☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
اور اب ٹڈی دل سے تباہی ۔۔۔۔

اور اب ٹڈی دل سے تباہی ۔۔۔۔

تحریر : اے ڈی شاہد

06-07-2020

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے ہر شہری کا ہر روز سبزیاں،پھلوں اور اناج وغیرہ کی شکل میں زرعی اشیاء سے واسطہ پڑتا ہے،کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت اس وقت ٹڈی دل کے حملوں سے مزید خطرے سے دوچار ہے،جس کی وجہ سے آنیوالے دنوں میں پورا ملک غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے،

ٹڈی دل حشرات الارض ہے جسے ہم کیڑے مکوڑے بھی کہہ سکتے ہیں،آج کل پاکستان میں حملہ آور ہونے والی ٹڈی کی خشکی پر رہنے والی قسم ہے،یہ مٹی کے اندر انڈے دیتی ہے،ایک بالغ ٹڈی ہر 5 سے7 دن کے وقفے سے پانچ سے سات مرتبہ انڈے دیتی ہے اور ہر دفعہ یہ 30 سے 50 انڈے دیتی ہے تقریبََا2ہفتوں کے اندر اندر ان انڈوں سے بچے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں، لاکھوں،کروڑوں اور اربوں اضافے کے ساتھ بڑھ جاتی ہے یہ سوڈان سے ہوتی ہوئی سعودی عرب،ایران اور بھارتی علاقے راجستھان سے سندھ کراچی اور رحیم یار خاں کے راستے اس وقت تقریبََا پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

اس کے پَروں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ ایک دن کے اندر تقریبََا 200 کلومیٹر تک کا سفر کر سکتی ہے،ٹڈیاں اپنی تعداد میں تیزی سے اضافے کے ساتھ جھنڈ کی شکل میں ہر قسم کی فصل پر حملہ آور ہوتی ہیں اور پوری فصل کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیتی ہیں،یہ جس فصل کے اوپر بیٹھ کر چلی بھی جائیں تو اپنا زہر فصل کے اوپر اس قدر چھوڑ جاتی ہیں جس کے کھانے سے جانوروں کے اندر بہت سی بیماریاں پیداہو جاتی ہیں حتیٰ کہ دودھ دینے والے جانور وں کا دودھ بھی خراب ہوجاتا ہے،پھل سبزیاں وغیرہ زہر آلود ہو جاتی ہیں جن کے کھانے سے انسانی صحت و جانوں کو بھی بے حد نقصان کا خطرہ ہوتا ہے،ٹڈی دل میں مختلف جانوروں کی دس چیزوں کی مْشابہت پاتی جاتی ہیں،گھوڑے کا چہرہ،ہاتھی کی آنکھ،بیل کی گردن،بارہ سِنگھا کا سینگ،شیر کا سینہ،بچھو کا پیٹ،گدھ کے پَر، اْونٹ کی ران،شتر مرغ کی ٹانگ اور سانپ کی دُم،یہ انتہائی خطر ناک ہوتی ہیں ان کا لَعب نباتات کیلئے زہرِ قاتل ہے۔زرعی ماہرین کے مطابق ایک ٹڈی دل کا جَتھا روزانہ 35ہزار افراد کی خوراک کھا جاتا ہے،جس سے ملک میں غذائی قِلت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے مگر افسوس کہ ہماری حکومت نے اس پر سنجیدگی سے غورہی نہیں کیا اور اب حکومتی اقدامات ان کے حملوں کے سامنے ناکافی ہیں،جب ا س کاپہلاجھنڈ راجستھان کے راستے سندھ میں داخل ہوا تھااُسے بر وقت سپرے کرکے ختم کردیا جاتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،

اب جتنی بڑی مقدار میں فصل کو اس سے بچانے کیلئے سپرے کیا جاتا ہے اس سے فصل کے اندر دوست کیڑے مَر جائیں گے اور بعد میں دوسری بیماریوں کا حملہ زیادہ ہوگا اور فصل مزید تباہ ہو کر رہ جائے گی جس کے نتیجے میں زرعی اجناس،پھل،سبزیاں وغیرہ نایاب ہوجائیں گی جس سے ہر پاکستانی متاثر ہوگا،اس کو کنٹرول کرنے کا بہترین ذریعہ ایک تو یہ ہے کہ اس کے انڈے ختم کر دیئے جائیں یا جب اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں تو وہ فوراََ اڑ نہیں پاتے انہیں اسی وقت سپرے کر کے ختم کرنا آسان ہوتا ہے،یہ جب رات کو فصل پر بیٹھتی ہیں تو رات بھر وہیں پر قیام کرتی ہیں کیونکہ یہ رات کو سفر نہیں کرسکتیں اور دن کو جب تک ان کے پروں کو دھوپ نہ لگے تب تک یہ اپنی جگہ پر بیٹھی رہتی ہیں ان کو عَلی الصبح سپرے کرکے ختم کیا جاسکتا ہے،مٹی یا ڈیزل کا سپرے بھی ان کے نقصانات سے فصلوں کو محفوظ بنا سکتا ہے،فصلوں کے گر ددھوئیں کا بندوبست کریں اس سے اور شور سے یہ ٹڈیاں دور بھاگتی ہیں،اللہ کا شکر ہے ہمارا ضلع پاکپتن ابھی تک اس ٹڈیوں کے حملوں سے محفوظ ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ریاض احمد کے مطابق اس وقت ضلع پاکپتن کے ارد گرد کے اضلاع ساہیوال،بہاولنگراور وہاڑی میں ٹڈی دل کی موجودگی اور تازہ ترین اطلاع کے مطابق ملتان،لودھراں اور بہاولپور میں زیادہ تعداد میں حملوں کے پیش نظر پاکپتن میں ٹڈی دل کے متوقع حملے کو بھانپتے ہوئے محکمہ زراعت اور ضلعی انتظامیہ سنگین حالات کامقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں،

اس سلسلے میں ضلع بھر میں 776.71لیٹر زرعی دوائی لیمڈا،سائی ہَیلو تھرینEC%1 0موجود ہے،سپرے مشینری میں 6شولڈرماؤنٹڈ سولو پاور سپریئر اور ایک ٹریکٹرماؤنٹڈ (جیکٹو)امپورٹڈ موجود ہے،ٹڈی دل کے بڑے حملے کی صورت میں 20عدد شولڈر ماؤنٹڈ سولو پاور سپریئر،4عدد ویل بیرو پلنجری،1000لیٹر پیسٹی سائیڈ لیمبڈا درکار ہوگا،اِن احتیاطی تدابیر کے علاوہ پیغمبرِاسلامﷺ نے فرمایاکہ’’ اپنے مال کی حفاظت زکوٰۃ سے کرو اور مریضوں کا علاج صدقے سے ‘‘لہٰذا اپنی فصلوں کی زکوٰۃ مستحق لوگوں کو دیا کرو کیونکہ زکوٰۃ اور صدقے سے مصیبتیں ااور بَلائیں ٹل جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں

  بھگت کبیر ہندوستان کے مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ مسلمان اور ہندو دونوں ان کو روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا تعلق پندرہویں صدی میں بتایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک رائے کے مطابق ان کی پیدائش 1398 عیسوی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ 1440 ء میں پیدا ہوئے ۔جائے پیدائش بنارس کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مختلف معلومات روایات کی شکل میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

  کوہ قاف کا نام سامنے آئے تو کئی گمشدہ کہانیاں ذہن میں جاگ اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو بادشاہوں کی حسین شہزادیوں سے شروع ہو کر جنوں اور پریوں کے زیرقبضہ ہیبت ناک قلعوں میں ہونے والے طلسماتی واقعات پر منتہج ہوتیں۔ ایسی کہانیوں کا لبِ لباب عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ فلاں ملک کے طاقتور بادشاہ کی حسیں اور نرم و نازک شہزادی کو فلاں جن یا دیو نے اغوا کیا اور کوہ قاف کی کسی خاموش وادی کے تاریک محل میں لے جا کر قید کر دیا۔ ایسی کہانیاں پاکستان، بھارت، ایران اور عرب علاقوں کے افسانوی اور بچوں کے ادب میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ یہ کہانیاں تحریری شکل میں تو موجود ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ غیر تحریری شکل میں سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں بھی منتقل ہوتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آبی مسائل کے حوالے سے پاکستان انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔پاکستان میں کبھی بارشیں کم ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال بن جاتی ہے توکبھی بارشیں زیادہ ہونے سے سیلاب آتے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور اربوں روپوں کا ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں