاء کی موجودگی ہمارے بدن میں بیماریوں کے خلاف جنگ کرنے والی صلاحیت یعنی قوتِ مدافعت کو پروان چڑھاتی ہے۔ قوتِ مدافعت کی مضبوطی بدن کو صحت اور توانائی مہیا کرتی ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مکمل غذا ہی ہمیں مکمل صحت فراہم کرسکتی ہے۔مذکورہ بالا غذائی اجزاء جسم میں سر انجام پانے والے مختلف اعمال و افعال کی کار کردگی کو ریگو لیٹ کرنے کے لیے لازمی اور ضروری ہوتے ہیں۔یہ اجزاء ہم اپنی کھائے جانے والی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔کھاتے وقت یہ با لکل اہم نہیں ہوتا کہ آپ نے کتنا کھایا بلکہ اہم یہ ہوتا ہے کہ کیا کھایا۔ 

ہمارے جسم میں معدے کو باورچی کا درجہ حاصل ہے۔جس طرح گھر بھر کے افراد کو انواع اقسام کے کھانے باورچی مہیا کرتا ہے با لکل اسی طرح پورے بدنِ انسانی کی تمام تر غذائی ضروریات کا اہتمام اور خیال بھی معدہ رکھتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کھاتے یا پیتے ہیں اسے معدہ ہی دیگر جسمانی اعضاء تک پہنچاتا ہے۔اسی لیے مسیحائے انسانیت حضرت محمد  ﷺ نے فرمایا ’’معدہ بیماری کا گھر ہے اور پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے اور ہر جسم کو وہی کچھ دو جس کا وہ عادی ہے‘‘۔انسانی جسم کی تعمیر ان غذائی اجزا سے ہوتی ہے جو ہم روز مرہ کھاتے ہیں۔کھائی جانے والی غذا پیغامِ شفا بھی ہوتی ہے اور باعثِ امراض بھی۔یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین غذا کے متواز ن ، متناسب اور قدرتی ہو نے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر معدہ درست ہوگا تو تمام جسم بھی درست رہے گا۔ سمجھدار معالجین بھی معدے کی درست کارکردگی پر زور دیتے ہیں۔مذکورہ اجزا کی کمی یا زیادتی ہی بیماریوں کا سبب بن کر بدنِ انسانی کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔ مرض در اصل کسی ایک عضو کی کیفیت میں تبدیلی کا نام نہیں ہو تا بلکہ یہ کئی اعضاء کی کار کردگی میں نقص واقع ہو نے کی نشان دہی ہو تی ہے۔علاوہ ازیں بیماری کا باعث بننے والے عناصر،جراثیم اور بیکٹیریاز بھی انسانی جسم کا ضروری حصہ بنا دئیے گئے ہیں۔موجودہ دور کے سب سے خطرناک امراض ذیابیطس،بلڈ پریشر،یوریا ،کولیسٹرول، امراضِ قلب،امراضِ گردہ، گھنٹیا،نقرس اور ہیپاٹائیٹس وغیرہ کہیں باہر سے حملہ آور نہیں ہو تے ہیں بلکہ ان تمام امراض کی وجہ بننے والے عناصر،جراثیم یا وائرس کی ایک مخصوص مقدار کا جسم میں پایا جانا صحت کے لیے لازمی ہو تا ہے۔مثال کے طور پر ایک صحت مند انسانی جسم میں شوگر کی نارمل مقدار 80ملی گرام سے 120 ملی گرام تک کاپایا جا نا ماہرین کے نزدیک صحت مندی کی علامت ہے۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مذکورہ مقدار جب ضرورت سے زیادہ بڑھتی ہے یا اس کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے تو خطرناک مرض کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اسی طرح طبی ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور قلبی امراض کا سبب بننے والے ماد ے کو لیسٹرول کی مناسب مقدار 170ملی گرام سے 200ملی گرام تک انسانی جسم کی لازمی ضرورت خیال کی جاتی ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے کہ مذکورہ مقدار وں میں کمی یا زیادتی پیدا ہو نے کی ہر دو صورتوں میں مرض تصور کیا جاتا ہے۔جیسا کہ ماہرین جانتے ہیں کہ یورک ایسڈ کی مناسب مقدار میں زیادتی تو بآسانی کنٹرول کی جا سکتی ہے مگر یورک ایسڈ کی کمی کی صورت میں جو جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں انہیں دور کرنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ یوں ثابت ہوا کہ انسانی بدن بیمار اس وقت ہوتا ہے جب اس کا اندرونی دفاعی نظام(قوت مدافعت) کمزور ی کا شکار ہوجاتا ہے۔بیرونی بیکٹیریاز اور وائرسز جب حملہ آور ہوتے ہیں تو بدن کا دفاع کمزور ہونے کے سبب وہ مضبوط ہوکر بیماری کا باعث بن جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی جسم سے جڑے تمام عوارض کی افزائش یا روک تھام معدہ ہی کرتا ہے۔
بطور معالج عرصہ دراز سے مشاہدہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب سے پروسیسڈ فوڈز، جنک فوڈز،کولا مشروبات،بیکری مصنوعات، سگریٹ اور چائے نوشی اور فروزن فوڈز کے استعمال کا رجحان بڑھا ہے تب سے بدن انسانی طرح طرح کے امراض کی آماجگاہ بننے لگا ہے۔بڑے شہروں کو چھوڑ چھوٹے شہروں، قصبوں،دیہاتوں کے گلی کوچوں میں شوارمے، سموسے، پیزے، برگر نہ معلوم کس کس طرح کے چسکے اور چٹھخارے عام ہوگئے ہیں کہ ایک قدرتی غذا پسند کرنے والا دیکھ دیکھ کر ہی پریشان ہوجاتا ہے۔کیا بچے،کیا بوڑھے، کیا جوان اور کیا خواتین سبھی زبان کے چسکے کا رسیا بن کر مختلف امراض کو خود پر مسلط کرنے میں مصروف ہیں۔ دوران مطب اکثر مریض دوا کڑوی ہونے کا شکوہ کرتے ہیں تو ان سے دست بدستہ گزارش کی جاتی ہے کہ ’’لذت‘‘ اور مزے کا ہی تو ستیا ناس ہوا ہے جس نے ’’صحت‘‘ برباد کی ہے۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ غذا لذت اور ذائقے کے لیے کھائی جاتی ہے جبکہ دوا صحت اور شفاء کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔رواں دور کا سب سے خطرناک وائرس کورونا بھی تو انسانوں کی اپنی ہی کمیوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں ہی رو نما ہوا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے حقائق چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ یہ صرف کمزور قوت مدافعت کے حاملین پر اثرانداز ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کا شکار زیادہ تر بچے اور بوڑھے ہورہے ہیں۔ اگرچہ جوان اور ادھیڑ عمر افراد پر کورونا وائرس حملہ آور تو ہوتا ہے لیکن وہ اپنی قوت مدافعت کی مضبوطی کے بل بوتے پر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں اب تک سر اٹھانے والے امراض اور حملہ آور ہونے والے وائرسز یا بیکٹیریاز کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ہمارے سامنے ہماری غیر صحت مندانہ عادات ،غیر معیاری مصنوعی خوراک اور غیر فطری روز مرہ معمولات ہی ان کے سب سے بڑے سہولت کار اور اسباب ثابت ہوتے ہیں۔خوئے خوب سے خوب تر کی تلاش میں مگن ہمارے طبی و سائنسی ماہرین نئی دریافتوں اور ایجادات کے زعم میں انسان کے اصل مرکز اور محور کو فراموش کربیٹھے ہیں۔عربی کا ایک ماقولہ ہے کہ’’کل شئی ئِِ راجعْ الی الاصل‘‘ہر چیز اپنی بنیاد(محور و مرکز)کی طرف لوٹتی ہے۔حضرت انسان اگر آج بھی بدنی مسائل سے بچنا چاہتا ہے تو اسے اپنی بدنی ضروریات، فطری رجحانات اور طبعی میلانات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی اپنی خوراک،روز مرہ معمولات اور طرز بود وباش کے طورطریقے اپنانا ہونگے۔قدرتی غذائوں کا استعمال،فطری طور اطوار اور قدرتی طرز علاج اپنا کر ہی بیماریوں کو شکست فاش دی جا سکتی ہے۔ مادی لحاظ سے بھلے ہم چاند، مریخ کو اپنامسکن بنانے سمیت سورج کی حدت و حرارت کو بھی اپنے قابو میں کرلیں لیکن فطرت جسے قدرت بھی کہا جاتا ہے کے اصولوں کی پاسداری کرکے ہی کائنات کی رنگینیوں سے صحیح معنوں میں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔کیونکہ کائنات کا اصل ڈرائیور’’ قدرت ‘‘ہی ہے اور وہ اپنی طاقت اپنا وجود منوانا بڑی اچھی طرح جانتی ہے۔
   
