☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
معاشرتی لا علمی۔۔۔؟

معاشرتی لا علمی۔۔۔؟

تحریر : محمد سہیل ٹبہ

05-03-2020

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔
 

 

دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی لاک ڈاؤن ہے اور کئی ملکوں کی معیشتیں مفلوج ہوگئی ہیں۔ قرنطینہ کی تنہائی میں ہم میں سے کئی لوگوں نے موجودہ انسانی حالت پر غور کرنا شروع کیا ہے۔ محدود جگہ، بالجبر زندگی گزارنا جہاں محدود سماجی رابطے ہوں۔ یعنی ہمارے ماں باپ اور ان کے والدین، جو اکثر تنہا زندگی گزارتے ہیں، بے کسی کے عالم میں گھروں یا پھر اولڈ ہومز میں ہیں۔

ہم اپنی سرگرمیوں سے دور ہو کر اب ان 71 ملین پناہ گزینوں کی حالت زار پر غور کرنے لگے ہیں جو جنگ و جدل، ظلم جبرو استبداد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ اپنے گھروں کی راحت میں، محرومیت کے احساس کے ساتھ ہم اُن3 ارب انسانوں کا ادراک کرنے لگے ہیں جو 2.50 ڈالر روزانہ سے کم میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ نیلگوں فلک پر اڑتے پنچھیوں کو دیکھ کر اُن 2000 چرند پرند، نباتات و حشرات کا احساس جاگزیں ہورہا ہے جو ماحولیاتی حدت، آلودگی اور گندگی کے باعث ہر سال ناپید ہورہی ہیں۔ ہم جتنا اس پر گہرائی میں غور کرتے جاتے ہیں ہم اس بات کا احساس کرنے لگتے ہیں کہ معاشرے سے دوری کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ ہم اب جو 6 فٹ کی دوری پر عمل پیرا ہیں وہ اُس معاشرتی فاصلے کا شاخسانہ ہے جو ہم اپنے اور ہم سے عمر، صحت میں کمزور و ضعیف، ظلم و استحصال کا شکار، محروم، پناہ گزینوں، غریبوں و محتاجوں اور قدرت سے روا رکھے ہوئے ہیں۔ اور جن کے درمیان ہم پیدا ہوئے۔ یہ ہماری اپنی بے اعتنائی تھی کہ ہم اس بے پناہ گہری معاشرتی دوری سے لاعلم رہے۔
شاید ہم اس روشنی میں کورونا وائرس کی وباء کو دیکھ سکیں جو اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے۔ سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں کورونا وائرس کی وباء ایک دن میں اوسطاً 90 زندگیوں کو ختم کررہی تھی۔ اتنی ہی مدت میں تقریباً 8 ہزار بچے ہر سال غذائی قلت کا شکار ہوکر جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہماری معاشرتی لا علمی، ہمیں اس پہلے سے موجود حقیقت سے دور رکھے ہوئے تھی۔شاید اس تناظر میں ہم اس زیادہ بڑے فرق کو دیکھ سکتے ہیں جو کورونا وائرس وباء اور دیگر عالمی وباء جیسے خود پسندی، تشدد، لالچ اور ماحولیاتی لاعلمی ہے۔ یہ کورونا وائرس ہماری مدافعت میں داخل ہوجاتا ہے۔ ہم کورونا وائرس کو چین کا یا پھر جنوب مشرقی ایشیاء کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور مزید کچھ اہمیت نہیں دیتے۔ کیا ہم اس سے آگے بڑھ کر کوئی اگلا قدم اٹھانے کیلئے تیار ہیں اور آج انسانوں کو درپیش حالت کو عالمی وبائی بیماری ماننے کیلئے تیار ہیں؟
ایک جگہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اشرافیہ طبقے کیلئے کورونا وائرس کے حوالے سے کیا اقدام کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں خوشحال آبادیوں میں لاک ڈاؤن کا عمل درآمد کروانا ممکن ہے جہاں وہ 10 ہزار سکوائر کلومیٹر سے کم آبادی کے تناسب سے رہتے ہیں۔ لیکن غریب اور پسماندہ آبادیوں میں لاک ڈاؤن کس طرح ممکن بنایا جاسکتا ہے جہاں تناسب1 لاکھ سکوائر فی کلومیٹر نفوس ہے۔ ہماری موجودہ حالت کا قانون ’’دولت مندوں کی سلامتی‘‘ ہے۔
دولت مندوں کو صرف ایک محاذ پر جنگ لڑنی ہے کورونا سے بچنے کیلئے خود کو اپنے محلات کی چار دیواری میں محصور کرنا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو سال 2020ء کو ایک خراب معاشی سال کہنے میں کامیاب رہیں گے اور وباء کے برے اثرات سے دوبارہ دولت مندی کیلئے اپنی کوششیں دگنا کرسکتے ہیں۔لیکن، غریبوں کو 2 محاذوں پر جنگ لڑنی ہے ایک تو اپنی تنگ و تاریک جگہ میں خود کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنا ہے اور دوسرا محاذ ان کیلئے معاش ہے۔ آپ گھر میں رہ کر کیسے کام کرسکتے جبکہ آپ کا روزگار ہی بازار میں کیلے بیچ کر کھانا کمانا ہے۔یا کوئی رکشہ ڈرائیور ہے۔ یا پھر سڑکوں پر مالش کرنیوالے۔ غریبوں کیلئے صرف زندگی اور موت کے بیچ جدوجہد کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں بھوک اور صحت کیلئے بھی جدوجہد کرنی ہے۔ انہیں پہلے کیا چیز ختم کرسکتی ہے کورونا کے اثرات یا بھوک و مفلسی؟
کورونا وائرس کی وباء خدا کی ایک نشانی ہے۔ یہ ہمیں معاشرتی لاعلمی کی غفلت سے بیدار کرتی ہے۔ ہماری زندگی طویل عرصے سے انسانی حالت پر غور کئے بناء آٹو پائلٹ پر بسر ہورہی ہے۔ہم اپنی زندگیاں صرف اپنے لیے جیتے ہیں اور اسی کیلئے کوشش کرتے ہیں کہ ہم باڑ کے اُس طرف ہوں جہاں محفوظ رہیں۔ یہ باڑ ہمیں جوان، صحت مند اور ضعیف و ناتواں کے طبقوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ہم طاقتور اور جوان ہونے پر تفخرکرتے ہیں۔ یہ باڑ ہمیں امیر اور غریب میں تقسیم کرتی ہے اور ہم امیروں کی صف میں شامل ہونے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ باڑ ہمیں قابضوں اور پناہ گزینوں میں تقسیم کرتی ہے، ہم قابضوں کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہ باڑ گندگی اور صاف ستھرائی کی تقسیم ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے گھر کے صحن صاف رہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس باڑ کو اکھاڑ پھینکیں۔ عالمی وباء کو شکست دینے کا وقت آگیا ہے۔ ہاں ہم طاقت، دولت اور شہرت کیلئے مقابلہ کرسکتے ہیں اور ہمیں کرنا چاہیے۔ لیکن یہ مقابلہ ایسی دنیا میں ہو جہاں کوئی باڑ نہ ہو۔ ہمیں اپنی قومی اور سیاسی تفریقات اور اپنے خود غرضانہ مفاد کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سماجی دوری سے معاشرتی یک جوئی اور اتحاد کی طرف بڑھیں۔
 
 

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کیا قدرتی آفت ہے؟ یا تخلیق کی گئی مہلک بیماری ہے۔تاہم یہ اٹل حقیقت ہے کہ خالقِ کائنا ت کی طرف سے جب بھی کوئی بیماری نازل کی جاتی ہے توا س کاعلاج بھی اُتارا جاتا ہے ۔    

مزید پڑھیں

اردو زبان میں لفظ ’’آواز‘‘کیلئے بے شمار معنی سمجھے یا بتلائے گئے ہیں مثلاً بول،شور،فقیر کی یا پکار کر بیچنے کی صدا ،کھڑکا یا آہٹ ،راگ یا نغمہ وغیرہ وغیرہ ۔    

مزید پڑھیں