☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
اور اب ٹڈی دَل کا خطرہ

اور اب ٹڈی دَل کا خطرہ

تحریر : ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی

04-19-2020

 ٹڈی دَل (مکڑی ) ایک عالمی نوعیت کا فصلوں کو نقصان پہنچانے والا کیڑاہے۔ جس طرح کورونا وائرس پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اسی طرح ٹڈی دَل بھی پوری دنیا کی فصلات کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
 

 

یہ کیڑا ایک غول یا دَل کی صورت میں حملہ کرتا ہے اور ہر طرح کا سبزہ گھنٹوں میں چٹ کر جاتا ہے۔ اس لیے اسے ٹڈی دَل انگریزی میں لوکسٹ (Locust) اور سائنسی زبان میں Schistocera Gragariaکہتے ہیں۔

ٹڈی دَ ل فرعون کے زمانہ سے فصلات کی تباہی مچاتا آ رہا ہے۔اس لیے اس کی تصاویر قدیم مصری تہذیب کی دیواروں پر بھی بنی ہوئی ملی ہیں مزید اس کا ذکر بائبل اور قرآن مجید فرقان حمید میں بھی ہے۔
ٹڈی دَ ل کی وجہ سے ہونے والی فصلوں کی تباہی سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔الجیریا میں 1724ء اور 1864ء سے 1875ء تک ٹڈی دَ ل کا شدید حملہ ہوا۔1779ء میں فرانس میں ٹڈی دَ ل کی وجہ سے قحط سالی ہوئی اور کسانوں نے بھوک کی وجہ سے اپنے بچے فروخت کیے۔ مراکو میں 1813ء تک فصلات کو شدید نقصان پہنچایا۔1875ء میں مشرقی وسطی میں بھی ٹڈی دَ ل کا شدید حملہ ہوا جو کہ 198000مربع میل تک پھیلا ہوا تھا۔
پا کستان میں ٹڈی دَ ل کا حملہ 1949ء ،1950ء ،1961ء ،1963ء ،1990ء،اور 1997ء میں دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال 2019ء میں جنوبی ایشیاء میں مغربی ہوائیں معمول سے زیادہ چلیں۔ جسکی وجہ سے بارشیں بھی زیادہ ہوئیں اور ٹڈی دَ ل کی افزائش نسل کے لیے موزوں حالات پیدا ہو گئے۔ اومان ، یمن ،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں پہلے سے موجود ٹڈی دَ ل کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے جون 2019ء میں ایران کے راستے پاکستان کے صوبہ سند ھ ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی یہ کیڑا حملہ آور ہوگیا۔
1961 ء کے بعدنومبر 2019ء میں کراچی میں پہلی دفعہ ٹڈی دَ ل کا حملہ شہری علاقہ(City area) میں بھی پایا گیا۔ 29جنوری 2020کو KPKکی صوبائی حکومت نے صوبہ بھر کے نو اضلاع میں لوکسٹ ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ 1فروری 2020ء حکومت پاکستان نے ملک بھر کی فصلات کو اس موذی کیڑا سے بچانے کے لیے National Emergencyنافظ کیا۔
پنجاب میں کچھ غول ڈیرہ غازیخان سے اور کچھ انڈیا کے راستے بہاولنگر میں داخل ہوئے جو کہ پنجاب کے بیشتر اضلاع سے گذرتے ہوئے بھکر، خوشاب، منکیرہ اوراٹھارہ ہزاری میں پہنچ کر مکمل طور پر بالغ ہوگئے اور انڈے دینا شروع کر دئیے۔ جن سے اب بچے نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ محکمہ زراعت اس دشمن کیڑے کی نسل کشی کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ نومبر سے فروری تک کے اس حملہ سے ملک بھر کی فصلات کو کوئی خاطر خواہ پیداواری نقصان نہ ہوا ہے۔کیونکہ یہ حملہ موسم سرما میں تھا اور موسم سرما میں یہ کیڑا بہت کم کھاتا ہے۔ البتہ اگر اس کے انڈوں سے نکلنے والے بچے کنٹرول نہ ہوئے تو اپریل سے جون(موسم گرما) میں اس کا حملہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ افریقہ ، کینیا،ایتھوییا،صومالیہ، سعودی عرب، یمن اور اومان میں اس کی تعداد 2019ء کی نسبت 400گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ جون میں اس کا حملہ اومان اورصومالیہ سے بحیرہ عرب پار کر کے انڈیا میں اور انڈیا سے پاکستان داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ایران میں سپرنگ بریڈنگ کی وجہ سے اس کی تعداد گذشتہ سال کی نسبت 20گنا زیادہ ہو چکی ہے جو کہ اپریل سے جون جولائی تک سندھ اور بلوچستان کے راستے میں داخل ہو کرپاکستان کی فصلات کو بری طرح نقصان پہنچا سکتی ہے۔