 
 
 

مزید پڑھیں

 ٹڈی دَل (مکڑی ) ایک عالمی نوعیت کا فصلوں کو نقصان پہنچانے والا کیڑاہے۔ جس طرح کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسی طرح ٹڈی دَل بھی پوری دنیا کی فصلات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔    

مزید پڑھیں

ابنِ آدم ایک سماجی مخلوق ہے۔ مال و دولت کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ صحت مند معاشرہ تب ہی پروان چڑھتا ہے جب ایثار، خلوص، ہمدردی، غم گساری کا جذبہ موجزن ہو۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ گراں فروشی کی نیت سے اشیاء کا ذخیرہ کرنا ہے۔    

مزید پڑھیں

غریب عوام اورلاک ڈاؤن دونوں ایک ساتھ کیسے چلیں گے اسطرح کے طویل لاک ڈاؤن ترقی پذیر ممالک میں عوام کو پریشان کردیتے ہیں۔ وطن عزیز میں تو پہلے ہی غربت بیروزگا ر ی کے طوفان برپاء تھے اور لوگ بڑ ی مشکل سے اپنا گزارا کررہے تھے کہ اچانک کوروناوائرس کی وباء نے ملک کو گھیر لیا    

مزید پڑھیں

 اقوام عالم کی موجودہ افراتفری کا سبب کورونا وائرس کے ذریعے اموت کا واقع ہونا ہے۔ بذاتِ خود یہ وائرس مہلک نہیں مگر متعدی ضرور ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں