☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(امام النووی) انٹرویو(زاہد اعوان) متفرق(اے ڈی شاہد) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() کھیل(منصور علی بیگ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری )
کوہ قاف۔۔۔ افسانہ یا حقیقت

کوہ قاف۔۔۔ افسانہ یا حقیقت

تحریر :

06-07-2020

  کوہ قاف کا نام سامنے آئے تو کئی گمشدہ کہانیاں ذہن میں جاگ اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانیاں جو بادشاہوں کی حسین شہزادیوں سے شروع ہو کر جنوں اور پریوں کے زیرقبضہ ہیبت ناک قلعوں میں ہونے والے طلسماتی واقعات پر منتہج ہوتیں۔ ایسی کہانیوں کا لبِ لباب عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ فلاں ملک کے طاقتور بادشاہ کی حسیں اور نرم و نازک شہزادی کو فلاں جن یا دیو نے اغوا کیا اور کوہ قاف کی کسی خاموش وادی کے تاریک محل میں لے جا کر قید کر دیا۔

ایسی کہانیاں پاکستان، بھارت، ایران اور عرب علاقوں کے افسانوی اور بچوں کے ادب میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ یہ کہانیاں تحریری شکل میں تو موجود ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ غیر تحریری شکل میں سینہ بہ سینہ روایات کی شکل میں بھی منتقل ہوتی رہی ہیں۔

کوہ قاف یورپ اور ایشیاء کے درمیان واقع ہے۔اس کی بلند ترین چوٹی کا نام البروس ہے جو سطح سمندر سے 5642 میٹر بلند ہے۔ جغرفیائی طور پر ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ کوہ قاف یورپ میں ہے یا ایشیا میں اس لیے ابھی تک یہ بات بھی واضح نہیں کہ یورپ کا سب سے بلند پہاڑ البروس ہے یا ایلپس جو سطح سمندر سے 4808 میٹر بلند ہے۔ مختلف ممالک میں کوہ قاف کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان ممالک میں روس، ترکی، ایران، آرمینیا، آذربائیجان، جارجیا وغیرہ شامل ہیں۔ کبھی اس پراسرار پہاڑ کا شمار روس میں ہوتا تھا لیکن روس کے حصے بخرے ہونے کے بعداب اس کا زیادہ حصہ چیچنیا میں شامل ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی عظمت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی لمبائی گیارہ سو اور چوڑائی ایک سو ساٹھ کلومیٹر ہے۔ اس پہاڑی سلسلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں پانچ ہزار میٹر سے بلند کئی پہاڑ موجود ہیں۔ جن میں مذکورہ بالا پہاڑ البروس کے علاوہ کازبیک کا پہاڑبھی شامل ہے جس کی بلندی پانچ ہزار تینتیس میٹر ہے۔ یہ دونوں پہاڑ درحقیقت مردہ آتش فشاں ہیں جن پر برف کی چادر بچھی ہوئی ہے۔ ان کی ڈھلوانوں پر کہیں کہیں آج بھی گرم گیسوں کااخراج ہوتا ہے۔ معدنی پانی کے سرچشمے بھی جابجا موجود ہیں۔ ان کی شکلیں مخروطی ہیں۔ یہ تمام آثار ان آتش فشانوں کے گزرے زمانے میں پھٹنے کی یاد دلاتے ہیں۔
یہاں کے بلند پہاڑ آب و ہوا کے اعتدال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پہاڑوں کے باعث جنوب کی گرم ہوائیں یہاں نہیں پہنچ پاتیں۔ انہی فلک بوس پہاڑوں کی وجہ سے شمال کی برفیلی ہوائوں کا گزر بھی ممکن نہیں۔ سرما میں یہاں شدید ٹھنڈ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے نیچے وادیوں میں چاول بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ چاول پیدا کرنے والی یہ وادیاں کرہ ارض کے شمال کی جانب وہ آخری علاقے ہیں جہاں چاول کی فصل کی کاشت کی جاتی ہے۔ مزید شمال میں موسم کی سختیوں کے باعث کہیں بھی چاول پیدا نہیں ہوتا۔کوہ قاف کے شمالی حصے میں کئی گلیشیئرز بھی موجود ہیں۔ گرمیوں میں گلیشیئرز پگھلنا شروع ہو جاتے ہیں جن سے مقامی دریا تازہ پانیوں سے بھر جاتے ہیں۔ بڑے دریائوں میں دریائے کوبان اور تیریک اہمیت کے حامل ہیں۔ پوری دنیا کے کوہ پیمائوں کے لیے اس پہاڑی سلسلے کے بلند پہاڑوں کو سر کرنا شروع ہی سے ایک چیلنج بنا ہو اہے۔

مزید پڑھیں

  بھگت کبیر ہندوستان کے مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ مسلمان اور ہندو دونوں ان کو روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا تعلق پندرہویں صدی میں بتایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک رائے کے مطابق ان کی پیدائش 1398 عیسوی ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ 1440 ء میں پیدا ہوئے ۔جائے پیدائش بنارس کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں مختلف معلومات روایات کی شکل میں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے ہر شہری کا ہر روز سبزیاں،پھلوں اور اناج وغیرہ کی شکل میں زرعی اشیاء سے واسطہ پڑتا ہے،کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت اس وقت ٹڈی دل کے حملوں سے مزید خطرے سے دوچار ہے،جس کی وجہ سے آنیوالے دنوں میں پورا ملک غذائی قلت کا شکار ہوسکتا ہے،

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

آبی مسائل کے حوالے سے پاکستان انتہائی خطرناک صورت حال سے دوچار ہے۔پاکستان میں کبھی بارشیں کم ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال بن جاتی ہے توکبھی بارشیں زیادہ ہونے سے سیلاب آتے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور اربوں روپوں کا ملک کو نقصان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  یہ ایک نہایت ہی چھوٹا سا اور مختصر سا لفظ ہے، لیکن اس میں کیا کچھ چھپا ہے یہ جاننے کیلئے، بولنے والے کا درد جاننا ضروری ہے۔‘‘کاش یوں ہوتا، کاش یہ ہوتا، کاش میں یہ کرتا، کاش مجھے وہ ملتا، پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہا جاتا ہے اس کاش کے ساتھ۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں