☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
اندر کی آواز

اندر کی آواز

تحریر : احمد صمد خان

04-26-2020

اردو زبان میں لفظ ’’آواز‘‘کیلئے بے شمار معنی سمجھے یا بتلائے گئے ہیں مثلاً بول،شور،فقیر کی یا پکار کر بیچنے کی صدا ،کھڑکا یا آہٹ ،راگ یا نغمہ وغیرہ وغیرہ ۔
 

 

لیکن کیا کبھی ہم نے ان لفظوں کے معانی پر غور و فکر کیا ؟اگر کیا ہے تو بہت خوب،لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے۔کیونکہ آج ہم دنیا میں ایک بناوٹی زندگی گزار رہے ہیں۔جس طرح چہرے کی بد نمائی کو میک اپ چھپا دیتا ہے۔اسی طرح ہم لوگوں کو دکھانے کی غرض سے کچھ سرگرمیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں مثلا ًپارٹیوں میں جانا ،شاپنگ کرنا ،ٹک ٹاک بنانا اور کچھ نہیں تو اپنی نئی نئی سیلفیاں کھینچ کر اپ لوڈ کرنا اور اپنے چھوٹے سے چھوٹے واقعہ کو سٹیٹس پر لگانا اور پھر اُسے پبلک کردینا تاکہ لوگ ہمیں تعریفی کلمات سے نوازیں اور صرف یہی نہیں بلکہ ہمارا سوشل میڈیا پر بار بار پوسٹ کا سٹیٹس چیک کرنا کہ لوگوں نے ہمیں کس قسم کی آرا ء دی ہیں۔ہمارایہ عمل اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمیں اس بات کی فکرزیادہ کھائی جارہی ہے کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔
اچھا ایک بات بتائیں کیا کبھی کچھ دیر کیلئے آپ نے تنہابیٹھ کر سوچاہے ، اورکبھی یہ نوٹ کیا ہے کہ آپ کے ذہن میں کس قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں ؟ 
جی  !کیا ہو ا کچھ  یاد آیا ؟ نہیں آیا نہ ؟ پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ ہم نے اند ر کی آواز کو ایک عرصے سے سُننا ترک کردیا ہے یا پھر شاید ہماری تعلیم و تربیت ہی اس انداز سے نہیں کی گئی ۔
یہ اندر کی آواز کیا ہے ؟اس کی کبھی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے ؟کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ آواز کون اور کب لگاتا ہے ؟
چلیئے میں آپ پر یہ راز افشاں کرتاہوں۔ہمارے اند ر ایک دنیا ہے جو عمیق سمندرکی مانند ہے ۔جہاں بے شمار لہریں موجوں کے نشیب و فراز سے دوچار ہیں۔دراصل اُن لہروں یا موجوں ہی کی وہ آواز ہے جو آپ کے اند ر ایک طوفان برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آپ کو معلوم ہے کہ سمندر کے کنارے ہم کیوں خاموش کھڑے ہوجاتے ہیں ؟ کیونکہ سمندر کی لہروں کی آوازیں ہمارے اند ر کی آوازوں کو جلا بخش رہی ہوتی ہیں۔اُس مقام پر ہم باہر کی آواز اور اندر کی آواز میں مماثلت پیدا کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں ،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری روح تابندہ اور چہرے پر سکونت طاری ہوجاتا ہے۔    
یہ اندر کی آواز ہی تو ہے جس نے کامیاب لوگوں کو سونے نہیں دیا اور ان کی زندگی میں اضطراب اور بے چینی کی روح پھونک دی اور ان کے تجسس اور خودی کی تلاش کی فکر نے اُنہیں اْس مقام پر لاکھڑا کردیا جہاں وہ آج سب کیلئے ایک مثال بن گئے۔
کامیابی اس کا نام نہیں کہ ہم دنیا کے مال و اسباب کو اپنی تجوریوں میں لاکر جمع کرڈالیں بلکہ کامیابی تو درحقیقت اُس ہوا کے جھونکے کا نام ہے جو جسے چھوکر نکل جائے اُسے مسحور کرڈالے۔اور یہ تبھی ممکن ہے جب انسان اپنے اند ر کی آواز کوسننے کے قابل ہوجاتا ہے  ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اس اندر کی آواز کو کیسے سننے کی عادت ڈالی جائے ؟وہ محرک کیا ہوسکتاہے جو ہمیں اس عمل کی طرف راغب کرے؟
بہت سوچ وبچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ جب آپ مقصد ِحیات کو پالیتے ہیں تب آپ کی جستجو بڑھ جاتی ہے اور وقت آپ کو پگھلتی ہوئی برف کے مانند دکھائی دینا شروع ہوجاتا ہے۔مشہور سائنسدان ایڈیسن کہتا ہے کہ ’’میری زندگی بہت تھوڑی ہے اور مجھے بہت سے کام کرنے ہیں۔‘‘
پھر انسان کی سوچ و فکر میں 180 ڈگری کا فرق آجاتاہے وہ انسانیت کی خدمت کو مقدم رکھتاہے۔وہ فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتاہے ۔ اپنے آرام و سکون کو ترک دیتا ہے لیکن اُس کی تشہیر نہیں کرتا،کیونکہ وہ کسی کو مطمئن کرنے کیلئے یا تعریفی کلمات سننے کیلئے نہیں بلکہ وہ اپنے اندر کی آواز کے شور میں اُس سکون کو پانے کی کوشش کرتاہے جو اُسے سمندر کی لہروں کے شور سے حاصل ہوتا ہے۔ 
 
5 حروف کا مجموعہ ۔۔۔احساس 
لفظ احساس 5 حروف کا مجموعہ ہے۔لیکن اس میں چھپی حقیقت صرف وہی جان سکتا ہے جس نے کبھی اس احساس کے جام کو اپنے ہونٹوں سے لگایا ہو،میں نے اس لفظ کو اس طرح سے جاناہے۔ الف سے اللہ جو خالق کا ئنات ہے، جو رازق ہے ،جس کے ہاتھوں میں ہم سب کی جان ہے، جو ہر چیز پرقدرت رکھتاہے اور جو روز ِجزا کا مالک ہے ۔ح سے حساب یعنی وہ دن کہ جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا جسے روز ِجزا کہاگیا ہے جس۔ روز سب اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے۔ اُس روز کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، نہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنے خون سے سینچ سینچ کر ہمیں جوان کیا اور نہ ہی وہ اولاد جس کی خاطر دن اور رات کا آرام ہم نے ترک کر دیا تھااور نہ ہی وہ دولت جس کیلئے پوری زندگی کولہوکے بیل کی مانند گزار کر کمایا۔وہ حساب کا دن ہوگا جس میں نامۂ اعمال یا تو ہمارے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔س سے سابقہ اعمال، جس کو یاد کرکے بندۂ خدا نادم و شرمندہ ہوتاہے ۔جس سے احساس ِشرمندگی اُس مقام کو پہنچ جاتا ہے جہاں انسان کی آنکھوں سے وہ آنسو رواں ہوتے ہیں جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ’’ اللہ کو آنکھوں سے خوفِ خدا میں بہنے والے آنسو اتنے پسند ہیں کہ ان کے زمین پر گرنے سے پہلے ہی بندے کی بخشش کردی جاتی ہے۔‘‘الف سے اعمال یعنی ان سب چیزوں کے بعد انسان کے اعمال میں اصلاح کا پہلو جنم لینا شروع کرتاہے اور یہ نیکی کی طرف پہلا قدم ہوتاہے۔،اور آخر میں س یعنی وہ ساعت(لمحہ یا گھڑی ) جس کے انتظار میں انسان اپنی موت کی تیاری کرتاہے اور بالآخر وہ ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بن جاتاہے۔  
 

 

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کیا قدرتی آفت ہے؟ یا تخلیق کی گئی مہلک بیماری ہے۔تاہم یہ اٹل حقیقت ہے کہ خالقِ کائنا ت کی طرف سے جب بھی کوئی بیماری نازل کی جاتی ہے توا س کاعلاج بھی اُتارا جاتا ہے ۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں