☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
زمانے کی گردش

زمانے کی گردش

تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

05-03-2020

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔
 

 

آخری کشتی اس نے چند دہائیاں قبل لڑی تھی۔ جس میں شکست کھانے کے بعد وہ روحانی و عملی طور پر پیشہ پہلوانی سے تائب ہو چکا ہے لیکن جسمانی طور پر اور اپنی چال ڈھال میں وہ اب بھی پہلوان نظر آتا ہے۔ کبھی اکھاڑے میں کسرت کی وجہ سے اس کا سینہ باہر کو نکلا ہوتا تھا لیکن اب خوراک میں کثرت کی وجہ سے اس کا پیٹ باہر کو نکلا ہوتا ہے۔ 

اس کی گردن کے گلپھڑے ڈھلکے ہوے ہیں۔ٹھوڑی کے نیچے گوشت کی زیادتی کی وجہ سے ایک اور ٹھوڑی نکل آئی ہے۔ ان دو منزلہ ٹھوڑیوں کے اوپر اس کا غار نما دھانہ ہے۔ جس سے وہ گلچھڑے اڑانے اور گالیاں نکالنے کا کام لیتا ہے۔ دونوں رخساروں پر گوشت چڑھنے سے اس کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی ہیں اور ناک کے نتھنے پھیل گئے ہیں۔ جب وہ سانس لیتا ہے تو ان نتھنوں سے سٹیم انجن جیسی آوازیں نکلتی ہیں۔ اس کا بدن چونکہ وسیع و عریض رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس عظیم جثے کے مقابلے میں اس کا سر چھوٹا رہ گیا ہے۔ جس پر ہر وقت چکنائی کی تہہ جمی رہتی ہے۔ اپنے حلیے اور ناک نقشے سے وہ بلڈاگ نظر 
آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے خود کو محلے کا پہرے دار سمجھ لیا ہے۔ وہ اکھاڑا جو کبھی فن پہلوانی کی وجہ سے مشہور تھا آج کل چرس اور گانجے کی وجہ سے بدنام ہے۔ غیر قانونی اسلحہ، ہیروئین اور جوئے کا کاروبار بھی چلتا ہے۔ محلے میں کسی کو جرات نہیں اس کی حیثیت کو چیلنج کر سکے۔ ضرورت پڑنے پر وہ محلے کی پنچایت میں پیش ہو جاتا ہے۔ سرپنچوں کے ساتھ فوٹو سیشن کرواتا ہے۔ ان سے چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے اور اپنے حق میں بیان جاری کروا لیتا ہے۔ 
جب سے پہلوان نے اپنا جسمانی استعمال چھوڑا ہے اس نے دماغی استعمال شروع کر دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اتنے چھوٹے سر کے ساتھ اتنا دماغی استعمال ٹھیک نہیں لیکن پہلوان ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کے پاس نا صرف بہترین دماغ ہے بلکہ صحیح سلامت اور نواں نکور ہے۔ اکھاڑے میں دائو پیچ کی وجہ سے غیر استعمال شدہ حالت میں پڑا ہے۔ اسے معلوم ہوا ہے کہ طاقت کی بجائے چالاکی اور ہوشیاری سے بھی کام نکالا جا سکتا ہے چنانچہ آج کل پہلوان حکمت اور دانائی کی باتیں کرتا ہے۔ چہرے پر دانشمندی چپکا کر رکھتا ہے اور چرس کے سوٹے سے بھری نیم باز آنکھوں میں عقل اور منطق کے لال ڈورے تیرتے رہتے ہیں وہ اب پیشن گوئیاں بھی کرنے لگا ہے۔ چائے اور سگریٹ دبا کر پیتا ہے۔ سوچ اور فکر کے گہرے سمندر میں گرا رہتا ہے۔ کچھ حاسدین کا خیال ہے کہ تب پہلوان گانجے کے نشے میں ہوتا ہے۔ پہلوانی بدن کے ساتھ اس مسلسل غور و فکر کی کیفیت نے پہلوان کو ہونق بنا دیا ہے اور لوگوں نے مخول کرنا شروع کردیا ہے۔ نہ وہ پہلوان رہ گیا ہے نہ دانشور اور نہ ہی مدبر بن پایا ہے، چوں چوں کا مربع بن گیا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے دو کشتیوں کا سوار ڈوب جایا کرتا ہے۔
نوٹ۔ یہ ایک غیر سیاسی و غیر علامتی تحریر ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت تلاش کرنے والا ایسا اپنے رسک پر کرے گا۔
 

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کیا قدرتی آفت ہے؟ یا تخلیق کی گئی مہلک بیماری ہے۔تاہم یہ اٹل حقیقت ہے کہ خالقِ کائنا ت کی طرف سے جب بھی کوئی بیماری نازل کی جاتی ہے توا س کاعلاج بھی اُتارا جاتا ہے ۔    

مزید پڑھیں

اردو زبان میں لفظ ’’آواز‘‘کیلئے بے شمار معنی سمجھے یا بتلائے گئے ہیں مثلاً بول،شور،فقیر کی یا پکار کر بیچنے کی صدا ،کھڑکا یا آہٹ ،راگ یا نغمہ وغیرہ وغیرہ ۔    

مزید پڑھیں