لائف سائیکل (زندگی کا دورانیہ) : ٹڈی دَ ل کی زندگی 3 حالتوں میں مشتمل ہوتی ہے جو کہ انڈہ بچہ اور بالغ ہیں۔ انڈے دینے کے لیے عمومی طورپر نرم اور ریتلی زمین کا انتخاب کرتی ہے جس پر اپنی دم مارتی ہے اور زمین کے اندر سوراخ کر دیتی ہے اور پھر اس سوراخ میں انڈوں والی پوڈز اتاردیتی ہے۔ ایک پوڈ میں انڈوں کی تعداد 40سے 90تک ہو تی ہے۔ ایک مادی اپنی زندگی میں 500سے لے کر 850تک انڈے دے سکتی ہے انڈوں سے 2سے تین ہفتے میں بچے نکل آتے ہیں جو کہ بے پر ہوتے ہیں ان کا سائز 8mmہوتا ہے۔ یہ اپنی زندگی میں پانچ حالتوں (Molting stages) سے گذرتے ہیں۔ ہر Moulting Stageکے بعد یہ بہت تیزی سے سبز فصلیں اور گھاس کھاتے ہیں اور5th Moltingکے بعد بالغ ہو جاتے ہیں اوران کے پر بھی نکل آتے ہیں۔اس وقت نر کا سائز تقریباََ 45mmہو جاتا ہے اور مادی 60mmکی ہو جاتی ہے۔یہ پانچ حالتیں ڈیڑھ سے دو ماہ میں مکمل ہوتی ہیں۔ بالغ کیٹرا دو سے اڑھائی ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔
نقصان پہنچانے کی نوعیت : ٹڈی انفرادی حالت میں فصلوں کو بہت کم نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ جھنڈ یا غول کی صورت میں جب یہ حملہ کرتی ہے تو نیم ،اک، دھرک اور دھتورا کے علاوہ ہر طرح کا سبزہ کھا جاتے ہیں پودوں کے پتے ،پھول اور شگوفے کھا تے ہیں چھوٹے یا ننے پودے پورے کے پورے کتر دیتے ہیں یہ کھانے سے زیادہ فصلات کو کتر کر نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر کھانے کو کچھ نہ ملے تو بھیڑ،بکریوں کے بال نوچ لیتے ہیں ،حتی ٰکہ یہ اپنے ہی بچوں کو کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ ربیع کی فصلات میں زیادہ تر برسیم ، رایا کے پھول اور گندم کے پتے کھاتے ہیں جبکہ خریف میں یہ فصلوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔کپاس کی جرمینشن کے وقت پورا پودا ہی کھا جاتے ہیں۔فصلوں کو ٹڈی دَ ل صرف دن کے وقت ہی نقصان پہنچاتے ہیں رات کے وقت عمومی طورپرجھاڑیوں اور درختوں پر بیٹھتے ہیں اس کے علاوہ بارش اور زیادہ دھند کی حالت میں بھی یہ ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں۔
کنٹرول : 1۔ اس موذی کیڑے کو کنٹرول کرنے کیلئے فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پاکستان صحراؤں میں جھنڈ بننے سے پہلے ہی سپرے کے اقدامات کرتا رہتا ہے اور اس کی نسل کو تلف کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ FAOایک عالمی آرگنائزیشن بھی اس کے کنٹرول کے لیے مدد اور ہدایات فراہم کرتی رہتی ہے۔
2۔ ٹڈی دَ ل شور شرابے سے دور بھاگتا ہے اس لیے اپنی فصل کو بچانے کے لیے آپ حفاظتی طور پر پہلے ہی خالی پیپے ،ڈھول اور پٹاخوں وغیرہ کا بندوبست کر کے رکھیں۔جیسے ہی ٹڈی دَ ل کھیت میں اترے پٹاخے ، ڈھول ڈرم وغیرہ بجانا کر اڑا دیں لیکن یہ کوئی اچھا حل نہیں ہے۔
3۔ ملاپ اور انڈے دیتے وقت ٹڈی دَ ل بہت سست ہو جاتے ہیں اور حرکت کرنا پسند نہیں کرتے اس لیے اس حالت میں کھیت میں سہاگہ پھیر کر ان کو تلف کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ درختوں کے چھاپوں سے مارکر ہلاک کیا جاے۔
4۔ ٹڈی دَ ل جہاں پر انڈے دیتے ہیں وہاں پانی چھوڑ کر، ہل چلا کر اور انڈوں والی جگہ پر مرغیاں چھوڑ کر انڈوں کوتلف کیا جاے۔
5۔ جب انڈوں سے ٹڈی دَ ل کے بچے نکلتے ہیں تو یہ اڑنے کے قابل نہیں ہوتے اس وقت ان پر سپرے کر کے یا ان کے راستے میں گڑھا کھود کر اور گڑھے میں پانی اور سپرے ڈال کر تلف کیے جاسکتے ہیں۔
6۔ شام کے وقت ٹڈی دَ ل بیٹھ جاتے ہیں جس جگہ جھنڈ بیٹھا ہو صبح سویرے کیونکہ یہ متحرک نہیں ہوتا اس وقت جال کی مدد سے پکڑکر پولٹری فیڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
7۔ اس کے علاوہ جھنڈ اگر غیر آباد علاقے یا بے کار جھاڑیوں وغیرہ یا ٹیلے پر بیٹھا ہو تو اس پر پٹرول چھڑک کر قبل از ِطلوع آفتاب آگ بھی لگائی جا سکتی ہے۔
8۔ بہت سخت سردی ، بالغ ہونے سے پہلے خوب بارش، پرندے اور رینگنے والے کیڑے بھی ٹڈی دَ ل کو قدرتی طور پر کنٹرول کرتے رہتے ہیں۔
10۔ رات کے وقت یا صبح سویرے جب ٹڈی دَ ل غیر محترک ہوتا ہے تو اس وقت ڈیلٹا متھرین۔ کلورپیری فاس ،سائپرمیھترین ،فیپرونل یا لمبڈا سائی ہیلوتھرین کا 5%سلوشن بنا کر سپرے مشین ، ڈراؤن یا جہاز کی مدد سے سپرے کر کے خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
11۔میٹرائزم اایکریڈم (Metarizum Acridum) فنگس بیسڈ با ئیو پیسٹی سائیڈزٹڈی دَ ل میں بیماریاں پیدا کر کے ان کی ہلاکت کا موجب بنتی ہے۔جو کہ ایک اچھی اور ماحول دوست بائیو پیسٹی سائیڈ ہے۔
 
 

مزید پڑھیں

ابنِ آدم ایک سماجی مخلوق ہے۔ مال و دولت کی بے پناہ وسعتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کے تعاون کا محتاج ہے۔ صحت مند معاشرہ تب ہی پروان چڑھتا ہے جب ایثار، خلوص، ہمدردی، غم گساری کا جذبہ موجزن ہو۔ معاشرتی بگاڑ کی وجہ گراں فروشی کی نیت سے اشیاء کا ذخیرہ کرنا ہے۔    

مزید پڑھیں

غریب عوام اورلاک ڈاؤن دونوں ایک ساتھ کیسے چلیں گے اسطرح کے طویل لاک ڈاؤن ترقی پذیر ممالک میں عوام کو پریشان کردیتے ہیں۔ وطن عزیز میں تو پہلے ہی غربت بیروزگا ر ی کے طوفان برپاء تھے اور لوگ بڑ ی مشکل سے اپنا گزارا کررہے تھے کہ اچانک کوروناوائرس کی وباء نے ملک کو گھیر لیا    

مزید پڑھیں

 انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ہمارا جسم اس غذا سے تعمیر ہوتا ہے جو ہم روزانہ کھاتے ہیں‘‘دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ہما ری جسمانی نشو ونما کا دارو مدار ہماری خوراک پر ہوتا ہے۔    

مزید پڑھیں

 اقوام عالم کی موجودہ افراتفری کا سبب کورونا وائرس کے ذریعے اموت کا واقع ہونا ہے۔ بذاتِ خود یہ وائرس مہلک نہیں مگر متعدی ضرور ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں