☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
غربت کا ’’لاک ڈائون ‘‘

غربت کا ’’لاک ڈائون ‘‘

تحریر : شہروزنوازسرگانہ/خانیوال

04-19-2020

غریب عوام اورلاک ڈاؤن دونوں ایک ساتھ کیسے چلیں گے اسطرح کے طویل لاک ڈاؤن ترقی پذیر ممالک میں عوام کو پریشان کردیتے ہیں۔ وطن عزیز میں تو پہلے ہی غربت بیروزگا ر ی کے طوفان برپاء تھے اور لوگ بڑ ی مشکل سے اپنا گزارا کررہے تھے کہ اچانک کوروناوائرس کی وباء نے ملک کو گھیر لیا
 

 

جس سے ہر طبقے کے افراد بری طرح متاثر ہوئے مگر ہمارے ملک کی صورتحال تودیگر ممالک کے مقابلہ میں مختلف تھی اور اس کی لپیٹ میں سب سے زیادہ مزدور دیہاڑی دار طبقہ آیاجواس وقت انتہائی سنگین قسم کے حالات سے دوچار ہوچکاہے بعض گھرانوں کے کفیل تو ہر روز دیہاڑی لگنے کی صورت میں اپنے چولہے جلاتے تھے جس دن کسی وجہ سے دیہاڑی مس ہوجاتی توان کاپورا نظام درہم برہم ہوجاتا لیکن اب توکئی ہفتے بیت گئے ملک بھرمیں لاک ڈاؤن ہے کسی نے اْن گھرانوں کے بارے میں بھی سوچایاصرف حکومتی سطح پہ ابھی تک وہی امدادکاکھیل تماشہ جاری ہے۔ لوگوں سے جب اپنے بچوں کی بھوک برداشت نہیں ہوتی تو وہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں اور اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر آ جا تے ہیں جو کہ اچھے معاشروں میں اس طرح کے رویوں کوکبھی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتااور نہ ہی یہ کوئی اتنا پسندیدہ عمل سمجھاجاتاہے مگر جب لوگوں کی برداشت جواب دے جاتی ہے تو مجبوراًقانون کی خلاف ورزی کا سوچتے ہیں اس لاک ڈاؤن نے مجبورغریب طبقہ کے ذہنوں سے کوروناوائرس کاخوف تقریباًختم کردیا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ان کے گھروں میں فاقوں کوبھی آپ کہہ سکتے ہیں جن سے اب لوگ عاجزآچکے ہیں اور جہاں کوئی صاحب حیثیت یاکوئی مخیر کسی قسم کی خوراک تقسیم کرنے کا مجمع لگاتا ہے تولوگ جو ق در جوق اس مجمع کی طر ف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں جہاں ایک میلے کاسماء باند ھا ہوتا ہے یہاں تواب یہ حالت ہوچلی ہے کہ ہزاروں لوگ کئی دنوں سے گھروں میں قید بیٹھے ہیں ان کے پاس نہ کچھ کھانے کو ہے نہ پینے کو لیکن کون اتنے راشن کابندوبست کرسکتا ہے اتنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے راشن کاسامان ٹرکوں پہ بھی آئے توکم پڑجائے یہ چند تھیلے آٹااور کچھ کلوگھی ان کی بھوک مٹانے کے لیے ناکافی ثابت ہوتاہے اور سفید پوش طبقہ مایوس ہوکر واپس گھروں کو لوٹ آ تا ہے مگر اتنے دن گزرجانے کے باوجود بھی حکومتی امداد صرف اعلانوں تک ہی محدود ہے ایک دوجگہ توایسا بھی ہوا ہے کہ مخیر حضرات نے رش بڑھ جانے کی وجہ سے غریبوں پرتشدد بھی کیاہے جونہ صرف قابل ا فسوس ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے اگر حکومت وقت کی طرف سے غریب لوگوں کوبروقت امداد دے دی جاتی تو شا ید نوبت یہاں تک نہ آتی بہرحال ابھی بھی یہ مصیبت سروں سے ٹلی نہیں اور لاک ڈاؤن کی تاریخ میں مزیداضافہ کردیاگیا ہے ان لوگوں کوکم ازکم راشن تومہیاکیاجائے جن کے بچے کئی کئی روزسے بھوکے ہیں کئی مقامات پرتومخیر حضرات بھی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں کرتے نظرآئے ہیں دس کلو آٹایا ایک پیکٹ گھی دیتے وقت پانچ پانچ لوگ فوٹوسیشن میں کھڑے ہوتے ہیں اور پھر چند ہی لمحوں بعدوہی فوٹو سوشل میڈیاپر ڈال دی جاتی ہے جس میں خواتین کی تضحیک سے اجتناب تک نہیں کیاجاتااور شریف گھرانوں کی خواتین ایک کلو گھی یا دس کلوآٹے کے تھیلے کیساتھ نام نہادمخیر حضرات کے ساتھ فوٹوبنوانے پرمجبور ہوتی ہیں بحیثیت قوم ہمار ے لیے شرم سے زیادہ عبرت کامقام ہے یہ ہیں ہم مسلمان صدافسوس کہ ہمیں اس مصیبت کی گھڑی میں بھی اپنے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہو ئی، چاہیے تویہ تھا کہ وہ جولوگ سیاستدانوں کے جلسوں پرلاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں صرف ان کے آگے اپنے نمبر بنانے کی غرض سے وہ اپنے گلی محلوں میں اس سے آدھی رقم غریبوں کی امداد کردیتے توشاید حالات کنٹرو ل میں رہتے غریبوں کی مشکلا ت میں کمی واقع ہوتی اس وقت ملک کا ایک اورطبقہ بھی بہت بڑے کرب اور سنگین صورتحال سے گزررہا ہے وہ ہے متوسط طبقہ جس کا شمارنہ امیرو ں میں ہوتا ہے اور نہ ہی غریبوں میں یہ ایسے لوگ ہیں نہ توراشن کی خاطر کسی لائن میں لگ سکتے ہیں نہ ہی کسی انصاف امداد پروگرام کاحصہ بننے کے لیے سوچ سکتے ہیں اورنہ ہی وزیراعظم صاحب کے کسی امدادی پیکج میں انٹر ہونے کاسوچیں گے اصل لاک ڈاؤن کا نقصا ن توان لوگوں کوبرداشت کرناپڑرہاہے اور سب سے زیادہ مشکلات دن بدن ان کے لیے پیداہورہی ہیں جن کے کوئی چھوٹے موٹے کاروبار تھے وہ بند ہوچکے ہیں اور پورادن لوگ گھروں میں بیٹھے فکر مندو پریشا ن نظرآتے ہیں کہ اگر چند ہفتے مزید صورتحال اسی طرح برقرار رہتی ہے توپھران کوبھی شاید امداد کی ضرورت محسوس ہواوران کی سفید پوشی کابھرم قائم نہ رہ سکے اس طبقے کے بارے میں بھی وزیراعظم صاحب کو ابھی سے کچھ سوچناہوگا مگر حکومتی سطح پرابھی تک کوئی خاص اقدامات دیکھنے کو نظرنہیں آرہے اگر اس پر بھی حکومت نے خاموشی اختیار کیے رکھی جس طرح کروناوائرس کے خلاف اقدامات اٹھانے میں دیر کی تھی توقوم وملک کوایک بہت بڑے بحران کاسامناکرناپڑے گاجب کہ ان حالات میں ہماری ملکی معیشت کو بھی شدید دھچکالگاہے جوکہ پہلے ہی بحرانوں میں گھری ہوئی ہے اور مصنو عی سانس کے ذریعے چل رہی تھی اب حکومت کم از کم چھوٹے کاروباری طبقہ کے لیے ابھی سے کوئی موثرحکمت عملی ترتیب دینا شروع کردے تاکہ لاک ڈاؤن اورکورونا کی وباء کے خاتمے  کے بعد ایسے افرا د کی کچھ نہ کچھ ہیلپ کی جاسکے جن کے کاروبار بند پڑے ہیں جس کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے لیے بروقت بلاسودقرضوں کااعلان کیا جائے تاکہ وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والے نقصانا ت کابوجھ اکیلے اٹھانے کی اب ہمت نہیں رکھتے یایوں کہہ لیں ان کے کاروباراب تقریباًختم اور تباہ ہو چکے ہیں تاکہ وہ ایک بارپھر نئے سرے سے اپنے کاروبار شروع کرسکیں اس میں اب کسی طرح کی دیریا غفلت کی ہرگز گنجائش نہیں کیوں کہ چھوٹے کاروباری طبقہ کے افراد یہ سوچ سوچ کرذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں اس موقع پرحکومت کابھی فرض بنتا ہے ان لوگوں کی مدد کے لیے میدان میں آئے اور ایسے افراد کے لیے پیکج کافوری اعلان کرے تاکہ ان کی پریشانیاں ختم ہوں جن میں وہ مسلسل کئی دنوں سے مبتلاہوچکے ہیں اس وقت حکومت کو قوم کی عز ت نفس کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے بروقت ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے اورشاید یہی وقت بھی ہے وزیر اعظم پاکستان کو یہ ثابت کرنے کابھی کہ وہ ایک حقیقی لیڈرہیں موجودہ حالات میں پوری قوم ایک کرب سے گزررہی ہے خاص کرغریب متوسط طبقہ وزیراعظم سے قوم کو بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں ہیں اوررہیں گی ویسے بھی اس مشکل وقت میں لوگوں کی مددکرنا ریاست کی ذمہ دار ی میں شامل ہے۔
 

مزید پڑھیں

 ٹڈی دَل (مکڑی ) ایک عالمی نوعیت کا فصلوں کو نقصان پہنچانے والا کیڑاہے۔ جس طرح کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسی طرح ٹڈی دَل بھی پوری دنیا کی فصلات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔    

مزید پڑھیں

ابنِ آدم ایک سماجی مخلوق ہے۔ مال و دولت کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ صحت مند معاشرہ تب ہی پروان چڑھتا ہے جب ایثار، خلوص، ہمدردی، غم گساری کا جذبہ موجزن ہو۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ گراں فروشی کی نیت سے اشیاء کا ذخیرہ کرنا ہے۔    

مزید پڑھیں

 انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ہمارا جسم اس غذا سے تعمیر ہوتا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں‘‘دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔    

مزید پڑھیں

 اقوام عالم کی موجودہ افراتفری کا سبب کورونا وائرس کے ذریعے اموت کا واقع ہونا ہے۔ بذاتِ خود یہ وائرس مہلک نہیں مگر متعدی ضرور ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں