☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

تحریر : تابندہ خالد

04-19-2020

ابنِ آدم ایک سماجی مخلوق ہے۔ مال و دولت کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ صحت مند معاشرہ تب ہی پروان چڑھتا ہے جب ایثار، خلوص، ہمدردی، غم گساری کا جذبہ موجزن ہو۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ گراں فروشی کی نیت سے اشیاء کا ذخیرہ کرنا ہے۔
 

 

اصل بے حسی کا مظاہرہ تب ہوا جب ملک میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کے باعث ملک کے مختلف شہروں میں ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہوگئی۔ کورونا وائرس کی وباء سے میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز مالکان نے سرجیکل ماسک بلیک میں فروخت کرنا شروع کر دئیے۔ شہری دہائی دیتے رہے اور سینیٹائزرز 70%مہنگے کر دئیے گئے۔ ہر جراثیم کش محلول نایاب ہو گیا۔ سونے پر سہاگہ منافع خوروں نے آٹا، چینی، دالوں کی قیمتوں میں اپنے تئیں آپ ہوشربا اضافہ کر دیا۔ عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کے سبب حکومتِ پاکستان نے بھی موجودہ بندشوں کو 14اپریل تک جاری رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس خبر کے زبان زدِ عام ہوتے ہی ملک کے بیشتر شہریوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر مہینے بھر کا راشن اسٹاک کر لیا۔ لیکن لاک ڈاؤن سبھی کے لیے ایک سا نہیں ہے۔ جیسا کہ ہمارے ہاںمزدور طبقہ ہے، سفید پوش حضرات، اپاہج، مساکین، فقراء اور ایسے دیہاڑی دار ملازمین ہیں جو روزمرہ کی بنیاد پر محنتِ شاقہ کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے دن مزدوری نہ بھی کریں تو ان کی گزر بسر ہو جائے گی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لاک ڈاؤن غرباء کے ایمان اور غیرت کی آزمائش کا کڑا امتحان ہے کیونکہ مفلسی تو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ ایسے ناساز حالات میں مخیر حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ بے بس غریب بھائیوں کی معاونت اس طرح یقینی بنائی جائے کہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ یہ نہیں کہ سیلفیوں کے زور پر خیرات بٹ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھاوے کا فیشن ترویج پا چکا ہے۔ 
لوگ گروپ کی صورت میں محض ایک نادار و نحیف شخص کو آٹے کا ایک تھیلا پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے اس مسکین کے تاثرات کا جائزہ لیا ہے جو شرمندگی کے باعث اپنا منہ چھپا رہا ہوتا ہے۔ جو بھوک سے مرنے لگا تھا اب تو وہ غیرت سے مر گیا ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ کورونا وائرس نے ہمیں آئینہ دکھلا دیا ہے کہ ہمارا احساس اخلاقیات کی کس کسوٹی پر ہے۔ گردش ایام سفید پوش حضرات کو شاپنگ مالز کے باہر لے آئی ہے۔ جہاں چھوٹی چھوٹی اشیاء بیچ رہے ہوتے ہیں مگر کسی سے سوال نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے ہر شخص کو اتنی بصیرت ودیعت کی گئی ہے کہ وہ قیافہ شناسی کر سکے۔ غرباء تو چہروں سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کو جھڑکنے کی بجائے ان سے میٹھی بات کر کے ان کے تفکرات کو دور کیجئے۔ یہ آپ کی قلبی طمانیت کا بھی ذریعہ ہے۔ 
ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے۔ آسانیاں تقسیم کرے۔ عوام اگر ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہیں تو پھر انہیں مواخاۃِ مدینہ بھی ازبر ہونا چاہیے۔ یاد رکھئے! حقوق اﷲ کی معافی ہے، حقوق العباد کی معافی نہیں۔ کیا رسولِ عربیﷺ کا یہ فرمان یاد نہیں ’’تم میں سے کوئی شخص ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے‘‘۔ صد حیف! ہم نے اپنی اصل کو پسِ پشت ڈال کر بالشت بہ بالشت مغربی رسم و رواج کی تقلید کرنا چاہی مگر اس میں بھی ہم فیل ہوگئے۔ یورپی ممالک میں دسمبر میں خاص سیل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ کرسمس کے تہوار پر کم آمدنی والوں کو رعایت سے ضروری اشیاء فراہم ہو جائیں جبکہ ہمارے ہاں رمضان اور عیدین میں ٹماٹر سے لیکر گارمنٹس تک مہنگے کر دئیے جاتے ہیں۔ سیل کے نام پر سال بھر کی ناکارہ اشیاء فروخت کر دی جاتی ہیں۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ نازک گھڑی میں شتر بے مہار منافع خوروں کے خلاف ایک کمیشن بنائے جو ان کا احتساب کرے۔ اسکے ساتھ ہی پرائس کنٹرول کمیٹیز کا فرض بنتا ہے کہ وہ اب اپنا فعال کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کے ہر شہری کو ریلیف مل سکے۔ 
؎مکّاری و رُوباہی پہ اِتراتا ہے مؤمن 
جس رِزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو 
وہ رِزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مؤمن 
اقبال تیرے دِیس کا کیا حال سناؤں 
 

مزید پڑھیں

 ٹڈی دَل (مکڑی ) ایک عالمی نوعیت کا فصلوں کو نقصان پہنچانے والا کیڑاہے۔ جس طرح کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسی طرح ٹڈی دَل بھی پوری دنیا کی فصلات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔    

مزید پڑھیں

غریب عوام اورلاک ڈاؤن دونوں ایک ساتھ کیسے چلیں گے اسطرح کے طویل لاک ڈاؤن ترقی پذیر ممالک میں عوام کو پریشان کردیتے ہیں۔ وطن عزیز میں تو پہلے ہی غربت بیروزگا ر ی کے طوفان برپاء تھے اور لوگ بڑ ی مشکل سے اپنا گزارا کررہے تھے کہ اچانک کوروناوائرس کی وباء نے ملک کو گھیر لیا    

مزید پڑھیں

 انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ہمارا جسم اس غذا سے تعمیر ہوتا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں‘‘دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔    

مزید پڑھیں

 اقوام عالم کی موجودہ افراتفری کا سبب کورونا وائرس کے ذریعے اموت کا واقع ہونا ہے۔ بذاتِ خود یہ وائرس مہلک نہیں مگر متعدی ضرور ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں